Fri. Jan 15th, 2021
فوڈ بینک : خدمت خلق کا ذریعہ
                شیخ اسعد اعظمی 
اس روئے زمین پر بسنے والے لوگوں میں مختلف ذہنیت اور مختلف رجحان کے لوگ ہوتے ہیں، چنانچہ ایک طبقہ ان لوگوں کا ہوتا ہے جنہیں صرف اپنی اور اپنے مفاد کی فکر رہتی ہے تو دوسری جانب وہ طبقہ بھی ہوتا ہے جو اپنے غم کے ساتھ دوسروں کا غم بھی بانٹتا ہے، دوسروں کے کام آنے، ان کو فائدہ پہنچانے اور ان کی تکلیف کم کرنے سے اس کو راحت محسوس ہوتی ہے، خدمت خلق کے اس جذبہ کی اسلام میں بڑی ستائش کی گئی ہے اور لوگوں کو اس پر مختلف انداز سے ابھارا گیا ہے۔
خدمت خلق کے جذبہ سے لبریز اللہ کے یہ نیک بندے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے نئے نئے طریقے بھی ڈھونڈھتے رہتے ہیں جس سے ان کے عزم وحوصلے کا بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے،’’ فوڈ بینک‘‘ کا نظریہ اور اس کی تنفیذ بھی ایسے ہی باشعور افراد کے ذریعہ سامنے لایا جانے والا ایک قابل تقلید عمل ہے جس میں انسانی معاشرہ کے کئی حساس مسائل کا حل پنہاں ہے۔
نوے کی دہائی میں سعودی عرب میں تعلیم کی غرض سے قیام کے دوران میں نے یہ سنا تو ضرو ر تھا کہ وہاں بعض رضاکار شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے بچے ہوئے محفوظ کھانوں کو حاصل کرکے غرباء ومستحقین تک پہنچانے کاکام کرتے ہیں، لیکن اس نوعیت کی باقاعدہ مستقل تحریک وتنظیم کا علم ماہنامہ’’ الرابطۃ‘‘ کے جون ۲۰۰۷ء ؁ کے شمارے سے ہوا، جس کی کچھ تفصیلات آگے کی سطور میں بیان کی جائیں گی۔
یہ بات ہر شخص کے مشاہدہ میں آتی ہوگی کہ شادی بیاہ اور اس قسم کی تقریبات کے اختتام پر بچے ہوئے کھانوں کی کھپت کے بارے میں گھر والے اور منتظمین متفکر ہوتے ہیں اور جیسے تیسے ان کھانوں کو تقسیم کرکے ختم کیا جاتا ہے۔ کچھ اسی طرح کا معاملہ بڑے بڑے ہوٹلو ں، ریستورانوں اور مدارس وجامعات اور یونیورسٹیوں کے ہوسٹلوں میں روزانہ ہی رہتا ہے۔ دیکھا جائے تو ایک طرف فاضل کھانوں کی ایک بڑی مقدار روزانہ تتر بتر ہوجاتی ہے، جب کہ دوسری طرف خلق خدا کی ایک بڑی تعداد( جس میں بوڑھے، کمزور، اپاہج، عورتیں اور بچے سب ہوتے ہیں) دولقمہ کے لیے ترس کر رہ جاتی ہے اور پیٹ پر پتھر باندھ کر وقت کاٹتی ہے، اس تعلق سے اگر کسی ایک دو شہر یا علاقے کا سروے کرایا جائے اور اعداد وشمار جمع کیے جائیں تو حیرت ناک حقائق سامنے آئیں گے، کیونکہ مذکورہ ماہنامے نے ایک سروے ہی کے حوالے سے لکھا ہے کہ صرف خر طوم( سوڈان کی راجدھانی) میں تیار ہونے والے کھانوں کا(۳۰) فیصد کوڑے دان کی نظر ہوجاتا ہے جس میں(۲۵) فیصد سیال اور(۵) فیصد خشک کھانا ہوتا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر غذا کی بربادی کو دیکھ کر ہی نیک طینت لوگوں میں یہ داعیہ پیدا ہوا ہوگا کہ اس نعمت کو برباد ہونے سے بچا کر غریبوں، مسکینوں، ضعیفوں اور بیواؤں تک پہنچادیا جائے۔ واضح رہے کہ یہاں بچے ہوئے کھانے سے مراد پلیٹ تھالی میں بچا ہوا فضلہ یا جوٹھا نہیں بلکہ وہ کھانا ہے جس کے استعمال کی نوبت ہی نہیں آئی۔
مجلہ کے مطابق عالم اسلام میں مصر اور سوڈان میں اس عمل کو منظم اور مربوط کرنے کے لیے سب سے پہلے’’ بنک الطعام‘‘ (food (bankکی تجویز زیر غور آئی، ۲۰۰۲ء ؁ میں مصر میں فوڈ بینک کا افتتاح ہوا، اور ۲۰۰۵ء ؁ سے یہ بینک عملی طور پر کام کرنے لگا، عام بینکوں کی طرح اس بینک کا نظام بھی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ فوڈ بینک کا مقصد نفع کمانا نہیں بلکہ عطیہ دہندوں سے عطیہ کی رقم یا سامان لے کر مستحقین تک پہنچانے کے کام کو منظم بنانا ہے، بڑے پیمانے پر اس نظام کو چلانے کے لیے ظاہر ہے افراد کی بھی ضرورت ہوگی اور جگہ اور وسائل کی بھی، کیونکہ متعلقہ ہوٹل وغیرہ سے رابطہ رکھنا، بروقت ان کے یہاں پہنچنا، کھانے کوحاصل کرکے اسے پیک کرانا، کم سے کم وقت میں مستحقین تک پہنچانا تاکہ خراب نہ ہو، اسی طرح مستحقین کے بارے میں مفصل معلومات رکھنا، عطیہ دینے والوں کو ان کے عطیہ کی رسید دینا، اس کا حساب کتاب رکھنا، وغیرہ وغیرہ بہت سارے امور ہیں جو اس بینک کے ذریعہ انجام پاتے ہیں۔
مذکورہ بالا مصری فوڈ بینک نے اس نظام کے تحت جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سال ۲۰۰۶ء میں مصر کے ایک بحری جہاز کے سمندر میں غرق ہوجانے کے موقع پر غرق ہونے والوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی غرض سے مصری بندرگاہ پر پہنچے ان کے خاندان والوں کے لیے(۳۸) ہزار کھانے کے پیکٹ اس بینک نے فراہم کیے۔ اسی طرح یہ بینک قاہرہ اور دوسرے علاقوں کے ساٹھ ہزار یتیموں کو روزانہ کھانا فراہم کرتا ہے۔ بینک نے اپنی اس مہم کا نام’’ مصر سے بھکمری کے خاتمہ کی مہم‘‘ رکھا ہے جس سے ذمہ داران کے عظیم مقاصد کا پتہ چلتا ہے۔
سوڈان مین فوڈ بینک’’ بھوکے انتظار میں‘‘ کے عنوان سے اپنی مہم چلا رہا ہے۔ یہاں رمضان ۲۰۰۶ء میں اجتماعی افطار کی تقریبات کے بچے ہوئے کھانوں کے سامانوں کو اکٹھا کرنے اور ضرورت مندوں تک پہنچانے کی غرض سے کام شروع ہوا اور اس کے فوائد کو دیکھتے ہوئے رمضان کے بعد بھی یہ عمل جاری رکھا گیا۔
دونوں ملکوں کے فوڈ بینکوں کے کام کرنے کا طریقہ لگ بھگ یکساں ہے، بچے ہوئے کھانوں کو جمع کرنا اور صفائی وغیرہ کے اہتمام کے ساتھ ان کو صاف پیکٹ میں پیک کرانا اور فوری طور پر مستحقین کو پہنچانا یہی بنیادی کام ہیں۔ سوڈان کے بینکوں کے پاس(۱۴۰) سے زائد رضاکار ہیں جو ان کاموں کو انجام دیتے ہیں۔ ان رضاکاروں کو کھانے کے معیار اور صفائی ستھرائی وغیرہ پر دھیان رکھنے کے لیے باقاعدہ ماہرین کے ذریعہ ٹریننگ دلائی جاتی ہے۔
سوڈان میں جنگ سے متاثرہ علاقے دارفر میں عید قرباں کے موقع پر سوڈان فوڈ بینک نے’’ عید پر کوئی بھوکا نہ رہے‘‘ کے عنوان سے ایک مہم چلائی جس کے تحت ضرورت مندوں میں قربانی کا گوشت تقسیم کیا ۔ اس پروگرام میں چار ہزار باشندوں نے حصہ لینے کی پیش کش کی۔ ان سے گوشت حاصل کرکے مستحقین تک پہنچایا گیا، اس کے علاوہ کھانے کے ہزاروں پیکٹ بھی تقسیم کیے گئے۔
سعودی عرب میں اگرچہ اس قسم کے فوڈ بینک قائم نہیں، مگر مذکورہ نوعیت کے مختلف پروگراموں پر بڑے پیمانے پر عمل ہورہا ہے، رفاہی تنظیمیں، دینی ،سرکاری وغیر سرکاری ادارے فقراء، مساکین ،مستحقین طلبہ اور بے سہارا لوگوں کو غذا فراہم کرنے کاکام عرصہ سے انجام دے رہے ہیں۔ رمضان میں جگہ جگہ روزہ داروں کے افطار کا پرتکلف انتظام رہتا ہے جو تنظیموں اور اداروں کے علاوہ اہل خیر انفرادی طور پر بھی کرتے ہیں۔ حج کے ایام میں مکہ، منی، مزدلفہ اور عرفات وغیرہ میں غذائی سامانوں سے بھرے ٹرک گھومتے رہتے ہیں اور حجاج میں پھل، دودھ، دہی، بریڈ اور جوس وغیرہ تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ سعودی عرب اور کویت وغیرہ کے اہل خیر دنیا بھر کے مختلف ممالک میں روزہ داروں کو افطار کرانے اور عید قرباں کے موقع پر قربانی کا جانور فراہم کرنے کا بھی انتظام کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ اسلام میں اس قسم کے عمل کی بڑی ترغیب دی گئی ہے اور اس پر بڑے اجر وثواب کی بشارت دی گئی ہے۔ مسلمانوں کو ہر جگہ اس نوعیت کی انفرادی واجتماعی کوششیں کرنی چاہئیں۔ یہ کام چھوٹے پیمانے پر فی الفور شروع کیا جاسکتا ہے۔ چند باہمت اور غیور اکٹھا ہوکر منصوبہ بندی کے ساتھ اگر کام شروع کریں تو دوسروں میں بھی اس طرح کا جذبہ ابھرے گا، اس طرح رفتہ رفتہ کام کا دائرہ وسیع ہوتا جائے گا۔
ہمارے بڑے بڑے مدارس وجامعات کے متنظمین اور اساتذہ وطلبہ کو خاص طور سے اس نیک عمل کو انجام دینے کا بہترین موقع حاصل ہے، مدارس میں مقیم طلبہ کے لیے تیار کیے جانے والے کھانے والوں کا اکثر وبیشتر اوقات میں کم یا زیادہ بچ جانا معمول کی بات ہے، اس فاضل کھانے کو کام میں لانے کی تدبیریں کی جائیں تو کتنے یتیموں، بیواؤں، ضعیفوں اور مفلوک الحال لوگوں کے پیٹ کی آگ بجھانے کا انتظام ہوجائے۔
اس مناسبت سے اس امر کا تذکرہ بھی بے محل نہ ہوگا کہ بعض حضرات شعوری یا غیر شعوری طور پر کھانا برباد کرنے کے عادی ہوتے ہیں، وہ کھانے کے لیے اپنے برتن میں جو کچھ لیتے ہیں اس میں سے چند لقمے یا معمولی حصہ کھاکر باقی چھوڑ دیتے ہیں جو سیدھے کوڑے دان میں جاتا ہے۔ اجتماعی تقریبات میں اور اسی طرح جامعات اور یونیورسٹیوں کے مطاعم میں اس طرح کے مناظر اکثر دیکھے جاتے ہیں، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں بھی ایسے لوگ اپنی عادت سے باز نہیںآتے، شاید یہی وجہ ہے کہ ہانگ کانگ کے بعض ریستوران میں کھانے کی ہر میز پر جلی حروف میں یہ اعلان لگا ہوتا ہے کہ کھانے کی تھالی میں کھانا چھوڑنے والوں کو (۳۵) سینٹ یا ڈیڑھ ڈالر جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ غالباً اس کی وجہ یہی ہوگی کہ شہر میں روزانہ جمع ہونے والے کوڑوں کی کثرت سے ذمہ داران تنگ آگئے ہوں گے، کیونکہ ایک جائزہ کے مطابق ان کوڑوں کا چالیس فیصد حصہ ہوٹلوں کے ردی کھانوں پر مشتمل ہوتا تھا، اس کا اندازہ اس خبر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ہانگ کانگ میں ہوٹلوں کے نظام سے وابستہ ایک ذمہ دار نے بتایا کہ صفائی عملہ روزانہ (۲ء۱) ٹن ردی کھانے پھینکتا ہے۔(مجلہ مذکور)
یہ قصہ ہانگ کانگ کے ساتھ خاص نہیں ہے، ہر شہر اور ہر علاقے میں اس کی مثالیں تلاش کی جاسکتی ہیں، اور اس سے معاشرہ میں موجود افراط و تفریط کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *