Fri. Jan 15th, 2021
مولانا عبد الباری ندوی
              ترتيب : مشتاق احمد ندوی
مولانا عبد الباري ندوي نے 22 جون 2020 کو، زندگی کی اکیاون بہاریں دیکھنے کے بعد ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔ اس موقع پر ان کے متعدد ہمعصروں اور شاگردوں نے انھیں یاد کرتے ہوئے ان کی زندگی کے مختلف پہلؤوں پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ تعزیتی کلمات سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک اور واٹس ایپ پر کئی دنوں تک گردش کرتے رہے اور مولانا عبد الباری ندوی رحمہ اللہ کی پرکشش شخصیت اور بے لوث خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے رہے۔
علما کی نظر میں
میں ان گراں قدر تاثرات کے اہم حصوں کو یک جا کردینا چاہتا ہوں، تاکہ ان کی شخصیت کے مختلف پہلؤوں کا عکس ایک جگہ دیکھا جا سکے۔
ڈاکٹر رحمت اللہ سلفی 
“شيخ ميرے قدیم گاؤں جهبوٹولہ ميں 26/ 1/ 1969 کو پيدا ہوئے۔ ابتدائى تعليم گاؤں کے مکتب مين مولانا تميزالدين (چرخى والے) کے پاس، پھر مدرسہ مصباح العلوم جھبو ٹولہ ميں حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسہ اصلاح المسلمين بهادو مالده میں تين سال رہے، جس ميں ميں رفيق درس رہا۔ وہا ں سے معہد التعليم شري پور مالدہ گئے اور دو سال مرحلہ ثانويه کے درجات میں تعلیم حاصل کی، جہاں رفيق درس امين الدين فيضي اور شميم اختر ندوي صاحبان تھے۔ پھر وہاں سے شیخ علاء الدین ندوی کے ساتھ مدرسہ فلاح المسلمين راے بريلي گئے اور دارالعلوم ندوة العلماء سے سنہ 1990ميں عالميت کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ مظاہر العلوم سہارنپور سے 1991کو فضیلت کی سند لی۔ اس دوران جن مشہور اساتذہ سے اکتساب علم کيا، ان کے اندر شيخ عبدالستاررحماني، شيخ محمد يونس جونپورى اور شيخ سعيدالرحمن اعظمي وغيرهم شامل ہیں۔
فراغت کے بعد جامعہ محمديه ماليگاوں سے 1992سے1997 تک وابستہ رہے۔ پھر جامعة الامام بخاري ميں ايك سال تدریسی کام کیا، پھر مادر علمى معہد التعليم شري پور ميں 1998 سے 2008 تک رہے۔ اس کے بعد جامعه عمر فاروق الاسلاميه كوا ماري مالده ميں 2009 سے2017 تدريسي فريضه انجام ديا اور اخير ميں ہاے مدرسہ بنگال ميں سرکاري نوكري بهي كي۔ ليكن قضا و قدر کے فيصله کے سامنے سرتسليم خم کرکے آج صبح ساڑھے سات بجے آخري سانس لي۔ الله ان کی علمى خدمات کو قبول فرمائے۔ آمين
شيخ مير ے کلاس ساتھی اور میرے گاؤں کے رہنے والے تھے۔ ميں ان کو بہت قريب سے جانتاہوں۔ آپ ايک پختہ اور مستند عالم دين تهے۔ علما ميں عقيده كي کمزورى پرانھیں بہت شکايت تهي، جس كا اظہار ميرے سامنے کرتے تھے۔ اللہ نے بہت سى خوبيوں سے نوازا تھا۔ محفل سے دور رہتے، ليكن تحريري ذوق وشوق ميں ممتاز تھے۔ اللہ ان کے حسنات کو قبول فرمائے۔ آمين”
 مولانا عبداللہ الکافی 
“برادر عزيز شيخ عبد الباري ندوي رحمه الله يوں تو ميرے آبائي وطن كٹيهار هي سے تعلق ركھتے تھے، مگر ان سے ميري پهلي ملاقات سنه 1990ء ميں مدرسه مظاهر علوم دار جديد سهارنپور ميں هوئي تھي۔ ميں عالميت ميں اور موصوف ايك سال آگے فضيلت كے طالب تھے۔ طلبۀ كٹيهار كي نششتوں ميں موصوف كي نماياں حيثيت تھي۔ مظاهر كے حلقۀ عام وخاص ميں معروف ومقبول تھے۔ خاكسار كے بهت اچھے اور يادگار مراسم رهے۔ دوسرے سال جب ميں فضيلت كے آخري امتحانات كي تياريوں ميں تھا، تو سهارنپور كے طلبه ميں ايك علمي مسابقه كے اجراء كے لئے آنا هوا تھا۔ وه ميرے پاس هي ركے۔ پته چلا مظاهر سے فراغت كے بعد لكھنؤ كے كسي تعليمي وتربوي شعبه سے جڑ گئے ہیں۔”
“دوسرے سال ميں نے جامعه محمديه منصوره ماليگاؤں ميں داخله لے ليا۔ كچھ روز بعد اچانك موصوف كو سامنے ديكھ كر ميں حيران ره گيا۔ ميرا خيال تھا شايد وه بھي طلب علم كي غرض سے آئے هوں گے۔ مگر انھوں نے وضاحت كي كه ميں يهاں تدريس كے لئے آيا هوں۔ تعلقات تو پرانے تھے۔ مگر ان كي خوبيوں اور صلاحيتوں كو جاننے كا موقعه منصوره سے هي ملا۔ اردو اور عربي ميں بهترين صلاحيت تھي۔ تنظيمي امور کی بھي كافي سمجھ تھي۔ اپنے واجبات كے ساتھ امانت وديانت اور محنت ولگن كي خو بے مثال تھي۔ شايد ان هي وجوهات كے سبب اس وقت منصوره كے شيخ الجامعه محترم شير خان جميل احمد عمري حفظه الله وصانه من كل مكروه نے بھر پور جوهر دكھانے كا موقعه عنايت كيا اور موصوف نے انھيں مايوس بھي نهيں كيا۔ ابتداء ميں كچھ كتابيں پڑھانے كے لئے دي گئيں، مگر بعد ميں ان كو آفس سكريٹري كے طور پر مختص كر ليا گيا۔ حضرت مولانا مختار احمد ندوي رحمه الله موصوف كے كام كاج كي بڑي تعريفيں كيا كرتے تھے۔
سنجيده، امانت دار، ملنسار، مخلص اور هر ايك كي خدمت كے لئے هميشه تيار رهنا آپ كي طبيعت میں تھا۔ ذمه داران كے ساتھ متفاهم اور سلجھے هوئے، اساتذه كے ساتھ قدر ومنزلت كا معامله، اسٹاف ميں خوش گفتار وخوش كردار، طلبه ميں اخلاص و خير خواهي كے ساتھ دوستي آپ كي فطرت تھی۔”
 مولانا امین الدین فیضی 
“۱۹۸۲ میں شیخ عبد الباری ندوی رحمہ اللہ نے جامعۃ التعلیم الدینی شری پور میں دوسری جماعت میں داخلہ لیا تھا اور میں بھی اسی کلاس کا طالب علم تھا۔ لہذا ان کے ساتھ پڑھنے کا موقع ملا۔ دو سال شری پور میں تعلیم حاصل کرنے بعد وہ فلاح المسلمین جو ندوۃ العلماء کی شاخ ہے چلے گئے اور شیخ علاء الدین ندوی رحمہ اللہ کے زیر اشراف اپنی تشنگئ علوم بجھاتے رہے۔ عربی و اردو کےاچھے قلم کار ہونے ساتھ ساتھ تدریسی صلاحیت بھی کمال کی تھی۔ مزاج میں سنجیدگی تھی اور گفتار میں شرافت۔ مجھے جامعۃ الامام البخاری میں ایک ساتھ تدریسی خدمات انجام دینے کا بھی موقع ملا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کود میں بھی حد درجہ کی دلچسپی رکھتے تھے۔ جامعۃ الامام البخاری میں ہم چار ساتھی ایک ساتھ رہتے تھے (شیخ منیر الدین سلفی، شیخ شفیع الاسلام ندوی، مرحوم شیخ عبد الباری ندوی اور میں امین الدین)۔ ایسا لگتا تھا پڑھنے ہی کا زمانہ ہے.”
شیخ شیر خاں جمیل احمد عمری حفظہ اللہ سابق شیخ الجامعہ المحمدیہ منصورہ مالیگاؤں 
“عزیزم مولوی عبید زاہد بخاری ابن عبدالباری ندوی نے اطلاع دی کہ ان کے والد کا آج صبح ضلع کٹیھار بہار میں انتقال ہوگیا ہے۔ إنا لله وإنا اليه راجعون. اللهم اغفرله وارحمه وثبته وادخله فسيح جناته جنات النعيم وألهم أهله وذويه الصبر والسلوان۔ آمين.
ان کی وفات سے مجھے بہت دکھ ہوا۔ وہ میرے محسن تھے۔ انہوں نے جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں میں بحیثیت آفس سکریٹری میرا بہت کام کیا تھا۔ جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں کی اسٹرائک کے بعد ۱۹۹۱م کی ابتداء میں جب میں نے جامعہ محمدیہ جوائن کیا، جامعہ اساتذہ اور طلبہ سے تقریبا خالی ہوچکا تھا۔ سو سے کم طلبہ رہ گئے تھے۔ طلبہ کے ساتھ کئی اساتذہ کا بھی اخراج ہوچکا تھا۔ مجھے اجڑے ہوئے جامعہ کو دوبارہ بنانا، سنوارنا اور بسانا تھا۔ چنانچہ طلبہ اور اساتذہ کی تعداد بڑھانے کی خاطر مختلف محاذ پر کام کررہا تھا۔ میری پلاننگ یہ تھی کہ ملک کی ممتاز جامعات سے الگ الگ تخصصات کے حامل اساتذہ کو جامعہ میں لایا جائے۔ اس وقت ابتداءً تین جامعات کے فارغین ميرے ایجنڈے میں شامل تھے۔ مرکزی دارالعلوم جامعہ سلفیہ بنارس، مادر علمی جامعہ دارالسلام عمرآباد اور ندوة العلماء لکھنؤ۔ (آج فیصلہ کرنا ہوتا تو دو اور جامعات کو شامل کرتا؛ جامعہ سنابل دہلی؛ جامعہ ابن تیمیہ چندن بارہ بہار ) المختصر یہ کہ کلیہ فاطمہ مئوناتھ بھنجن کے ایک پروگرام میں شیخ سعید الرحمن الاعظمی حفظه الله سے درخواست کی کہ ہمیں دو تین ندوی اساتذہ دیجئے۔ شیخ کی زبان سے دفعتاً یہ جملہ نکلا کہ آپ لوگوں کو اہل حدیث اساتذہ چاہئے ہونگے ! ہم نے بھی مسکرا کر ہاں میں جواب دے دیا۔ شیخ کو اللہ تعالی جزاء دے اور صحت وعافیت عطا کرے۔ شیخ نے پروگرام سے لوٹ کر ابتداء دو اہل حدیث ندوی اساتذه کو منتخب کرکے بھیج دیا۔ ایک مولانا شاہ جمال ندوی صاحب اور دوسرے ہمارے مرحوم مولانا عبدالباری ندوی رحمه الله تھے۔ پھر تھوڑی ہی مدت کے اندر اندر تیسرے ممتاز استاد شیخ علاءالدين ندوى رحمه الله جو مولانا عبد البارى ندوى کے استاد تھے، کا جامعہ میں اضافہ ہوا۔ اس طرح سے مولانا عبدالباری ندوی شیخ سعیدالرحمن اعظمی کا انتخاب تھے۔ چنانچہ وہ خاندان جامعہ کے رکن بن گئے۔
میں جامعہ کی از سر نو تنظیم کر رہا تھا۔ تقسیم کار میں مولانا عبدالباری ندوی کے ذمہ کچھ گھنٹیاں تدریس کے ساتھ میری آفس میں بحیثیت مدیر مکتب ذمہ داریاں سنبھالنا طے پایا۔ آپ کے اندر اردو عربی لکھنے پڑھنے کی بھرپور صلاحیت تھی۔ نرم مزاج تھے، اطاعت و فرمانبرداری کا جذبہ تھا، وقت پر کام نمٹانا آتا تھا، نیز دیگر کئی خصوصیات کے ساتھ امانت داری و دیانت داری کی صفت آپ میں نمایاں تھی۔ چونکہ آپ میرے سکریٹری تھے۔ میری فائیلوں کے محافظ تھے۔ اکثر رازوں سے واقف رہتے تھے۔ لیکن کبھی کسی راز کو آپ نے فاش نہیں کیا۔ میں منصورہ کے کیمپس ہی میں فیملی کے ساتھ رہتا تھا۔ میرا معمول ہوتا تھا کہ روز کا کام اسی روز ہی مکمل کرکے سویا جائے، تاکہ صبح اٹھیں تو نئے کام کو وقت پر نمٹانے میں پہلا کام حائل نہ رہے۔ اس وجہ سے اکثر ایسا ہوتا تھا کہ میں آفس Hours کے بعد بھی آفس میں گھنٹوں مصروف رہتا۔ جامعہ میں تین اساتذہ ایسے تھے، جو بلا طلب کئے خود سے آفس آجاتے اور کام میں ہاتھ بٹانے کی آفر کرتے؛ ایک دکتور اقبال احمد سلفی مدنی بسکوہری، دوسرے مولانا منصور الدین احمد عمری مدنی اور تیسرے یہی مرحوم مولانا عباالباری ندوی تھے۔ عموما آفس میں مشغول ہونے کی وجہ سے رات کے کھانے میں تاخیر ہو جاتی۔ اہلیہ نے اس کے حل کی ترکیب نکال لی تھی؛ محترم حبیب بھائی (مخلص خادم جامعہ تا ابتدا تا تا دم تحریر ) کے ذریعہ گھر سے آفس میں رات کا کھانا بھجوانا شروع کردیا۔ ٹفن جب کھولتا تو بہت زیادہ کھانا ہوتا۔ Intercom سے گھر پر فون کرتا اور شکایت کرتا کہ اتنا سارا کھانا تو میں نہیں کھاتا؟ جواب دیتیں “مولانا عبدالباری بھی تو ساتھ ہوں گے!” آج اہلیہ بھی ان کی وفات سے دُکھی ہوگئیں۔
کچھ عرصہ قبل مجھے اطلاع ملی کہ ندوی صاحب بیمار ہیں۔ میں نے انہیں فون ملایا، لیکن بات ہو نہیں پارہی تھی۔ واہٹساپ پر مختصر پیغام لکھ چھوڑا۔ دوسرے تیسرے روز جواب آیا کہ اب فون کیجئے۔ میں نے فون ملایا اور ندوی صاحب سے بات تو ہوگئی، لیکن اس خبر سے دل رنجیدہ ہوگیا کہ آپ کو کینسر کا موذی مرض لاحق ہوگیا ہے۔ پہلے Gallbladder کا آپریشن ہوا، پھر کچھ عرصہ بعد یہ مرض لاحق ہوگیا۔ میں نے اپنے چھوٹے بھائی ابوبکر سلمہ سے مشورہ کے بعد یہ طے کیا کہ انہیں مدراس(چنئی) بھیج کر صحیح علاج کرایا جائے۔ بھائی نے ایک مسلمان ممتاز و مشہور ڈاکٹر Mohammed Rela کا کھوج لگا لیا۔ جو Liver Transplantation میں مہارت رکھنے کی وجہ سے Guinness Book میں اپنا نام درج کرا چکے ہیں۔ لیکن افسوس پہلے Lockdown پھر کمزوری کی وجہ سے مدراس کا سفر ان کے لئے ممکن نہ ہوسکا۔ بھائی ابوبکر نے بھی ندوی مرحوم کے فرزند مولوی عبید زاہد سے بات کی۔ بالآخر جواب یہی ملا کہ ابو اب سفر کے لائق نہیں رہے۔ افسوس ہم چاہ کر بھی ان کا علاج کرنے سے قاصر رہے۔
پچھلی مرتبہ جب میں نے ندوی صاحب سے بات کی تھی تو محسوس ہوا کہ آپ ایمان کی مضبوط چٹان بنے ہوئے ہیں۔ مکمل اطمئنان کے ساتھ بات کرتے رہے۔ اپنے مرض کے متعلق کہا کہ اللہ کی مرضی ہے شیخ ! پھر اپنے بڑے بیٹے عبید زاہد کو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ ملنے کی خوش خبری سنائی۔ اپنی اولاد کی تفصیل بتائی کہ چھ بچے ہیں، تین بیٹے اور تین بیٹیاں۔ آج تعزیت کے لئے ندوی مرحوم کے بیٹے مولوی عبید زاہد کو فون کیا، تو دل بھر آیا۔ ان کے ساتھ بیتے لمحات دل ودماغ پر چھاگئے۔ اسی بے چینی کی کیفیت میں یہ چند جملے نوک قلم پر آکر وجود پاگئے۔ آج بھی کوشش کی کہ اپنے معاون مخلص مرحوم کے کوئی کام آجایا جائے۔ بچہ عبید نے بتایا کہ ابو پر کوئی قرض نہیں ہے۔ پھر بچہ کو میں نے تاکید کی کہ مجھ سے رابطہ میں رہیں اور مدینہ جاکر مزید تعلیم ضرور حاصل کریں۔
جامعہ سے میرے سبک دوش ہونے کے کچھ عرصہ بعد وہ بھی جامعہ چھوڑ گئے۔ اپنے علاقے کے مدارس میں تدریسی فریضہ انجام دیتے رہے اور کچھ عرصہ قبل گورنمنٹ کی تنخواہ کے مستحق ٹھہرے۔ اللہ تعالی ندوی صاحب کی بال بال مغفرت فرمائے، ان کے مرض کو کفارۂ سیئات بنائے، جنت الفردوس میں جگہ دے اور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے آمین۔”
مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی و مدنی 
“آپ جماعت کے ایک محنتی، مخلص عالم دین، اور کامیاب مدرس تھے، فراغت کے بعد سے ہی مختلف اداروں میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے، لکھنے پڑھنے کی صلاحیت بھی تھی اور اردو عربی دونوں زبانوں پر کافی دسترس حاصل تھا، جماعتی کاموں سے دلچسپی رکھتے تھے، اپنے تدریسی اور دعوتی منصبی فرائض کی ادائیگی کے ساتھ جمعیت کے نشاطات اور اجتماعات سے بھی کافی دلچسپی رکھتے تھے. سالہا سال سے میرا مشاہدہ اور تجربہ رہا ہے کہ ہمارے یہ مخلص بھائی بنگال کے مختلف دوروں اور جلسوں کی مناسبت سے اسٹیشن اور ایئر پورٹ پر استقبال اور استصحاب کے لیے حاضر رہا کرتے تھے اور بڑی خوشدلی اور چستی سے استقبال کرتے اور مقررہ جگہوں تک مصاحبت فرماتے تھے. محنت اور لگن کا یہ حال تھا کہ طلبہ کی تعلیم وتربیت اور مدرسے کی دیکھ ریکھ اور خدمت کے ساتھ انہوں نے اپنا تعلیمی سفر بھی جاری رکھ کر جہاں اپنی علمی لیاقت بڑھائی وہیں متعدد شہادات اور اسناد بھی حاصل کیے. اور اس کی بنیاد پر بنگال میں بعض اہم تدریسی منصب پر امتیازی طور پر فایز ہویے، مگر افسوس کہ ابھی چند ماہ ہی اس ملازمت ومنصب سے مستفید ہویے تھے کہ اللہ کوپیارے ہو گئے۔ آپ نرم مزاج اور بے ملنسار شخصیت کے حامل تھے۔
تقریبا تین ماہ سے کینسر کے خطرناک مرض میں مبتلا تھے، علاج اور تمام تر کوششوں کے باوجود جاں بر نہ ہو سکے اور قضاء الٰہی کے مطابق آپ کا انتقال ہو گیا، اور جماعت وملت وملک کا ایک اور قیمتی سرمایہ امت کے ہاتھوں سے جاتا رہا.”
مولانا سراج الدین ندوی
“میں اپنی علمی تشنگی بجھانے کے کے بعد تدریسی خدمات انجام دینے کے لئے جامعة التعليم الديني شري مالده سے وابستہ ہوا ہی تھا کہ فضيلة الشيخ محمد اختر عالم سلفی رحمہ اللہ نےاپنے جامعہ اسلامیہ ریاض العلوم شنکر پور میں تدریس کی پیشکش کی۔ ان کے اور بھائیوں کے اصرار پر چار سال تدریسی خدمات انجام دیا۔ جب دوبارہ جامعة التعليم الديني شري پور کا رخت سفر باندھا اور اسٹیشن پر اترا، تو استقبال کے لیےکئی اساتذہ آئے ہوئے تھے۔ ان میں شیخ عبدالباری رحمہ اللہ بھی تھے۔ آپ مجھ سے سنیئر تھے نیز عمر میں بڑے تھے۔ ملن گڑھ سے شری پور پیدل پہنچنا تھا۔ انہوں نے میرا بیگ جبرا اپنے کندھے پر لےلیا، باوجود اس کے کہ میں انھیں سینیریٹی کی دہائی دیتا رہا۔
شری پور سے کواماری تک ۱۶ سال کی تدریسی خدمات، چلنے پھرنے، کھانے پینے، ذاتی صلاح و مشورہ میں غرض یہ کہ ادارہ جامعہ عمر فاروق کواماری کی تعمیر و ترقی نیز گھریلو معاملات میں ایک دوسرے کے خیر خواہ و صلاح کار آور زندگی کے سفر میں رازدار رہے۔
آپ فن ادب و نحو میں اچھی استعداد کے مالک تھے اور جو بھی نصابی کتاب تدریس کے لیے گھنٹیوں میں دی جاتی، طلبہ مطمئن ہوکر خاطر خواہ استفادہ کرتے۔ آپ نہایت سنجیدہ، سخن سنج ،خلیق اور سلیم الطبع انسان تھے۔ اساتذہ و طلبہ کے ساتھ مشفقانہ تعلقات رکھتے، خصوصا میرے اور ان کے درمیان کا معاملہ ادب و احترام میں ایسا ہوتا کہ ہر ایک کی خواہش ہوتی کہ میں ادب و احترام میں سبقت لے جاؤں۔”
شاگردا ن کی نظر میں
 نسیم جوہر تیمی 
“آج سے تقریباً پندرہ سال قبل کی بات ہے، جب میں معہد التعلیم الدینی شری پور، مالدہ، مغربی بنگال میں زیر تعلیم تھا۔ اس زمانے میں ادارہ ہذا مشہور ہندستانی تعلیمی ادارہ ندوۃ العلماء لکھنؤ کی شاخ ہوا کرتا تھا۔ اس وقت ادارہ اپنی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کے لیے معروف تھا۔ دور دراز سے تشنگان علم و ادب جوق در جوق آتے اور اپنی تشنگی بجھاتے، وہاں کے اساتذہ بڑے ہی خلوص کے ساتھ اپنے فرائض ادا کر رہے تھے۔ ندوی اساتذہ کی ایک ٹیم تھی۔ اس ٹیم کے نمایاں چہرے شیخ عبد الباری ندوی رحمہ اللہ -اللہ انہیں غریق رحمت کرے-، شیخ عثمان غنی ندوی حفظہ اللہ اور شیخ سراج الدین ندوی حفظہ اللہ تھے، جب کہ ان کے کپتان- یعنی ادارہ کے ناظم صاحب- شیخ شمیم احمد ندوی حفظہ اللہ ہوا کرتے تھے…..
جہاں تک شیخ عبد الباری ندوی صاحب رحمہ اللہ کی بات ہے، تو ادارہ ہذا کے اساتذہ میں آپ وہ واحد استاذ تھے، جن سے ہم نے سب سے زیادہ اکتساب فیض کیا. مقررہ گھنٹی کے علاوہ اکثر عصر بعد تو کبھی مغرب بعد بھی آپ کی کلاس لگتی. آپ نے ہمیں بلوغ المرام پڑھائی تھی اور وہ بھی مکمل کتاب. اربعین نوویہ کے بعد یہ دوسری حدیث کی کتاب ہے جو ہم نے کسی استاد سے مکمل پڑھی ہو. پڑھانے کا اسلوب بالکل دوستانہ ہوا کرتا تھا. آپ پڑھاتے جاتے اور ہم پڑھتے جاتے، مگر اکتاہٹ بالکل بھی محسوس نہ ہوتی، بیچ بیچ میں علمی لطیفہ آ جاتا تو ضرور سناتے ……”
 ابو تقى رحیمی 
“جب ایک طرف شیخ امین الدین فیضی اور شیخ منیر الدین سلفی ہوتے اور دوسرے چھور پر شیخ شفیق ندوی اور شیخ عبد الباری ندوی ہوتے تو مشاہدین کو مزہ آجاتا تھا!”
 مسعود ظفر شیر شاہ آبادی 
“منصورہ مالیگاؤں میں ان کی عربی تحریر سے متاثر ہوکر اس وقت کے شیخ الجامعہ نے ان سے کہا تھا کہ آپ کے عربی کے استاد جو بھی ہوں، انھیں مالیگاؤں لانے کی کوشش کیجیے! اور انھیں کی ایماء پر والد محترم ندوہ کی شاخ فلاح المسلمین کو خیر باد کہہ کر منصورہ چلے آئے تھے!”
ان کے ایک اور شاگرد فیروز عالم نے ان کی جفاکشی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے :
“ایک بار میں، مولانا مرحوم اور ایک استاد ساتھ تھے۔ اچانک مدرسہ سے سیکورنا آنے کا پلان بنا۔ جھوا (jhaua) سے پیدل آ رہے تھے۔ سیلاب کا وقت تھا۔ گھاٹ میں پانی کافی زیادہ تھا۔ تقریبا رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ كشتی دوسری جانب تھی۔ میں نے کہا کہ میں تیرنا جانتا ہوں شیخ! میں اُس پار سے کشتی لے آتا ہوں۔ لیکن مولانا نے مُجھے جانے نہیں دیا۔ خود تیر کر اس پار سے اُس پار گئے اور کشتی لے آئے۔”
یہاں کچھ حضرات کے تاثرات کے بعض ضروری حصوں کو نقل کیا گیا ہے۔ اور بھی کئی لوگوں کے تاثرات نظر سے گزرے، لیکن طوالت کے خوف سے انھیں نقل کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ مولانا رحمہ اللہ کی بال بال مغفرت فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں جگہ عنایت کرے۔ آمین
One thought on “مولانا عبد الباری ندوی: علما اور شاگردان کی نظر میں”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *