Mon. Nov 23rd, 2020
مولانا محمد سعید ندوی : حیات و خدمات

                تحریر : مشتاق احمد ندوی 

مولانا محمد سعید ندوی یعنی ایک ایسی نفاست پسند، باوقار، سنجیدہ، روشن خیال اور عربی زبان و ادب کی ماہر شخصیت، جس نے جامعہ اسلامیہ سلفیہ عبد اللہ پور، جامعہ اسلامیہ فیض عام، دار العلوم دیوبند اور دار العلوم ندوة العلماء جیسی بھارت کی اہم ترین اور تاریخی درس گاہوں سے فیض اٹھایا، پچاس سال سے زیادہ عرصے تک مسند درس و تدریس بچھاکر ہزاروں تشنگان علوم اسلامیہ کو سیراب کیا اور کئی عربی کتابوں کو اردو کے قالب میں ڈھالا۔
محمد سعید بن حاجی زکاة اللہ بن ملن ملا بن تیتو ملا بن ہوتو ملا بن عارف ملا۔ والدہ کا نام زری پوش تھا۔ تعلیمی اسناد کے مطابق 26/ مئی 1941 کو گارد ٹولہ، آمدہ باد میں پیدا ہوئے۔ جب کہ اصل میں 1935 میں پیدا ہوئے ہوں گے۔ والد کی مالی حالت قدرے غنیمت تھی۔ ابتدائی تعلیم ہر نرائن پور ایل پی اسکول میں ہوئی۔ یہاں درجہ ایک سے تین تک کی تعلیم کے دوران آپ مولانا عطاء الرحمن صاحب مدنی کے ہم درس رہے۔ پھر ہیم چندر انگلش مڈل اسکول میں داخلہ لے کر درجہ سات تک کا مرحلہ طے کیا۔ لیکن اس کے بعد مدرسے میں پڑھنے کا خیال آیا اور گاؤں کے مکتب میں ایک سال پڑھنے کے بعد مدرسہ اصلاحیہ سیماپور پہنچ گئے۔ یہ 1948-49 کی بات ہے۔ یہاں وسطانیہ سوم میں پھر شیخ عطاء الرحمن صاحب مدنی کے ہم درس رہے۔ یہاں ایک سال ہی گزرا تھا کہ طبیعت نے انگڑائی لی اور جامعہ اسلامیہ سلفیہ عبد اللہ پور پہنچ کر درجہ ادنی میں داخلہ لے لیا۔ سال ختم ہوا، تو دیکھا کہ وہاں سے فارغ ہوکر والے کچھ طلبہ، جیسے مولانا تمیز الدین صاحب اور مولانا اختر عالم صاحب وغیرہ دار العلوم دیوبند جانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ انہی کے ساتھ ہو لیے۔ دیوبند میں ازہار العرب اور کنز الدقائق جیسی کتابوں سے پڑھائی کا آغاز ہوا۔ لیکن ابھی ڈیڑھ ہی سال گزرے تھے کہ وہاں مسلکی تعصب نے سر اٹھایا اور تقریبا ساٹھ اہل حدیث طلبہ کا اخراج ہوگیا۔ اہل حدیث ہونے کے ناطے مولانا بھی اس کی چپیٹ میں آ گئے۔ چنانچہ اب گھر واپسی کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچا تھا۔ رمضان گزرا تو جامعہ اسلامیہ فیض عام مئوناتھ بھنجن جاکر چوتھی جماعت میں ایڈمیشن لیا۔ یہاں چوتھی سے چھٹی جماعت تک پھر ایک بار شیخ عطاء الرحمن مدنی کے ساتھ ایک ہی کلاس میں رہے۔ لیکن اس دوران پھر ایک نیا موڑ آیا۔ مولانا چھٹی میں پہنچے تو مولانا مصلح الدین صاحب اعظم گڑھی جامعہ اسلامیہ سلفیہ عبد اللہ پور سے فیض عام آ گئے۔ لیکن ایک سال کے بعد کسی بھی وجہ سے انھیں بیک ٹو پویلین ہونا پڑا۔ چوں کہ مولانا کی شخصیت بڑی متاثر کن تھی، اس لیے پانچ چھ طلبہ بھی ان کے ساتھ چل دیے، جن میں ہمارے ممدوح مولانا سعید ندوی صاحب بھی شامل تھے۔ پھر مولانا مصلح الدین صاحب کا ان پر کمال اعتماد دیکھیے کہ چھٹی پڑھانے کے لائے اور عبد اللہ میں آٹھویں میں داخلہ دلا دیا اور ایک ہی سال میں فارغ کردیا۔
اب گھر والوں کی خواہش تھی کہ پڑھنے پڑھانے کے کام میں لگ جائیں،  تاکہ معاش کا مسئلہ حل ہو سکے، لیکن ان کی دلی خواہش دار العلوم ندوة العلماء سے مستفید ہونے کی تھی، سو رمضان ہی میں خط و کتابت کے ذریعے خوراکی فیس معاف کروا لی اور بعد رمضان وہاں پہنچ کر معاون تخصص میں داخلہ لے لیا۔ پھر تخصص اول اور تخصص دوم کے دو سال ملاکر کل تین برس گزارنے کے بعد رسمی کے تعلیم سے فارغ ہو گئے۔
اس پوری مدت میں مولانا نے جن جلیل القدر علماے کرام سے کسب فیض کیا، ان میں مولانا ابو بکر ہارونی، مولانا مصلح الدین اعظم گڑھی، مولانا احمد اللہ رحمانی، مفتی حبیب الرحمن فیضی، مولانا عبد الحفیظ بلیاوی صاحب مصباح اللغات، مولانا محمد رابع حسنی ندوی، اور مولانا عبد الماجد ندوی پٹنوی وغیرہ شامل ہیں۔
فراغت کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے۔ چنانچہ اس کی شروعات چھرا ماری مدرسے سے ہوئی۔ بہار مدرسہ بورڈ سے ملحق وسطانیہ معیار تک کے اس مدرسے میں ایک سال خدمت فراہم کرنے کے بعد 1963 میں مدرسہ مظہر العلوم بٹنہ، مالدہ سے جڑ گئے اور پورے دس سال تک اس سے وابستہ رہے۔ یہاں انھیں مولانا مسلم رحمانی، مولانا خلیل الرحمن دیدی پوری، مولانا عبد الستار سلفی اور مولانا الطاف حسین سلفی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ زیادہ تر عربی ادب کی اونچی کتابیں زیر تدریس رہتیں۔ تفسیر اور مشکوة المصابیح پڑھانے کا بھی موقع ملا۔ مولانا عبد المتین سلفی اور ان کے بھائی مولانا عبد الرشید مظہری نے ان سے یہیں فیض اٹھایا تھا۔
1971 کی بات ہے۔ کنگا ندی کے کٹاؤ سے تنگ آکر مولانا کے والد نے چتوریہ، براری، کٹیہار سے متصل گنج باڑی میں زمین خرید کر بود وباش اختیار کر لی اور دیکھ ریکھ کے لیے آدمی کی ضرورت تھی، اس لیے انھیں بٹنہ چھوڑ کر مدرسہ اصلاح المسلمین چتوریہ آنا پڑا۔ 1971 ہی وہ سال تھا، جو 1953 میں وجود پذیر ہونے والے اس ادارے کے حق میں پیغام خزاں بن کر آیا اور اسے وہ غم دے گیا، جس سے وہ پھر کبھی ابھر نہ سکا۔ تباہ کن سیلاب نے ادارے کے تمام مکانات کو، جو کچی مٹی کی دیواروں پر مشتمل تھے، زمیں بوس کر دیا۔ وہ مدرسہ جس کی رونق اور شان و شوکت پر ہر دیکھنے والے کو رشک آتا تھا، اس کا حال یہ ہو گیا کہ سیلاب اترا، تو ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے یہاں کبھی کچھ تھا رہا ہو۔ بہر حال، مولانا یہاں 1975 تک رہے۔
1975 میں مولانا نقل مکانی کرکے کھورا گاچھ، ارریہ آ گئے۔ یہاں دیکھا کہ بہت بڑی مسلم آبادی ہونے کے باوجود کوئی تعلیمی ادارہ نہیں ہے، اس لیے گاؤں والوں کی مدد سے، 1976 میں مدرسہ دار الھدی کھورا گاچھ کی بنیاد ڈالی اور پھر کچھ دنوں بعد کمیٹی کے مشورے پر اسے بہار مدرسہ بورڈ سے ملحق کرا لیا۔ لیکن اسی دوران 1978 میں مولانا عین الدین صاحب قاسمی کے ریٹائرمنٹ کے بعد مدرسہ اصلاحیہ سیماپور کے صدر مدرس کا عہدہ خالی ہو گیا اور آپ صدر مدرس کی حیثیت سے یہاں پہنچ کر اپریل 2003 تک اس عہدے کی آبرو بڑھاتے رہے۔ انھیں سیماپور لانے میں پروفیسر ڈاکٹر عبد اللطیف حیدری اور ان کے احباب نے بڑا اہم کردار نبھایا تھا۔
اصلاحیہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد آپ مولانا عبد المتین سلفی رحمہ اللہ کی درخواست پر کشن گنج چلے گئے۔ تین سال جامعہ عائشہ للبنات کے پرنسپل کی حیثیت سے کام کیے۔ اس کے بعد جامعة الامام بخاری میں تدریس کا سلسلہ شروع ہوا، جو 2016 تک دراز رہا۔ 2016 کے بعد سے گھر ہی میں رہے –
مولانا ایک کام یاب مدرس ہیں۔ آپ کی تدریسی زندگی کے شروع اور اخیر کے ایام نسبتا زیادہ شان دار رہے ہیں۔ بٹنہ کے دس سال اور کشن گنج کے بارہ تیرہ سال اس لحاظ سے زیادہ اہم ہیں کہ ان دونوں جگہوں میں آپ کو اپنی تدریسی جوہر دکھانے کے خوب خوب مواقع ملے اور متلاشیان علوم اسلامیہ کی بہت بڑی تعداد نے آپ سے استفادہ کیا۔ ان دونوں ادوار کے جن فیض یافتگان سے میری بات ہوئی، وہ آپ کی علمی عظمت اور عمدہ طریقہ تدریس کے گرویدہ نظر آئے۔ مولانا محمد اسرائیل سلفی، صدر مدرس مدرسہ مفتاح العلوم بھیڑ مارا نے آپ سے بٹنہ میں جلالین اور ادب کی کچھ کتابیں پڑھی تھیں۔ وہ آپ کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں:
“بٹنہ مدرسہ میں اساتذہ اور طلبہ کے بیچ ان کا ایک الگ مقام تھا۔ ایک نہایت سنجیدہ، با وقار اور بارعب شخصیت ان کی پہچان تھی۔ کم گو تھے اور نپے تلے الفاظ میں بات کرتے تھے۔ کلاس کا ماحول بہت سنجیدہ رکھتے تھے۔ طلبہ سے ہنسی مذاق کو سخت معیوب جانتے تھے۔ ادب پڑھاتے وقت ہر لفظ کی مکمل لغوی تحقیق کرتے، صرفی گتھیاں سلجھاتے، نحوی پیچیدگیاں دور کرتے اور تب جاکر ترجمہ کرتے تھے۔ مطالعہ کا بھی صاف ستھرا ذوق رکھتے تھے۔ ندوہ سے ‘الرائد’ وغیرہ منگوا کر پڑھا کرتے تھے۔”
برادرم فیروز ہارونی صاحب دہلی یونی ورسٹی کے ریسرچ اسکالر ہیں۔ انھوں نے جامعة الامام بخاری میں مولانا سے کسب کیا ہے۔ وہ مولانا کے بارے تاثرات پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“مجھے اگر کسی نے سب سے پہلے مولانا ابوبکر ہارونی کے بارے میں معلومات یکجا کر نے کی ترغیب دی، تو وہ شیخ سعید ندوی صاحب ہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ میں نے شیخ سے فضیلت کے تینوں سال عربی ادب کی کتابیں پڑھیں۔ شیخ کو عربی ادب سے بہت گہرا لگاؤ ہے، بلکہ مجھے یاد ہے اور میں نے اپنے دوست عبد الرقیب مدنی سے بھی اس سلسلے میں نے چرچا کی کہ ہم لوگوں کو کلاس میں شیخ نے بہت ساری سائنسی معلومات بھی فراہم کی تھیں۔ جیسے خط استواء، سورج اور زمین کی گردش، زمیں کی نارنگی والی شکل اور یہ کہ آیا زمین سورج کا چکر لگاتی ہے یا سورج زمین کا چکر لگاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ ندوی صاحب کے ادب پڑھانے کا ہی اثر تھا کہ میرا رجحان ادب کی طرف آہستہ آہستہ بڑھا۔ اپنے مدرسے کے تعلیمی سفر کے دوران میں نے ندوی صاحب کو سرسید کے رجحان پر عمل پیرا پایا تھا، جب کہ شیخ مزمل حق مدنی علامہ شبلی نعمانی کے رجحان کی طرف مائل تھے۔ دونوں کو کئی بار اساتذہ کے کمرے میں سائنسی موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے بھی دیکھتا تھا۔”
کشن گنج میں قیام کے دوران چار عربی کتابوں کو اردو کا جامہ پہنایا۔ جن میں سے اب تک ایک کتاب چھپ سکی ہے۔ ‘بائع دینه’ نامی کتاب کا ترجمہ ‘ایمان فروش’ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ دیگر کتابوں کے نام اس طرح ہیں:
1۔  دہشت گردی اور تاریخ مذاہب میں اس کی مختلف شکلیں (الارھاب و صورہ فی تاریخ آبادیاں و الحضارات)
2۔ دانش مندی بمقام شر انگیزی ( فقه الفتن)
3۔ دہریت (الإلحاد)
ضلعی جمعیت اہل حدیث کٹیہار کو بھی مولانا کی خدمات فراہم رہی ہیں۔ شاید 1991 کی بات ہے، اس وقت کے صوبائی جمعیت اہل حدیث کے ناظم اعلی ڈاکٹر عبد الحلیم صاحب اور امیر مولانا عبد الخالق صاحب سلفی کی موجوگی میں پہلی بار ضلعی جمعیت اہل حدیث کٹیہار کی تشکیل عمل میں آئی، تو آپ اس کے ناظم چنے گئے اور اس کے معا بعد دوسرے ٹرم میں امیر منتخب ہوئے۔ آپ ہی کے دور امارت میں 15/ اپریل 2001 کو حاجی پور کٹیہار میں ‘توحید و سنت کانفرنس’ ہوئی تھی، جو نہایت کام یاب اور تاریخی کانفرنس رہی تھی۔
طبیعت میں بڑی نفاست اور رکھ رکھاؤ ہے۔ اس نفاست اور رکھ رکھاؤ کی جھلک ان کی زندگی کے تمام گوشوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ بات چیت، رہن سہن، کھان پان، لباس و پہناوا اور معمولات زندگی، ہر جگہ اس کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔ ان کا ایک اور اہم امتیاز ان کی خود داری ہے۔ خوف طوالت دامن گیر ہے، ورنہ ان میں سے ایک آدھ واقعے کو دل چسپی سے خالی نہ ہوتا۔
مولانا سے میری پہلی گفتگو اسی سال رمضان میں ہوئی۔ میں نے مولانا ابو بکر ہارونی کی حیات و خدمات پر ہونے والے سیمینار کے بارے میں بتایا، تو بہت خوش ہوئے اور شرکت کی یقین دہانی کرائی، لیکن عین موقع پر اہلیہ محترمہ کی طبیعت کچھ زیادہ ہی ناساز ہوگئی اور پروگرام میں شریک نہیں ہو سکے۔ البتہ پروگرام سے ان کے دلی لگاؤ کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ دوسرے دن باضابطہ فون کر کے پروگرام کا حال چال معلوم کیا اور سب کچھ سن کر مسرت کا اظہار فرمایا۔ بعد میں تیرہ صفحے کا ایک وقیع اور معلومات افزا مقالہ بھی ارسال فرمایا۔
مولانا کی شادی بچپن، بلکہ اسکول میں پڑھنے کے زمانے میں ہی ہو گئی تھی۔ لیکن 1963 میں اہلیہ اللہ کو پیاری ہو گئیں، تو دوسری شادی کرنی پڑی۔ پہلی شادی سے اللہ نے دو بیٹے دیے تھے اور دوسری سے ایک۔ بڑے بیٹے مسعود عالم برداہا انٹر کالج میں گیسٹ ٹیچر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں، دوسرے بیٹے منصور عالم کھیتی باڑی سے جرےہوئے ہیں اور تیرے بیٹے نسیم اختر گریجویشن کے بعد دوا دکان چلا ریے ہیں۔
وفات :  3 ستمبر  2020 بروز جمعرات

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *