Mon. Nov 23rd, 2020
مولانا بدر الدین اجمل کی اہل حدیث دشمنی
              صادق جمیل تیمی
آل انڈیا ڈیموکریٹک فرنٹ(آسام کی سیاسی جماعت ) کے صدر بدر الدین اجمل نے ہندستانی پارلیمنٹ میں گزشتہ دو سالوں سے چل رہا “طلاق ثلاثہ “کا مسئلہ کو لے کر اہل حدیثوں یعنی سلفیوں کے خلاف نہایت ہی قابل مذمت بیان بازی کی اور اپنی تقریر میں یہ برملا کہ دیا کہ “اہل حدیث یعنی سلفی دہشت گرد ہے “. قرآن و حدیث کے نصوص سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق تین نہیں ہے بلکہ ایک ہی طلاق ہوگی ،اور اسی پر جماعت اہل حدیث کاربند ہے – مودی حکومت نے جب سے طلاق ثلاثہ کا مدعہ اٹھایا ہے اسی وقت سے ہندوستان میں موجود مختلف مکتبہ فکر کے حامل افراد کی جانب سے مختلف آرا و خیالات آچکے ہیں لیکن ہندوستانی سیاست اور اتحاد کی مصلحت کو مد نظر رکھتے ہوئے اہل حدیثوں نے آج تک کسی جماعت پر ہلا نہیں بولا ہے اور ناہی کسی کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا ہے . لیکن بدر الدین اجمل کا اس طرح غیر ذمہ دارانہ بیان اس بات کا غماز ہے کہ یہاں مسلمانوں کی نمائندگی کے نام سے مسلک و مذہب کی نمائندگی کی جارہی ہے – اور یہ وبا پارلیمنٹ تک پہنچ چکی ہے –
کتنی افسوس کی بات ہے کہ ایک مسلمان خود اپنے مسلم بھائیوں کو حکومت وقت کے سامنے بدنام اور مطعون کر رہا ہے سماج میں بسی دلت مسلم آبادی ایک مسلم چہرہ کو اپنی قیمتی حق رائے دہی کا استعمال کر کے پارلیمنٹ بھیجتی ہے کہ ان کی آواز کو پارلیمنٹ میں اٹھائی جائے لیکن آواز اٹھانے کی بجائے مسلک کی بات کرتے ہیں…چہرہ مہرہ سے بڑے سیکولر ،غیر جانبدار اور سادہ لوح لگتے ہیں لیکن انہوں نے اپنا ایک بیان سے اپنی ساری ظاہری شکل و شباہت میں پانی پھیرنے کے ساتھ ساتھ کروڑ وں مسلمانوں کی امیدوں پر پانی پھیرا ہے!!!
بدر الدین اجمل صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ جس جماعت کے اوپر یہ بڑی ڈھٹائی و جرات کے ساتھ “دہشت گردی ” کا لیبل لگا رہے ہیں اس جماعت نے اسی دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے لاکھوں کتابیں لکھ دیں.. آئے دن اس کے خلاف مختلف مضامین ملک کے مختلف مجلات میں چھپ رہے ہیں اور اس موضوع پر سمینارس ہوتے رہتے ہیں اس کی سب سے واضح و کھلی مثال پچھلے سالوں میں جماعت اہل حدیث ہند کے سابق ناظم عمومی مولانا اصغر سلفی کی قیادت میں ایک بڑی و کامیاب کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی کبار شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا اور سارے لوگوں نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے اس کانفرنس کی خوب خوب تعریف کی اور اسے قابل تحسین قدم قرار دیا…تو کیا مولانا بدر الدین اجمل کی معلومات سے یہ باتیں نہیں گزریں!! افسوس ہوتا ہے جب کسی مسلم قائد سے اس طرح کی باتیں آتی ہیں!!!
خیر مولانا نے پو پھوٹنے سے قبل ہی اپنی بد بیانی سے رجوع کر لی اور اب مولانا سے ابو اشعر صاحب کے بقول یہی گزارش ہے کہ مولانا آئندہ پارلیمنٹ میں اس کا کفارہ ادا کر دیں اور “اپنی بد بیانی کو خوش بیانی و عطر بیانی میں بدل دیں””

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *