Fri. Jan 15th, 2021
                                    ثناءاللہ صادق تیمی 
لڑائی جب نظریات کی ہو تو تیاری بہت مضبوط ہونی چاہیے ۔ جن لوگوں کی موجودہ سرکار کی پالیسیوں پر نظر ہے وہ سمجھ رہے ہیں کہ اس حکومت نے ہر اس چيز کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے جس سے اس کا نظریاتی اختلاف ہے اور جواس کے ایجینڈوں کی راہ میں حائل ہوسکتی ہے ۔ مثال کے طور پر ان حقائق پر دھیان دیجیے ؛
1 ۔ ان کے کئی بڑے لیڈروں نے مختلف مواقع سے کہا کہ وہ دستور بدلنے آئے ہیں اور وہ سیکولر دستور کو نہیں مانتے ۔ آپ نے سوچا کیوں ؟ اس لیے کہ ان کی راہ کا سب سے بڑا کانٹا یہی ہے ۔
2 ۔ وہ تاریخ کو دوبارہ سے لکھنا چاہتے ہیں ، جانتے ہیں کیوں ؟ اس لیے کہ حقیقی تاریخ ان کے نظریات کی قلعی کھولتی ہے اور اس سے صاف ہوجاتا ہے کہ یہ انگریزوں کے تلوے چاٹتے رہے ہیں اور ملک کی آزادی یا تعمیر میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے ۔
3 ۔ یہ لگاتار نہرو پر چوٹ کرتے رہے ہیں ، جانتے ہیں کیوں ؟ اس لیے کہ کوئی شخصیت اگر واقعی سیکولر انڈیا کا عملی پیکر نظر آتی ہے تو وہ نہرو کی شخصیت ہے ۔
4 ۔ یہ گاندھی کو بھی نہیں چھوڑتے ۔ جانتے ہیں کیوں ؟ اس لیے کہ گاندھی جی نے مسلمانوں کی حفاظت کے لیے اپنی جان جوکھم میں ڈالا تھا اور بالآخر اسی وجہ سے وہ مارے بھی گئے تھے ۔ 
اب اگر تھوڑی سمجھداری سے آپ غور کیجیے تو یہی چيزیں اصل بھارت کو بھی درشاتی ہیں ، اس لیے یہ لوگ ان چيزوں کے خلاف ہیں لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ اپنے غلط نظریے کی تائید و ترویج کے لیے ان کے پاس ادارے ہیں ، افراد ہیں اور وہ لگاتار اس کی کوشش کرتے ہیں ۔ ہمیں اس نظریے کو شکست دینا ہے تو ہمیں دوسطحوں پر بھرپور محنت کی ضرورت ہے ؛
1 ۔ اصل بھارت کو جاننے کی مضبوط کوشش ۔ یعنی اپنے ملک کے آئین کی اچھی معرفت ۔ ملک کے نظام حکومت کی درست اورصحیح جانکاری  اور ملک کی تاریخ پر نظر بطور خاص جدید بھارت کی تاریخ اور اگر مسلمانوں کے دور حکومت پر نظر ہو جائے تو اور اچھی بات ہو ۔
ساتھ ہی نئے بھارت کے  معماران  جیسے گاندھی ، نہرو ، مولانا آزاد اور  امبیڈکروغیرہ کے افکارو خیالات اور ان کی کوششوں سے واقفیت اور ہر ممکن طریقے سے ان کی ترویج و اشاعت 
2 ۔ یہ جو خطرناک نظریہ ہے ہندوتوا کا اس کا اس کے بنیادی مآخذ و مصادر کی روشنی میں مطالعہ اور اس کی خطرناکی کو اجاگر کرنے کی لگاتار کوشش اور  اس کی گھناؤنی تاریخ کو اتنا ضرور جاننا کہ اس کے متوالوں کو دنداں شکن جواب دیا جاسکے ۔
یاد رکھیے کہ نظریاتی لڑائی میں پائیدار اور مضبوط کوشش ہی سے میدان سر کیا جاسکتا ہے !!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *