Mon. Nov 23rd, 2020
عبدالمالک محی الدین رحمانی
______________________
*قارئین کرام!* موجودہ زمانہ جہاں اپنے اندر بہت سی خوبیاں، نئے نئے نوادرات اور جدید ترین انکشافات کا شاہد ہے، ذہنوں کو متحیر کرنے والے ایجادات اور نظروں کو خیرہ کرتی سائنس اور ٹیکنالوجی جس نے دنیا کا رنگ ہی بدل دیا،جن سے سوچنے سمجھنے کی فکر ہی بدل گئی لیکن یہ تمام ترقیاں اپنے ساتھ کئی پریشانیاں بھی لائیں،
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ(علامہ اقبال)
بالخصوص شریعت کو اپنے عقل کی کسوٹی پر تولنا اور اس معیار پر پورا نہ اترنے کی صورت میں شریعت کا ہی انکار کر دینا اس میں بھی خاص کر حدیث کی حجیت کا انکار کرنا اور اس کے لیے بہت سے بہانے تلاش کیے ، کئی ہتھکنڈے اختیار کیے اور الزامات و اعتراضات کیے تاکہ اس کے ذریعہ انکار حجیت حدیث کے مواقع فراہم کیے جائیں ان ہی الزامات یا اعتراضات کا جائزہ لینے اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں اس موضوع کو اختیار کیا گیا تاکہ ان کے اعتراضات کا جائزہ لیا جائے اور ان کا رد علمائے سلف کے مطابق کیا جائے اور اسلام کا صاف و شفاف چہرہ لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے.
*قارئین کرام!* بارہا آپ نے حجیت حدیث، سنت کا مقام و مرتبہ، عظمت سنت کے حوالے سے بہت سی تحریروں اور مقالات میں پڑھا ہوگا اس لیے میں اس گوشے میں نہ جاتے ہوئے محض اشارہ کرتے ہوئے اپنے اصل موضوع *”عصر حاضر میں حجیت حدیث پر بعض اعتراضات اور ان کا علمی جائزہ”* میں داخل ہوتا ہوں اس لیے موضوع میں داخل ہونے سے قبل اس کی تعریف، مقام اور اس کے اختیار کرنے کے فوائد اور اس سے انحراف کے نقصانات دیکھ لیں پھر اس موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی جائے گی.
*حدیث کی تعریف* :حدیث لغت میں” الجديد و كل ما يتحدث به من كلام و خبر “(المعجم الوسيط) نیا اور ہر وہ بات یا خبر جو بولا جائے اسے کہا جاتا ہے اور محدثین کی اصطلاح میں حدیث کہتے ہیں :”كل ما أضيف إلى النبي صلى الله عليه وسلم من قول أو عمل أو تقرير أو صفة خَلقية أو خُلقية “ہر وہ قول، فعل، تقریر یا صفات خَلقیہ اور صفات خُلقیہ جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کی جائے اسے محدثین کی اصطلاح میں حدیث کہتے ہیں.
*عظمت حدیث اور حجیت* :قرآن و سنت میں بے شمار آیات اور احادیث ہیں جو اس کی اہمیت، اس کے مقام اور عظمت کو واضح کرتے ہیں ان سب کا احاطہ ایک مشکل امر ہے بنا بریں ان میں سے چند ایک کے ذکر پر ہی اکتفا کرتا ہوں.
*اولا قرآن سے دلائل* :سنت کو لازم پکڑنے اور اس کے اختیار کی تلقین کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے سورہ حشر کے اندر ارشاد فرمایا :{و ما آتاكم الرسول فخذوه و ما نهاكم عنه فانتهوا} (سورة الحشر :07)رسول تمہیں جو دیں اسے لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ.حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں: جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کسی بات کا حکم دیں تو تم اس پر عمل درآمد کرو اور جب بھی تمہیں کسی کام سے منع کریں تو باز آ جاؤ اس لیے کہ وہ ہمیشہ خیر کا ہی حکم دیتے ہیں اور جب روکتے ہیں تو شر اور برائی سے ہی روکتے ہیں اسی مفہوم کو دوسرے الفاظ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَائْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ”.(صحیح بخاری :7288،صحیح مسلم :1337) “جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو حتی المقدور اس حکم کی تعمیل کرو اور جب کسی چیز سے روکوں تو اس سے باز آ جاؤ. نیز اللہ تعالیٰ کا یہ قول جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر اپنی اطاعت کی بات کی ہے :﴿مَّن یُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدۡ أَطَاعَ ٱللَّهَۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَاۤ أَرۡسَلۡنَـٰكَ عَلَیۡهِمۡ حَفِیظࣰا﴾ [النساء ٨٠]جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے منہ پھیرا تو ہم نے آپ کو ان پر نگران نہیں بنایا.ابن جرير طبری رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں :یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی مخلوق پر اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے حجت ہے گویا اللہ تعالیٰ کہتا ہے اے لوگو! تم میں سے جس کسی نے بھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کی تو اس نے ان کی اطاعت کر کے میری اطاعت کی اس لیے ان کی باتیں سنو، ان کے حکم کی تعمیل کرو کیونکہ وہ جب بھی کوئی حکم دیتے ہیں تو میرے ہی حکم سے دیتے ہیں اور جب بھی کسی چیز سے روکتے ہیں تو میرے حکم سے ہی منع کرتے ہیں، اس لیے کوئی یہ نہ کہے :محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تو ہماری طرح انسان ہیں اور ہم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتے ہیں. (تفسیر ابن جرير الطبری)نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرز زندگی اپنانے پر ترغیب دلاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :”﴿لَّقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِی رَسُولِ ٱللَّهِ أُسۡوَةٌ حَسَنَةࣱ لِّمَن كَانَ یَرۡجُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلۡیَوۡمَ ٱلۡـَٔاخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِیرࣰا﴾ [الأحزاب: ٢١]یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے. یعنی اے مومنو! تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور احوال میں بہترین نمونہ ہے جنہیں تم اختیار کر سکتے ہو اس لیے ان کی سنت کو لازم پکڑو کیوں کہ ان کے نقش قدم پر وہی شخص چلتا ہے اور ان کی راہ وہی اختیار کرتا ہے جو اللہ تعالٰی پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور اللہ کا ذکر بکثرت کرنے والا ہوتا ہے، زیادہ سے زیادہ استغفار کرتا ہے اور ہر حال میں اس کا شکر بجا لاتا ہے (المیسر فی التفسير)سورہ نور کے اندر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت عذاب کی دھمکی دیتے ہوئے اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت پر سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿…… فلۡیَحۡذَرِ ٱلَّذِینَ یُخَالِفُونَ عَنۡ أَمۡرِهِۦۤ أَن تُصِیبَهُمۡ فِتۡنَةٌ أَوۡ یُصِیبَهُمۡ عَذَابٌ أَلِیمٌ﴾ [النور ٦٣]سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچے. اس آیت کی تفسیر میں حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :کہ جو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ سے انحراف کرے گا یعنی آپ کے حکم سے، آپ کے طریقے سے، آپ کی سنت سے اور آپ کی شریعت سے، نیز آپ کے اعمال اور اقوال ہی کسی بات یا کسی فعل کے لیے معیار ہوں گے چنانچہ جو اس کے موافق ہوگا وہ مقبول اور جو اس کے مخالف ہوگا وہ مردود خواہ وہ کوئی بھی ہو جیسا کہ صحیحین کی روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا منقول ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد “جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں تو وہ مردود ہے. (صحیح بخاری :2697،صحیح مسلم :1718)
فلیحذر… یعنی جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے ظاہری طور پر ہو یا باطنی طور پر مخالفت کرتا ہے تو ایسے شخص کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں وہ کسی فتنہ سے دوچار نہ ہو جائے یعنی ان کے دلوں میں کفر و نفاق یا بدعت داخل ہو جائے، یا دردناک عذاب سے دوچار کر دیے جائیں یعنی یا تو دنیا میں قتل یا حد یا قید کی سزا وغیرہ کے ذریعے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہی بنی آدم کو جہنم سے نجات دلانے کے لیے ہوئی تھی اور اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی استطاعت بھر کوشش بھی کی لیکن ان کی مخالفت کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ملاحظہ فرمائیں یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي تَقَعُ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا، فَجَعَلَ يَنْزِعُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ فَيَقْتَحِمْنَ فِيهَا، فَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَهُمْ يَقْتَحِمُونَ فِيهَا “.(صحيح البخاري :6284) میری اور لوگوں کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص ہے اس نے آگ جلائی جب اس کے آس پاس میں روشنی پھیل گئی تو پروانے اس پر آتے اور زبردستی اس میں گرتے اور وہ انہیں اس سے ہٹاتا لیکن یہ پروانے اس پر غالب آ جاتے اور اس میں گر جاتے چنانچہ میں ہوں جو تمہیں جہنم کی آگ سے روک رہا ہوں جبکہ لوگ اس میں زبردستی داخل ہوئے جا رہے ہیں.
یہ اور اس طرح بے شمار آیات ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت، آپ کے احکام کی اتباع اور تشریعی مسئلہ میں قرآن و سنت کے یکساں ہونے پر واضح دلالت اور بیان موجود ہے اس لیے ان ہی پر اکتفا کرتے ہیں.
ان شاء اللہ آئندہ مضمون میں احادیث رسول سے حدیث کی حجیت پر روشنی ڈالی جائے گی.
___فی امان اللہ ___

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *