Fri. Jan 15th, 2021
یوم آزادی اور ہندستان
                                                                                           صادق جمیل تیمی
پورے ہندستان میں آزادی کا جشن منایا جا رہا ہے ، سارے اہل وطن اسی سرمستی میں جھوم رہے ہیں کہ ملک آزاد ہے اور ہم چین و سکون کی سانس لے رہے ہیں – ملک کو آزاد کرانے میں ہمارے عظیم مجاہدین اور محبان وطن نے بڑی آبلہ پائی کی ہے ، وطن کو انگریز کے چنگل سے آزاد کرانے میں اپنی جانوں کی قربانیاں دیں ، پھانسی کے تختہ دار میں بلا چوں چرا چڑھ کر اپنے آپ کو حوالے کر دیا ،مقصد صرف ملک کو آزاد کرانا تھا اور غلامیت کی جاں کاہ حالت سے اپنے آپ کو نجات دلانے تھا – کوئی اشفاق اللہ خاں اپنی کم عمری ہی میں وطن کے لیے پھانسی کے پھندے میں بند جاتے ہیں اور اسی ملک کے لیے شہادت کا جام نوش فرماتے ہیں تو کوئی ٹیپو سلطان اکیلے انگریزوں کی صفوں میں دراڑیں پیدا کر دیتا ہے اور اپنی بہادری اور وطن کی محبت میں شہید ہو جاتے ہیں کوئی مولانا علی جوہر یہ شرط لگاتا ہے کہ میں وطن اس وقت تک نہیں لوٹوں گا جب تک کہ ملک آزاد نہیں ہو جاتا ہے ورنہ اے انگریزوں! مجھے دفن کے لیے یہی پر کوئی جگہ دو میں اب غلامیت میں نہیں جانا چاہتا ہوں ،کوئی مولانا آزاد وطن کی خاطر” الہلال اور البلاغ” جیسے ولولہ انگیز اور نوجوانوں اور ملک کے باشندوں کو بیدار کرنے کے لیے پرچے جاری کرتے ہیں اور انگریزوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں، تو کہیں صادق پور (پٹنہ ) کی ساری بستی حصول آزادی کے لیے برطانوی حکومت کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتی ہے اور وطن کو آزاد کرکے دم لیتی ہے
مذکورہ بالا سطور سےمعلوم ہوتا ہے کہ ملک کی آزادی کے لیے جہاں دوسرے باشندگان ہند کی حصہ داری رہی ہے وہیں پر مسلمانوں کے بھی کارہاے نمایاں رہے ہیں – ان کی خدمات کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی – ملک کا پہلا وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو جب پہلی بار اپنی وزارت عظمیٰ کے وقت پٹنہ تشریف لائے تو انہوں نے ایک تاریخی فقرہ اور ملک کی آزادی میں مسلمانوں کی عظیم قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوے فرمایا تھا کہ ہندستان کو آزاد کرانے میں جن لوگوں کی قربانیاں رہی ہیں ان کو ایک طرف اور علماے صادقپور کی قربانیوں کو دوسری طرف رکھ دیا جاے تو علماے صادقپور پٹنہ کا پلڑا بھاری ہوجاے گا اسی کو کہتے ہیں سیکولر مزاج اور سیکولر ذہن ،بلا کسی ذات پات اور مذہب و ملت کی تفریق کے کسی خاص طبقہ کی کاوشوں اور شب و روز کی محنتوں کا اعتراف !!
1947 میں ملک تو آزاد ہو گیا لیکن چوں کہ یہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک اچھی خاصی آبادی تھی اس وجہ سے بابا بھیم راؤ امبیڈکر کی سرپرستی میں تقریباً تین سال میں قوانین دستور ہند بنائے گیے اور 26 جنوری 1950 کو پورے ملک میں نافذ کیا گیا ، اسی وقت ہندستان پوری دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوی سچ کر دکھایا – لیکن ان سب کے باوجود ہمارے مجاھدین آزادی نےجس ہندوستان کا خواب دیکھا تھا کیا آج وہ ہندستان اپنی شکل میں ہے ؟ کیا وہ عزت و وقار جو کل تھا آج اس کے پاس موجود ہے؟ برسوں کی گنگا جمنی تہذیب ،کثرت میں وحدت کی مثال اس کے پاس ہے؟ اگر ان سوالوں کے جوابات پر غور کیا جائے تو سوائے افسوس کے کچھ نہیں ملے گا – ہندستان آج اپنا 73 واں یوم آزادی کا جشن منایا اور اس تہتر سالوں میں بہت زیادہ ترقی بھی کیا ، ہر میدان میں اپنا لوہا منوایا ، لیکن پچھلے چند سالوں سے اس کی جمہوریت اپنی گھٹتی حیثیت پر رو رہی ہے ،کسی بھی جمہوریت کی تیسری بڑی طاقت ہوتا ہے آج وہ حکومت کا زر خرید غلام بن بیٹھا ہے ، ذات پات کا ماحول بنایا جا رہا ہے اور ایک خاص کمیونٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ، یہاں رہ رہے مسلم اقلیتی طبقہ جو بیس کروڑ آبادی پر محیط ہے کی شریعت میں مداخلت کی جا رہی ہے اور عورتوں کے حقوق کی بازیابی کے بہانے طلاق ثلاثہ بل پاس کر دیا جاتا ہے یعنی اس کے بعد مرد کا جو اختیار تھا وہ ختم ہو گیا – اسی طرح قوانین میں ترمیمات کرکے ملک کے باشندوں کو پریشانی میں ڈال دیا گیا اور ایسے ہی ان کی ہمدردی جتلانے کے لیے ترقیات کی بات کی جاتی ہے ، حال ہی میں کشمیر سے 370 دفعہ کو ہٹا لیا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہاں اب گورنر کی حکومت رہی گی جس کی پشت پناہی مرکز ی حکومت کرے گی – یعنی اب سرکار یا حکومت کا مطلب اپنے غصے کو اتارنا اور ترقیات کو یکسر چھوڑ دینا !!
ادھر پچھلے دنوں سے ماب لنچنگ کا ہوش ربا سلسلہ نے تو مزید چین و سکون کو چھین لیا ہے ، وقفہ بہ وقفہ کہیں نہ کہیں ماب لنچنگ کا واقعہ پیش آہی جاتا ہے – حالیہ دنوں پہلو خان اور تبریز انصاری کی ماب لنچنگ سے تو پورا ملک سوگوار ہے ہند سے باہر رہنے والے بھی اس کے خلاف علم احتجاج بلند کیا ، اس سے ہمارے ملک کی شبیہ عالمی طور پر داغ دار ہوئی ہے ، لیکن اس میں سنگیت تو اس وقت بڑھ گئی جب عدالت نے پہلو خان کے تمام ملزمین کو بے قصور ٹھہرا کر بری کر دیا ، سارے گواہ و شواہد کو یکسر فراموش کر دیا خصوصا وہ وحشت ناک ویڈیو جسے دنیا نے اپنی ننگی آنکھوں سے دیکھی اسے بھی خاموشی کی چادر میں رکھ دیا گیا –
ماحصل یہ ہے کہ ملک آزاد تو ہے لیکن اب بھی ذہنی غلامیت کھلے طور پر ہے ، جن لوگوں نے اپنے خون و جگر سے اس ملک کو سینچا تھا آج اسی کے ساتھ دوہرا سلوک کیا جارہا ہے ، یہ ملک اسی وقت صحیح معنوں میں آزاد ہوگا جب اس کا ہر باشندہ امن و چین کی سانس لے گا اور خوف و ہراس کے دل خرش ماحول سے نکل کر اپنی زندگی بسر کرنے لگے گا ، ضرورت ہے کہ یہاں کی فضا باہمی یگانگت سے امن کا بنایا جائے اور حکومت بھی ماحول کو اچھا سے اچھا تر بنانے میں مدد کرے ، زبانی دعوے اور سبز باغ دکھانے سے پرہیز کرے تبھی جاکر ہم علامہ اقبال کے اس شعر کی حقیقت کا انطباق ملک پر کر سکتے ہیں –
شکتی بھی شانتی بھی بھکتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے واسیوں کی مکتی پریت میں ہے
One thought on “جشن یوم آزادی اور ملک کی موجودہ حالت”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *