Sat. Oct 31st, 2020
                          
                   حاجی سلطان کی فائل فوٹو
تحریر :  مشتاق احمد ندوی 
کچھ لوگ اللہ رب العزت کے پاس سے اس قدر الگ الگ خوشبووں میں بسی ہوئی شخصیت لے کر آتے ہیں کہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کی شخصیت کا ہر رنگ نرالا ہوتا ہے اور ان کی کتاب حیات کا ہر صفحہ ایک مستقل کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ کچھ اسی طرح کی شخصیت ہمارے ممدوح جناب حاجی  سلطان صاحب پرمکھ نے پائی تھی۔ ان کی شخصیت بڑی پہلو دار تھی اور اس کا ہر پہلو اتنا جان دار تھا کہ آدمی انھیں یاد کرتے ہی بے ساختہ کہہ اٹھے:
وہ اپنی ذات میں اک انجمن تھے
وہ جتنے مضبوط سیاست داں تھے، اتنے ہی مضبوط دین پسند اور علما نواز۔ کھیل سے ان کا لگاؤ دیوانگی کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔ اچھے کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ کھیل کے مقابلوں کے انعقاد میں غیر معمولی دل چسپی رکھتے تھے۔ مہمان نوازی ان کی شخصیت کا ایک مستقل باب تھا۔ جود و سخا کے پیکر تھے۔ مضبوط عزم و حوصلے کے مالک تھے۔ اصولوں سے سمجھوتہ کرنا نہیں جانتے تھے۔ ہندو مسلم اتحاد کے پرچارک اور قوم و ملت کے درد سے بے تاب رہنے والا دل رکھتے تھے۔ نہایت جفاکش اور محنتی انسان تھے۔ تھکنا نہیں جانتے تھے۔
محمد سلطان بن الحاج علیم الدین بن مقصود علی قبالہ پران پور کٹیہار میں 1937 کو پیدا ہوئے۔ ان کے دادا مقصود علی صاحب اپنے بچوں کے ساتھ گلاب گنج، مرشد آباد سے آئے تھے۔
ان کا پریوار علاقے کے خوش حال مسلم پریواروں میں شمار ہوتا تھا۔ خود ان کے والد کے پاس پانچ چھ سو بیگھا زمین تھی اور اولاد صرف دو۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ اس لیے حاجی صاحب کو بچپن ہی سے خوش حالی اور مالی فراخی کا ماحول ملا، جس نے ان کی شخصیت میں کئی مثبت اثرات مرتب کیے۔
ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں ہوئی۔ اس کے بعد منیہاری ہائی اسکول سے دسویں تک کی پڑھائی کی۔ یہ 1955 کی بات ہے۔ اس زمانے میں دسویں تک کی تعلیم بھی کچھ کم نہیں تھی۔
ابھی بیس ہی سال کے ہوئے تھے کہ سیاست کی سنگلاخ وادی میں قدم رکھ دیا اور اس طرح رکھا کہ آخری سانس تک کبھی فرصت نہ مل سکی۔ چنانچہ 1957 میں مکھیا کی حیثیت سے جیتے اور دو میعاد تک مکھیا رہے۔ لیکن اسی دوران ایک ایسا سانحہ پیش آیا، جس نے ان کی شخصیت پر بڑے دور رس اثرات مرتب کیے اور ان کے سامنے عین جوانی ہی میں دنیا کی حقیقت کا انکشاف ہو گیا۔ 1958 میں ان کے والد ماجد حاجی علیم الدین صاحب کا انتقال ہو گیا۔ یہ ایسا حادثہ تھا، جس نے ان کی شخصیت کو ہلا کر رکھ دیا۔
اس کے دو ہی سال بعد یعنی 1960 میں اس بائیس تئیس سالہ نوجوان نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر لی۔ اتنی کم عمری میں حج کرنے کی سعادت، آج لگ بھگ ساٹھ سال گزر جانے کے بعد بھی، بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔ تنہا یہی ایک واقعہ حاجی صاحب کے میلان طبع اور دینی رجحان کا پتہ دینے کے لیے کافی ہے۔
لگاتار دو ٹرم مکھیا رہنے کے بعد 1967 میں پران پور بلاک کے پرمکھ کے عہدے پر فائز ہو ئے اور اپنی وفات یعنی 5/ فروری 2012 تک اس عہدے کی زینت بڑھاتے رہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس طویل سفر میں کبھی کوئی مد مقابل سامنے نہیں آیا۔ وہ ہمیشہ نر ورودھ چنے جاتے رہے۔ اس سے ہندو مسلم ہر طبقے میں حاجی صاحب کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
حاجی صاحب پکے کانگریسی تھے۔ ہندو مسلم ایکتا کے علم بردار تھے۔ انھوں نے زندگی میں کئی سیاسی اتار چڑھاؤ دیکھے، لیکن کانگریس سے رشتے میں حرف آنے نہیں دیا۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ کانگریسی ہونے کے باوجود سبھی علاقائی اور ضلع سطح کے سیاسی قائدین سے دوستانہ مراسم رکھتے تھے۔ چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی پاٹی سے ہو۔ اس ضمن میں طارق انور، مبارک حسین، محمد شکور، منصور عالم، سیتا رام کیسری، مہیندر یادو ونود سنگھ، ہمراج سنگھ اور جلیل مستان جیسے نمایاں لوگوں کے پیش کیے جا سکتے ہیں، جن سے خوش گوار مراسم اور شگفتہ تعلقات تھے۔
حاجی سلطان صاحب کی سیاسی زندگی بڑی صاف ستھری اور بھر پور تھی۔ انصاف پروری، عدل گستری اور ایمان داری اس باب کے نمایاں عنوان تھے۔ کسی مذہبی اور لسانی بھید کے بنا سب کی سنتے اور سب کا کام کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے چاہنے والوں میں ہر طبقے کے لوگ شامل تھے۔ پورے علاقے میں ایک مسلمہ شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے نام پر کہیں کوئی اختلاف نہیں تھا۔
حاجی صاحب کی کتاب حیات کا دوسرا اہم عنوان ہے دین اور دینی علما سے محبت۔ عین جوانی میں حج کر چکے تھے۔ چہرے پہ گھنی داڑھی تھی۔ نماز بڑے خشوع و خضوع سے پڑھتے تھے۔ قیام، رکوع، سجود اور قعود وغیرہ بڑے اہتمام سے کرتے تھے۔ اخیر کے بیس سالوں میں روزانہ مغرب سے عشا تک تلاوت کا معمول بن چکا تھا۔ دینی جلسوں اور کانفرنسوں کے انعقاد میں بڑے شوق سے حصہ لیتے تھے۔ اس کا جیتا جاگتا ثبوت یہ کہ ان کی بستی قبالہ میں 1984 سے عظیم الشان جلسوں کا ایک سلسلہ بلا ناغہ چلا آ رہا ہے، جو آج بھی جاری ہے۔ قبالہ کے جلسے پران پور، منیہاری اور آمدہ باد جیسے علاقوں کے مرکزی جلسے ہوتے ہیں۔ یہاں کے جلسوں میں ملک کے چوٹی کے علما شریک ہوا کرتے ہیں اور لوگ بھی بڑے ذوق و شوق سے شامل ہوتے ہیں۔ میں پہلی بار شاید 2013 کے جلسے میں بطور ناظم اجلاس شامل ہوا تھا۔ اس سال مولانا اشفاق صاحب مدنی، مولانا بدرالدجی صاحب ندوی، مولانا امرؤ القیس صاحب سلفی، مولانا انعام الحق صاحب مدنی اور ڈاکٹر رحمت اللہ صاحب سلفی وغیرہ اساطین علم و فن تشریف لائے تھے۔ اس موقعے پر حاجی صاحب کے مہمان خانے میں ٹھہرنے کا موقعہ ملا تھا، جو اپنی نفاست اور حسن انتظام میں قابل تعریف ہے۔
حاجی صاحب سلفی عقیدے کے حامل تھے اور ملک کے چوٹی کے سلفی علما سے رابطہ رکھتے تھے۔ وہ علما کے قدر شناس تھے اور ان کی صحبت کا فیض حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ مولانا مسلم رحمانی، مولانا محمد حسین سلفی، حافظ عین الباری عالیاوی، مولانا اصغر علی امام مہدی، مولانا رضاء اللہ عبدالکریم مدنی، مولانا اشفاق مدنی وغیرہ کچھ ایسے نام ہیں، جن سے انھیں خاص لگاؤ  تھا۔ علاقائی علما اور اہل علم کی بھی بڑی عزت کرتے تھے۔ بنگال کے بعض علما ان کے یہاں آتے تو کئی کئی دنوں تک رکتے تھے۔
حاجی صاحب کی کتاب حیات کے تیسرے باب کا عنوان کھیل پریم ہے۔ وہ خود ایک اچھے کھلاڑی تھے۔ اللہ کی طرف سے انھیں ایک مضبوط گٹھا ہوا اور کسا ہوا بدن ملا تھا۔ والی بال کے بہت اچھا کھیلتے تھے۔ ان کے پاس والی بال کی ایک بہت اچھی ٹیم تھی، جو حاجی ٹیم کے نام سے مشہور تھی۔ وہ خود بھی اس کے ایک رکن تھے۔ کٹیہار سے لے کر مالدہ تک اس کے ٹکر کی کوئی ٹیم نہیں تھی۔ وہ ہر سال بڑے تزک و احتشام سے والی بال کا ٹورنامنٹ بھی کراتے تھے، جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
والی بال کے علاوہ گھڑ سواری کا بھی بے پناہ شوق رکھتے تھے۔ ایک بار گھڑ سواری کا ضلع سطح کا مقابلہ بھی جیتے تھے۔ جس کے بعدانھیں کٹیہار کا یوراج کہا گیا تھا- کیرم بورڈ کھیلنےاور مچھلی پکڑنے کا بھی شوق رکھتے تھے۔
ان کی کتاب حیات کا ایک اور نمایاں عنوان مہمان نوازی ہے۔ بلکہ اسے اس کتاب کا سب سے جلی عنوان کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ان کے یہاں کئی طرح کے لوگ آتے تھے۔ سیاسی لیڈر، ان کے حلقے کے عام لوگ، علمائے دین، اہل دانش و بینش اور اصحاب مدارس و مکاتب۔ اس طرح ان کا گھر کبھی مہمانوں اور ملنے جلنے والوں سے خالی نہیں ہونے پاتا تھا۔ لیکن یہ ممکن نہیں تھا کہ کوئی بھی شخص کچھ کھائے پیے بنا واپسں ہوجائے۔ کچھ نہیں تو تلا ہوا چوڑا اور آملیٹ ہی سہی۔ اس بات کی کوشش کرتے تھے کہ مہمانوں کو خاطر خود اپنے تئیں کریں اور اسے اپنا سرمایہء افتخار سمجھتے تھے۔ جناب شکور، جو صاحب پران پور ودھان سبھا حلقے سے ایم ایل رہ چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میں نے شیر شاہ آبادی برادری میں ان کے جیسا مہمان نواز اور رکھ رکھاؤ والا انسان نہیں دیکھا۔
مہمان نوازی کے ساتھ ساتھ سخاوت اور فیاضی کا بھی جذبہ ء صادق ساتھ لائے تھے۔ مدارس، مکاتب اور مساجد کی تعمیر و ترقی میں دل کھول کر حصہ لیتے تھے۔ جو بھی ان کے یہاں پہنچ جاتا، خالی ہاتھ نہ لوٹتا تھا۔ مدرسہ انوار العلوم سلطانیہ قبالہ کے لیے انھوں نے ہی زمین وقف کی تھی، جو دو بیگھا کے آس پاس ہے۔ گاوں کی عید گاہ کی زمین انہی کی وقف کی ہوئی ہے۔ گاوں کی جامع مسجد کی زمین کا بھی کچھ حصہ ان کا دیا ہوا ہے۔
سماجی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے گہرا سر و کار رکھتے تھے۔ 1971 کی بات ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عبد اللطیف حیدری صاحب نے سماج میں تعلیم کے فروغ، اقتصادی حالت میں سدھار اور معاشرتی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے قومی تنظیم کی بنیاد ڈالی تھی۔ ایک دو سال بعد جب مدرسہ سراج العلوم گیروا، براری میں منعقد کی گئی ایک میٹنگ میں از سر نو اس کی باڈی تشکیل دی گئی، تو جناب منصور عالم صاحب (سابق وزیر مملکت) اس کے صدر، پروفیسر عبد اللطیف حیدری صاحب جنرل سکریٹری اور حاجی سلطان صاحب سر پرست بنائے گئے۔ اور انھوں نے سر پرست کی حیثیت سے تنظیمی کاموں میں بھر پور ساتھ بھی دیا۔
اسی طرح 1980 کی بات ہے۔ مرحوم مبارک حسین صاحب نے شیر شاہ آبادیوں کی ہمہ جہت فلاح و بہبود کے لیے آل بہار شیر شاہ آبادی ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی تو حاجی صاحب کو نائب صدر بنایا۔
حاجی صاحب بہت اصولی آدمی تھے۔ سیاست میں رہے، لیکن کبھی دولت کے پیچھے نہیں بھاگے۔ یہاں تک پڑھنے کے باوجود شاید ہی کسی کو یہ یقین آئے کہ انھوں نے جیتے جی گھر نہیں بنایا۔ جناب ماسٹر صدیق صاحب (ریٹائرڈ ہائی اسکول ٹیچر) ان کے یہاں دس بارہ سال رہے۔ ان کا بیان ہے کہ حاجی صاحب نے کئی بار گھر بنانے کے لیے اینٹا بھٹا لگوا کر اینٹا تیار کروایا۔ لیکن گھر کے کام میں کبھی ہاتھ نہیں لگایا اور سارا کا سارا اینٹا ان کی سخاوت اور فیاضی کی نذر ہو گیا۔
بڑے خلیق انسان تھے۔ کم گو تھے۔ کسی میں کوئی برائی دیکھتے تو اجاگر نہیں کرتے تھے۔ حرف گیری اور کمنٹ سے سخت گریز تھا۔ بڑے باحوصلہ اور جفاکش انسان تھے۔ آرام طلبی انھیں چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔
سیاہ رنگ، درمیانہ قد، کھلاڑی جیسا گٹھا ہوا بدن اور چہرے پہ گھنی داڑھی۔ یہ ان کا حلیہ تھا۔
لیکن اللہ کا قانون ہے کہ جو بھی یہاں آیا ہے اسے ایک دن جانا پڑے گا۔ چنانچہ اس کا یہ گونا گوں خوبیوں کا مالک بندہ بھی، لمبے وقت تک اس کے بندوں کی خدمت کرنے کے بعد 5/ فروری 2012 کو اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ حاجی صاحب کے پس ماندگان میں دو بیٹے اور چھ بیٹیاں شامل ہیں۔
              
               

By sadique taimi

معلم

3 thought on “حاجی محمد سلطان صاحب پرمکھ”
  1. ماشاء اللہ
    دیگر سوانحی مضامین کے بالمقابل مشتاق ندوی صاحب آپ کا یہ مضمون چند نیے افکار و خیالات و انفرادیت کے حامل مضمون ہے.
    ماشاء اللہ
    مزید اپنے قوم کے اکابر کی سوانح و احوال و کوایف سپرد قلم فرماتے رہیں اور ہم تشنگان علوم وفنون کی تشنگی کو بجھاتے رہیں

  2. ماشاء اللہ
    دیگر سوانحی مضامین کے بالمقابل مشتاق ندوی صاحب آپ کا یہ مضمون چند نیے افکار و خیالات و انفرادیت کے حامل مضمون ہے.
    ماشاء اللہ
    مزید اپنے قوم کے اکابر کی سوانح و احوال و کوایف سپرد قلم فرماتے رہیں اور ہم تشنگان علوم وفنون کی تشنگی کو بجھاتے رہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *