Sat. Oct 31st, 2020
                         مشتاق احمد ندوی
مولانا محمد سعید الرحمن شمسی یعنی ایک مضبوط عالم دین، مجاہد آزادی، متحرک سیاست داں، فعال سماجی کارکن اور تقریری و تحریری صلاحیتوں سے مالا مال و نوع بہ نوع خوبیوں کی حامل ایک کثیر الجہت شخصیت…!
محمد سعید الرحمن بن مفتی محمد ادریس بن منیر الدین بن غازی عدالت ملا بن شاہ رحیم بخش۔ یہ مختصر سلسلۂ نسب ہے۔ اہل خانہ کے مطابق1911 میں پار دیارا یوسف ٹولہ، آمدہ باد، کٹیہار (سابقہ پورنیہ) میں آنکھیں کھولیں۔ حالاں کہ سنہ پیدائش کی صحت کے سلسلے میں راقم الحروف اب بھی قدرے تذبذب کا شکار ہے۔ والد ماجد مفتی محمد ادریس صاحب کے تذکرے میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ اس خانوادے کے دو افراد؛ غازی عدالت خاں اور عبد الکریم کو سید احمد شہید اور سید اسماعیل شہید کی ہم رکابی کی سعادت حاصل تھی۔ والد صاحب  پورے علاقے کے مفتی تھے اور گھر کا ماحول دینی۔ بچپن ہی سے ذہانت و فطانت کے آثار بھی نمایاں تھے، اس لیے والد محترم کی خاص توجہات کے مرکز بنے رہے۔ ابتدائیہ سے ‘کافیہ’ تک کی تعلیم انہی سے حاصل کی۔ اس کے بعد کچھ دن مدرسہ تنظیمیہ بارا عید گاہ، قصبہ، پورنیہ میں اور کچھ دن مدرسہ اصلاح المسلمین پٹنہ میں رہے۔ بعد ازاں مدرسہ احمدیہ سلفیہ دربھنگہ گئے اور اس عظیم ترین سلفی درس گاہ سے بھر پور انداز میں استفادہ کیا۔ لیکن اسی پر بس نہیں کیا۔ یہاں سے مدرسہ شمس الھدی پٹنہ کا رخ کیا اور فاضل کی سند لے کر نکلے۔ مدرسہ شمس الھدی پٹنہ ہی کی جانب نسبت کر کے خود کو شمسی لکھتے تھے۔ یہ نسبت اتنی مشہور ہوئی کے نام پر حاوی ہو گئی۔ شمس الھدی میں تعلیم کے دوران مولانا ابو الکلام آزاد سے ملاقات ہوئی تھی اور ان سے بلا واسطہ استفادے کا شرف بھی حاصل ہوا تھا۔
1942 کی بات ہے۔ 8 اگست کو ممبئی کے کانگریس اجلاس میں مہاتما گاندھی نے ‘انگریزو، بھارت چھوڑو!’ کا نعرہ دیا اور ‘کرو یا مرو’ کا سنکلپ لیا۔ اگلے دن 9 اگست کو گاندھی جی سمیت کانگریس کے سبھی بڑے قائد گرفتار کر لیے گئے۔ پھر کیا تھا، پورے ملک میں زور دار آندولن شروع ہو گیا۔ ان دنوں جن نایک کرپوری ٹھاکر جی سی ایم کالج دربھنگہ میں بی اے کی پڑھائی کر ریے تھے اور ہمارے ممدوح دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ میں زیر تعلیم تھے۔ ان حضرات نے مل کر دربھنگہ کے تمام طلبہ کو منظم کرکے انگریزوں کے خلاف بڑی زور دار تحریک چلائی۔ چنانچہ ریل لائنوں کو اکھاڑ پھینک دیا گیا اور ٹیلی فون کو منقطع کر دیا گیا۔ اس بیچ شمسی صاحب نے اپنے ایک ساتھی کے قتل کے بدلے میں ایک انگریز سپاہی کا ہتھیار چھین کر اسے گولی بھی مار دی تھی۔ ان سرگرمیوں کی وجہ سے انگریزوں نے شمسی صاحب کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا، تو چھپ چھپاکر نیپال کے راستے سے گھر آنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن پولس نے گھر تک پیچھا کیا، تو صاحب گنج کے راستے بھاگ کر بنگال چلے گئے اور یوں گرفتاری سے بچ گئے۔ اس کے بعد بھی وطن عزیز کے ایک حوصلہ مند سپوت کی طرح آزادی کی لڑائی میں شریک رہے، یہاں تک کہ غلامی کے بندھن ٹوٹے اور ملک کو آزادی نصیب ہوئی۔
آپ کی عملی زندگی کا بیش تر حصہ سیاسی سرگرمیوں میں گزرا۔ رسمی تعلیم سے فراغت کے بعد سے ہی کانگریس سے جو وابستگی عمل میں آئی تھی، تو اسے آزادی کے بعد بھی پروان چڑھاتے رہے اور اس کے ایکٹیو رکن کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ لیکن جب دیکھا کہ اس طویل اور گہری وابستگی کے باوجود پارٹی میں واجب حق ملنے کے آثار معدوم ہیں، تو 1965 میں کانگریس چھوڑ کر سوشلسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی اور اس میں لمبے وقت تک رہے۔ 1977 میں تمام غیر کانگریسی پارٹیوں نے مل کر عظیم جنتا پارٹی کا گٹھن کیا اور مرکز میں حکومت بنا لی۔ اس کے بعد بہار ودھان سبھا کا الیکشن آیا، تو ٹکٹ ملنے کے آثار قوی تھے، لیکن بد قسمتی سے ایسا ہو نہ سکا، تو آزاد امیدوار کی حیثیت سے منیہاری حلقے سے انتخابی دنگل میں کود پڑے۔ البتہ چناؤ جیتنے میں کام یاب نہ ہو سکے۔
ان ساری باتوں سے دل برداشتہ تو ہوئے، لیکن کبھی خود کو کوچۂ سیاست سے الگ نہ کر سکے۔ کٹیہار کے سابق ایم پی یووراج سنگھ جی سے ان کے بڑے اچھے تعلقات تھے۔ یووراج سنگھ جی انھیں چچا کہہ کر پکارتے اور بڑی عزت و احترام سے پیش آتے تھے۔ حالاں کہ کہا جاتا ہے کہ 1977 کے ودھان سبھا الیکشن میں شمسی صاحب کو پارٹی کا ٹکٹ نہ ملنے کے پیچھے یووراج سنگھ ہی کی سازش کار فرما تھی۔
شمسی صاحب کوچۂ سیاست کے شہسوار تھے۔ اس لیے تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں کے لیے زیادہ وقت نکال نہ سکے۔ لیکن چوں کہ تھے ایک علمی گھرانے کے چشم و چراغ اور علمی اعتبار سے بھی پختہ آدمی، اس لیے جب جب وقت ملا، اس اہم کام میں بھی اپنی حصے داری درج کراتے رہے۔ چنانچہ کئی مدارس کی بنیاد ڈالی۔ اس ضمن میں مدرسہ تنظیم العلوم بلوا اور مدرسہ ادریسیہ یوسف ٹولہ، جو بعد میں آپسی خلفشار کی نذر ہو گیا، وغیرہ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ کئی اداروں میں تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔ مہانن ٹولہ عالیہ مدرسہ، مدرسہ محمودیہ شیونگر (کوڑھا) اور مدرسہ تنظیم العلوم بلوا وغیرہ اس سلسلے کے کچھ نام ہیں۔
میرے والد ماجد مولانا نور الاسلام صاحب نے ان سے مدرسہ محمودیہ شیونگر میں ابتدائی درجات میں تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کے سامنے جب شمسی صاحب کا ذکر آتا ہے، تو ان کی نستعلیق شخصیت، بھر پور انتظامی صلاحیت، رعب داب اور وقار و تمکنت کے ساتھ ساتھ زبردست تدریسی صلاحیت کا بکھان کرتے نہیں تھکتے۔ وہ ان کی تحریر اور مضمون نگاری کے بھی زبردست مداح ہیں۔ ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی بہار مدرسہ بورڈ کے نام ایک درخواست ابا کے پاس تھی، جسے سنبھال کر رکھا تھا، لیکن ادھر کچھ دنوں سے نظر نہیں آتی۔
پچھلی صدی کی چالیس اور پچاس کی دہائیوں میں ہمارے علاقے میں بہت سے مدرسے قائم ہوئے۔ ابتدا میں ان مدارس کا سارا انتظام و انصرام کمیٹیوں کے ہاتھوں میں ہوتا تھا۔ اساتذہ کی تنخواہ سے لے کر دیگر تمام اخراجات کے لیے فنڈ کا انتظام کمیٹی ہی کو کرنا ہوتا تھا۔ بعد میں جب بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ سے الحاق کا سلسلہ شروع ہوا، تو سرکار کی جانب سے اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی میں تعاون کی سہولت اور ملحق مدارس کی اسناد کی سرکاری منظوری کے پیش نظر بیش تر مدارس نے بورڈ سے الحاق کرا لیا۔ شمسی صاحب چوں کہ ایک جہاں دیدہ قائد اور آفیشیل مزاج سے اچھی واقفیت رکھنے والے رہ نما تھے، اس لیے اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور دسیوں مدارس کا الحاق کرایا۔ مدرسہ محمودیہ شیونگر کا۔الحاق بھی انھوں نے ہی اپنی صدر مدرسی کے زمانے میں کرایا تھا۔
مولانا زبان و قلم دونوں کے دھنی تھے۔ جہاں ایک بے پرجوش اور بے باک خطیب تھے، وہیں ایک اچھے مضمون نگار اور قلم کار بھی۔ مختلف ریاستی اور قومی سطح کے سیاسی رہ نماؤں سے ان کی خط و کتابت رہتی تھی۔ سید شہاب الدین کے کئی خطوط ان کے پاس موجود تھے، لیکن بوجوہ اب دست یاب نہیں ہیں۔ شمسی صاحب کے اہل خانہ کے مطابق انھوں نے ‘اعلان آزاد ہند حکومت’ کے نام سے ایک کتابچہ بھی لکھا تھا، جو آزادی سے پہلے ہی پانچ ہزار کی تعداد میں چھپ کر تقسیم ہوا تھا۔ لیکن فی الحال اس کا کوئی نسخہ دست یاب نہیں ہے۔
مولانا نے ایک لمبی اور بھر پور زندگی گزاری۔ اخیر کے کئی سال بستر علالت پر گزرے اور بالآخر 1998 کو قید حیات سے آزاد ہو گئے۔ اللهم اغفرله، وارحمه، وعافه، واعف عنه.
اللہ نے آپ کو تین بیٹے اور چار بیٹیاں دی تھیں۔ بڑے بیٹے حفظ الرحمن صاحب سرکاری اسکول کے مدرس رہے۔ دوسرے بیٹے لطف الرحمن صاحب کھیتی کسانی سے جڑے رہے اور تیسرے بیٹے مولانا حبیب الرحمن صاحب اپنے والد کے قائم کردہ ادارے مدرسہ تنظیم العلوم بلوا میں ایک مدت تک پڑھانے کے بعد اب گھر ہی میں رہتے ہیں اور ان کے صاحب زادے مولانا اخلاق الرحمن مدنی صاحب ایک متواضع اور باصلاحیت عالم دین ہیں۔ عربی میں ان کا ایک مفید ترین رسالہ ‘ابن بيتك فى الجنة’ چھپ کر منظر عام پر آ چکا ہے۔ اردو میں بھی ‘سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں گمراہ کن عقیدے اور ان کا رد’ کے نام سے ایک بیش قیمت کتاب چھپ چکی ہے، جس کے لیے راقم الحروف کو دیباچہ لکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔
شمسی صاحب کی حیات و خدمات پر برادرم منیر الدین عبد الحق تیمی ندوی نے جامعہ امام ابن تیمیہ مشرقی چمپارن سے عالمیت کی سند حاصل کرنے کے لیے عربی میں ایک مقالہ تحریر کیا ہے، جس سے میں نے کافی استفادہ کیا ہے۔ اللہ انھیں جزائے خیر عطا کرے۔

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *