Fri. Jan 15th, 2021
سوشل ڈسٹنسنگ کی تاریخ اور مثالیں
               صادق جمیل تیمی
آئیسولیشن یعنی گوشہ نشینی و پہلو تہی اور سوشل ڈسٹنسنگ یعنی سماجی فاصلہ کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کی تاریخ بہت پرانی ہے اور اس کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا یے – رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوشل ڈسٹنسنگ کے ذریعہ سماجی لوگوں سے دور تنہائی کی جگہ غار حرا میں کئی کئی دن کا کھانا لے جاکر اللہ کی عبادت و ریاضت کیا کرتے تھے – سوشل ڈسٹنسنگ کے اسی مرحلہ میں نبی آخر الزماں پر پہلی وحی ” أقرإ بإسمك ربك ” (العلق:  ١) کا نزول ہوا  – شعب ابی طالب سوشل ڈسٹنسنگ کی ایک مثال ہی تھی ، اس میں اتنی تکالیف و مصائب کے باوجود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اللہ کو یاد کرتے رہے اور یہ مسلسل تین سالوں تک جاری و ساری رہا  – سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے بعد سیدہ مریم علیہا السلام کا بستی سے دور کھجور کے درخت کے نیچے چلے جانا یہ بھی سماجی فاصلہ کی ایک بین مثال ہے ، اس موقع پر سیدہ مریم نہ اللہ کی ذات سے مایوس ہوئیں اور نہ توکل علی اللہ کو اپنے آپ سے جانے دیا بلکہ بحکم الہی پوری جرات مندی کے ساتھ قوم سے مخاطب ہوئیں اور شیر خوار بچہ سیدنا عیسی کی طرف گفتگو کے لیے اشارہ کیا – سیدنا یوسف کو انسانی آبادی سے دور جنگل کے ایک اندھیرے کنویں میں پھینک دینا یہ بھی اس ضمن میں آئے گا لیکن یہاں پر سیدنا یوسف واویلا مچایا اور نہ ہی اپنے چشم کو نم کیا بلکہ صبر جمیل سے مصائب سے نبرد آزما ہوئے تو اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اس کے طفیل ایک ایسی جگہ میں پہنچ گئے جہاں آپ کے سر حکومت و سلطنت کا تاج آیا  – اہل تصوف جو لوگوں سے دور کسی تنہائی کی جگہ میں جاکر سماجی فاصلہ کے ذریعہ اللہ کی عبادت و ریاضت مصروف رہتے ہیں حالانکہ اس طرح کی زندگی ( رہبانیت) کا تصور اسلام میں نہیں ہے اور نہ ہم اس کے قائل ہیں لیکن ایک طبقہ ضرور ایسا کرتا ہے  – اس کی بہت ساری تاریخ میں مثالیں بھری پڑی ہیں –
پوری دنیا کے کل کارخانے اور کاروبار زندگی کے رک جانے کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوگئے ، یہ ایسا وقت ہے جب پوری یکسوئی ساتھ بندہ اللہ کی یاد میں اپنی زندگی کے بیشتر حصے کو صرف کر سکتا ہے اور کرنا بھی چاہیے ، توبہ و استغفار اور انابت الی اللہ کا اہتمام کر سکتا ہے اور کثرت سے دعائیں بھی – لیکن بعض جگہوں میں نوجوان کرکٹ کھیلتے ہیں ، موبائل ایپ کے ذریعے Ludoo کھیلتے ہیں اس میں بڑے پڑھے لکھے لوگ بھی شامل ہیں ، کھیل جسمانی نشاط یا ذہنی تفریح کے لیے کھیلا جاتا ہے لیکن ابھی اس کا محل نہیں ہے – افسوس ہوتا ہے جب اس طرح کے ایمرجنسی کے دور میں نوجوانوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتے ہیں – اللہ ہمیں محفوظ رکھے –
ایسے موقع سے ہمیں اللہ کی بے مثال ذات سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ مایوسی ایک سچے مومن کی علامت نہیں ہے ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ الا الضالون ” (الحجر : ٥٦) اس سماجی فاصلے کے مرحلہ میں ہمیں تلاوت قرآن مجید ،  توبہ و استغفار کا کثرت سے اہتمام کرنا چاہیے ، دوسرے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے ، مدارس و مکاتب میں پڑھنے والے طلبہ اسلامی تاریخ ، اپنی وراثت اور رہنمائے حیات پر مشتمل کتابوں کا  مطالعہ کریں اور کورونا سے احتیاط بھی کریں ، اللہ سے ڈریں،  موت سے خوف نہ کھائیں ” أينما تكونوا يدرككم الموت ” (النساء:  ٧٨) ایک نہ ایک دن تو موت کا جام نوش کرنا ہی ہے اس لیے اس کی تیاری کریں ، اس سے خوف نہ کھائیں – اللہ تعالی ہمیں اس وبا سے محفوظ رکھے اور وقت کا صحیح استعمال کی توفیق بخشے -( آمین)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *