Mon. Nov 23rd, 2020
مذہب کے نام ظلم و جور
                          منصورعالم سلفی
ہندوستان اپنی جمہوریت کے استحکام ونفاذ میں اپنے آپ ایک مثال ہے مختلف مذاہب کے ماننے والے ،مختلف بولیاں بولنے والے ،الگ الگ انداز وطریقے سے عبادات کرنے والے،مسجد ،مندر ودیگر معبودوں کی حفاظت وصیانت اور اس کی تقدس کو بحال رکھنے والے، گنگا جمنی تہذیب پر چلنے والے الغرض ہرقسم کے لوگ یہاں بستے ہیں اور انہیں دستور ہند کے مطابق آزادی کے ساتھ اختیارات بھی حاصل ہیں، یہ گاندھی جی کی نگری ہے مولانا ابوالکلام آزاد کی بستی ہے علماء ہند نے 1857 سے لیکر 1947 تک آزادی کی لڑائی میں اپنے خون جگر کو پانی کی طرح بہایا ہے، علماء صادق پوراورعلماء دیوبند اس میں سر فہرست ہیں اور صف اول میں رہ کر انگریزوں کے خلاف جنگیں کی ہیں، جہاد کا نعرہ گوروں کے خلاف لگایا ، گردہ دل مفتیان عظام آگے بڑھ کر آئے اور سامراجی حکومت کا قلع قمع کیا ۔ بلا تفرقہ بازی وبلا مسلک وملت ،بلاذات پات سب ایک صف میں کھڑے ہوئے اور انگریزوں کے چھکے چھڑا دیئے ۔
ایسے مضبوط دیش میں نفرت کی چنگاریاں، ظلم کے شعلے ،ذات پات کی نحوست اور نااھلوں کی سیاست نے دیش کی جڑیں ہلا کر رکھ دی ہے ۔اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی وبدسلوکی چرم سیما کو پہنچ چکی ہے، اقلیتوں کی قربانیوں کو فراموش کی جارہی ہے ان کی تاریخ کو صفحہ قرطاس سے مٹائ جانے لگی ہے اقلیتوں میں مسلم بننا اگر جرم سیاہ ہے تو آزادی کی سیاہی کو مٹاکر قندیل روشن کرنے کا کام بھی انہوں نے ہی کیا تھا غور کرو ۔
مودی سرکار کا نیا نعرہ “سب کا ساتھ سب کا وکاش ،سب کاوسواس” سے مسلمانوں کی امیدیں وابستہ ہوئ تھیں اس الیکشن میں مسلمانوں نے NDA کاکھل کر سپورٹ بھی کیا جس کی تازہ مثال بہار کی نتیس سرکارہے  لیکن اس کے صلہ میں ہمیں کیا ملا ؟خون ،ظلم کی چکی ،نفرت کی بھٹی، عزت وناموس کی نیلامی ۔ وکاش کانعرہ پس پشت ڈالدیا گیااور مذھب کا نعرہ گلی گلی میں گونجنے لگا ۔کہاں گیا سب کا وسواس ؟ بڑی بے شرمی سے کہ دیا جاتا ہے کہ جئے شری رام کانعرہ لگاو ورنہ ماردیا جائے گا حد تو یہ کہ نہیں لگائے جانے پر ظلم وبربریت کی ساری حدیں عبور کر کے ماردیاجاتا ہے ،یہ غنڈہ گردی تھمنے کا نام نہیں لیتی ،ائے دن ایسے دردناک واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ۔
مودی سرکار سے اپیل کروں گا کہ ایسے ظالموں کو کڑی سی کڑی سزادی جائے نفرت کے شعلے جو بھڑک رہے ہیں ان کا خاتمہ کیاجائے ،ملک میں امن اور بھائ چارہ قائم کیاجائے، سب کاوسواس جیتنے کی کوشش کی جائے، ملک کی سالمیت پر دھیان دیاجائے اس کو مضبوط کرنے کا حربہ اپنایا جائے ،ذات پات کی سیاست پر روک لگائ جائے ،تب ملک مصبوط ہوگا ورنہ پارہ پارہ ہوکر رہ جائے گا ۔اج ہم اپنے ملک میں غیر محفوظ ہیں اس کی حفاطت کا بیڑہ غرق ہونے سے بچایا جائے ۔اللہ تعالٰی ہماری مدد فرمائے ۔

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *