Sat. Oct 31st, 2020



محمد صادق جمیل تیمی 

ہندستان ایک کثیر مذہبی ملک ہے۔یہاں مختلف مذاہب کے حاملیں شیر و شکر کی طرح رہتے ہیں۔یہاں کے اصل باشندوں میں کوئی بھید بھاؤ ہے اور نہ ہی باہمی چپقلش۔انہی خصوصیات کی بنا پر پوری دنیا میں میں اس کا نام نمایاں ہے۔لیکن آج سے تقریباً سوسا ل قبل کے ہندستانی سماج کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ یہاں دلت و مہادلت کو حقارت و نفرت آمیز نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا۔انہیں مندروں میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ایک تالاب اور ایک کنویں سے پانی نہیں لے سکتے تھے۔اسکول میں تعلیم حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ان کا کام محض سڑکوں اور گلیوں میں جھاڑو لگانا، گندگیوں کو صاف کرنا،جوتوں کی مرمت کرنا اور بید کے ٹوکرے بننا تھا۔سالہا سال یہ اچھوت کسمپرسی،غریبی،جہالت اور سخت جانفشانی کے عالم میں اپنی زندگی کو بسر کیے۔

ایسے ہی اچھوت مراٹھی بولنے والے مہار خاندان میں ڈاکٹر بھیم راؤ 14اپریل 1891ء کو مہو سینٹرل انڈیا میں پیدا ہوئے۔پیار سے آپ کو بھیما کہتے تھے۔آپ کے والد رام جی مالوجی سکپال برطانوی سرکار کی فوج میں ملازم تھے۔فوج سے سبکدوشی کے بعد جلد ہی سرکاری اسکول میں ملازمت مل گئی اور ملازمت کی وجہ سے ستارا منتقل ہوگئے۔وہیں پر بھیم راؤ اپنی ابتدائی تعلیم شروع کی۔مراٹھی بولنے والے لوگوں کی ایک روایت ہے کہ وہ لوگ اپنی ذات کے ساتھ اپنا رہائشی مقام کو بھی جوڑ لیتے ہیں،چوں کہ آپ کے پر دادا کونکن علاقے کے امباواڈے کے رہنے والے تھے، اس وجہ سے آپ اپنا سر نیم امباواڈیکر رکھ لیا جو پڑھنے میں بہت مشکل ہو رہا تھا، اس وجہ سے اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے اسے تبدیل کرکے امبیدکر دیا۔
ڈاکٹر بھیم راؤ امبید کر ابتدا میں تعلیم کے تئیں سنجیدہ نہیں تھے لیکن جب ان کو تعلیم کی اہمیت کا احساس ہوا تو اس جانب اپنی توجہ دی اور ممبئی کے ایلفسٹن ہائی اسکول میں پڑھنا شروع کر دیا،یہیں سے میٹرک کا امتحان دیا۔مہار خاندان کے لیے یہ بڑے فخر کی بات تھی کہ اس کے خاندان میں کوئی پڑھا لکھا فرد تیا ر ہو رہا،چنانچہ ان لوگوں نے اپنی خوشی کا اظہار کرنے کے لیے ایک جلسہ کیا اور اس میں امبیدکر کی حوصلہ افزائی کی۔اسکول میں پڑھنے کے دوران بھی آپ کے ساتھ اچھوتوں کا رویہ کیا جاتا تھا لیکن آپ برداشت کر کے رہ گئے اور تعلیم کو آگے جاری رکھا اور ایلفسٹن کالج ہی سے B.Aکی ڈگر ی حاصل کی اور برودہ اسٹیٹ کے وظیفے سے آپ امریکہ کی کولمبا یونی ورسٹی سے معاشیات سے M.Aکیا۔اس کے بعد 1916ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔اسی سال لندن گئے اور بیراسٹری کی تیاری میں لگ گئے لیکن وظیفہ کی مدت ختم ہو جانے کی وجہ سے ہندستان واپس ہونا پڑا۔ہندستان آنے کے بعد سیڈی ہام کالج میں پروفیسر آف کامرس کی حیثیت سے دو سال کام کیے اور 1920ء میں انگلینڈ گئے اور اپنی ادھوری تعلیم مکمل کی۔
آپ نے وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔اس کے ساتھ سماجی اصلاحات اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیے اور اپنے آپ کو صحافت سے وابستہ کیا۔سماج کی اصلاح کے لیے کئی تنظیمیں قائم کیں جن سے اچھوتوں میں ایک انقلاب پیدا ہو گیا۔آپ نے اچھوتوں کو صلاح دی کہ جب تک ہم عام اخلاقی برتاؤ سے اوپر نہیں اٹھیں گے،اپنے تلفظ کو درست نہیں کریں گے اور اپنی سوچ کو نہیں بدلیں گے، اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتے ہیں۔آپ نے دلتوں سے یہ عہد لیا کہ آپ لوگ عہد کریں کہ ہم مردے،سڑی ہوئیں چیزیں اور بچے کھچے اور پھیکے ٹکڑوں کو نہیں کھائیں گے،اپنی عزت نفس کا خیال رکھیں گے اور اپنی طاقت کو جانیں گے۔دلتوں نے آپ کا ساتھ دیا۔پورے ملک میں آپ نے یہ تحریک چلائی اور بڑی محنت سے سماجی چھوا چھوت سے اچھوتوں اور دلتوں کو نجات ملی۔حالاں کہ آپ کے خلاف اونچی ذات کے لوگوں نے کچھ مخالفت بھی کی۔اس کے بعد دلتوں میں تعلیم کا ایک سلسلہ چل پڑا،گویا کہ ہندستانی ماحول میں یکساں تعلیم اور یکساں حقوق کی فراہمی میں آپ نے اہم کارنامہ انجام دیا۔اس وجہ آپ کا شمار جدید ہندستان کے معماروں میں کیا جاتا ہے۔
1947ء میں جب ہندستان آزاد ہوا تو ملک کی آئین ساز ی کا مرحلہ آیا تو ملک کے قدر آور لیڈران نے آپ ہی کو اس کا صدر منتخب کیا اور آپ نے تقریباً ڈھائی سال میں ہندستان میں رہنے والے تمام مذاہب کے لیے آزادانہ طور زندگی جینے کے لیے قوانین پیش کیا۔اسی کی یاد میں باشندگان ہند ہر سال 26جنوری کو ”یوم جمہوریہ،،کے نام سے جشن مناتے ہیں۔
الغرض بھیم راؤ امبید کر سماج میں پھیلی بری رسم،ذات پات کی لڑائی،آپسی منافرت اور بھید بھاؤ کو اپنی انتھک محنتوں سے ختم کیا۔آپسی ہم آہنگی،یگانگت اور سماج میں انسانی اقدار کو خوب خوب فروغ دیا۔عام لوگوں کو شادی بیاہ،مفت تعلیم اور وراثت کے خقوق دیے۔اس طرح ڈاکٹر بھیم راؤ نے دستور سازی میں اہم کر دار اد کیا اور دستور ہند میں سیکولرزم کا تصور پیش کرکے ہندستان کے کثیر مذہبی اور کثیر لسانی معاشرے میں مساوات پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی جو ہندستانی جمہوریت کے روشن مستقبل کی ضامن ہے۔

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *