Mon. Nov 23rd, 2020
نماز میں جلدی
             اسد الرحمان تیمی 
آج کے زمانے میں لوگوں کی حرکات وسکنات دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ ہر شخص بڑی جلد بازی میں ہے یہاں تک کہ روزمرہ کے معمولات جو اطمینان، سکون، ٹھہراؤ، نرمی اور سہولت کے ساتھ انجام دئے جانے کے متقاضی ہیں، انہیں بھی لوگ بڑی عجلت وبازی میں نپٹاتے ہیں۔ نئی نسل کو دیکھیں تو گویا ان کے اندر صبر نام کی کوئی چیز نہیں، ان کا نعرہ ہی بن چکا ہے Speed is the God of Modern youth (نئے زمانے کے نوجوانوں کا معبود رفتار ہے) آئے دن ہم ٹریفک حادثات کی شکل میں میں رفتار کے قہر سے روبرو ہوتے رہتے ہیں۔اسی جلدی بازی کی وجہ بھیانک حادثات وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں، جس میں بہت سارے معصوموں کی جان چلی جاتی ہے۔ اطباء کی مانیں تو بہت سارے امراض جلد بازی کی عادت کا نتیجہ ہوا کرتی ہیں، کچھ لوگ معمولی سی بات پر بیوی کو طلاق دے دیتے ہیں، پھر گھر بکھر جاتا ہے، بچے برباد ہوتے ہیں اور خاندان تباہ ہوجاتا ہے اور بعد میں افسوس ، ندامت، شرمندگی، پشیمانی، سوچ فکر اور تناؤ کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتااور یہ سب کچھ جلد بازی کے سبب ہوتا ہے۔
اگر غور کیا جائے تو چوری، ڈکیتی، مالی بدعنوانی اور رشوت ستانی جیسے واردات جن کے سماج ومعاشرہ پرانتہائی بڑے اورگہرے اثرات پڑتے ہیں، ان کے پیچھے بھی درحقیقت جلد بازی کی خصلت ہی کارفرما ہوتی ہے، کیوں کہ جب آدمی کواپنی روزی پر ایمان اور اطمینان نہیں ہوتا تو وہ جائز اور ناجائز کی تمیز بھلا کر چاہتا ہے کہ کسی بھی طریقے جتنا ممکن ہو زیادہ سے زیادہ دولت بٹورلے، حالانکہ ہر انسان کی روزی اس کے تقدیر کے مطابق لامحالہ ملنی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ انے فرمایا: ’’اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور روزی کی تلاش میں اعتدال سے کام لو اس لئے کہ کوئی بغیر اپنی مقدر روزی لئے دنیا سے رخصت نہیں ہوگا، گرچہ روزی ملنے میں تاخیر ہو، اس لئے اللہ سے ڈرو اور روزی کی طلب میں اعتدال سے کام لو، حلال حاصل کرو اور حرام چھوڑ دو‘‘ (ابن ماجہ:۲۱۴۴)
کچھ لوگ ذرا سی تکلیف وغصہ میں اولاد اور اہل وعیال کو کوستے ہیں اور بددعا دیتے ہیں اور پھر اپنے آپ کوبیماری، پریشانی اور اولاد کی بگاڑ کی شکایت کرتے ہیں حالانکہ یہ جلد بازی میں ان کی بددعا کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے ۔ نبی ا نے فرمایا: ’’اپنی جان، یا اپنی اولاد یا اپنی دولت کے لئے بددعا نہ کرو، ممکن ہے کہ وہ اللہ کے ہاں قبولیت کی گھڑی ہو اور تمہاری یہ بددعا قبول ہوجائے‘‘۔(مسلم: ۳۰۰۹)
نبی انزول وحی کے شروع زمانے میں حفظ قرآن میں عجلت سے کام لیتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس اہم کام میں بھی عجلت وجلد بازی سے منع فرمایا: ’’لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ‘‘ اے میرے نبی! (آپ نزول وحی کے وقت اپنی زبان نہ ہلائے تاکہ اسے جلد یا د کرلیں)[القیامۃ: ۱۶]
نبی ا کا اخلاق قرآن تھا، قرآنی اخلاق وآداب کے پابند تھے اس لئے قرآن کی اس رہنمائی کی وجہ کبھی کسی کام میں جلد بازی نہیں کی، بلکہ ہمیشہ صبر، اطمینان اور غوروفکر سے کام لیا اور اپنی امت کو بھی بتایا کہ : ’’التأنی من الرحمن والعجلۃ من الشیطان‘‘ (مسند ابویعلی: ۴۲۵۶، السلسلۃ الصحیحہ للالبانی: ۱۷۹۵) (اطمینان اللہ کی جانب سے جب کہ جلد بازی شیطان کی طرف سے ہوا کرتی ہے) ایک موقع پر اللہ تعالیٰ نے آپ ا کو یہ ہدایت کی کہ: ’’فاصبر کما صبر اولوالعزم من الرسل ولاتستعجل لہم‘‘ (آپ اولو العزم پیغمبروں کی طرح صبر سے کام لیجئے اور ان (کفار) کے لئے عذاب کی جلدی نہ کیجئے)[الاحقاف: ۳۵]
بعض حضرات نماز جیسی اہم عبادت جس میں پورے طور پر اطمینان وسکون کی ضرورت ہے، اس میں اتنی جلدی بازی کرتے ہیں گویا بے گاڑی ٹال رہے ہوں، نہ قیام کی حالت میں اطمینان، نہ رکوع وسجود میں سکون، بس جتنا جلد ممکن ہو سلام پھیرلیا جائے۔ حالانکہ یہ شرعاً ممنوع ہے اور بعض روایتوں کے مطابق ایسی نماز ہوتی ہی ہیں۔
ہمیں چاہئے کہ زندگی کے تمام معاملات میں چاہے دنیوی ہوں یا اخروی ہرگز جلد بازی کامظاہرہ نہ کریں بلکہ اطمینان ، سکون، ٹھہراؤ، نرمی اور غور وفکر ، مشورہ اور استخارہ کے بعد ہی انجام دیں۔ کیوں کہ جلد بازی بہر حال نقصادہ ہے۔
ابوحاتم البستی رحمہ اللہ نے بڑی اچھی بات کہی ہے کہ: ’’جلدباز بغیر علم کے بولتاہے، بنا سمجھے جواب دیتا ہے، بنا آزمائے تعریف کرتا ہے اس لئے ہمیشہ شرمندہ اور غیر محفوظ رہتا ہے‘‘ (روضۃ العقلاء: ۲۲۸)

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *