Mon. Nov 23rd, 2020
قرآن کریم کے ترجمے کے اصول
                           عاقب جواد
قرآن کریم اللہ تعالی کی طرف سے عطا کردہ وہ بیش قیمت تحفہ ہے جو علوم و فنون کا خزینہ،معارف وحکم کا گنجینہ اور روشنی و ہدایت کا عظیم زینہ ہے۔اس وجہ سے اسلامی تعلیمات میں قرآن فہمی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔قرآن کریم کو درست تناظر میں سمجھنا ہی دراصل دینی تعلیم کی بنیاد ہے۔اللہ تعالی نے قرآن حکیم میں حکم و مصالح،اسرار و رموز،اجمال و اطناب بیان کیا ہے۔اسے سمجھنا اور ان کے معانی و مفاہیم کی گہرائی تک جانا قرآنی اعجاز کا اعتراف ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر دور کے علما نے اپنے عصری تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس پر خصوصی توجہ دی ہے اور اسی زبان،لہجے اور انداز و اسلوب میں قرآنی تعلیمات کا فہم وشعور عطاکیا،جس سے اس دور کے عام انسانیت کو درپیش مسائل و مشکلات کا حل ہوا اور اس کی فلاح و بہبود میں خاطر خواہ کام ہوا۔اس حیثیت سے مفسر اول نبی ﷺ ہیں۔اس کے بعد صحابہ کرام میں ابن عباس،ابن مسعود اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم بحیثیت مفسر رہے۔تابعین میں مجاہد،عطا،عکرمہ،سعید بن جبیر(تفسیر کو فنی حیثیت سے متعارف کرنے والے) اور قتادہ اس فن میں مشاہیر رہے۔بعد ازاں ابن ماجہ،ابن جریر اور ابن حاتم اس سلسلے کی اہم کڑی ہے اور یہ سلسلہ تاہنوز جاری و ساری ہے۔
ترجمہ کی لغوی و اصطلاحی تعریف:ترجمہ کہتے ہیں کلام کو زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنا۔عطش درانی ترجمہ کی تعریف کرتے ہوئے یوں رقمطراز ہیں ”کسی زبان پر کیے گئے ایسے عمل کا نام ہے جس میں کسی اور زبان کے متن پیش کیا جائے،،((شاہ حقانی اردو ترجمہ:۳۵۱)تفسیر لغت میں باب ”تفعیل،،کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کو کھول کر بیان کرنے کے ہیں۔اصطلاحی تعریف علامہ زرخشی یوں بیان فرماتے ہیں ”ہو علم یعرف بہ فہم کتاب اللہ المنزل علی نبیہ محمد ﷺ و بیان معانیہ و استخراج أحکامہ و حکمہ،،تفسیر ایسا علم ہے جس سے قرآن کریم کی سمجھ حاصل ہو اور اس کے معانی کی وضاحت،احکام و حکمتوں کو نکالا جا سکے۔(البرہا ن فی القرآن:۱۳۱)
ترجمہ کے اقسام:ترجمہ کی دو قسمیں ہیں؛ایک لفظی اور دوسری تفسیری ۔لفظی ترجمہ کہتے ہیں ایک زبان سے دوسری زبان میں نظم ترتیب کا لحاظ رکھتے ہوئے منتقل کرنا اور اصل کلام کے معنی و مفہوم کو قائم رکھنا تاکہ کوئی تبدیلی واقع نہ ہو۔تفسیری ترجمہ یعنی محاوراتی ترجمہ:کلام کا مطلب ایک زبان سے دوسری زبان میں نظم و ترتیب کے بغیر معانی کا لحاظ رکھتے ہوئے وضاحت سے بیان کرنے کو کہتے ہیں۔لیکن دونوں ترجموں کی قسموں میں بہت سارے اغلاط ہیں۔شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے فرمایا ”عام طور پر ترجمے دوحال سے خالی نہیں ہیں؛ یا لفظی ترجمہ یا ایسا ترجمہ جس میں معنی کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ہر ایک اسلوب میں خرابی کی بہت سی شکلیں پائی جاتی ہیں،،(مقدمہ فتح الرحمن:۱۴)
اس سے یہ معلوم ہوا کہ دونوں کو ساتھ میں رکھنا ضروری ہوگا صرف کسی بھی آیت کا لفظی ترجمہ ناکافی ہوگا۔اس کی مثال ملاحظہ کیجیے کہ قرآن مجید سورہ بنی اسرائیل آیت (۹۲)میں اللہ تعالی نے فرمایا ”ولاتجعل یدک مغلولۃ إلی عنقک ولا تبسطہا کل البسط،،اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہوگا ”اپنے ہاتھوں کو گردن سے نہ باندھو اور نہ ہی بالکل کھلا چھوڑ دو۔ظاہر ہے کہ اس ترجمہ سے قرآن کا مقصد پورا نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ ”بخل و امساک سے کام نہ لو اور نہ ہی اسراف کرو،،تاہم دونوں اسلوب کے جامع اور صحیح ترجمہ دیکھیں گے تو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا ترجمہ ”فتح الرحمن بترجمۃ القرآن،،دیکھ سکتے ہیں۔ اس میں انہوں نے دونوں چیزوں کو خوبصورت انداز میں جمع کر دیا ہے،اور آئندہ آنے والی نسل کے لیے و قرآن کریم کے ترجمے و تفسیر کے اصول و ضوابط کی ایک معرکۃ الآراء کتاب ”المقدمہ فی قوانین الترجمۃ،،تصنیف کی جو مترجمین و مفسرین کے لیے نمونہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ ترجمہ کی تفسیر کے اصول و ضوابط کی ضرورت کیوں پڑی؟چوں کہ بعد کے ادوار میں عقل و نقل میں امتزاج ہو گیا اور قرآ نی آیات کے ترجمہ و تفسیرمیں اپنی عقلی موشگافیوں کو جگہ دی جانے لگی،اس وجہ سے اس کے اصول و ضوابط کی ضرورت پڑی۔مثال کے طور پر ان آیتوں کا مفہوم دیکھ سکتے ہیں؛”تبت یدا أبی لہب،،سے بعض مفسرین نے سیدنا ابوبکر اور عمر مراد لیا ہے۔اسی طرح ”إن اللہ ےأمرکم أن تذبحوا بقرۃ ً،،(البقرۃ:۴۴)جس گائے کو ذبح کرنے کا حکم ہے وہ سیدہ عائشہ ہے۔تو اس قسم کی خرافاتی تفسیریں وجود میں آگئی تھیں،اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ان آیتوں میں جو قرآن کا مطلوب ہے وہ ہرگز پورا نہیں ہو رہا ہے،اس وجہ سے ترجمہ و تفسیر کے اصول و ضوابط کی اشد ضرورت پڑی۔ابو عبد الرحمن کی حقائق تفسیر ایسی غلطیوں سے بھری پڑی ہے۔ان حالتوں میں ایک مترجم کے لیے قرآنی تفسیر و ترجمہ کے لیے جن اصول و قوانین کی پاسداری لاز م ہیں ذیل میں پیش ہیں:
(۱)ایک مترجم کے لیے علم لغت،علم نحو،علم صرف،علم الاشتقاق،علم المعانی بیان و بدیع،علم القراء ت،علم الکلام،اصول فقہ،اسباب نزول،علم القصص،علم ناسخ و منسوخ،حدیث نبویﷺ جیسے اہم علوم پر مہارت و براعت ہو نی چاہیے۔
(۲) قرآن کی تفسیر کرتے وقت یہ ترتیب خیال میں رکھیں کہ اولاً؛قرآن کی تفسیر قرآن سے کریں،پھر تفسیر بالحدیث و السیرۃ،تفسیر قرآن اقوال صحابہ سے،تفسیر قرآن اقوال تابعین سے،تفسیر قرآن عرب کی زبان سے،پھر سب سے آخر میں تفسیر قرآن عقل سلیم سے۔
(۳)ترجمہ و تفسیر کرتے وقت ایسی تفاسیر پر اعتماد کیا جائے جو احادیث،عربی لغت اور شریعت اسلامیہ کے اصول وضوابط سے ماخوذ ہو۔
(۴)آیت کا ترجمہ کرتے وقت یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ قرآن کی آیات تین طرح کی ہوتی ہیں؛محکمات،متشابہات اور مقطعات ہیں جن کے معانی واضح نہیں ہیں،ان کا بعینہ ویسا ہی ترجمہ کریں جیسا کہ وارد ہیں۔
(۵)عربی زبان کے ساتھ ساتھ جس زبان میں ترجمہ کیا جارہا ہو اس زبان میں مترجم کا ماہر ہونا لازم و لابدی ہے۔
(۶)پہلے ترجمہ کیا جائے،اس کے بعد اس کی تفسیر بیان کی جائے تاکہ قارئین خلط ملط کا شکار نہ ہوں۔
(۷)ترجمہ کرتے وقت نفس زبان کا نہ ذوق فوت ہو اور نہ ہی قرآن کے مفہوم میں کوئی فرق آئے،اس چیز کا بے حد خیال رکھا جائے۔
(۸)ترجمہ بالکل سلیس اور واضح ہو،اس میں گنجلک یا کسی قسم کی کوئی پیچیدگی نہ ہو جس سے قارئین کو بوریت محسوس ہو۔

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *