Sat. Oct 31st, 2020
   
                     مشتاق احمد ندوی
آج ایک متبع سنت، با غیرت اور معتبر عالم دین نے بڑی لمبی مگر گم نامی کی زندگی بسر کرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔
ایک ایسا شخص جو اتباع سنت کے معاملے میں بڑا حساس اور سنت رسول کا شیدائی تھا۔ ایک بار تو ایسا ہوا کہ اس کے اتباع سنت کے جذبے نے ایوان تقلید میں لرزہ طاری کردیا۔ ہندوستان میں تقلید کا سب سے بڑا مرکز اس کے رفع یدین، آمین بالجہر، سینے پر ہاتھ باندھنے اور پاؤں سے پاؤں ملاکر کھڑے ہونے کی تاب نہ لا سکا اور وہی کیا، جس کی دھمکی شعیب علیہ السلام کو ان کی قوم نے یہ کہہ کر دی تھی :”لنخرجنک يا شعيب واللذين آمنوا معك من قريتنا أو لتعودن فى ملتنا” (سوره الأعراف:88)
غالبا 1955-56 کی بات ہے۔ دارالعلوم دیوبند سے، جسے لوگ بھارت کا جامعہ ازہر کہتے ہوئے نہیں تھکتے، بڑی تعداد میں اہل حدیث طلبہ کا اخراج ہوا تھا،  جس سے سلفیان ہند کافی دل برداشتہ ہوئے تھے اور ایک مرکزی سلفی ادارے کی ضرورت بڑی شدت کے ساتھ محسوس کی گئی تھی، اس غیر منصفانہ فیصلے کی زد میں جو طلبہ آئے تھے، ان میں سر فہرست مولانا اختر عالم صاحب رحمہ اللہ تھے، جو آج بتاریخ 30 دسمبر  2017 کو لمبی علالت کے بعد اللہ کو پیارے ہو گئے اور ہم نم آنکھوں کے ساتھ ان کی تجہیز و تکفین میں شریک ہوئے۔
آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ دارالعلوم کی جانب سے اخراج کے اس تعصب آمیز فیصلے کی فوری وجہ مولانا اختر عالم صاحب کی بے باکی، اپنے مسلک کا برملا اظہار اور کسی بھی تادیبی کارروائی کی پرواہ کیے بنا سنت نبوی علی صاحبھا الصلاة والسلام پر عمل کرنے کا جذبہ ہی تھی۔
مولانا انعام الحق مدنی حفظہ اللہ، قاری عبد الرحمن صاحب، کاربوناٹال (یہ بنگال کے مشہور عالم دین مولانا مسلم رحمانی صاحب رحمہ اللہ کا گا ؤں ہے) کے حوالے سے نقل کرتے ہیں، جو خود بھی اخراج کے فیصلے کی زد میں آئے تھے، کہ دارلعلوم دیوبند میں رفع یدین، آمین بالجہر اور سینے پر ہاتھ باندھنا جیسی سنتوں پر عمل کرنا سخت ممنوع تھا، لیکن اختر صاحب ممانعت کی پرواہ کیے بنا کھلم کھلا پیارے نبی کی ان سنتوں پر عمل کرنے کا اہتمام کرتے تھے۔ پوری مستعدی کے ساتھ نماز میں قدم سے قدم ملاتے تھے اور آمین اس قدر زور سے کہتے تھے کہ آواز مسجد کے سناٹے کو چیرتے ہوئے دور دور تک پہنچ جاتی تھی۔ دیوبند متعصب ماحول میں یہ ایک خلاف معمول بات تھی۔ اس لیے وہ اپنے اس عمل کی وجہ سے پورے مدرسے میں مشہور ہو گئے تھے۔ لوگ آمین کی آواز سنتے ہی سمجھ جاتے کہ یہ اختر کی آواز ہے۔ انھیں دیگر اہل حدیث طلبہ مصلحت کا خیال رکھنے کی تاکید کرتے، تو صاف صاف کہہ دیتے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آمین کی آواز سے مسجد گونج اٹھتی تھی، اس لیے میں ایسا کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔ کسی کے خوف کی وجہ سے سنت سے دست بردار ہونا مجھے گوارہ نہیں!! چنانچہ اسی کا نتیجہ تھا کہ اہل حدیث طلبہ کی شناخت مہم چھیڑی گئی اور انھیں ان کی ‘غیر مقلدیت’ کی سزا کے طور پر مدرسے سے نکال دیا گیا۔
دارالعلوم دیوبند کی تنگ نظری کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ جیسی عبقری شخصیت کی سند اس نے صرف اس لیے روک لی تھی کہ وہ اہل اور اس کی زبان میں ‘غیر مقلد’ تھے۔ یہ اور بات ہے کہ ایک مناظرے میں جب اس کے ‘سپوتوں’ کی بھد پٹ رہی تھی تو مولانا کو بلا لائے، سند دی اور پورے اعزاز و اکرام کے ساتھ اپنی طرف سے مناظرے کے لیے آگے بڑھایا۔
اس میں شبہ نہیں ہے کہ وہاں یکا دکا اہل حدیث طلبہ تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں، لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ انھیں ہمیشہ اپنی پہچان چھپانی پڑی ہے۔میرے والد صاحب مولانا عبدالحنان صاحب سابق مدرس مدرسہ معاون الاسلام سیموریہ کے حوالے سے بارہا بیان کرتے ہیں وہ بھی عبداللہ پور سے فارغ ہونے کے بعد دیوبند پڑھنے گئے تھے۔ خود کو حنفی المسلک ثابت کرکے رہنا پڑتا تھا۔ شاید بقرعید کی چھٹی میں گھر نہیں آئے۔ عید کی نماز پڑھنے گئے۔ جب دوسری رکعت میں قراءت کے بعد امام نے ‘اللہ اکبر’ کہا تو حسب معمول رکوع کے لیے جھک گئے۔ پھر کیا تھا، جیسے ہی نماز ختم ہوئی، ان کے بازو میں کھڑے ایک بنگالی طالب علم نے فورا کہا: جناب! آپ خود کو حنفی المسلک کہتے ہیں، لیکن ایسا ہے نہیں۔ آپ نے آج ثابت کردیا کہ آپ غیر مقلد ہیں! چنانچہ اس گھٹن بھری فضا میں مولانا عبدالحنان صاحب زیادہ دن ٹک نہ سکے اور بہت جلد اسے خیرآباد کہتے ہوئے نکل پڑے۔
بہرحال، میں بات مولانا اختر عالم رحمہ اللہ کی کر رہا تھا۔ آپ کے ساتھ، اس علاقے کے جو علما دارالعلوم سے نکالے گئے تھے، ان میں شیخ الحدیث مولانا تمیزالدین صاحب باورا، کوڑھا، کٹیہار، مولانا محمد سعید صاحب ندوی، سابق پرنسپل مدرسہ اصلاحیہ سیماپور اور مولانا منظور الرحمن صاحب سابق پرنسپل عبداللہ پور مدرسہ اور قاری عبدالرحمن صاحب کاربوناٹال، مالدہ وغیرہ شامل تھے۔
اس حادثے کے بعد مولانا اختر رحمہ اللہ ریاض العلوم دہلی گئے تھے اور وہیں ایک سال رہ کر سند فراغت کی تھی۔
مولانا سلسلہء نسب کچھ یوں یے، اختر عالم بن محمد شمس الدین بن یوسف ملا بن نصیر الدین۔ بسنت پور، گوا گاچھی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں  ہی میں ہوئی۔ اس کے بعد ایک سال احمدیہ سلفیہ دربھنگہ میں رہے، ایک آمتلہ مدرسہ (مغربی بنگال) میں رہے۔ پھر عبداللہ پور گئے، جو اس زمانے میں پورے علاقے کے لیے علمی مرجع کی حیثیت رکھتا تھا۔ زیادہ تر تعلیم وہیں ہوئی۔ پورے پانچ سال رہے۔ پھر دارالعلوم دیوبند میں کم و بیش ایک سال رہے اور اخیر میں ریاض العلوم دہلی میں ایک سال رہے۔ یہ آپ کا تعلیمی سفر تھا۔
اس کے بعد تدریسی زندگی آغاز ہوا۔ کچھ دن چھرا ماری (بیدناتھ پور ) میں پڑھائے اور پھر اس کے بعد مدرسہ دارالہدی منوہر، منشاہی آگئے اور یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ 1977 میں مدرسہ دارالھدی کا الحاق بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے عمل آیا، تو مولانا ایک منظور شدہ عہدے پر بحال مدرس کی حیثیت سے کام کرنے لگے۔ غالبا 1994-95 میں ریٹائرمنٹ ملا، لیکن اس کے باوجود کئی سالوں تک یہیں کام کرتے رہے۔
تاریخ پیدائش مل نہ سکی۔ ان کے چھوٹے بھائی محمد سعید صاحب سے ہم نے جو کچھ سنا، اس کا ما حصل یہ ہے کہ مولانا 1927 کے آس پاس پیدا ہوئے ہوں گے۔ حالاں کہ جنازے میں شریک بہت سے لوگ یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ عمر سو سال سے زیادہ ہوگی، لیکن قرائن سے ایسا نہیں لگتا۔
مولانا اصل رہنے والے گوا گاچھی کے تھے۔ پچھلے چند سالوں سے چرخی، کوڑھا، کٹیہار میں بود و باش اختیار کر لی تھی۔ یہیں آخری سانس لی اور پیوند خاک ہو گیے۔ رحمہ اللہ رحمة واسعة۔
               

By sadique taimi

معلم

2 thought on “مولانا اختر عالم کٹیہاری”
  1. اس میں کوئی شک نہیں کہ اختر صاحب شیرشاہ آبادی کے شیر ببر تھے.. مزید ان کی زندگی کے گوشوں کو اجاگر کیا جائے اور ان کے خدمات کو سراہا جائے

  2. اس میں کوئی شک نہیں کہ اختر صاحب شیرشاہ آبادی کے شیر ببر تھے.. مزید ان کی زندگی کے گوشوں کو اجاگر کیا جائے اور ان کے خدمات کو سراہا جائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *