Sat. Oct 31st, 2020
مولانا خلیل الرحمن سلفی ارریہ
                                                             مشتاق احمد ندوی
مولانا خلیل الرحمن سلفی کی شخصیت بڑی پہلو دار تھی۔ اسلامی علوم کے بہت اچھے جانکار، لائق مدرس، حالات حاضرہ سے گہری واقفیت رکھنے والے اور ولولہ انگیز خطیب تھے۔ دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ میں تدریسی فریضہ انجام دیا۔ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کے ممبر رہے۔ جماعت اسلامی، کوسی کمشنری حلقے کے ناظم رہے۔ ایمرجنسی کے زمانے میں قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں۔ مرحوم مبارک حسین صاحب کے مخلص رفیق اور ہم دم و ہم راز تھے۔ 1989 میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے کشن گنج لوک سبھا حلقے سے چناوی میدان میں بھی اترے۔ بڑی سلیس اور نفیس زبان میں بات کرتے تھے۔
خلیل الرحمن سلفی بن حنیف محمد بن جان محمد۔ یہ مختصر سلسلۂ نسب ہے۔ آبا و اجداد مرشد آباد کے نور پور علاقے سے آکر بابوان، ارریہ (قدیم پورنیہ) میں بس گئے تھے اور سلفی صاحب یہیں پیدا ہوئے۔ چار بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر تھے۔ سب سے بڑی بہن اور اس کے بعد لگاتار تین بھائی۔ سب سے چھوٹا بھائی ابھی ماں کے پیٹ میں تھا کہ ناگاہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس طرح، ساری ذمے داری والدہ ماجدہ کے ناتواں کندھوں پر آ گئی۔ ویسے، ان کی والدہ مشہور عالم دین مولانا محمد اسحاق سلفی کی بہن تھیں۔ مولانا محمد اسحاق سلفی ایک بے باک، باحوصلہ اور بلند پایہ عالم دین تھے اور اس عزم و حوصلے کی جھلک ان کی بہن کی شخصیت میں بھی دیکھی جا سکتی تھی۔ انھوں نے عین جوانی میں  رفیق حیات سے بچھڑ جانے کے بعد بڑی خستہ حالی کی زندگی بسر کرتے ہوئے اپنے چاروں بچوں کی پرورش کی اور سلفی صاحب کو اچھی تعلیم دلائی۔ ویسے، سلفی صاحب کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے اس کار خیر میں ان کے کچھ رشتے داروں نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
سلفی صاحب کی ابتدائی تعلیم مدرسہ دار الہدی بابوان میں ہوئی۔ گھر کی مالی حالت قطعا ایسی نہ تھی کہ اعلی تعلیم کے لیے کہیں باہر جا پاتے، لیکن ان کے جوش فراواں کے سامنے مالی رکاوٹیں کہاں ٹک سکتی تھیں!! وہ آگے کی تعلیم کے لیے مولانا محمد حسین (صالح) سلفی کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے۔ صالح صاحب ان دنوں جامعہ مظہر العلوم پٹنہ میں زیر تعلیم تھے اور حصول علم کے لیے گھر سے بھاگنے کی ان کی ایک لمبی داستان ہے۔ سلفی صاحب بھی ان کے ساتھ بٹنہ مدرسے میں پڑھنے لگے اور یہاں کچھ سال پڑھنے کے بعد دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ گئے اور وہیں سے فارغ التحصیل ہوئے۔
مولانا کی عملی زندگی درس و تدریس، تنظیمی سرگرمیوں، دعوتی جد و جہد، سماجی بیداری کی کوششوں اور سیاسی شعور و آگہی کے فروغ کے لیے کی جانے والی مساعی سے عبارت ہے۔
آپ بہت اچھے مدرس تھے۔ مدرسہ دار الھدی بابوان ارریہ اور دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ جسیے اداروں میں لمبے وقت تک تدریسی فریضہ انجام دیتے ریے۔ زیادہ تر حدیث کی کتابیں پڑھاتے تھے۔ بعد میں جب اسلامیہ ہائی اسکول بسمتیہ کی بنیاد ڈالی گئی، تو اس کے انتظامی امور کو دیکھنے کے ساتھ کچھ گھنٹی پڑھاتے بھی تھے۔ کچھ دن کشمیر کے ڈوڈا ضلع میں اور کچھ دن اڈیشہ کے کیونجھر ضلع میں بھی رہے۔ دونوں جگہوں میں اسکول میں پڑھاتے تھے۔
 
اچھے مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک بلند پایہ خطیب بھی تھے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں حالات حاضرہ پر گفتگو کرتے تھے۔ غضب کی سیاسی بصیرت رکھتے تھے، اس لیے بات میں بڑی گہرائی اور گیرائی ہوتی تھی۔ آسان اور رواں زبان میں بات کرنے کے باوجود بڑی دل کش زبان استعمال کرتے تھے۔ الفاظ کا خزانہ اتنا وسیع تھا کہ مولانا محمد حسین سلفی انھیں اردو کی ڈکشنری کہا کرتے تھے۔ انہی خصوصیات کی بنا پر ان کی تقریریں عوام و خواص اور مسلم و غیر مسلم سبھی حلقوں میں بڑے شوق سے سنی جاتی تھیں۔
 
مولانا کی زندگی کا ایک اہم ترین باب جماعت اسلامی سے وابستگی اور اس کے بینر تلے کیے گئے کاموں پر مشتمل ہے۔ دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ میں تدریس کے زمانے میں جماعت اسلامی سے قریب ہوئے۔ پھر دھیرے دھیرے یہ وابستگی مضبوط تر ہوتی گئی اور بعد میں جماعت اسلامی کے ایک سرگرم کارکن کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں۔ جماعت اسلامی کوسی کمشنری کے سکریٹری بھی رہے اور بعد میں ایک نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر اس عہدے سے دست بردار ہو گئے۔ جماعت اسلامی ہی کے بینر تلے بسمتیہ میں اسلامیہ ہائی اسکول قائم کرنے میں اہم کردار نبھایا۔ جماعت اسلامی سے یہ تعلق ہی آپ کو کشمیر اور اڈیشہ جیسے دور دراز علاقوں تک تدریسی خدمات کی انجام دہی کے لیے لے گیا اور جماعت اسلامی سے اس وابستگی کے نتیجے میں آپ کو قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلنی پڑیں۔
1975 کی بات ہے۔ سابق وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے ملک میں ایمرجنسی لاگو کر دی اور مخالف جماعتوں کے لیڈران کے ساتھ آزاد فکر و نظر رکھنے والے ملی قائدین کو بھی قید کرنا شروع کر دیا۔ چوں کہ سلفی صاحب سرکار کی غلط پالیسیوں کے خلاف بولتے رہتے تھے اور فاربس گنج میں ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے کی گئی ان کی ایک تقریر کا اقتباس بی بی سی ہندی سے بھی نشر ہوا تھا، اس لیے ان کی گرفتاری غیر متوقع نہ تھی۔ چنانچہ ہوا بھی وہی۔ گرفتار ہوئے اور سنٹرل جیل بھاگل پور میں لگ بھگ چھ مہینے قید رہے۔
مولانا کے تعلقات مرحوم مبارک حسین سے بڑے اچھے تھے۔ مبارک حسین ذرا کم گو واقع ہوئے تھے۔ لیکن تھے بڑی ظرافت آمیز طبیعت کے مالک۔ ان کی یہ ظرافت اس وقت پورے طور پر جلوہ نما ہوتی تھی، جب ان کی مجلس سلفی صاحب سے جمتی تھی۔ سلفی صاحب بھی کچھ کم شگفتہ مزاج نہیں تھے۔ دونوں کھل کر بات کرتے۔ ہنستے ہنساتے اور محفل کو لالہ زار رکھتے۔ لیکن دونوں کی گفتگو خوش گپیوں تک ہی محدود نہیں رہتی تھیں۔ نہایت سنجیدہ علمی، تاریخی، سیاسی، سماجی اور ادبی موضوعات بھی زیر بحث آتے اور محفل میں موجود لوگ دونوں کی مضبوط علمیت اور پختہ سوچ کی بہتی دھارا سے خوب سیراب ہوتے۔ کبھی کبھی مبارک صاحب جان بوجھ کر ‘مولویت’ پر انگلی رکھ دیتے اور بڑی خاموشی سے دیر تک مولانا کی تاریخی حقائق پر مشتمل عالمانہ جواب سے محظوظ ہوتے رہتے۔
 
مبارک صاحب سے سلفی صاحب کی پہلی ملاقات کب ہوئی، یہ بتانا ذرا مشکل ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ سلفی صاحب ایک بہت اچھے خطیب تھے اور جماعت اسلامی کے کوسی کمشنری حلقے کے سکریٹری ہونے کے ناطے پوری کمشنری کے خوب دورے کیا کرتے تھے۔ ادھر مبارک صاحب بھی بی ایس سی کرنے کے بعد کچھ دن دہلی میں ٹورسٹ گائیڈ کی حیثیت سے کام کیے اور اس کے بعد کٹیہار واپس آکر سماجی سروکار سے جڑ گئے تھے۔ دونوں کی شناسائی اسی تعلق سے ہوئی ہوگی۔ پھر تعلقات آگے بڑھے، تو سلفی صاحب نے انھیں اسلامیہ ہائی اسکول بسمتیہ کے ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے ٹاپو بلا لیا، جہاں مبارک صاحب دو ڈھائی سال رہے اور اپنی علمی پختگی کے ساتھ ساتھ ادارتی امور میں مہارت کا بھی بھر پور ثبوت دیا۔
اسلامیہ ہائی اسکول بسمتیہ در اصل جماعت اسلامی کی تحریک پر 1965 میں کھلا تھا۔ سلفی صاحب اس کے بانیوں میں شامل تھے اور ناظم کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ ویسے، آج بھی ان کے بیٹے مسعود عالم اس کی مجلس منتظمہ کے ممبر ہیں۔ دس سال تک یہ اسکول بہت دھوم دھام سے چلا۔ لیکن 1975 میں جب اندرا گاندھی نے ملک میں ایمرجنسی لگائی، تو اس ادارے پر بھی گاج گری۔ اسے بند کرنے کا حکم صادر ہو گیا اور اس کی ساری چیزوں جیسے ڈیسک بینچ، ٹیبل کرسی وغیرہ کو ضبط کرکے بیرپور کے ایک گودام میں رکھ دیا گیا، جہاں بعد میں آگ لگنے سے یہ سارے سامان جل کر خاکستر ہو گئے۔
ایمرجنسی ختم ہونے کے بعد اسکول دوبارہ کھولا گیا، تو مبارک صاحب صدر مدرس کی حیثیت سے پہنچے۔ مبارک صاحب کی صدر مدرسی اور سلفی صاحب کی نظامت میں اس میں تعلیم و تربیت کا ایسا ماحول بنا کہ اس کی شہرت میں چار چاند لگ گئے۔ ان دنوں بسمتیہ ہائی اسکول میں زیر تعلیم رہے کئی حضرات نے مجھ سے اس زمانے کی کئی خوش گوار اور دل چسپ یادیں ساجھا کی ہیں، جنھیں ہم کسی اور موقع کے لیے اٹھارکھتے ییں۔ دو سال ڈھائی سال پورے خلوص آور انہماک سے کام کرنے کے بعد مبارک صاحب کچھ اسکول کے اندرونی حالات کی وجہ سے اور کچھ سیاسی دل چسپیوں کے مدنظر ٹاپو چھوڑ کر کٹیہار آ گئے، لیکن سلفی صاحب سے جو رشتہ استوار ہوا تھا، وہ دن بہ دن مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔
1982 میں مبارک صاحب کی کوششوں سے آل بہار شیر شاہ آبادی ایسوسی ایشن کی تشکیل عمل میں آئی اور 1983 میں اس کا رجسٹریشن ہوا، تو مبار صاحب اس کے صدر تھے اور سلفی صاحب جنرل سکریٹری۔
 
انہی دنوں جب سیمانچل میں لاکھوں کی تعداد میں آباد بنگلہ بھاشی مسلمانوں کو بنگلہ دیشی در انداز ثابت کرنے کی ایک مہم چلی، تو مبارک حسین نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور ریلوے میدان کٹیہار میں ‘وراٹ قومی ایکتا سمیلن’ کے عنوان سے ایک عظیم فرقہ پرستی مخالف کانفرنس کا آیوجن کیا، جس میں اس وقت کے وزیر اعلی بہار چندر شیکھر آزاد جی بھی آئے تھے اور ایسا دو ٹوک بھاشن دیا تھا کہ ہرزہ سرائی کرنے والوں کا منہ لمبے وقت تک کے لیے بند ہو گیا تھا۔ اس کانفرنس کے انعقاد میں سلفی صاحب نے بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اتفاق سے کانفرنس کے دن وزیر اعلی کو آنے میں کافی دیر ہو گئی اور تاخیر کی وجہ سے لوگوں کے اندر بے چینی پیدا ہونے لگی، تو مبارک صاحب اور سلفی صاحب کے ولولہ انگیز، فکر آمیز اور جوش و جذبے سے بھر پور خطابوں نے لوگوں کو باندھے رکھنے کا کام کیا اور کسی کو اپنی جگہ سے ہلنے کا موقع نہیں دیا۔ اس دن سلفی صاحب نے لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹہ تقریر کی تھی اور جب وزیر اعلی تشریف لائے، تو انہی کا خطاب چل رہا تھا۔
مبارک صاحب 1985 میں ایم ایل بن گئے اور پٹنہ رہنے لگے، تو اس دوستی کی خوشبو سے ایم ایل اے فلیٹ کے در و دیوار بھی مہکنے لگے۔ چوں کہ دونوں میں کئی چیزیں مشترک تھیں؛ دونوں بڑے باصلاحیت اور سوجھ بوجھ کے حامل انسان تھے، دونوں کا سیاسی شعور بڑا پختہ تھا، دونوں بڑے خود دار و باغیرت انسان تھے اور دونوں کے اندر طلاقت لسانی کی صفت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، اس لیے ان کی یہ دوستی تا دم حیات قائم رہی اور اکثر ایک ساتھ دیکھے گئے۔
مولانا کی سیاسی سوجھ بوجھ بہت مضبوط تھی۔ لیکن انتخابی سیاست میں نہیں رہے۔ البتہ 1989 کے لوک سبھا چناؤ میں مرحوم مبارک حسین اور کچھ دیگر لوگوں کی تحریک پر کشن گنج لوک سبھا حلقے سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے نومینیشن کرایا تھا۔ اس انتخاب میں کانگریس کے ٹکٹ سے مشہور صحافی اور موجودہ بی جے لیڈر ایم جے اکبر میدان میں تھے۔ لیکن جب کانگریس اعلی کمان کی جانب سے شدید اصرار ہوا، تو مقابلے سے خود کو الگ کر لیا۔ باوجود اس کے چودہ ہزار ووٹ آ گئے تھے۔
آپ کافی دنوں تک بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کے ممبر بھی رہے اور خاص طور سے سیمانچل کے ملحق مدارس کے مسائل کو حل کرنے کے تعلق سے ہمیشہ بڑے سرگرم نظر آئے۔آپ کٹیہار میڈیکل کالج، جو اب الکریم یونی ورسٹی بن چکا ہے، کی تاسیسی مشاورتی کمیٹی کے ممبر بھی رہے۔ اس طرح، ایک سرگرم زندگی گزارنے کے بعد 19 جولائی 2001 کو آخری سانس لی اور کچھ دنوں کی علالت کے بعد دنیا سے چل بسے۔
 
اللہ نے ان کو پانچ بیٹوں اور سات بیٹیوں سے نوازا تھا اور انھوں نے سب کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھا۔ بڑے بیٹے مسعود عالم انٹر کرنے کے بعد بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ سے ملحق ادارہ مدرسہ دار الھدی بابوان کے مدرس ہیں۔ دوسرے بیٹے ڈاکٹر مجیب الرحمن کٹیہار میڈیکل کالج کے پہلے بیچ کے اسٹوڈنٹ رہے اور ابھی سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں۔ تیسرے بیٹے افضل حسین (بی اے آنرس) بھی مدرسہ دار الھدی بابوان کے مدرس ہیں۔ چوتھے بیٹے حسیب الرحمن انٹر کے بعد ایلو پیتھ کی پریکٹس کرتے ہیں اور سب سے چھوٹے بیٹے نسیم اختر نے جامعہ سلفیہ بنارس سے عربی چہارم یا پنجم تک کی پڑھائی کی ہے۔ انھوں نے بیٹوں کے ساتھ بیٹیوں کو بھی اچھی تعلیم دلانے کا اہتمام کیا۔ ایک آدھ کو چھوڑ کر ساری بیٹیاں یا تو گریجویٹ ہیں یا کسی مدرسے سے عالمہ و فاضلہ۔
 
الہ العالمین! تیرے اس بندے نے بڑی سرگرم اور دوڑ بھاگ بھری زندگی گزاری ہے۔ ہم گنہ گار بندوں کی فریاد ہے کہ تو اس کی اچھائیوں کو شرف قبول عطا کرنا، کوتاہیوں سے درگزر کرنا اور اسے فردوس بریں میں جگہ عطا کرنا….!!!

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *