Fri. Jan 15th, 2021
محمد شعیب انصاری : حیات و خدمات

مشتاق احمد ندوی                    
دنیا کی زندگی بھی کتنی ناپائیدار ہے کہ پچھلے محض چار سالوں کے اندر جامعہ مصباح العلوم السلفیہ جھوم پورہ، اڈیشہ سے وابستہ چار اہم لوگ فوت ہو گئے۔ دو حضرات نے تو رواں سال 2020 میں، جسے اب عام الحوادث کا نام دیا جانے لگا ہے، چند دنوں کے وقفے سے دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ 19 ستمبر 2020 کو مولانا نذیر حسین سنابلی کی وفات کی جاں کاہ خبر ملی، تو چند دنوں بعد 25 ستمبر 2020 کو اچانک جناب محمد شعیب انصاری صاحب کے دنیا چھوڑ جانے کی نہایت تکلیف دہ خبر سننی پڑی۔ پے در پے واقع ہونے والے ان دو حادثوں نے ذہن و دماغ کی دنیا میں عجب بھوچال برپا کر دیا۔

2007 کی بات ہے۔ میں جامعہ پہنچا تو حافظ ظہورالحق صاحب اس کے ناظم اعلی، محمد شعیب انصاری صاحب عہدے کے لحاظ سے نائب ناظم لیکن عملا اصل روح رواں، مولانا مختار عالم ریاضی صاحب صدر مدرس اور مولانا نذیر حسین صاحب سب سے سینیر معاون مدرس تھے۔ یہ چاروں حضرات الگ الگ خوبیوں کے مالک تھے اور چاروں نے اپنی بہترین خدمات کے ذریعہ جامعہ کو خوب فیض یاب کیا ہے۔

مولانا مختار عالم ریاضی پوری لگن اور انہماک کے ساتھ بیس سال تک جامعہ سے وابستہ رہے۔ 1994 کو مدرسہ ریاض العلوم دہلی سے فارغ ہوئے اور دو سال بعد 1996 میں جامعہ سے وابستہ ہوگئے۔ یہ وابستگی اتنی مضبوط تھی کہ زندگی کی ڈور ٹوٹنے تک برقرار رہی۔ اس دوران معاون مدرس بھی رہے اور صدر مدرس بھی۔ وہ ذمے داران جامعہ کے ساتھ ساتھ دیگر اساتذہ، ملازمین اور طلبہ سے بھی شگفتہ تعلقات رکھنے میں کام یاب رہے۔ مزاحیہ طبیعت پائی تھی۔ اکثر گدگدی پیدا کرنے والے لطیفے سناکر ماحول کو مسرت آمیز رکھتے تھے۔ ایک دن اچانک ان کی وفات کی خبر ملی، تو بڑا بھاری صدمہ پہنچا۔ 45 سال کی جواں عمر میں کم سن بچوں کو چھوڑ جانے کی خبر بھلا کسے رنجیدہ نہ کرتی؟ بلڈ کینسر کے نتیجے میں یکم اپریل 2016 کو ہونے والا یہ حادثہ آج بھی اکثر یاد آ جاتا ہے اور غم زدہ کر جاتا ہے۔

اس کے تین سال بعد ایک اور غم زدہ کرنے والی خبر سننے کو ملی۔ 2 نومبر 2019 کو فیس بک کے ذریعہ پتہ چلا کہ حافظ ظہورالحق صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ خبر سنتے ہی ان سے وابستہ کئی یادیں ذہن و دماغ کے دریچے سے جھانکنے لگیں۔ چھوٹا سا قد، دبلا پتلا اور لاغر جسم، بس ہڈیوں کا ڈھانچہ، تقریبا کالا رنگ، تھوڑی سی داڑھی، چہرے پہ اکثر مسکراہٹ، پیکر اخلاص، سراپا عزت و احترام اور مرنجاں مرنج شخصیت۔ جب بھی خیریت پوچھی گئی، بس ایک شعر سنا دیا :

ہر رنگ میں راضی بہ رضا ہونے کا مزہ دیکھ
دنیا ہی میں بیٹھے ہوئے جنت کی فضا دیکھ

تھے تو اصلا جامعہ کے ناظم اعلی، لیکن کچھ اپنی درویش صفت طبیعت کی وجہ سے اور کچھ جناب شعیب انصاری صاحب کی حرکت میں برکت والی شخصیت سے متاثر ہوکر ساری ذمے داریاں انہی کے کندھوں پر ڈال رکھی تھیں۔

اور پھر امسال، جب ہر طرف آفتیں ہیں، حوادث ہیں، مصائب ہیں، ملکی و عالمی حالات کی زبونی ہے اور بڑے بڑے علما و دانش وران کے سایے میں محروم ہونے کا ایک اذیت ناک سلسلہ جاری ہے، ایک دن اچانک مولانا نذیر صاحب کی نذیر صاحب بھی داغ مفارقت دے گئے۔ اس دن میں دن بھر آفیشیل کام میں مشغول تھا اور قدرے تھکا ہوا بھی تھا۔ عصر بعد کٹیہار سے گھر لوٹ رہا تھا کہ راستے میں خبر ملی، تو کافی دیر تک پرانی یادوں، خیالوں اور اندیشوں سے لڑتا رہا۔ باربار یہ خیال ذہن میں آتا رہا کہ ہمارے ایسے علما جو دینی مدارس سے جڑ کر پوری تندہی اور توانائی کے ساتھ قوم کے نو نہالوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں لگے رہتے ہیں اور عین جوانی میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، جنھیں اتنی تنخواہ بھی نہیں ملتی کہ کچھ پس انداز کر سکیں، آخر قوم کے پاس ان کے بچوں کے لیے کیا پلاننگ ہے؟ آخر ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیسے ہوگا اور کون کرے گا؟؟ یہ ایسا سوال ہے، جس کا جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں ہے۔ لیکن ایک ذمے دار اور مہذب سماج کو اس طرح کے سوالوں کا جواب ہر حال میں تلاش کرنا چاہیے۔

نذیر صاحب ایک بہت ہی سنجیدہ، کم گو، قناعت پسند، حق پرست اور تعلقات کو نبھانے والے انسان تھے۔ جامعہ سے لگ بھگ پندرہ سالوں تک جڑے رہے۔ جب شوگر سے زیادہ پریشان ہوگئے، تو مصباح العلوم چھوڑ کر گھر آ گئے اور پاکوڑ کے ایک ادارے سے وابستہ ہو کر وہیں تدریس کا کام انجام دینے لگے۔ کسے معلوم تھا کہ اس بلاخیز بیماری کی حشر سامانیاں انھیں زندگی کی پچاس بہاریں بھی دیکھنے کا موقع نہیں دیں گی اور انھیں نو چھوٹے چھوٹے بچوں کو روتا بلکتا چھوڑ کر اتنی جلدی رخصت ہونے پر مجبور کر دیں گی؟؟

ان خیالات اور اندیشوں کے حصار سے ابھی نکل بھی نہ سکا تھا کہ شعیب صاحب کی وفات کی خبر آگئی۔ اس خبر نے توڑ کر رکھ دیا۔ شعیب صاحب ایک بہت ہی متحرک اور فعال انسان تھے۔ محنت اور جفاکشی ان کی فطرت میں داخل تھی، جس کا مشاہدہ میں نے جامعہ میں اپنی تین سالہ مدت قیام کے دوران بخوبی کیا ہے۔

میں 2002 کو جامعہ اسلامیہ فیض عام مئوناتھ بھنجن سے فارغ ہوا۔ گھر پہنچنے کے کچھ ہی دنوں بعد رمضان آنے لگا، تو اپنے ایک کرم فرما جناب مولانا تنویر عالم فیضی کے اصرار پر درس قرآن و حدیث کے لیے ریاست آندھرا پردیش کا ایک چھوٹا سا شہر سریکاکولم جانا پڑا اور پھر یہ سلسلہ چل پڑا۔ سال بھر جامعہ اسلامیہ آسام، درنگ میں تدریس کا کام کرتا اور رمضان کا مبارک مہینہ سریکاکولم میں گزارتا۔ سریکاکولم کا ذکر آیا تو وہاں کے ایک مخلص انسان کا نام لیے بغیر چاہ کر بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ وشاکھا پٹنم اور سریکاکولم کا دورہ کرنے والا شاید ہی کوئی سفیر ہو، جو رفیع اللہ بھائی کی خوش اخلاقی، دریا دلی اور مہمان نوازی سے فیض یاب نہ ہوا ہو۔ سارے سفرا کو دونوں وقت کا کھانا اپنے یہاں بڑی محبتوں سے کھلاتے اور پھر اپنی بساط کے مطابق چندہ بھی دیتے تھے۔ گوشت کی ایک چھوٹی سی دکان سے اتنا کچھ کرنے اور فکر فردا میں الجھے بغیر نیکی بٹورتے جانے کے اس عمل میں ہم نے ان کی اہلیہ کا بھی بڑا کردار دیکھا ہے۔ اللہ کا کرنا دیکھیے کہ دین کا یہ سچا خادم بھی کینسر کے موذی مرض کا شکار ہوکر بیوی اور ایک بچی کو چھوڑ کر عین جوانی میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اللہ انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔

اسی سریکاکولم میں ہر سال مولانا نعمت اللہ عمری صاحب سے ملاقات ہوتی رہی اور بالآخر انہی کی تحریک پر مصباح العلوم سے وابستہ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ بطور خاص اس لیے بھی کہ مصباح العلوم کے ذمے داران ایک مجلہ نکالنا چاہتے تھے اور مجھے شروع سے ہی پڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کا شوق رہا تھا۔

میں 2007 کے اواخر میں مصباح العلوم پہنچا اور 2010 کے اواخر تک وہاں رہا۔ تدریس کے ساتھ ساتھ حسب ارادہ مجلے کا کام شروع ہوا۔ اگست 2008 میں “نورالمصباح” کا پہلا شمارہ شائع ہوا، جو راقم الحروف کی ادارت میں 2010 تک بلاناغہ جاری رہا۔ ان تین سالوں میں میں نے شعیب انصاری صاحب کو بہت قریب سے دیکھا اور مجموعی طور پر ان کی شخصیت سے متاثر بھی رہا۔

مضبوط قد کاٹھی، سانولا رنگ، چہرے پہ گھنی اور لمبی داڑھی، آنکھوں پہ چشمہ، کرتا پاجامہ کا التزام، پیشانی پہ سجدے کا نشان، بڑا سا مسکراتا چہرہ، بلند اور کڑک دار آواز، بات بات پہ کھلکھلاکر ہنسنے کی عادت، بلا کا پھرتیلاپن، بنا تھکے کام کرنے کی خو، بولڈ پرسنالٹی، اپنی بات پوری قوت سے رکھنے کی صلاحیت، بہترین ذہانت اور انتظامی امور میں اچھی مہارت۔ یہ ہیں جناب شعیب انصاری صاحب۔

شعیب صاحب جس کام کا ارادہ کر لیتے، کرکے ہی دم لیتے تھے۔ جامعہ مصباح العلوم کا قیام 1992 میں عمل میں آیا تھا، لیکن ابھی تک اس کے پاس خاطرخواہ لائبریری نہیں تھی۔ میں نے اس جانب توجہ دلائی اور مجلے کی اشاعت کے لیے لائبریری کی اہمیت سے رو برو کرایا، تو مجھے کتابوں کی فہرست تیار کرنے کو کہا اور دو ڈھائی مہنیے کے اندر ہی سعودی عرب سے خاصی تعداد میں کتابیں منگوا دیں اور یوں مصباح العلوم کے پاس ایک اچھی لائبریری بھی مہیا ہو گئی۔

شعیب صاحب کی پڑھائی میٹرک تک ہی ہوئی تھی، لیکن اس کے باوجود ان کی ڈرافٹنگ بہت اچھی تھی۔ کئی بار مصباح کے لیے بعض پروگراموں کی رپورٹ وہ خود تیار کر دیتے۔ گرچہ اردو مطالعہ وسیع نہ ہونے کی وجہ سے بعض لسانی غلطیاں رہ جاتی تھیں، لیکن جملوں کی بناوٹ، ترتیب اور رپورٹنگ بڑی جان دار ہوتی تھی، جس کے لیے اکثر میں دل ہی دل ان کی تعریف کیا کرتا تھا۔

جب بھی کسی موضوع پر بات ہوتی، کھل کر بات کرتے اور اس کے سارے پہلؤوں پر تشفی بخش چرچا کرتے تھے۔ بہت صاف گو تھے اور بنا لاگ لپیٹ کے بات کرتے تھے۔ کئی بار یہ صاف گوئی دل میں کھٹکنے لگتی تھی، لیکن بعد میں احساس ہوتا تھا کہ ایک اچھے منتظم کے لیے اس کی ایک الگ اہمیت ہے۔

شعیب صاحب جامعہ مصباح العلوم جھوم پورہ کی بنیاد رکھنے والے سب سے سرگرم لوگوں میں سے ایک تھے اور اول روز سے اس کے نائب ناظم رہے۔ بعد میں ناظم اعلی بھی بنائے گئے۔ آج جامعہ مصباح العلوم، جامعہ سلفیہ بنارس کی ایک اہم ترین شاخ اور ملک بھر کے اندر اپنی الگ شناخت کا حامل ادارہ ہے۔ اس کا حفظ خانہ بھی بڑے اچھے انداز میں چل رہا ہے اور پچھلے کچھ سالوں سے مصباح انگلش اسکول بھی قوم کے نونہالوں کو عصری تعلیم فراہم کرنے کا کام کر رہا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اتنے سارے کاموں کے لیے بڑی محنت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ محنت کرنے والے لوگوں کی پیشوائی شعیب صاحب ہی کر رہے تھے۔

جامعہ کی ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ صوبائی جمعیت اہل حدیث کے ناظم اعلی اور مرکزی جمعیت کی مجلس شوری کے ممبر بھی رہے۔ انھوں ان ذمے داریوں کو بخوبی نبھایا بھی، جس کی گواہی ان کی وفات کے بعد مرکزی جمعیت کی پریس ریلیز میں کہی گئی وہ باتیں بھی دیتی ہیں، جو ان کی خدمات پر روشنی ڈالتی ہیں۔

اللہ تعالی ان کی تمام خدمات کو قبول فرمائے، ان کو فردوس بریں میں جگہ عطا کرے اور ان کے تعلیمی و اصلاحی مشن کو آگے بڑھانے کے اسباب مہیا فرمائے۔

جامعہ مصباح العلوم کا تدریسی دور میری عملی زندگی کا ایک سنہرا دور رہا ہے۔ میں نے روزانہ چھ چھ گھنٹیاں پڑھانے کے ساتھ ساتھ مجلے کی ادارت کا کام کیا، کئی بار ایک ہی شمارے کے لیے بیس بیس صفحات تک لکھے، اداریہ کے علاوہ ابورملہ فیضی کی کنیت کے ساتھ درس قرآن لکھے، بعض شماروں میں احمد بختاور شیونگری کے نام سے بعض سیاسی امور پر قلم اٹھائے اور پھر “دعائیں جو عرش سے ٹکرائیں” کے عنوان سے سلسلے وار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ان دعاؤں کے بارے میں گفتگو کی، جو ہوبہو قبول ہوئی تھیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ اتنے سارے کام کرنے کا موقع اور ماحول فراہم کرنے کا کریڈٹ جس بندے کو سب سے زیادہ جاتا ہے، وہ شعیب انصاری صاحب ہی ہیں۔

جامعہ مصباح العلوم اور شعیب صاحب کے علاوہ جھوم پورہ بستی کے ساتھ بھی میری بہت سی یادیں جڑی ہوئی ہیں۔ میرے سلسلے وار مضمون “دعائیں جو عرش سے ٹکرائیں” کی جب کچھ قسطیں شائع ہوئیں، تو ایک دن مشہور معالج جناب ڈاکٹر عبیداللہ انصاری صاحب نے، جو ان دنوں مقامی جمعیت اہل حدیث کے صدر تھے، مجھے بلاکر ان مضامین کو کتاب کی شکل میں شائع کرنے کی ترغیب دی اور اس کے لیے مالی تعاون فراہم کرنے کی بات کہی۔ پھر، میرے ہامی بھرنے کے بعد جناب بابو انتخاب عالم صاحب ایم ڈی سراج الدین کمپنی جھوم پورہ کے فنڈ سے تعاون فراہم بھی کیا اور کتاب “دعائیں جو باریاب ہوئیں” کے نام سے اور مولانا عبدالمعید مدنی کے مقدمے کے ساتھ شائع بھی ہوئی۔ کتاب کے نام میں ترمیم استاد محترم مولانا محفوظ الرحمن فیضی کے مشورے پر کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ جھوم پورہ کی عالی شان جامع مسجد، متحرک جمعیۃ الشبان اور پرکشش دعوتیں بھی ہمیشہ یاد رہیں گی۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ اس چمن کو ہمی شاد و آباد رکھے….!!

One thought on “محمد شعیب انصاری : حیات و خدمات”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *