Fri. Jan 15th, 2021
سال گزشتہ 2020 کی کچھ تلخ یادیں
                   صادق جمیل تیمی
آج یکم جنوری2021ء کی دہلیز پر ہم قدم رکھ رہے ہیں۔نئی امید،نئے حوصلے اور نئی اڑان کے ساتھ اپنی زندگی کا آغاز کرنے جارہے ہیں۔یوں تو ہر پو پھٹنے والی صبح کو ہم نئی امید کے ساتھ ہی دن کی ابتدا کرتے ہیں لیکن چوں کہ 365دن کی بہاروں سے ہوتے ہوئے آج پھر 366واں دن کا آغاز کرنے جا رہے ہیں اب ہمیں محاسبہ کرنا ہے کہ ان بیتے ہوئے دنوں میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا،ہماری زندگی میں جدت و نیاپن کا کتنا حصہ آیا ہے اور مستقبل میں اسے صحیح سمت دے کر کون سا کام کرنا ہے جو ملک و ملت کے لیے بہتر ہو۔2020ء اپنے خونچکاں حادثات کے ساتھ بیشتر اوقات میں ہمیں مغموم کر گیا۔وقت یوں تو بڑی تیز رفتاری کے ساتھ ہم سے گز ر جاتا ہے لیکن ان میں سے کچھ لمحات پر مسرت ہوتے ہیں اور کچھ مصائب سے پر،اور مصائب کے ایام کے بسر کا احساس برسوں جیسا لگتا ہے کسی شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے
ایام مصیبت کے کاٹے نہیں کٹتے
دن کے عیش کے گھڑیوں میں گزر جاتے ہیں
دن و ماہ اور سال اللہ کے تخلیق شدہ ہیں تاہم ان میں نشیب و فراز بھی ہیں اور یہی نشیب و فراز حقیقی زندگی،اساسیات زندگی اور فلسفہ زندگی کا احساس دلاتے ہیں۔رسالت مآب ﷺ کی پیدائش کے سال واقعہ فیل اور آپ کے والد گرامی کی وفات ہوئی تھی جس کی وجہ سے اسے ”عام الحزن،، سے تعبیر کیا گیا تھا۔اگر سال گزشتہ کو عام الحزن سے تعبیر کیا جائے تو بیجا نہ ہوگا کیوں کہ اس سال علمی و ادبی،سیاسی و معاشی اعتبار سے لوگو ں کا بہت خسارہ ہوا۔سیاسی اعتبار سے مانیں تو نریندر مودی نے CAAجیسا کالا قانون لا کر ملک کے عوام خصوصا مسلم سماج میں ایک ہلچل مچا دیا ، اس کمیونٹی کے امن و چین کو چھین لیا جس کی وجہ سے ہماری مائیں و بہنیں تین مہینے تک شاہین باغ میں دھرنے پر بیٹھی رہیں پھر بھی سرکار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی جس کی کڑی نندا پوری دنیا کے سنجیدہ لوگوں کی طرف سے ہوئی تھی۔ابھی ہماری مائیں شاہین باغ میں بیٹھی ہی تھیں کہ دوسری جانب چین کے شہر اوہان سے لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اترنے والی وبا ”کورونا،،پھیلی جس کی وجہ سے ساری انسانیت کی نیندیں حرام ہو گئیں،چشم زدن ہی میں پوری دنیا کے لاکھوں انسان لقمہ اجل بن گئے ،زندگی کی سرگرمیاں رک گئیں ،تعلیمی ادارے بند ہو گئے،روزگار ٹھپ پڑ گیا،معمولات زندگی میں دراڑیں پیدا ہو گئیں،کتنوں کا سہاگ چھن گیا،ماؤوں کی گودیں محروم ہو گئیں یعنی مصیبت بالائے مصیبت۔لیکن عام انسانوں کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی اور اسلامی دنیا کے عظیم شخصیات اور عالمی شناخت بنانے والے افراد اس کے زد میں آنے لگے تو ”موت العالم بموت العالم،،کے مطابق مستقبلِ زندگی آندھیرنظر آنے لگی کہ اب کیا ہوگا۔اسلامی شخصیات کے ساتھ ادبی دنیا کے مہانوں کی رخصت نے ہمارے ذہن کو کچھ لمحوں کے لیے مفلوج ضرور کر دیا تھا لیکن پھر شکستہ دل کو کل شئی ھالک الا وجھہ کے پیش نظر اطمینان دلانا پڑا –
ہندستانی نژاد سعودی عالم ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ہندو گھرانے سے بانکے رام سے مدینہ منورہ یونیورسٹی کا پروفیسر بننے والی بڑی شخصیت بھی ہم سے رخصت ہو گئی۔الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل،اور قرآن کی شیتل چھایا،،مشہور کتابوں میں سے ہیں۔جامعہ امام ابن تیمیہ کے موسس،درجنوں کتابوں کے مصنف و مولف ادیب و اریب مفسر قرآن ڈاکٹر لقمان سلفی بھی اسی سال ابدی نیند سو گئے۔ڈاکٹر صاحب ایک علمی آدمی تھے اور ہمیشہ علم کی تلاش میں رہتے تھے،علم سے رغبت کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ آپ جامعہ جیسا ادارہ قائم کرنے ساتھ مختلف عالمی چھاپہ خانے سے بیشتر فنون کی خوبصورت کتابوں کا ذخیرہ جمع کر دیا جو بہار کی خدا بخش کے بعد دوسری سب سے بڑی لائبریری ہے،اسی طرح عربی زبان و ادب کی وسعت کے لیے نصابی کتب کا عمدہ سلسلہ ”القرأۃ العربیۃ،،تصنیف کی – ڈاکٹر صاحب کے سانحہ کے چند دنوں بعد دنیا کو اپنی تفسیری خدمت سے محظوظ کرنے والے صلاح الدین یوسف بھی ہم سے رخصت ہو گئے۔صلاح الدین صاحب کی ”احسن البیان،،قرآن کریم کی تفسیربہت بڑا کارنامہ ہے۔اردو زبان میں سلیس ترجمہ، مختصر و سلف کی روشنی میں تفسیر کا بہترین مجموعہ ہے۔ان کے علاوہ پروفیسر ولی اختر ندوی دہلی ، عبد الجلیل سلفی،عبد المنان سلفی و عزیز الحق عمری کے علاوہ اور بہت سارے علما ہم سے رخصت ہو گئے۔علما کا ایک ہی وقت رخصت ہو جانا امت کا بہت بڑا علمی خسارہ ہے۔
اردو دنیا میں عصر حاضر کے غالب،حکومت و برسر اقتدار حاکم کی آنکھوں سے آنکھیں ڈال کر جرات مندانہ باتیں کرنے والے،مشاعروں کے شہنشاہ ڈاکٹر راحت اندوری بھی جاں بر نہ ہو سکے اور ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔راحت صاحب کی بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بدیہی اشعار کہتے تھے،ان کا تحت اللفظ ترنم و تبسم پر غالب تھا، لب و لہجہ بالکل منفرد اور آواز پہاڑی تھی۔ان کی شاعری سیاسی و سماجی بیداری کی واضح مثال تھی،عرفان و آگہی کا ایک بگل تھا۔چند اشعار آپ سماعت فرمائیں
راہ کے پتھر سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں منزلیں
راستے آواز دیتے ہیں،سفر جاری رکھو
ایک ہی ندی کے ہیں یہ دنوں کنارے دوستوں
دوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو
                  ٭٭
شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہیں ہم
آندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہے
اسی طرح سال گزشتہ کے نوکیلے وار سے اردو تنقید کو نئی سمت عطا کرنے والے،ناول نگار،جدیدیت کا سب سے نمایاں نام شاعر پروفیسر شمس الرحمن فاروقی بھی بچ نہ سکے۔اپنے چھ دہائیوں پر مشتمل ادبی کرئیر میں انہوں نے اردو ادب کے لیے کئی کتابیں لکھیں جن میں ”کئی چاند تھے سر آسماں،غالب افسانے کی حمایت میں اور دی سن دیٹ روز فرام دی ارتھ،شامل ہیں۔انہوں نے اپنی تنقیدی نگارشات سے اردو ادب میں ایک نیا تنقیدی رویہ کی داغ بیل ڈالی۔ادبی رسالہ ”شب خون،، کے ذریعہ ادبی صحافت کو ایک نئی راہ عطا کی،اردو فکشن میں اپنی تخلیقات سے گہرے نقوش مرتب کیے،مشرق کے کلاسیکی اور جدید ادبی سرمایے پر ان کی گہری نظر تھی۔ان کو بھی اپنی مقبولیت اور پھر مقبولیت کے بعد موت پر یقین کامل تھا انہیں کا ایک شعر سماعت کریں ؎
سرکنے لگتی ہے تب ہی قدم تلے زمین
جب اپنے ہاتھ میں سارا جہاں لگتا ہے
شمس الرحمن فاروقی کی موت سے ادبی دنیا ابھی ابھر نہیں پائی تھی کہ ایک اور خونچکاں خبر کانوں میں عذاب بن کر آئی کہ مشرقی ادب پر گہری نظر رکھنے والے ممتاز محقق پروفیسر ظفر احمد صدیقی بھی فاروقی صاحب کی رفاقت اختیار کر لی۔ظفر صاحب کلاسیکی ادب کے بے مثال استاد تھے،غالب انسٹی ٹیوٹ علمی معاملات میں ان کے مشوروں سے مستفید ہوتا تھا۔ادبی دنیا جب بڑی بڑی علمی و ادبی شخصیات سے دھیرے دھیرے خالی ہوتی جا رہی ہے ایسے وقت میں ظفر صاحب کی رحلت ادب پر گہر ا غم ثبت کرتی ہے یعنی 2020ء کے خلا کو کیسے پورا کیا جائے،دور دور تک آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔حال ہی میں کانگریس کی ریڑھ کی ہڈی کہے جانے والے قدآور لیڈر راجیو گاندھی سے لے کر اب تک کانگریس کی کامیابی کی پلاننگ کرنے والے احمد پٹیل صاحب بھی کانگریس کو سوگوار کر گئے –
دنیا سے یوں تو ہر ایک کو جانا ہی ہے لیکن ایک ہی وقت،ایک ہی سال میں علم و ادب اور مختلف میادین میں عظیم خدمات سر انجام دینے والے افراد کا رخصت ہو جانا یہ علم و ادب کے لیے بہت بڑا خسارہ ہے۔اس سال جہاں انسانوں کی موت ہوئی وہیں ضمیر انسانی و غیرت انسانی کا بھی جنازہ نکل گیا۔کورونا کی وجہ سے لگا لاک ڈاؤن میں سب سے زیادہ اگر کسی کا نقصان ہوا تو ورثۃ الانبیا کے حاملین موقر علما کو ہوا جو بالکل بیک فٹ پر آچکے ہیں،پرائیوٹ ادارے،جامعات و مدارس کی چہار دیواری میں اپنی شب و روز بسر کرنے والے علما کی زندگی بڑی کسمپرسی کی زندگی رہی،مدراء و ارباب مدارس ان کی کسمپرسی پر ذرا توجہ نہ دی بلکہ بڑے چاؤ سے مرغ مسلم اور لیگ پیس کی لذتوں سے لطف اٹھاتے رہے اورعلما کو روٹی نمک بھی میسر نہیں بلکہ بعض جگہوں سے یہ خبر آئی ہے کہ سالوں مسجد میں امامت کرنے والے امام اپنی حالات سے تاب نہ لاکر خودکشی کر لی،خودکشی تو بذات خود شرعی اعتبار سے ایک حرام فعل ہے لیکن متوالیان مساجد کی سوچ و فکر اور مفادیت پر کاری ضرب ہے کہ جو سالہا سال انہیں نماز پڑھاتے ہیں ان متوالیان کو چند مہینے برداشت نہیں۔علما جو مسلمانوں کے مذہبی رہنما ہیں آج در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں،اساتذہ جو قوم کے باغیرت و باوقار افراد ہیں انہیں ارباب مدارس نے بے وقار بنا دیا۔بعض جگہوں سے خبریں موصول ہوئیں کہ بہت سے اساتذہ کو نکال باہر کیا اور تنخواہوں کو روک لیں۔ایسے وقت میں ساتھ دینا اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرنا چاہیے لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے۔اس لاک ڈاؤن کے ایام میں سمجھ میں آیا کہ جو لوگ اسٹیجوں سے ہمدردان قوم،غم خواران قوم اور بچوں کے تابناک مستقبل کی دہائی دیتے تھے وہ محض دھوکہ ہے۔ارباب مدارس و منتظمہ اس بات کو کیوں فراموش کر دیتے ہیں کہ ان علما اورطلبا ہی کی وجہ سے ان کی آمد کی تمام راہیں کھلی ہوئیں ورنہ بغیر اس کے کوئی کھول کر دکھائیں۔اخیر میں امید کے چند اشعار سماعت کریں:
پی جا ایام کی تلخی کو ہنس کر ناصر
غم کے سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے
                    ٭
وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونیں منظر سے
جس حال میں جینا مشکل ہو، اس حال میں جینا لازم ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *