Sun. Jun 13th, 2021
اردو کی ابتدا

      ڈاکٹرمحمد مشتاق احمد سلفی 

اردو ترکی زبان کا لفظ ہے اور یہ اسم جامد ہے جس کے معنی لشکر یا فو ج اور چھاؤنی کے ہیں ،اس کے علاوہ پڑاؤ خیمہ ،بازار ،حرم گاہ ، شاہی قلعہ اور محل کے معانی میں بھی استعمال کیا جاتاہے ۔اردو کا لفظ سب سے پہلے بابر نے تزک اکبری میں استعمال کیا ہے اور عہداکبری میں یہ لفظ عام طور پر معروف و مقبول ہوچکاتھا ۔۱۶۳۷ ء کے بعد جو شاہی لشکر دہلی میں مقیم رہا وہ اردو ئے معلی کہلاتا تھا اس لئے اس کو عام طور پرلشکر ی زبان بھی کہا جا تا ہے کیونکہ یہ ہندی ،عربی ،فارسی اور سنسکرت زبانوں کا مرکب تھی لیکن بعض محققین کا یہ خیا ل ہے کہ یہ آریاؤں کی قدیم زبان کا لفظ ہے او ر اس کا ماخذ اُر ہے جس کا معنی دل ہے اور دو جس کا معنی دو ہے یعنی دو قوم کے دل اور دو قوم سے مراد ہندو و مسلم ہیں مطلب اردو ہندو و مسلم کی زبان ہے ۔ سرسید احمد دہلوی کا دعوی ہے کہ اردو زبا ن کی ابتداء شاہجہانی لشکر سے ہوئی ہے اس لیے اس کانام اردو پڑا ، بہرصورت اس وقت اس زبان کو ہندوی ،ہندوستانی ،ریختہ ،دکنی ،اور گجراتی کے ناموں سے یا د کیا جاتاتھا ۔
ماہرین لسانیات کے مطابق زبان کسی فرد کی تخلیق نہیں ہوتی بلکہ زبان کومعاشرتی ضرورت نے پیدا کیا اور اس کا ارتقاء زمانے کی ضرورت اور حالات و افکار کے تابع رہاجس میں صدیوں کا عرصہ درکا ر ہوتاہے۔بقول بابائے اردو مولوی عبدا لحق’’جس اصول پر بیج سے کونپل پھوٹتی ہے ،پتے نکلتے ،شاخیں پھیلتی ،پھل پھول لگتے ہیں اور ایک دن وہی ننھا ساپودا ایک تناور درخت ہوجاتا ہے اسی اصول کے مطابق زبان پیدا ہوتی ہے ،بڑھتی اور پھیلتی ہے ،،
ادب : ادب عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے ابواب سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے ،لفظ ادب باب کرم سے جس کا معنی ادب والاہونا اور اسی سے ادیب ہے جس کی جمع ادباء ہے ، نیزباب استفعال اور تفعل دونوں سے ادب سیکھنے اور ادب والا ہونے کے معنی میں آتاہے ۔ اردو میں سب سے پہلے ۱۶۵۷ء کو گلشن عشق میں مستعمل ملتاہے ۔
ادب کی اصطلاحی تعریف میں علما کی مختلف آرا ملتی ہیں ۔خلاصہ آرا یہ ہے کہ اپنے مافی ضمیر کو قرینے اور سلیقے سے بیان کرنا ، کلام خواہ نثر ہویا نظم ، اس کے الفاظ جچے تلے ہوں ، مفہوم واضح ، اچھوتا اور دلنشیں ہوں اسے ادب کہاجاتاہے ۔ 
اردو ہندوستانی ز بان کی معیاری قسم ہے ،یہ پاکستان کی قومی اور رابطہ عامہ کی زبان ہے جب کہ بھارت کی چھ ریاستوں کی دفتری زبان کا درجہ رکھتی ہے ۔ آئین ہند کے مطابق اسے بائیس دفتری شناخت زبانوں میں شامل کیا جاچکاہے ، ۲۰۰۱ء کی مردم شماری کے مطابق اردو کوبہ طور مادری زبان بھارت میں5.01فیصد لوگ بولتے ہیں اور اس لحاظ سے یہ بھارت کی چھٹی بڑی زبان ہے ۔ 
اردو کی ابتدا : زبان اردو کی ابتدا و آغاز سے متعلق کئی مختلف و متضاد نظریات ملتے ہیں ،ان نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ اردو کی ابتدا کی بنیاد بر صغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے اوراس کے بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تأثر سے ہوا اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو اردو کہلائی ۔کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدا کے سراغ قدیم آریاؤ ں کے زمانے میں لگا نے کی کوشش کی ہے ،بہر حال اردو زبان کی ابتدا کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ذرا مشکل ہے ۔
اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتدا مسلمانو ں کی آمد کے بعد ہوئی ہے لیکن مقام اور نوعیت کے تعین میں اختلاف پایاجاتاہے ان مختلف نظریات کا جب ہم جائزہ لیتے ہیں تو ہمارے سامنے نمایا ں طور پر چار نظریات قابل توجہ دیکھائی دیتے ہیں ان نظریات کا مختصراً جائزہ مندرجہ ذیل سطورمیں پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
دکن میں اردو : نصیرالدین ہاشمی نے اردو زبان کی جاے آغاز دکن کو قرار دیاہے ،ان کابنیاد ی استدلال یہ ہے کہ طلوع اسلام سے بہت پہلے اہل عرب ہندوستان میں مالابار کے ساحلوں پر بغرض تجارت آے تھے اور ان لوگوں (عربوں اور دکن کے مقامی لوگ) کے روزمرہ کی گفتگواور لین دین کے معاملات میں جو زبان وسیلہ اظہار کے لیے اختیار کیے وہ اردو کی ابتدائی صورت ہے ۔
جدید تحقیقات کی روشنی میں یہ نظریہ قابل قبول نہیں ہے ،ڈاکٹر غلام حسین اس نظریہ کی تردید کرتے ہوے کہتے ہیں ’’عربی ایک سامی النسل زبان ہے جب کہ اردو کا تعلق آریا ئی خاندان سے ہے ،اس لیے دکن میں اردو کی ابتدا کا سوال خارج از بحث ہوجاتا ہے، دکن میں اردو شمالی ہند سے خلجی اور تغلق عساکر کے ساتھ آئی اور یہاں کے مسلمان سلاطین کی سرپرستی میں اس میں شعر وادب تخلیق ہو ا ، بہر کیف اس کا تعلق اردو کے ارتقا سے ہے ،ابتدا سے نہیں ۔
البتہ طلوعِ اسلام کے بعد عرب تاجرمال تجارت کی فروخت اور اشیاءِ ضرورت کے تبادلے کے ساتھ ساتھ تبلیغِ اسلام بھی جنوبی ہند (دکن ) میں کیے اس لیے کہا جاسکتاہے کہ عربوں کے یہ تجارتی و مقامی تعلقات لسانی سطح پر کسی بڑے انقلاب کی بنیاد نہ بن سکے البتہ فکری سطح پر ان کے اثرات کے نتائج سے انکا ر نہیں ۔
سندھ میں اردو : سید سلیمان ندوی ؒ کا نظریہ یہ کہ اردو زبان کا آغاز سند ھ میں ہواہے، ان کے خیال میں ’’مسلمان سب سے پہلے سند ھ میں پہنچے ہیں اس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ جس کو ہم آج اردو کہتے ہیں اس کا ہیولی اسی وادی سندھ میں تیار ہوا ہوگا ۔‘‘ یعنی مسلمان فاتحین جب سند ھ پرحملہ آور ہوے اور یہاں کچھ عرصے تک ان کی باقاعدہ حکومت بھی رہی اس دو ر میں مقامی لوگوں سے اختلاط وارتباط کے نتیجے میں جو زبان وجود پذیر ہوئی وہ اردو کی ابتدائی شکل تھی ۔ لیکن ڈاکٹر غلام حسین کے نظریہ میں سند ھ اردو کے لیے جاے ابتدا نہیں ہے البتہ عربی تہذیب و تمدن اور عربی الفاظ کا انجذاب اردو زبان میں ہوا ہے جیسے دیگر دیسی زبانوں کے الفاظ اس میں داخل ہوے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ اثرات زبان میں الفاظ کے دخول سے آگے نہ بڑھ سکے ،اس لیے وہاں کوئی مشترک زبان پیدا نہ ہوسکی یہی وجہ ہے سید سلیمان ندویؒ ؒ اپنے اس دعوی کا کوئی معقول ثبوت پیش نہیں کر سکے ، ڈاکٹر غلام حسین کے الفاظ ’’اس بارے میں قطعیت سے کچھ نہیں کہا جاسکتا، ابتدائی فاتحین عرب تھے جن کے خاندان یہاں آباد ہوگئے ، نویں صدی میں جب ایران میں صفاریوں کا اقتدا ر ہوا تو ایرا نی اثرات سندھ اور ملتان پر ہوے ،اس عرصہ میں کچھ عربی اور فارسی الفاظ کا انجذاب مقامی زبان میں ضرور ہوا ہوگا اس سے کسی نئی زبان کی ابتدا کا قیاس شاید درست نہ ہوگا ‘‘
اس دور کے بعض سیاحوں نے یہاں عربی ،فارسی اور سندھی کے رواج کا ذکر ضرور کیا ہے مگر ان بیانات سے یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ یہاں کسی نئی مخلوط زبان کا وجود بھی تھا ، البتہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ سندھی اور ملتانی میں عربی اور فارسی کی آمیزش ہوئی ہوگی ،اس آمیز ش کا ہیولی قیاس کرنا کہاں تک مناسب ہے ،خاطر خواہ مواد کی عدم موجودگی میں اس کا فیصلہ کرنا دشوار ہے ۔ 
پنجاب میں اردو : حافظ محمود شیرانیؒ نے اپنے گہرے لسانی مطالعے اور ٹھوس تحقیقی بنیادوں پریہ نظریہ قائم کیا ہے کہ اردو کی ابتدا پنجاب میں ہوئی ہے ۔ان کے خیال کے مطابق اردو کی ابتدا اس زمانے میں ہوئی جب سلطان محمود غزنوی اور شہادب الدین غوری ہندستان پر باربار حملے کررہے تھے ،ان حملوں کے نتیجے میں فارسی بولنے والے مسلمانوں کی مستقل حکومت پنجاب میں قائم ہوئی اور دہلی کی حکومت کے قیام سے تقریباً دوسو سال تک یہ فاتحین یہاں قیام پذیر رہے اس طویل عرصے میں زبان کا بنیادی ڈھانچہ صورت پذیر ہو ا ۔اس نظریہ کی صداقت کے ثبوت میں شیرانی صاحب نے اس علاقے کے بہت سے شعراء کا کلام پیش کیاہے ، جس میں پنجابی ،فارسی اور مقامی بولیوں کے اثرات سے ایک نئی زبان کی ابتدائی صورت نظرآتی ہے ۔ ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار کے قول سے بھی شیرانیؒ کے نظریہ کو تقویت ملتی ہے ، اس سلسلہ میں وہ لکھتے ہیں’’ سلطان محمود غزنویؒ کی فتوحات کے ساتھ ساتھ برصغیر کی تاریخ کا ایک نیادور شروع ہوا ، فتوحات کا یہ سلسلہ ۱۰۰۰ء سے ۱۰۲۶ء تک جاری رہا اور پنجاب و سندھ کے علاوہ قنوج ، گجرات (سومنات ) متھرااور کالنجر تک فاتحین کے قدم پہنچے لیکن محمود غزنوی نے ان سب مفتوحہ علاقوں کو اپنی سلطنت میں شامل نہ کیا البتہ ۱۰۲۵ء میں لاہور میں اپنا نائب مقر ر کرکے پنجاب کو اپنی قلمرو میں شامل کرلیا ،نئے فاتحین میں تر ک اور افغان شامل تھے ۔غزنوی عہد میں مسلمان کثیر تعداد میں پنجاب میں آباد ہوے ۔علماے کرام نے رشدو ہدایت کے مراکز قائم کیے اور تبلیغ دین کاسلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں مقامی باشندے گروہ در گروہ اسلام قبو ل کر نے لگے اس سماجی انقلاب کا اثر یہاں کی زبان پر پڑا کیوں کہ فاتحین نے پنجاب میں آباد ہوکر یہاں کی زبان کوبول چال کے لیے اختیار کیا ، اس طرح غزنوی دور میں مسلمانوں کی اپنی زبان ، عربی ،فارسی اور ترک کے ساتھ ایک ہندوی زبان کے خط و خال نمایاں ہوے،،
مسلمان تقریباً پونے دوسو سال تک پنجاب جس میں موجود ہ سرحدی صوبہ اور سندھ شامل تھے ،حکمراں رہے ۔ ۱۱۹۳ء میں قطب الدین ایبک کے لشکروں کے ساتھ مسلمانوں نے دہلی کی طرف پیش قدمی کی اور چند سالوں کے بعد ہی سارے شمالی ہندوستا ن پر مسلما ن قابض ہوگئے ، اب لاہور کے بجاے دہلی کودار الخلافہ کی حیثیت حاصل ہوگئی تو لازماً مسلمانوں کے ساتھ یہ زبان جو اس وقت تک بول چال کی زبان کادرجہ حاصل کرچکی تھی ان کے ساتھ ہی دہلی کی طرف سفر کرگئی ۔
تاریخی اور سیاسی واقعات و شواہد کے علاوہ پروفیسر محمود خاں شیرانیؒ نے اردو اور پنجابی کی لسانی شہادتوں اور مماثلتوں سے دونوں زبانوں کے قریبی روابط و تعلق کو واضح کیا ہے اور اپنے نظریہ کی صداقت پر زور دیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ’’اردو اپنی صرف و نحو میں پنجابی و ملتانی کے بہت قریب ہے دونوں میں اسما وافعال کے خاتمے میں الف آتاہے اور دونو ں میں جمع کا طریقہ مشترک ہے ،یہاں تک کہ دونوں میں جمع کے جملوں میں نہ صرف جملوں کے اہم اجزا بلکہ ان کے توابعات و ملحقات پر بھی ایک ہی قاعدہ جاری ہے ، دونوں زبانیں ،تذکیر و تانیث کے قواعد اورافعال مرکبہ و توابع میں متحد ہیں، پنجابی اور اردو میں ساٹھ فیصد ی سے زیادہ الفاظ مشترک ہیں ‘‘ 
پروفیسر سینٹی کمار چیڑجی نے حافظ شیرانی ؒ کی اس راے سے بھی اتفاق کیا ہے اور حافظ محمود شیرانی ؒ کی تالیف ’’پنجاب میں اردو ‘‘ کی اشاعت کے ساتھ ہی مولانا محمد حسین آزادؒ کے نظریے کی بھی تردید ہوگئی جس میں وہ زبان کی ابتدا کے بارے میں اردو کا رشتہ برج بھاشا سے جوڑتے ہیں ۔
دہلی میں اردو : ڈاکٹر مسعود حسینؒ اور ڈاکٹر شوکت سبزواری ؒ نے اردو کا مولد و مسکن دہلی اور اس کے نواح کو قرار دیا ہے وہ اس سے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’ اردو میرٹھ اور دہلی کی زبان ہے اس کے لیے کسی ثبو ت کی ضرور ت نہیں ، ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اردو اپنے ہار سنگھار کے ساتھ دہلی اور یوپی کے مغربی اضلاع میں بولی جاتی ہے لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اس زبان کا آغاز انہی اضلاع میں ہوا یاکسی اور مقام میں جہاں سے دہلی اور یوپی کے مغربی اضلاع میں لایاگیا،،
اس نظریے کے حامل محققین اگرچہ لسانیات کے اصولوں سے باخبر ہیں مگر اردو کی پیدائش کے بارے میں پنجاب کو نظر انداز کرکے دہلی اور اس کے نواح کو مرکزی حیثیت دینا درست نہیں ہے ،دہلی اور اس کے نواح کی مرکزیت اردو زبان کی نشونمااور ارتقا میں تو مانی جاسکتی ہے لیکن ابتدا اور آغاز میں نہیں ۔ ان نظریا ت کے علاوہ میر امن ،سرسید اور محمد حسین آزادؒ نے بھی کچھ نظریات اپنی تصانیف میں پیش کیے ہیں لیکن یہ نظریا ت متفقہ طور پر حقیقت سے دور ہیں ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اردو کی ابتدا کے بارے میں پروفیسر محمود شیرانی ؒ کا نظریہ قابل قبول ہے کیوں کہ ان کا استدلال بڑا وزن رکھتاہے کہ غزنوی دور میں جو ایک سو ستر سال تک حاوی ہے ایسی بین الاقوامی ز بان ظہور پذیر ہوسکتی ہے اور اردو چوں کہ پنجاب میں بنی ہے، اس لیے وہ پنجابی زبان سے بہت حد تک مماثلت اور قریبی رشتہ رکھتی ہے اور قطب الدین ایبک کے فوجی اور دیگر متوسلین نے پنجاب سے اس زبان کو ہمراہ لے کر دہلی اور اس کے نواح میں آباد ہوگئے جہاں اردو زبان کو کافی ارتقا و فروغ ملا۔
            

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *