Sun. Jun 13th, 2021
عمر فاروق کا قبول اسلام

 رفیق افسر تیمی

یہود و نصاری کی سازش اور ہمارے بھولے پن کی وجہ سے اسلامی تاریخ و سوانح میں کچھ ایسی دیو مالائی افسانوی قصے ،کہانیاں ،بے سرو پا ،واہیات اور لایعنی الف لیلوی داستانیں زبان زد خاص و عام ہو چکی ہیں، جن کی حقیقت سے کوئی سروکا رنہیں ہے ۔پھر بھی کوئی کتاب ،کوئی رسالہ او رکوئی خطبہ ان افسانوی کہانیوں سے خالی نہیں ہوتا ہے ۔جب کہ ہمارے اوپر لازم ہے کہ شریعت سے متعلق کوئی ایسی بات ہرگز ہرگزنہ کریں جو حقیقت میں ہماری شریعت کا حصہ نہیں ہے ،کیوں کہ دشمنان اسلام ایسے ہی لا یعنی واہیات داستانوں کو سند کی حیثیت دے کر اسلام ،مسلمان اور دین کو بدنام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں ۔انہیں بے سند کہانیوں میں سے ایک کہانی سیدنا عمر کا قبول اسلام کی کہانی ہے جو یوں بیان کی جاتی ہے ۔

’’سیدنا عمررضی اللہ عنہ انتہائی سختیوں کے باوجود ایک شخص کو بھی اسلام سے بدد ل نہ کر سکے تو آخر کار مجبور ہوکر (نعوذ باللہ ) خود آں حضرت ﷺ کے قتل کا ارادہ کیا اور تلوار کمر سے باندھ کر سیدھے رسول ﷺ کی طرف چلے ،راہ میں اتفاقا نعیم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ مل گئے ،ان کے تیور دیکھ کر پوچھا خیر تو ہے ؟ بولے :محمدﷺ کا فیصلہ کرنے جا رہا ہوں ، انہوں نے کہا کہ پہلے اپنے گھر کی تو خبرلو خود تمہاری بہن اور بہنوئی اسلام لا چکے ہیں ،فورا پلٹے اور بہن کے یہاں پہنچے، وہ قرآن پڑھ رہی تھیں ،ان کی آہٹ پا کر چپ ہو گئیں اور قرآن کے اجزا چھپا لیے ،لیکن آواز ان کے کانوں میں پڑ چکی تھی ،بہن سے پوچھا یہ کیسی آواز تھی؟ بولیں :کچھ نہیں ،انہوں نے کہا کہ میں سن چکا ہوں کہ تم دونوں مرتد ہوگئے ،یہ کہہ کر بہنوئی سے دست و گریبان ہوگئے اور جب ان کی بہن بچانے کو آئیں تو ان کی بھی خبر لی ،یہاں تک کہ ان کا جسم لہو لہان ہو گیا لیکن اسلام کی محبت پر ان کا کچھ اثر نہ ہوا،بولیں کہ عمر رضی اللہ عنہ جو بن آے کر لو لیکن اسلام اب دل سے نہیں نکل سکتا ۔ان الفاظ نے حضرت کے دل پر خاص اثر کیا ،بہن کی طرف محبت کی نگا ہ سے دیکھا ،ان کے جسم سے خون جاری تھا،اسے دیکھ کر اور بھی رقت ہوئی ۔فرمایا تم لوگ جو پڑھ رہے تھے مجھے بھی سناو ،فاطمہ نے قرآن کے اجزا سامنے لاکر رکھ دئیے ،اٹھا کر دیکھا تو ’’سبح للہ ما فی السموات و الأرض و ہو العزیز الحکیم ،، چمک رہی تھی ،یہاں تک جب اس آیت پر پہنچے ’’آمنوا باللہ و رسولہ ،،(سورہ حدید:۱ ۔۷)تو بے اختیار پکار اٹھے ’’أشہد أن لا إلہ إلا اللہ و أشہد أن محمدا رسول اللہ ،،
یہ وہ زمانہ تھا جب رسول ﷺ ارقم رضی اللہ عنہ کے مکان میں’ جو کوہ صفا کے نیچے واقع تھا ،پناہ گزیں تھے ۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آستانہ مبارک پر پہنچ کر دستک دی ،چو ں کہ شمشیر بہ کف تھے ۔،صحابہ کو تردد ہوا ،لیکن سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آنے دو ،مخلصانہ آیا ہے تو بہتر ہے ورنہ اسی کی تلوار سے اس کا سر قلم کر دوں گا ۔سیدنا عمر نے اندر قدم رکھا تو رسولﷺ خود آگے بڑھے اور ان کا دامن پکڑ کر فرمایا :کیوں عمر ! کس ارادے سے آے ہو ؟نبوت کی پر جلال آواز نے ان کو کپکپا دیا ،نہایت ہی خضوع کے ساتھ عرض کی کہ ایمان لانے کے لیے ،آں حضرت ﷺ نے بے ساختہ ’’اللہ اکبر ،،کا نعرہ اس زور سے مارا کہ تمام پہاڑیاں گو نج اٹھیں (سیرت النبی ﷺ :۱؍۲۰۹۔۲۱۰،بحوالہ اسد الغابۃ و ابن العساکر و کامل ابن اثیر )
اس قصے کی کل پانچ سندیں ہیں اور پانچو ں سند کے الفاظ مختلف ہیں۔ان سندوں کے تما م روات محدثین کے نذدیک ضعیف ہیں ،ان کی تفصیل ذیل میں پیش کی جارہی ہے :
پہلی سند : امام بیہقی نے اس کہانی کو دلائل النبوہ (۲؍۲۱۹۔۲۲۰)اور ابن سعد نے الطبقات الکبری (۳؍۲۶۷)میں نقل کیا ہے ۔پوری سند ا س طرح سے ہے :قال إسحاق بن یوسف الأرزق ،قال أخبرنا القاسم بن عثمان البصری عن أنس بن مالک قال فذکرہ ۔اس سند میں ایک راوی قاسم بن عثمان بصری ہیں جو تمام محدثین کے ہاں متروک و ضعیف ہیں ،امام بخاری فرماتے ہیں کہ اس کی متابعت نہیں کی جاتی ہے ۔اما م دار قطنی فرماتے ہیں ’’لیس بالقوی ،،(لسان المیزان :۴؍۴۶۳)اور اما م ذہبی نے اس قصہ کو سخت منکر کہا ہے( میزان الاعتدال (۱؍۲۹۵)
دوسری سند :امام طبرانی نے المعجم الکبیر (۲؍۹۷)میں نقل کیا ہے ،مکمل سند اس طرح ہے کہ قال أحمد بن محمد بن یحی بن حمزۃ حدثناإسحاق بن إبراہیم حدثنا یزید بن ربیعۃ حدثنا أبو الأشعث عن ثوبان فذکر القصۃ ۔یہ سند بھی نہایت کمزور ہے، اس میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے ،ا س کے بارے میں امام بخاری فرماتے ہیں ان کی تمام مرویات منکر ہیں او رامام ابن حجر نے متروک الحدیث کہا ہے ( الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم: ۹؍۲۶۱)
تیسری سند :ابن الأثیر نے اسد الغابۃ ؍۱۴۷۴)میں اس قصہ کو ’ إسحاق بن الحنینی حدثنا أسامۃ بن زید بن أسلم عن أبیہ عن جدہکی سند سے کئی طرق سے بیان کیا ہے ۔یہ سند بھی سخت ضعیف ہے کیو ں کہ ا س سند میں اسحاق بن ابراہیم حنینی ،اسامہ بن زید دونوں سخت ضعیف ہیں (التہذیب لابن حجر:۱؍۱۸۱۔۱۹۶)
چوتھی سند : ابو نعیم نے دلائل النبوۃ (۱؍۲۴۱)میں اسحاق بن عبد اللہ عن ابان بن صالح عن مجاہد عن ابن عباس کی سندسے بیان کیا ہے ۔اس روایت میں اسحاق بن عبد اللہ ابی فروہ تمام علما ے جرح و تعدیل کے ہاں ضعیف و متروک ہے(تقریب التہذیب:۱؍۱۰۲)
پانچویں سند : امام نعیم نے (حلےۃ الأولیاء :۱؍۳۹۔۴۰)میں یحی بن یعلی الأسلمی عن عبد اللہ بن مؤمل عن ابی الزبیر عن جابرکی سند سے بیان کیا ہے ۔اس سند میں بھی تین راوی مسلسل ضعیف ہیں، اول یحی بن یعلی اسلمی ضعیف اور شیعہ راوی ،دوم عبد اللہ بن مؤمل بن وہب المخزومی ضعیف ،سوم ابو الزبیر محمد بن مسلم بن تدرس مدلس راوی ہیں اورآخر الذکر راوی عنعنہ سے روایت کرتا ہے ( تقریب التہذیب لابن حجر:۳۵۲۔۵۰۶۔۵۹۸)
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا مذکورہ قصہ بہ لحاظ سنداور محدثین کے اصول کے مطابق صحیح نہیں ہے ،تاہم ذہن میں یہ بات کھٹکتی ہے کہ حقیقی کہانی کیا ہے ؟حقیقی کہانی یہ ہے کہ عمر کے قبول اسلام کے متعلق ایک طرف نبی ﷺ کی دعا اور شدید تمنا تھی ،تو دوسری طرف خود عمر نے کچھ دلائل کا خود مشاہدہ کر لیا جو حضرت محمد ﷺ کی نبوت کی صداقت پر دلالت کرتے تھے تو آپؓ نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر نہیں کی ،بلکہ بہت جلد اسلام قبول کر لیا ۔

(واللہ أعلم بالصواب) عندی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *