Sat. Oct 31st, 2020
                                                     محمد صادق جمیل تیمی 
انبیاے کرام کے بعد اس فرش گیتی پر سب سے مقدس و پاکیزہ جماعت صحابہ کرام کی جماعت ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم  آسمانِ ہدایت کے وہ روشن ستارے ہیں جن کے صدق و اخلاص، امانت و دیانت، خیر و ایثار اور زہد وورع کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ دین حنیف کی ترویج و اشاعت اور پرچمِ حق کی سربلندی کے لیے انہوں نے زندگی کے ہر میدان میں وہ قربانیاں دیں کہ ان کا اجتماعی اور انفرادی کردار قیامت تک فرزندانِ توحید کے لیے مشعل راہ بن گیا۔ ان قدسی صفات انسانوں نے رضائے الٰہی کی خاطر اپنے قبیلے اور وطن عزیز کو خیر باد کہا، گھر بار لٹائے، فاقے سہے، ہر قسم کی اذیتیں اور صعوبتیں برداشت کیں،یہاں تک کہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی نہیں بلکہ آپ ﷺ کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اللہ کے دین کی جس درد مندی اور خلوص کے ساتھ خدمت، حفاظت اور اشاعت کی، اس کا اعتراف ہمارے ایمان کا تقاضا ہے۔لیکن اس کے باوجود بھی بع ض افراد صحابہ کرام کو گالیاں دیتے ہیں اور انہیں سب و شتم کا نشانہ بناتے ہیں۔شتم صحابہ کے احکام جاننے سے قبل صحابہ کی تعریف اور ان کے فضائل سے واقف ہو لیتے ہیں۔
صحابی لغت میں ”صحب،،سے ماخوذ ہے جس کے معنی ”ساتھی،،کے ہیں۔صحابی کی اصطلاحی تعریف کرتے ہوئے حافظ ابن حجر عسقلانی رقمطراز ہیں ”ہو من لقی النبيﷺ مؤمناً بہ و مات علی الاسلام،،کہ صحابی اس خوش طالع فر د کو کہتے ہیں جنہوں نے ایمان کی حالت میں نبی ﷺ کو دیکھا اور ایمان کی حالت میں انتقال کیا ہو،،(الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ لابن حجر:۱/۸۷)
صحابہ کرام کی عظمت و فضیلت اس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی عظمت کا اعتراف خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان الفاظ میں کردیا”رضی اللہ عنہم ” کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا،اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے”الصحابہ کلہم عدول” صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تمام کے تمام عادل ہیں۔جیسا کہ ارشاد ہے ”لقد رضی اللہ عن المؤمنین إذ یبایعونک تحت الشجرۃ فعلم ما فی قلوبہم فأنزل السکینۃ علیہم و أثابہم فتحاً قریباً،،(سورۃ الفتح: 18)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ کے ایسے دلارے بندے تھے جن کو ان کے رب نے اسی دنیا میں اپنی رضامندی کی سند عطا فرما دی اور جن کی صداقت کا اعلان بھی کیا ”أولئک ہم الصادقون،، وہ اللہ تعالیٰ کی محبوب جماعت تھی،یہ عظیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم ساتھی تھے جنہیں خیرالقرون اور خیر امت ہونے کا شرف اولین حاصل تھا۔ارشاد نبوی ﷺ ہے ”خیر الناس قرني ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم،،(البخاری:۲۵۶۲)اسی طرح انہیں دنیا کے اندر ہی جنت کے باغات کی خوش خبری دی گئی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ”والذین اتبعوہم باحسان رضی اللہ عنہم ورضو ا عنہ و أعد لہم جنات تجری تحتہا الأنہار خالدین فیہا أبداً،،(التوبۃ:۰۰۱)
نبیﷺنے ان کی ایسی تربیت کی کہ وہ انسانی شکل میں فرشتے بن گئے۔بلال رضی اللہ عنہ کو ”سیدنا،،ہمارے سرداراور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو ”من أھلنا،، میرے اہل سے ہیں کہہ کر ان کو عظمت اور اہمیت دی اور سماج میں دبے کچلے لوگوں کو اٹھایا اور ایسا مقام دیا کہ وہ اعلی مقام تک رسائی حاصل کر لیے۔تمام شعبہ ہائے زندگی میں قدم رکھ کر اس کے اصول و ضوابط متعین کرکے مثالی کارنامہ انجام دیا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قربانیوں کی وجہ سے آج قرآن اور عقیدہ توحید محفوظ ہے، ان کے اندر دین کو صحیح طور پر پہونچا نے کا اتفاق ہے کہ ان سے کوئی چوک نہیں ہوئی وہ سب کے سب صادق اور سچے تھے، انھوں نے مثالی معاشرہ قائم کیا اور اسلام کی تعلیمات پھیلا کر برائی کا سدباب کیا، وہ سب صرف ایک دور کے لیے نہیں بلکہ تمام ادوار کے لیے آئینہ اور مشعل راہ ہیں۔
صحابہ کرام کی اتنی ساری فضیلتوں و اہمیتوں کے باجود بھی دنیا کا ایک طبقہ ان پر طعن و تشنیع کر رہا ہے،ان کی شان میں ناروا الفاظ استعمال کر رہا ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر انگلیاں اٹھائے یا ان پر کسی طرح کی کوتاہی کا الزام لگائے تو گویا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت پر انگلی اٹھاتا ہے،کیوں کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اسلام کو کلی طور پر اپنے قول وعمل سے پیش کیا۔سچ تو یہ ہے کہ اس سلسلے میں ہم انہیں احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ مانتے ہیں جو کچھ اپنے قول وعمل کے ذریعے پیش کیا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت سے فیض حاصل کرتے ہوئے کیا ہے۔صحابہ کو گالی دینا اور انہیں برا بھلا کہنا کس قدر ہلاکت خیز اور خطرناک ہے کہ اسیے لوگوں کو قرآن کریم میں بے وقوف کہا گیا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ”وإذا قال لہم آمنوا کما آمن الناس قالو أنؤمن کما آمن السفہاء ألا إنہم ہم السفہاء،،(البقرۃ:۳۱)یعنی کافر لوگ صحابہ کو بے وقوف کہہ رہے تھے ان کے ایمان لانے کی وجہ سے تو اللہ نے فرمایا کہ یہی لوگ بے وقوف ہیں۔صحابہ کرام بے وقوف نہیں ہیں۔نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کو گالی دینے سے منع فرمایا ہے ”لا تسبوا أصحابي فوالذي نفسي بیدہ لو أن أحدکم أنفق مثل أحد ذہباً ما بلغ مد أحدہم و لا نصیفہ،،(البخاری:۲/۹۲۲)یعنی میرے اصحاب کو گالی نہ دو کیوں کہ اگر تم لوگ احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر دوگے تو میرے اصحاب کے ایک مد یا آدھا مد کے برابر نہیں پہنچ سکتے۔نبی ﷺ کی زبان مبارک جن مقدس جماعت کے بارے میں ایسی بات کہے تو ان کی تنقیص کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے،اور نہ اپنے دل میں ان کے تئیں شکوک و شبہات کے خیالات لائے جا سکتے ہیں۔جو لوگ صحابہ کرام کو گالیاں دیتے ہیں ان پر اللہ اور فرشتے کی لعنت کی گئی ہے۔حدیث نبوی ﷺ ہے ”من سب أصحابي فعلیہ لعنۃ اللہ و الملائکۃ والناس أجمعین،،(السلسلۃ الصحیحۃ للألباني:۰۴۳۲)یعنی جو میرے اصحاب کو گالی دیتا ہے،اس پر اللہ،فرشتے اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ ”إذا رأیتم الذین یسبوہ أصحابي فقولوا:لعنۃ اللہ علی شرکم،،(الترمذی:۶۶۸۳)نیز ایک حدیث میں اس کی توبیخ اس طرح کی گئی ہے۔حدیث اس طرح سے ہے ”اللہ اللہ فی أصحابي لا تتخذونہم غرضاً بعدی فمن أحبہم فبحبي أحبہم و من أبغضہم فبغضی أبغضہم،،(التاریخ الکبیر للبخاری:۱/۱۳۱)
مذکورہ روایت انتہائی قابل غور ہے کہ رسول ﷺ اللہ کا دو مرتبہ واسطہ دے کر فرمایا کہ میرے بعد میرے صحابہ کو طعن و تشنیع کا ہدف نہ بنانا اور نہ انہیں گالم گلوچ کرنا۔ان سارے نصوص شرعیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کو گالی دینا دین و ایمان کے خلاف ہے اور اس سے انسان دین سے خارج ہوجاتا ہے۔شیعہ و روافض ابتدا ہی سے صحابہ کرام کو گالیاں دیتے ہیں اور ابو بکر و عمر اور معاویہ جیسے جلیل القدر صحابہ کو بھی لعن طعن کرتے ہیں۔یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں۔ امہات المومنین اور صحابہ کرام کو گالیاں دینے والے شیعہ کسی بھی لحاظ سے نہ مسلمان ہیں اور نہ ہی اسلام سے ان کا کوئی تعلق ہے۔ شیعیت جس کا دوسرا نام رافضیت ہے کے آغاز ہونے سے اب تک علمائے اہل حق شیعہ کو یہودونصاری کی طرح کافر بلکہ ان سے بدتر کافر قرار دیتے ہوئے آئے ہیں۔
صحابہ کرام کو گالی دینے کی وجہ سے ان روافض کو ائمہ اسلام نے اسلام سے خارج تصور کیا ہے۔امام مالک ابن انس رحمہ اللہ نے  فرمایا”الذی یشتم أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم لیس لہم إسم أو قال: نصیب فی الإسلام.”جو نبی ﷺ کے صحابہ کو گالی دیتے ہیں ان کا برائے نام بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اسلام سے ان کا کوئی حصہ ہے۔ (السنۃ، للخلال:۲/۷۵۵)امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے کہا کہ امام مالک کا قول صحیح ہے ”وافقہ طائفۃ من العلماء رضی اللہ عنہم علی ذلک.(تفسیر ابن کثیر: ۴/۹۱۲)
  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ جو ابوبکر، عمر اور عائشہ رضی اللہ عنھم کو گالیاں دیتے ہیں، ان کا حکم کیا ہے؟تو آپ نے فرمایاکہ ”ما أراہ علی الإسلام.”میرے نزدیک وہ اسلام پر نہیں ہیں۔”آپ نے یہاں تک فرمایا دیا ہے کہ ”إذا کان جہمیاً، أو قدریاً، أو رافضیاً داعیۃ، فلا یُصلی علیہ، ولا یُسلم علیہ،،اگر جہمی، قدری اور رافضی(شیعی) بلانے والا ہو تو اسے نہ سلام کیا جائے اور نہ اس کی نمازہ جنازہ پڑھی جائے” (کتاب السنۃ، للخلال:۵۷۸)امام فریابی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی لاش کو ایسے ہی پھینک دو،، لا تمسوہ بأیدیکم، إرفعوہ بالخشب حتی تواروہ فی حفرتہ،کہ اس کے جسم کو ہاتھ بھی نہ لگایا جائے۔ لکڑی کے ذریعے اسے اٹھا کر اس کی قبر میں ڈال دو” (کتاب السنۃ للخلال: ۴۹۷)
امام قاضی ابو یعلی رحمہ اللہ نے صحابہ کرام کو گالی دینے والے کو کافر اور موجب جہنم ٹھہرایا ہے ”إن کفر الصحابۃ أو فسقہم بمعنی یستوجب بہ النار فہو کافر،،کہ بلاشبہ صحابہ کو کافر یا فاسق قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اپنے اوپر ہی جہنم واجب ہے۔
  علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ:الصارم المسلول میں فرماتے ہیں کہ ”اگر کوئی صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کو جائز سمجھ کر کرے تو وہ کافر ہے، صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرنے والا سزائے موت کا مستحق ہے، جو صدیق اکبرؓ کو گالی دے تو وہ کافر ہے، رافضی کا ذبیحہ حرام ہے، حالانکہ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے، روافض کا ذبیحہ کھانا اس لئے جائز نہیں کہ شرعی حکم کے لحاظ سے یہ مرتد ہیں“(الصارم المسلول:۵۷۵)
آج ضرورت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت، ان کی عدالت، ان کے تقدس اور ان کی قربانیوں اور ساتھ ہی ساتھ ان کے فضائل و مناقب کو زیادہ سے زیادہ بیان کرکے لوگوں کو حقائق سے آگاہ کریں،کیوں کہ آج کچھ لوگ مجرمانہ افکار و ذہنیت لے کر شوشل میڈیا اور تمام ذرائع ابلاغ کا استعمال کرتے ہوئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت پر شک کرتے ہیں اور اس شک کی وجہ سے وہ اسلام کی بنیاد کو منہدم و گرانے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ صحابہ ؓ جنہوں نے دین کی اس امانت کو پوری دیانت سے من وعن تابعین تک پہنچایا، جن سے اللہ تعالیٰ راضی و خوش ہوا ان کو مطعون کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لہذا ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی اور توہین کو برداشت نہ کریں، جن کی تعدیل و توثیق پر پوری امت مسلمہ کا اجماع ہے۔

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *