Sun. Jun 13th, 2021
عید میلاد النبی کی حقیقت
                                   شفیق اسماعیل سلفی 
رسو ل رحمت کی ولادت بلاشبہ عالم انسانیت کے لیے ایک عظیم بلکہ سب سے عظیم اور گراں قدر نعمت ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ”لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فہیم رسولا…….،،(آل عمران:  164) یہی وجہ ہے کہ اس نعمت کے چھن جانے اور آپ ﷺ کی وفات سے سارے لوگ ٹھٹھر کر رہ گئے،آپ ﷺ کی خبر وفات کو برداشت نہیں کر پارہے تھے،ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ دنیا ظلمت کدہ بن گئی۔اس حقیقت کی عکاسی سیدنا انس بن مالک ؓ نے اس انداز میں کی ہے ”لما الیوم الذی دخل فیہ رسول اللہ ﷺ المدینۃ أضاء منہا کل شئی،فلما کان الیوم الذی مات فیہ أ ظلم منہا کل شئی،،جس دن اللہ کے رسول ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو مدینہ کی ساری چیزیں جگمگا اٹھیں اور جس دن آپ ﷺ کی وفات ہوئی سب مرجھا گئیں،،(صحیح الترمذی للألبانی /2861) رسول اللہ ﷺ کا انتقال بلاشبہ ایک عظیم کربناک حادثہ اور عظیم سانحہ تھا پتھر دل لوگ اور وقت کے بلوان و پہلوان بھی اسے برداشت نہ کر سکے۔سارے مصائب و آلام میں سب سے بڑھ کر آپ ﷺ کی وفات ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ”اذ اأ صیب أحدکم بمصیبۃ فلیذکر مصیبتہ بی فانہا من أعظم المصائب،،یعنی جب تم میں سے کسی کو مصیبت لاحق ہو تو وہ میری مصیبت (وفات) کو یاد کر لے کیوں کہ وہ سب سے بڑی مصیبت ہے۔
  • مگر افسو س کہ اس قدر مصیبت کے باجود مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ نبی ﷺ کی محبت میں مست و مخمور ہو کر کچھ ایسے امور انجام دے بیٹھتے ہیں جو یقینا شریعت مطہر ہ کی پیشانی پر ایک بد نما داغ ہے۔چنانچہ ہر سال ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو ڈھول باجے اور رقص و سرور،نعت خوانی اور قصیدہ گوئی و قوالی کی محفلیں سجائی جاتی ہیں جو غیر درست ہیں۔
  • ولادت رسول: آپ ﷺ ولادت کب اور کس ماہ میں ہوئی اس سلسلے میں علما ے تاریخ و سیر کے درمیان جو اختلافات پائے جاتے ہیں وہ کوئی عجیب و جدید نہیں ہیں بلکہ انتہائی مشہور و معروف ہیں۔
  • یہ بات مشہور ہے کہ آپ ﷺ عام الفیل کو پیدا ہوئے،پھر اختلاف اس میں ہوا کہ عام الفیل میں بھی کب؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ واقعہ فیل کے ایک ماہ بعد تو بعض کہتے ہیں چالیس دن کے بعد،بعض کے ہاں پچاس دن بعد پیدا ہونے کی بات مشہور ہے تو بعض نے کہا کہ واقعہ فیل نصف محرم کو پیش آیا اور اس کے 55رات نبی ﷺ پیدا ہوئے۔بعضوں نے کہا کہ آپ کی پیدائش سے تیئس سال قبل عام الفیل گزر چکا تھا اور بعض لوگوں نے کہا کہ عام الفیل کے چالیس سال بعد اور کسی نے اس سے پندرہ سال قبل ولادت کی بات کہی ہے۔یہ تو سال ولادت میں اختلاف کی بات ہے جب کہ اختلاف اس امر میں بھی ہے کہ کس ماہ میں نبی ﷺ کی ولادت ہوئی ہے؟
  • بعض مورخین کے نزدیک آپ ﷺ کی ولادت ماہ رمضان ہوئی،کسی نے ماہ رجب میں بتایا اور یہ بات بھی مشہور ہے کہ آپ ﷺ ماہ ربیع الاول میں پیدا ہوئے۔بات یہی پر ختم نہیں ہو تی ہے بکہ ماہ ربیع الاول کی کس تاریخ کو پیدا ہوئے اس میں بھی متعدد اختلافی اقوال پائے جاتے ہیں اور مورخین کے ہاں اس قدر شدید اختلاف ہے کہ اس کی گتھی سلجھائے نہ سلجھ سکی،چنانچہ تاریخ میں اس طرح سے اختلاف ہے: ۲،۸،۰۱،۲۱،۷۱،۸۱،۲۲اور بعض کے نزدیک رمضان کی ۲۱/ تاریخ کو آپ ﷺ کی ولادت قرار دیا۔اب سوال یہ ہے کہ جب تاریخ ولادت میں اس قدر اختلافات ہیں تو ایسی صورت میں سال میں کسی ایک تاریخ متعین کرنا یہ عقل مندی کہلائے گی یا مجنونانہ حرکت؟
  • اکثر محققین نے ۲۱ ربیع الاول کے بجائے ۹ ربیع الاول کو آپ کی تاریخ ولادت تسلیم کیا ہے جیسا کہ مشہور سیرت نگار علامہ صفی الرحمن مبارکپوری نے ماہر فلکیات محمود پاشا فلکی کے قول کی بنیاد پر راجح قرار دیا ہے (الرحیق المختوم:83) علامہ فاکہانی رقمطراز ہیں ”ربیع الاول میں آ پ پیدا ہوئے اور اسی ماہ وفات پائے،اگر آپ کی پیدائش باعث مسرت ہے تو وفات باعث حسرت و الم۔لہذا اس ماہ میں خو شی،حزن و الم سے بہتر تو نہیں ہے،،(المورد فی عمل المولد:14)
  • ٭عید میلاد النبی کے جواز کے قائلین کے دلائل کا تجزیہ:
  • ۱۔روایت کیا جاتا ہے کہ نبی ﷺ کا عقیقہ آپ کے دادا نے کیا اور بعد میں آپ ﷺ نے خود بھی اپنا عقیقہ کیا اور آپ کا عقیقہ کرنا اپنی ولادت کے شکرانے کے طور پر تھا تو امت کو بھی چاہیے کہ بطور خاص آپ کی ولادت کے دن کھانے پینے کا انتظام کرے،،
  • آپ کے عقیقہ کرنے کی روایت انتہائی کمزور ہے اور امام نووی نے اسے باطل قرار دیا (المجموع: 8/431)
  • ۲۔صحیح روایت میں ہے کہ نبی ﷺ جب مدینہ تشریف لے گئے تو یہودیو ں کو سیدنا نوح علیہ السلام کی فرعون سے نجات پانے کی وجہ سے شکرانے کا روزہ رکھتے ہوئے پایا توآپ ﷺ نے بھی روزہ رکھا،تو جب آپ ﷺ سیدنا موسی علیہ السلام کی نجات میں شکرانے کا روزہ رکھا تو ہم آپ کی شکرانے کیوں نہیں ادا کر سکتے ہیں؟
  • جواب: کیا رسول اللہ ﷺ نے اس طرح دیگیں،سبیلیں اور رقص و سرور نیز مرد و زن کے اختلاط کے ساتھ شکرانہ ادا کیا تھا یا صرف روزہ رکھ کر،لہذا تمہیں اگر شکریہ ہی ادا کرنا ہے تو اس کے لیے روزہ رکھو۔
  • ۳۔صحیح ر وایت میں ہے کہ آپ ﷺ سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے اورتوجیہ یہ بتلائی کہ سوموار کو میں پیدا ہوا اور جمعرات کو نامہ اعمال اللہ کے ہاں پہنچایا جاتا ہے تو آپ ﷺ نے جب اپنی پیدائش کے دن سوموار کا اہتمام کیا تو اس یوم ولادت کو شکرانے کے طور پر منعقد کرلیں تو کیا حرج ہے؟
  • جواب: آپ ﷺ کی پیدائش پر جس طرح آپ ﷺ نے شکریہ ادا کیا اسی طرح سے ادا کیا جائے اور و ہ صرف روزہ ہے۔نہ کر دھوم دھام اور ا ژدہام۔پھر یہ کہ آپ ﷺ سموار کو روزہ رکھتے تھے جو ہر ماہ چار یا پانچ بار آتا ہے جو صرف سال میں ایک بار ہی خوشی کیوں منائی جائے بلکہ ہر ماہ چار پانچ بار جشن منایا جائے اور جب سوموار کو روزہ رکھنے سے استدلال کیا جائے تو پھر جمعرات کو جشن منایا جائے۔کیوں کہ اس دن بھی آپ روزہ رکھا کرتے تھے،نیز کیا اس مناسبت سے روزہ کے علاوہ اللہ کے نبی ﷺ کسی قسم کی کوئی محفل،جلسے جلوس وغیرہ منعقد کی تھی۔
  • ۴۔عید میلاد النبی ﷺ کے قائلین کا استدلال آیت ”قل بفضل اللہ و برحمتہ فبذالک فلیفر ہو خیر مما یجمعون،،(یونس: 87) سے ہے کہ اس میں اللہ کے رسول ﷺ کو رحمت قرار دے کر اس موقع سے خوشی کے اظہار کی بات کہی گئی ہے تو پھر اگر ہم جشن منعقد کرکے خوشی کا اظہار کریں تو کیا حرج ہے؟
  • جواب: امام المفسرین ابن جریر طبری آیت کی تفسیر میں رقمطراز ہیں کہ ”فضل اللہ،،سے مراد اسلام ہے اور رحمت سے مراد قرآن مجید ہے،،(تفسیر ابن جریر:۰۱/۵۰۱) امام التفسیر علامہ قرطبی نے سیدنا ابو سعید اور ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے ”فضل اللہ،،سے مراد قرآن مجید اور رحمت سے مراد اسلام لیاہے۔حسن بصری،مجاہد،قتادہ جیسے امامان تفسیر نے فضل اللہ سے مراد ایمان اور رحمت سے مراد اسلام لیا ہے (الجامع لأحکام القرآن: ۸/۳۹۳) حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر جلد ۲ صفحہ نمبر ۱۲۔۰۲۴ میں اور ابن قیم نے اپنی کتاب ”اجتماع الجیوش الاسلامےۃ،،صفحہ نمبر ۶ میں تقریبا یہی معانی ذکر کئے ہیں۔معلوم ہوا کہ آیت کا جو مفہوم بدعت نواز،عاشقان رسول ﷺ نے بیان کیا ہے وہ جعلی اور من گھڑت ہے۔
  • ۵۔میلاد کو جائز قرار دینے والے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ابو لہب کو خواب میں دیکھا گیا اور خیریت پوچھی گئی تو اس نے بتا یا کہ عذاب میں مبتلا ہوں البتہ ہر دو شنبہ کی رات عذاب میں تخفیف کی جاتی ہے۔اس خواب کی تو توجیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ کی پیدائش کی خبر اس کی لونڈی ثوبیہ اسے دیا تو اس نے اسے آزاد کر دیا تھا تو گویا آپ ﷺ کی پیدا ئش کے موقع سے خوشی منانا ایک مفید عمل ہوا تو اسے انجام دینے میں کیا حرج ہے؟
  • جواب: یہ خواب سیدنا عباس بن مطلب نے دیکھا تھا اور شریعت کسی ایرے غیرے کے خواب سے ثابت نہیں ہوتی وہ اس بات کے بھر پور احتمال کے ساتھ کہ اس نے یہ خواب حالت کفر میں دیکھا۔ابولہب کا اپنی لونڈی کو اس موقع سے آزاد کرنا ایک مفروضہ ہی معلوم ہوتا ہے اور نہ تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ ہجرت مدینہ کے بعد نبی ﷺ کے اصرار کے بعد اس نے آزاد کیا تھا جب کہ ابو لہب کی موت حالت کفر تھی اور کافر کو اس کا کوئی بھی عمل فائدہ نہیں پہنچاتا۔ابولہب کی خوشی ایک طبعی خوشی تھی تعبدی نہیں تھی اور خوشی اللہ کے لیے نہ ہو تو اس پر ثواب نہیں ملتا ہے۔اور مومن کو تو ہر حال اور ہمہ وقت آپ ﷺ کی پیدائش کو یاد کرکے خوش ہونا چاہیے نہ کہ کسی خاص دن اور موقع سے۔
  • اسی طرح میلاد کے جواز کے لیے اس قسم کی عقلی و خود ساختہ دلیلیں پیش کرنا کہ یہ ایک سالانہ یاد گار ہے جس میں آپ ﷺ کا تذکرہ ہی تو ہوتا ہے۔اس میں نبی ﷺ کے نسب شریف کا علم حاصل ہوتا ہے یا آپ کی پیدائش پر اظہار خوشی تو ایمان کی علامت ہے۔اس دن لوگوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے جو باعث ثواب ہے۔اس موقع سے تلاوت قرآن کی جاتی ہے،درود پڑھا جاتا ہے تو اس میں قباحت ہے،وغیرہ وغیرہ ۔ان کے لیے ایک خاص تاریخ اور نوعیت کی تعین شریعت میں موجود نہیں بلکہ یہ تو روزانہ اور ہمیشگی کا عمل ہے ناکہ کسی خاص دن کا۔
  • ٭عید میلاد کا آغاز: عید میلاد کا یہ عمل قرون مفضلہ کی کئی صدیا ں گزر جانے کے بعد وجود میں آیا چنانچہ سب سے پہلے اسے چوتھی صدی ہجری 363ھ میں عبیدی فاطمیوں نے ایجاد کیا اور ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کا انتخاب ایک سازش کے تحت کیا۔مصری حاکم وقت ”حاکم بامر اللہ،،اس سلسلے کی انتہائی مشہور بدنام زمانہ کڑی جیسے قرقہ دروز اپنا الہ تک مانتا ہے۔(عقیدہ دروز عرض و نقد،شیخ محمد احمد الخطیب:۷۱۱۔۵۳۱) مورخ اسلام حافظ ذہبی رحمہ اللہ علیہ نے حاکم بامر اللہ کے بارے لکھتے ہیں کہ ”وہ انتہائی درجہ کا خبیث،بد باطن،مدعی ربوبیت،روافض اور متشدد زندیق تھا،،(سیر اعلام النبلاء:۵/۳۷۱)
  • معلوم ہوا کہ عید میلاد النبی ﷺ مذہب اسلام میں ایک خود ساختہ عبادت اور بدعت ہے اور عیسائی جیسے ضالین قوم کی عید میلاد مسیی ”کرسمس ڈے،،کی نقالی ہے۔ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ ا، دکتور صالح فوزان اور مفتی وقت شیخ عبد اللہ بن باز نے بھی اسے بدعت اور عیسائیوں کی عید مسیح کی مشابہت قرار دیا۔
  • فعلی الأئمۃ الاھتداء و الاجتناب منہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *