Sat. Oct 31st, 2020



محمد صادق جمیل تیمی
اس بوقلمونی دنیا میں بہت سے انسان جنم لیتے ہیں اور اپنی حیات مستعار کی گھڑیوں کو بسر کرکے یہاں سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ کے بعد اس کا نام مٹ جاتا ہے، دوبارہ اس کا نام لینے والا کوئی نہیں ہوتا،لیکن ان میں کچھ ایسے ہوتے ہیں جو مرنے کے بعد اپنے پیچھے بہت ساری یادیں اور دنیا کے لیے عظیم خدمات،خوبصورت زندگی کا پرتو اوراپنی عملی روش چھوڑ جاتے ہیں۔انہی میں سے سرزمین کٹیہار کے مردم خیز علاقہ منشاہی،میرکاہا سے تعلق رکھنے والے ستودہ صفت انسان مولانا عبد الحکیم صاحب ؒ تھے۔جب سے میں نے ہوش سنبھالا، مولانا کو ایک ہی پروقارانہ طرز میں پایا۔غالباً 2014ء کی بات ہے جب میں جامعہ امام ابن تیمیہ میں طالب علم ہوا کرتا تھا ،دوران تعطیل ان سے پہلی ملاقات ہوئی، اس وقت مولانا کی عمر تقریباً ۵۵سال ہوگی۔بڑے پرتپاک انداز میں ملاقات کی،ڈھیر ساری باتیں ہوئیں،علوم اسلامیہ سے طلبہ کی عدم توجہی پر بہت افسوس جتایا اور ناچیز کو محنت کرنے کی وصیت کی۔بہت اچھی صحت،گندمی رنگ،آنکھوں میں چمک،بڑی بڑی آنکھوں پر نظروں کی عینک چڑھی ہوئی، میانہ قد،بھری ہوئی داڑھی جس میں ایک بھی سیاہ بال نہیں تھا۔صاف ستھرا لباس،وضع دار،عالمانہ وقار کے حامل،اپنا کام خود کرنے کے عادی،اہل علم کے قدردان اور قرآن مجید سوز سے پڑھتے تھے۔

خاندانی پس منظر:آپ کے والد منشی حراست اللہ ضلع مرشادآباد کے رہنے والے تھے۔اس زمانہ میں مختلف تقریبات کی مناسبت سے ناچ گانے اور قوالی کی محفلیں سجائی جاتی تھیں۔منشی حراست اللہ ان محفلوں میں بحیثیت گوِیاّ بہت دنوں تک کام کیے اور ساتھ میں اپنے علاقہ کا عام پیشہ بیڑی باندھنے کو بھی جاری رکھا۔بعد میں اللہ تعالی نے آپ کو ہدایت دی اور آپ دینی امور کی جانب راغب ہوئے۔ ناچ،گانے کی محفلوں سے توبہ کرلی اور قرآن و سنت کی بنیادی تعلیم حاصل کی۔ علاقے کے کئی بستیوں میں گاہ بہ گاہ خطبہ جمعہ دیا کرتے تھے اور اپنے گاؤں کے بھی مستقل امام تھے۔سماجی رسم و رواج سے خاصا متاثر گمراہی سے ہدایت کی شعاؤں کی جانب رواں خانوادہ ہی کے چشم و چراغ مولانا عبد الحکیم تھے 
ولادت، تعلیم و تربیت:مولانا عبد الحکیم کی ولادت 1931ئضلع مرشدآباد کے گاؤں صاحب نگر میں ہوئی۔ابتدائی تعلیم آٹھ کلاس تک حاصل کی اور اس کے بعد پڑھائی ترک کردی۔اس وجہ سے والد منشی حراست اللہ غصہ میں آکر آپ سے کہا کہ تم نے پڑھائی ترک کردی اب ایسا کرو کہ مجھے روزانہ ایک ہزار بیڑی باندھ کر دو،ورنہ تمہاری خیر نہیں۔آپ چند دنوں تک یہی کام کرتے رہے،اس کام سے آپ اوب چکے تھے اور دوسری جانب آپ کا اندرون علم کی روشنی کی جانب صدا دے رہا تھا۔اسی اثنا میں ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ کے پھوپھا محترم ایک اخبار آپ کے حوالہ کیا لیکن آپ پڑھ نہیں پائے،بڑی پشیمانی ہوئی اور اپنے آپ کو بہت اندر سے کوستا رہا کہ اگر کچھ تعلیم حاصل کر لیتا تو آج یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔یہی چیزآپ کے ذہن و دماغ کے دریچے کو مہمیز لگانے میں اہم کر دار ادا کی اور آپ 1942ء کی بات ہے کہ آپ اور آپ کے چچا عبد الستار نے اپنے تعلیمی سلسلہ کو شروع کرنے کے لیے کہیں دور تعلیمی درسگاہوں کی طرف خفیہ طور پر بھاگنے کا پلان بنایاکہ آئندہ فجر سے قبل ہی بھاگ نکلیں گے اور آپ اپنی امی کے روپے میں سے کچھ روپے بغیر کہے لے لیے۔اتفاقاً ایسا ہوا کہ اس دن صبح پو پھوٹنے کے بعد آپ کی آنکھیں کھلیں اور آپ کے چچا آپ کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا تاہم آپ خود ہی اللہ کا نام لے کر گھر سے نکل گئے اور ضلع مالدہ کے رانی گنج میں آئے،یہاں پر شیخ الحدیث مولانا بلال ؒ صاحب علاقہ کے لوگوں کو بخاری کا درس دیتے تھے۔ آپ ان کے آگے زانوے تلمذ تہہ کیا،پھر مولانا یہاں سے اپنے وطن کٹھوتیہ کالی کنج،کٹیہار منتقل ہو گئے۔ آپ بھی ان کے ساتھ ہو لیے اور بلال صاحب کے ساتھ ایک لمبے عرصے تک رہے۔بخاری کا درس آپ نے انہیں سے لیا۔آپ مولانا بلال کو اپنے مخلص استاد کی حیثیت سے بہت زیادہ یاد کر تے تھے۔1947ء کے بعد مولانابلال بنگلادیش چلے گئے اور 1971ء میں جب بنگلادیش الگ ہوا تو اسی فساد میں آپ شہید ہو گئے۔
اس اثنا میں آپ میرکاہا کے حاجی محمد حسین کے گھر میں رہائش اختیار کی۔بعد میں لال محمد کے گھر میں رہنے لگے اور یہاں سے دو کیلو میٹر قریب حفلہ گنج ہائی اسکول سے میٹروکولیشن کے امتحان میں امتیازی نمبرات کے ساتھ کامیاب ہوئے اور ڈی ایس کالج کٹیہار سے پارٹ ون تک کا امتحان دیا اور کلکتہ بورڈ سے آپ نے بی اے اور ایم اے کا امتحان پاس کیا۔اس دوران آپ لال محمد کی دختر نیک اخترنیک زن خاتون سے شادی کی اورانہیں کے گھر تا حیات رہے۔  
اساتذہ:چوں کہ آپ کے زمانہ میں بنگال میں اس وقت تو بیشتر مدارس موجود تھے لیکن سماج میں تعلیمی رواج نہ ہونے کی وجہ سے کسی مدرسہ کا رخ نہیں کیا بلکہ آپ اپنی زندگی میں ایک ہی استاد شیخ الحدیث مولانا بلال جو بنگلادیش میں شہید ہو گئے تھے کا ذکر کرتے تھے۔ان کے علاوہ دوسرے اساتذہ کا پتہ نہیں چل سکا۔
شاگردان:آپ کے مشہور شاگردوں میں سے چند یہ ہیں:عبد الرؤوف ندوی (آپ کے فرزند ارجمند)شمیم اختر (آرمی)تجمل حق (بیراسٹر)اسرافیل ندوی (امام و خطیب میرکاہا)میکائیل ندوی (مدرس مدرسہ دارالہدی کرسیل)مولانا ابراہیم ندوی (امام و خطیب منوہر پور)ماسٹر محمد شاہ جہاں (اسکول ٹیچر)
تدریسی خدمات:آپ اپنے تعلیمی سلسلہ کو مکمل کرنے کے بعد ہٹ کھولا میں تقریباً سات آٹھ سال تک پڑھا یا۔اسی دوران ایک عالم باعمل اور ماہر معلم کی حیثیت سے پورے علاقہ میں مشہور ہوئے۔آپ کی علمی استعداد اور معلمانہ اوصاف دیکھ کر مولانا عبد المنان منوہر پور نے اپنے ہاں آنے پراصرا رکیا،آپ ان کے اصرار پربہار سرکار کی جانب سے منظور شدہ ادارہ مدرسہ دارالہدی منوہر پور 1976ء میں آئے اور یہی پرسرکاری ٹیچر کی حیثیت سے تقرری ہوئی۔2014ء میں آپ اپنی ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔
زندگی کے اہم واقعات:مولانا عبد الحکیم بڑے خاکسار،ملنسار اور منکسر المزاج شخصیت کے حامل تھے۔ان کی ذات سے کبھی کسی کوئی اذیت نہیں پہنچی۔اہل علم کی بے حد قدر کرتے تھے اور ان سے پرتپاک و اپنائیت کے ساتھ ملتے تھے،کبھی بھی دوران گفتگو اونچی آواز یا مخاطب کو بور ہونے یا اجنبیت کا احساس ہونے نہ دیتے تھے۔مہمان نوازی و ضیافت پسندی اور سائلوں سے بڑی ہمدردی جتاتے تھے اور اس پر عمل بھی کرتے تھے۔ان کی مہمان نوازی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہندستان میں دسمبر و جنوری کے کڑاکے کی ٹھنڈی میں جب شام ہوتے ہی لوگ اپنے اپنے بستروں میں چلے جاتے ہیں۔غالبا جنوری کی ایک رات میں چند مانگنے والی عورتیں گیارہ بجے رات کو آگئیں۔آپ بیدار ہوئے اور ان کی حالت دریافت کی۔پتہ چلا کہ ساری عورتیں بھوکی ہیں،آپ اسی وقت محلہ کے گھروں سے چاول مانگ کر لائے اور اپنے ہمراہ اپنے شاگر رشید مولانا میکائیل ندوی کو لیے اور خود سے چولہا جلا کر سبزی بنائی اور ان سا ئل عورتوں کو آسودہ حال کیا۔
آپ نے اپنی پوری زندگی بڑی کفایت شعاری و قناعت پسندی کے ساتھ بسر کی۔ملازمت کے ایام میں قلیل سا ماہانہ مشاہرہ ہی سے اپنے اہل و عیال کی پرورش کی لیکن کبھی نہ اللہ سے شکایت کی اور نہ ہی لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کی۔ہمیشہ عالمانہ ہئیت وشکل میں رہتے تھے۔صوم و صلاۃ کے پابند تھے۔کبھی تہجد کی نماز ترک نہیں کی۔ہمیشہ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے۔صدقہ و خیرات کے بہت دلدادہ تھے۔آپ کے فرزندارجمندمولانا عبد الرؤوف ندوی بتاتے ہیں کہ میں ابو کو نئے کپڑے دے کر اپنے مقر عمل سعودی چلے جاتا،بعد جب عرصہ کے بعد آتا تو پتہ چلتا وہ ویسا ہی رکھے ہوا ہے یا پھر سائلین کو عطیہ دے دیے ہوئے ہیں۔پوری زندگی اپنے گاؤں اور مضافات میں ایک باوقار شخص کی حیثیت سے جانے و پہچانے گئے لیکن زندگی کے اس نشیب و فراز میں ایک ایسا بھی دور آیا کہ آپ کو علاقہ میں اپنے لڑکے حافظ رفیق کی وجہ سے پشیمانی اٹھانی پڑی۔معاملہ یہ ہوا کہ آپ کے لڑکے لوگوں سے دروغ گوئی و ٹھگی کے نام سے روپے لیتے تھے اور اسے اوباش و بدمعاشوں کے پیچھے صرف کر دیتے تھے۔چوں کہ آپ کے لڑکے نے لوگوں کی ایک خطیر رقم ٹھگی کے نام سے وصول کر لیے تھے،اس وجہ سے لوگ اپنی رقم کی وصولی کے لیے آپ کے پاس آنے لگے تو آپ نے  اپنی جائداد فروخت کرکے لوگوں کو اپنے بیٹا کا قرض ادا کیا، لیکن لوگوں کے حقوق سلب ہونے نہ دیا۔
آج کی اس مفاد پرستی کی دنیا میں ہر آدمی معمولی چیز میں بھی اپنا مفاد تلاش کرتا ہے۔قوم کے بچے اور ان کے مستقبل کے لیے کسے فکر ہے،لیکن ایسے وقت میں بھی مولانا اپنی قلیل سی تنحواہ اور فیملی کا سارا بار کے باوجود بھی اپنے اخراجات سے بچوں کو کتابیں اور قلمیں فراہم کرکے مفت میں پڑھاتے تھے۔کٹیہار جنرل کتاب گھر سے کتابیں قرض کے طور پرلاتے اور بعد میں انہیں ادا کر دیتے تھے۔جب آپ کا انتقال ہوا تو کتب خانہ کا آپ کے پاس آٹھ ہزار روپے بقایا تھے جسے بعد میں آپ کے فرزند عبد الرؤوف ندوی صاحب نے ادا کیا۔
مطالعہ و دراسہ میں رغبت:ابتدا ہی سے آپ ایک کتاب دوست انسان تھے۔اسلاف کی کتابوں کے مطالعے میں بڑے شغف رکھتے تھے۔ہمیشہ پڑھتے،عمر کے آخری ایام میں گرتی صحت کی وجہ سے ڈاکٹر وں نے آپ کو کتابوں سے دور رہنے کو کہا تھا لیکن آپ کتابوں سے دور نہ رہے۔کتابوں سے دوستی اتنی تھی کہ آپ جب فریضہ حج کے لیے خانہ کعبہ گئے توآپ نے طارق عبد الرحمن تیمی (جو اس وقت مدینہ کے طالب  تھے)کو400 سو ریال دیا تھا کہ آپ کتب ستہ کا پورا سیٹ میرے لیے لے کر آئیں گے۔دیہات میں عام طور پر لوگ وہاں سے کھجور اور دیگر چیزیں لے کر آتے تھے لیکن آپ نے کتاب لانے کی وصیت کی لیکن قبل اس کے کہ آپ کتابوں سے مستفید ہوتے اللہ کے پیارے ہوگئے۔لوگ آپ کے پاس اپنے مسائل دریافت کرنے آتے تھے۔آپ قرآن و سنت کی روشنی میں تشفی بخش جوابات مرحمت فرماکر ان کی تشنگی کو بجھاتے تھے۔شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی،شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب اور محدث عصر شیخ البانی سے بے حد متاثر تھے اور ان کی کتابوں کو بیشتر مطالعہ میں کرتے تھے۔آپ کی کوئی تصنیفی و تالیفی خدمت نہ رہی۔آپ خالص اہل سنت و الجماعت کے عقیدہ کے حامل تھے۔متزلزل ایمان والے کو پسند نہ کرتے تھے۔آپ کی یادداشت مضبوط تھی۔علم الحساب کے بڑے ماہر تھے۔طلبا کے سامنے بڑی آسانی سے حساب کی گتھیوں کو سلجھاتے تھے۔اولاد و احفاد:آپ کے پانچ لڑکے اور چھ لڑکیاں تھیں۔لڑکوں میں عبد الجبار،عبد التواب اور عبد الرشید بچپن ہی میں اللہ کے پیارے ہو گئے تھے۔دو لڑکے؛عبد الرؤوف ندوی اور حافظ محمد رفیق بقید حیات ہیں۔لڑکیوں میں ہاجرہ،میمونہ کا انتقال بچپن ہی میں ہو گیاتھا۔شمس النہر،آمنہ،مریم اور منورہ حیات سے ہیں۔
وفات:30 اکتوبر 2018ء کو علاج کے دوران کٹیہار اسپتال میں ہوئی۔

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *