Mon. Nov 23rd, 2020
اردو کی مختصر تاریخ
               صادق جمیل تیمی
اردو برصغیر کی زبانِ رابطۂ عامہ ہے۔ اس کا اُبھار 11 ویں صدی عیسوی کے لگ بھگ شروع ہو چکا تھا۔ اُردو ، ہند-یورپی لسانی خاندان کے ہند-ایرانی شاخ کی ایک ہند-آریائی زبان ہے. اِس کا اِرتقاء جنوبی ایشیاء میں سلطنتِ دہلی کے عہد میں ہوا اور مغلیہ سلطنت کے دوران فارسی، عربی اور ترکی کے اثر سے اس کی ترقّی ہوئی , اردو کو سب سے پہلے مغل شہنشاہ اکبر کے زمانے میں متعارف کروایا گیا.. یہ ترکی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے لشکر۔دراصل مغلوں کے دور میں کئی علاقوں کی فوجی آپس میں اپنی زبانوں میں گفتگو کیا کرتے تھے جن میں ترکی،عربی اور فارسی زبانیں شامل تھیں۔چونکہ یہ زبانوں کا مجموعہ ہے اس لیے اسے لشکری زبان بھی کہا جاتا ہے۔دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ کر زبان کے الفاظ اپنے اندر سمو لینے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔
اردو کی ابتداء و آغاز کے بارے میں کئی مختلف و متضاد نظریات ملتے ہیں یہ آپس میں اس حد تک متضاد ہیں کہ ایک انسان چکرا کر رہ جاتا ہے۔ ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتداء کی بنیاد برصغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے۔ اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی۔
اردو کے آغاز و ارتقا سب سے زیادہ دکن میں ہوا اور یہی سے پورے ہندوستان میں اس کا تگ و تاز پھیلا ، اردو زبان نے 300 سال تک جتنی ترقی دکن میں کی اس کی نظیر پورے ملک میں نہیں ملتی۔ اسی لیے دکن کے لوگ اگر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پُرکھوں نے اردو کو نکھارا ، بنایا ، سنوارا اور اس میں ادبی شان پیدا کی تو یہ دعویٰ بےبنیاد نہیں ہے۔
قطب شاہی (گولکنڈہ : 1518ء – 1687ء) اور عادل شاہی (بیجاپور : 1489ء – 1686ء) دَور میں اردو کو دکن میں بہت فروغ ہوا اور وہ ملک کی سب سے مقبول زبان بن گئی۔
سر سید احمد خان اور سید احمد دہلوی کا دعوی ہے کہ اردو زبان کی ابتدا شاہجہانی لشکر سے ہوئی اس لئے اس کا نام اردو پڑا ۔ بہرصورت اس وقت اس زبان کو ہندوی، ہندوستانی ، ریختہ، دکنی اور گجراتی کے ناموں سے یاد کیا جاتا تھا ۔
اردو زبان کو مختلف اوقات میں مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا رہا ۔اسداللہ غالب کے ہاں اردو دیوان میں کئی مقامات پر ریختہ کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ انہوں نے اپنے ایک شعر میں کچھ یوں اس کا ذکر کیا ہے ۔
ریختہ کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *