Fri. Jan 15th, 2021
                                          فیروز عالم ندوی
       2019ء اپنی اچھی بری یادگاروں کے ساتھ گزر چکا ہے اور ہم 2020ء میں قدم رنجہ ہو چکے ہیں،بلکہ اس کا ماہ اول بھی گزر چکا اور تاریخ کے طاق دان پر سج چکا ہے ۔2020ء کو میں اس لیے اہم نہیں مانتا کہ یہ ہم سبھوں کی زندگی کا ایک نیا سال ہے،میں اسے ایک اہم سال اس لیے مانتا ہوں کہ اسی سال کے اختتام تک ہندستان کی ایک نہایت اہم شخصیت کے نہایت اہم خواب کو شرمندہ تعبیر ہونا تھا جو نہیں ہو سکا۔میں بات کر رہا ہوں سابق صدر جمہوریہ میزائل مین اے پی جے عبد الکلام کی جنہوں نے صدر جمہوریہ بننے سے بہت پہلے یہ خواب دیکھا تھا کہ 2020ء کے اختتام تک ہمارا یہ ملک ہندستان ترقی پذیر ممالک کی فہرست سے اوپر اٹھ کر ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں آجائے گا اور دنیا میں ایک بار پھر وہی کردار ادا کرے گا جو وہ بہت پہلے کرتا رہاتھا۔اپنے اس حسین خواب کو انہوں نے اپنے سائنس داں دوست وائی ایس راجن کے ساتھ مل کر1998ء ہی میں Vision-2020نامی کتاب کی صورت میں دنیا والوں کے سامنے بیان بھی کیا تھا۔ جس ترقی یافتہ بھارت کا سپنا انہوں نے سنجویا تھا،اس کے شرمندہ تعبیر ہونے کی جو مدت انہوں نے طے کی تھی،اس کا آخری سال شروع ہو چکا ہے،تو کیا جس خواب کو تعبیر کی جس جنت میں پہنچنا تھا،پہنچ گیا؟کیا 2020ء کے اختتام تک یہ دنیا،بھارت کو ترقی پذیر ممالک کی فہرست سے اوپر اٹھا کر،ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں ڈال دے گی؟
 شاید،بلکہ یقینی طور پر ایسا نہیں ہوگا کیوں کہ بھارت بر وقت جن سنگین حالات سے گزر رہا ہے،ان کے موجود رہتے ہوئے،آگے کی طرف قدم بڑھانا تو دور کی بات رہی،پیچھے کی طرف کتنی تیزی سے رجعت قہقری کرے گا،کہنا بہت مشکل ہے۔ملک کی اکانومی جس قدر نیچے آئی ہے،یہ دنیا جانتی ہے اور موجودہ حکومت کے آنکڑوں کے کھیل سے بھی وہ بخوبی واقف و آگاہ ہے۔بھکمری میں جو ملک پاکستان،بنگلادیش اور نیپال سے بھی نیچے چلا گیا ہو،اس ملک میں ہر طرف وِکاس ہی وکاس ہونے کی بات،ایک بھونڈے مذاق سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
 سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبد الکلام کی کتاب ”وژن 2020،،اور 2002ء میں شائع ہونے والی”یوجنا آیوگ،،کی دستاویز جو اسی عنوان سے یعنی ”وژن 2020،،کے عنوان سے شائع ہوئی تھی،کو پڑھیں اور آج کے حالات پر نگاہ ڈالیں تو محسوس ہوگا کہ وہ لوگ مستقبل کی جنت تعمیر کر رہے تھے جس کے سر تعریفات کے سہر ے تو خوب سجنا تھے،مگر زمین پر اسے کبھی اترنا نہیں تھا۔آج بھلے ہی ہمیں دونوں وژن کسی پری کی کہانی لگتے ہوں لیکن ا ن کا یہ تصور،محض تصور نہیں تھا۔2020ء تک کے لیے جو منزلیں طے کی گئی تھیں،ان تک رسائی حاصل کرلینا،آسان لگتا تھا اور حقیقت سے بہت قریب بھی۔وہ وقت ایسا تھا جب گزشتہ صدی میں اپنائی گئی روادارانہ پالیسیاں اپنا رنگ دکھا رہی تھیں اور ملک کی شرحِ ترقی جس رفتار سے مسلسل آگے بڑھ رہی تھی،اس سے پوری دنیا کی پر امید نگاہیں ہندستان کی طرف مرکوز ہوگئی تھیں۔اے پی جے عبد الکلام 2020 تک ہر حال میں ہندستان کو ترقی یافتہ ملکوں میں شامل کرا لینا چاہتے تھے۔اپنی مذکورہ کتاب میں انہوں نے اپنے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے بہت سارے تجزیات بھی کیے اور بتایا تھا کہ اس کے لیے نہ صرف یہ کہ جی ڈی پی کو بلکہ فی کس آمدنی کو بھی بڑھانا ہوگا۔یہ ان کی بنیادی سوچ تھی اور اس سوچ اور فکر کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے انہوں نے مانا تھا کہ آخر کار،ہم تعلیم اور تکنیک کے ذریعے اس منزل ِ مقصود کو پالیں گے۔ان سب منصوبوں کے ساتھ، ان کا ایک منصوبہ یہ بھی تھا کہ سال 2020ء تک،روزگار کے کم از کم 20کروڑ مواقع پیدا کیے جائیں،تاہم وہ یہیں پر آکر رک نہیں گئے بلکہ انہوں نے ہندستان کو انسانی اشاریہ کے پیمانے پر بھی اوپر اٹھانے پر زور دیا کیوں کہ انہیں معلوم تھا کہ جب تلک ملک کو صحت، صحتِ اطفال اور بھکمری کے معاملے میں اوپر نہیں اٹھایا جائے گا،تب تلک اسے نہ تو ترقی یافتہ ملک بنایا جا سکے گا اور نہ ہی کوئی اسے ترقی یافتہ ملک مان سکے گا۔ڈاکٹر اے پی اے عبد الکلام کے یہ سارے سپنے،سپنے ہی رہ گئے،کبھی تعبیر کی مہک نہیں پا سکے،یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
 اسی طرح کا ایک سپنا تھا 2035 کا۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہندستان پوری دنیا کا سب سے جوان ملک ہے جس کی کل آبادی کا 60 فی صد سے زیادہ حصہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جن کی عمریں 25سے 35سال کے درمیان ہیں۔اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ ہندستان میں محنت کاروں کی سب سے زیادہ تعداد رہتی ہے اور 2035 تک یہ سلسلہ برقرار رہے گا۔اسے امید تھی کہ ہمارا ملک محنت کاروں کی بہ دولت،دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں آسانی سے جگہ بنا لے گا اور اس کا یہ معیار 2035تک نہ صرف یہ کہ برقرار رہے گا بلکہ اس مدت میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔لیکن اب یہ امید بھی ختم ہورہی ہے بلکہ ختم ہو چکی ہے کیوں کہ محنت کاروں کی محنت سے اور کامگاروں کی کامگاری سے پورا فائدہ اسی وقت اٹھایا جا سکتا ہے جب ملک میں اندرونی اور بیرونی،دونوں طرح کی سرمایہ کاری نہ صرف جاری رہے بلکہ اس میں دن بدن اضافہ بھی ہوتا رہے۔مگر بروقت اس کا بالکل برعکس ہو رہا ہے کیوں کہ 2010-11سے اس میں جو سست رفتار در آئی تھی،اس نے اب بھیانک شکل و صورت اختیار کر لی ہے۔اس میں جو گراوٹ آئی ہے،اس کی ایک بدترین شکل یہ ہے کہ بہت سارے سیکٹرز میں سرمایہ کاری کے بہت سارے منصوبے رد کر دیے گئے ہیں اور ایسا امسال بھی ہوا ہے۔2010-11میں جہاں 4.04ٹریلین روپے کے سرمایہ کارانہ منصوبے رد کیے گئے تھے،وہیں 2018-19میں 20.74ٹریلین روپے کے سرمایہ کارانہ منصوبے رد ہوئے تھے اور 2019سے 2020کی پہلی شش ماہی تک کے 7.89 ٹریلین روپے کے سرمایہ کارانہ منصوبے رد ہو چکے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بے روزگاری کی شرح کافی بڑھ گئی ہے۔قومی نمونہ سروے آفس کے آنکڑوں کے مطابق،سال 2017-18میں 25سے 29سال کے ہندستانیوں کی بے روزگاری کی شرح 17.4فی صد تھی جب کہ 2011-12میں یہی شرح صرف پانچ فی صد تھی۔
 سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی نے بے روزگاری کے جو حالیہ آنکڑے پیش کیے ہیں،وہ مختصراً یہ ہیں کہ جنوری 2017میں 15سے19سال کی عمر کے طبقے میں 27.34فی صد،20سے24سال کی عمر والے طبقے میں 21.65فی صد،اور 25سے29سال کی عمر والے طبقے میں 8.73فی صد بے روزگاری تھی،نومبر 2019میں انہی طبقوں میں بے روزگاری کی شرح ترتیب وار 40.92،39.23اور 10.03فیصد ہوگئی تھی۔دسمبر 2019اور جنوری 2020میں یہ شرح کتنی بڑھی،یہ بروقت نہیں بتایا جا سکتا مگر تیل اور کھانے پینے کی اشیا کی جان توڑ مہنگائی اور جی ڈی پی میں آئی گراوٹ،اس بات کا اشارہ دے رہی ہیں کہ ان شرحوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔
 مطلب یہ ہے کہ 2035 تک کے لیے جو خواب دیکھا اور دکھایا گیا تھا،وہ پوراتو نہیں ہوا بلکہ اس نے اور زیادہ بھیانک صورت حال اختیار کر لی ہے۔ ملک کی جی ڈی پی جس طرح سے دن بدن گرتی جارہی ہے اور مہنگائی آسمان چھو رہی ہے،اس سے یہی لگتا ہے کہ اچھے دن کا سپنا،شاید سپنا ہی رہے۔تاہم،ہمیں اللہ تعالی کی ذات سے پوری امید ہے کہ ہمارے ملک ہندستان میں ایک نئی صبح ضرور نمودار ہو گی جسے ہم سب صبح امید اور صبح خوش کا نام دے سکیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *