Sun. Jun 13th, 2021
پروفسر عبد اللطیف حیدری :حیات و خدمات

مشتاق احمد ندوی            

ڈاکٹر عبد اللطیف حیدری محتاج تعارف نہیں ہیں۔ ایک استاد، ایک ملی رہنما، ایک مصلح، ایک سماجی کارکن، ایک باوقار علمی شخصیت، ایک مصنف اور سب سے بڑھ کر ایک بہترین انسان۔

ایک ایسا انسان جس کے اندر علم ہے، وقار ہے، وضع داری ہے، مروت ہے، نفاست ہے، سلیقہ ہے، فہم و فراست ہے، سچی تڑپ ہے، کچھ کرنے کا جذبہ ہے، جوش و ولولہ ہے، ہمت و حوصلہ ہے، صبر و شکیب ہے اور ساتھ لے کر چلنے کا ہنر ہے۔

پڑھائی کے زمانے ہی سے معاشرے میں پھیلی ہوئی بے راہ رویوں اور ہمہ گیر پچھڑے پن سے کبیدہ خاطر رہے اور اس سے نبرد آزما ہونے کے راستے ڈھونڈتے رہے۔ ملازمت میں آئے، تو اس کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ تنظیمی سرگرمیوں سے وابستہ ہو گئے اور پورے جوش و خروش سے کام کرنے لگے۔ لیکن، ان ساری گہما گہمیوں کے باوجود لکھنے پڑھنے کے شوق کو دھیما پڑنے نہ دیا، جس کا جیتا جاگتا ثبوت ان کی لکھی ہوئی متعدد کتابیں ہیں، جو اہل علم و فن کے یہاں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں اور ہم نابکاروں کے لیے مشعل بن کر زندگی کی راہیں روشن کرتی ہیں۔

حیدری صاحب کو میں نے پہلی بار کب دیکھا، یہ تو یاد نہیں رہا، لیکن اتنا وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جب بھی دیکھا ہوگا، کسی اجلاس عام میں اسٹیج کی رونق بڑھاتے ہی دیکھا ہوگا۔ میرے بچپن کا زمانہ قومی تنظیم کی سرگرمیوں کے عروج کا زمانہ تھا۔ اس کے بینر تلے بڑے بڑے اجلاس عام اور کانفرنسیں ہوا کرتی تھیں، جن کے دم قدم سے علاقے میں دینی، تعلیمی اور سماجی بیداری کی زمین تیار ہوئی۔

میں نے 1995 میں جامعہ اسلامیہ تتواری میں درجہ عربی چہارم میں داخلہ لیا، تو ان دنوں آپ جامعہ کی مجلس منتظمہ کے صدر تھے۔ یہیں سے شناسائی ہوئی اور جیسے جیسے ان کی شخصیت سے واقفیت بڑھتی گئی، دل کے اندر ان کی شخصیت کی چھاپ گہری ہوتی چلی گئی۔

حیدری صاحب تعلیمی اسناد کے مطابق 1 نومبر 1950 کو کجرا، سیماپور، کٹیہار، بہار میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حاجی احمد علی اور والدہ کا نام کلثوم خاتون ہے۔ عبد اللطیف بن حاجی احمد علی بن مولوی حیدر علی۔ یہ مختصر سلسلۂ نسب ہے۔ ان کا خاندان لال گولہ سے بسنت پور، منیہاری اور وہاں سے کجرا میں آکر بسا تھا۔ کجرا میں یہ خاندان بیس ویں صدی کی پہلی یا دوسری دہائی میں آکر بسا ہوگا۔ والد ماجد حاجی احمد علی صاحب بہت محنتی، کفایت شعار اور علم دوست انسان تھے۔ انھوں نے اللہ کے فضل و کرم اور ذاتی کد و کاوش کی بنیاد پر تمام بچوں کے لیے تعلیم کا انتظام کرنے کے ساتھ ساتھ زمین جائیداد بھی خریدی اور قدرے خوش حالی کی زندگی گزاری۔ ان کو تین بیٹے اور سات بیٹیاں تھیں۔ بڑے بیٹے جناب عبداللہ صاحب نے بی اے آنرس کے ساتھ ساتھ ایل ایل بی کی ڈگری لے رکھی تھی، جو دینی بنیادی تعلیم گاہ کجرا سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد وفات پا چکے ہیں۔ دوسرے بیٹے ہمارے ممدوح حیدری صاحب ہیں اور تیسرے بیٹے جناب ابوالکلام آزاد صاحب ہائی اسکول سے ریٹائرڈ ہیں۔ انھوں نے بیٹوں کے ساتھ ساتھ بیٹیوں کے لیے بھی مناسب تعلیم و تربیت کا انتظام کیا تھا۔

حیدری صاحب نے درجہ دوم تک کی تعلیم گاؤں کے پرائمری اسکول میں حاصل کی اور اس کے بعد سنہ 1960ء کو مدرسہ اصلاحیہ سیماپور کی مردم خیز سرزمین میں قدم رکھا۔داخلہ تحتانیہ سوم میں ہوا تھا۔ گھر سے اصلاحیہ کی دوری تقریبا دس کیلومیٹر ہے۔ لگ بھگ آٹھ سال تک یہ دوری دیگر ساتھیوں کے ساتھ روزانہ پیدل طے ہوتی رہی۔ یہ اصلاحیہ کے اصل عروج کا زمانہ تھا اور ان دنوں وہاں پڑھنے پڑھانے کا ماحول بڑا شان دار تھا۔ یہاں انھوں نے مولانا ابوبکر ہارونی، مولانا ابو بکر رحمانی، مولانا نذیر احمد شمسی، مولانا محمد اسحاق سلفی، شیخ الحدیث مولانا عبدالستار سلفی، مولانا علی اصغر قاسمی، مولانا محب الحق مرگھیاوی، مولانا محی الدی فیضی اور ماسٹر مصطفی صاحب وغیرہ جیسے اس دور کے بہترین علما اور ذی علم حضرات سے خوشہ چینی کی۔ حیدری صاحب کی شخصیت کی تشکیل میں مدرسہ اصلاحیہ سیماپور اور اس کے محنتی اور باکمال اساتذہ کے گہرے اور ان مٹ نقوش مرتب ہوئے ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں: “خاک سار راقم الحروف کے تعلیمی خمیر میں جو بھی رنگ و بو کا امتزاج رہا اور جس قدر بھی آب و گل اس میں شامل رہے، ان سب کو اسی گلستان علم و آگہی سے عبارت کہا جا سکتا ہے، جس کی پرسکون فضا میں اس نے وسطانیہ تا عالمیت نوا سنجی کی۔” (ہمارے بھی ہیں عزائم کیسے کیسے! ص : 49۔ معمولی ترمیم کے ساتھ)

آپ اصلاحیہ اور اس کے اساتذہ کا ذکر بڑے والہانہ انداز میں کرتے ہیں۔ اس کے پرنسپل مولانا ابو بکر ہارونی کے بارے میں ایک بار مجھ سے فرمایا : “میری آنکھوں نے آج تک اس طرح کی شخصیت نہیں دیکھی۔ وہ اصول پسندی، وقت کی پابندی، شان و شوکت اور رعب و دبدبہ کہیں نظر نہیں آیا۔ مسلم و غیر مسلم، سب لوگ انھیں یکساں طور پر عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔”

انھوں نے اپنی مذکورہ کتاب میں اصلاحیہ کے اساتذہ کے ساتھ ساتھ اس کے مخلص بانی حاجی محمد اسحاق رحمہ اللہ کے اخلاص، جگرکاوی اور ادارے سے بے پناہ لگاؤ کا بھی ذکر کیا ہے، جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

حیدری صاحب نے اصلاحیہ سے 1969 میں عالم کا بورڈ امتحان نمایاں نمبرات سے پاس کیا اور بعد ازاں اسی سال کے اواخر میں مدرسہ شمس الھدی پٹنہ کے ماتحت ادارہ، ادارہ تحقیقات عربی و فارسی میں فاضل میں داخلہ لے لیا۔ 1971 میں فاضل فارسی کا کورس مکمل کیا اور 1974 میں فاضل اردو کی ڈگری بھی امتیازی پوزیشن کے ساتھ حاصل کر لی۔

اس کے ساتھ ہی 1969 میں ہائی اسکول شجاع پور سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے میٹرک، 1970 میں آرینٹل کالج پٹنہ سٹی کے اویننگ سیشن سے پری یونی ورسٹی اور 1974 کو یہیں سے بی اے آنرس کیا۔ پھر ملازمت میں آ جانے کے بعد 1976 میں بی ایڈ، 1978 میں ایم اے فارسی اور 1980 میں ایم اے اردو گی ڈگریاں بھی حاصل کر لیں۔ یہ ساری سندیں پٹنہ یونی ورسٹی سے حاصل کیں اور اسی یونی ورسٹی سے 2004 میں پی ایچ ڈی کی سند بھی لی۔ تحقیقی مقالے کا عنوان تھا “A CRITICAL EDITION OF AMIR KHUSRU’S NIHAYATUL KAMAL WITH AN INTRODUCTION AND NOTES

اب عملی زندگی کی بات کرتے ہیں۔ جیسے ہی فاضل کی سند حاصل کی، کئی علاقائی مدارس کے ذمے داران نے صدر مدرسی کی پیش کش کر دی، لیکن ان کی اولوالعزم طبیعت نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور پٹنہ جیسی مرکزی مقام کی اہمیت و افادیت کو سامنے رکھتے ہوئے، وہیں رہنے اور نوکری حاصل کرنے کو ترجیح دی۔ ان کے اس دانش مندانہ فیصلے کے بڑے دور رس اثرات بھی مرتب ہوئے۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی اس طرح کا کلچر فروغ نہیں پا سکا ہے کہ آدمی مسلسل پڑھنے لکھنے سے وابستہ رہے اور آگے کے منازل طے کرتا چلا جائے۔ میں نے بے شمار ایسے ذہین ترین لوگوں کو دیکھا ہے کہ پڑھائی کے زمانے میں درجے میں اول آتے تھے، بلکہ کئی تو پورے مدرسے میں ٹاپ کرتے تھے، لیکن علاقے میں آنے کے بعد کہاں کھو گئے، کچھ پتہ نہیں چلا۔ کسی نے چھوٹی موٹی نوکری حاصل کر لی اور بس اسی کا ہوکر رہ گیا، کوئی کھیتی باڑی میں لگ گیا، کسی نے مکتب میں کچھ دیر پڑھا لینے کو ہی معراج سمجھ لیا اور کوئی گھر پریوار کے جنجال میں ایسا پھنسا کہ اس سے آگے سوچنے کا راستہ ہی بند ہو گیا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ سب کرنے کے کام نہیں ہیں۔ بلاشبہ یہ سب بھی کرنے کے کام ہیں، لیکن ان کے ساتھ ساتھ تعلیم و تعلم کا ماحول بنانے کی ضرورت ہے۔ آدمی اپنے حالات اور امکانات کے مطابق جس کام سے چاہے جڑے، لیکن اسی کو کل کائنات سمجھ کر آگے بڑھنے کی راہیں مسدود نہ کر لے۔

حیدری صاحب کو مدرسہ دارالھدی چانپی کے ذمے داران نے اپنے یہاں صدر مدرس بنانا چاہا، تو معذرت کرتے ہوئے مولانا عزیز الرحمن سلفی کے لیے سفارش کردی، جو مدرسہ عزیزیہ موہنا چاندپور سے لاکر بحال کر لیے گئے۔ اسی طرح پیر گنج مدرسے کے ذمے داران نے اپنے یہاں مدرس اول کی حیثیت سے آنے کی دعوت دی، تو معذرت کرتے ہوئے اپنے ساتھی مولانا محمد اسرائیل اصلاحی (رکسی) کا نام سجھا دیا، جو بحال کر لیے گئے۔ اسی طرح جے این سی ہائی اسکول سیماپور، کٹیہار، جو ان دنوں اپنی مثالی تعلیم و تربیت کی وجہ دور دور تک مشہور تھا، اس میں بھی معاون مدرس کے لیے انٹرویو کا مرحلہ بہ حسن و خوبی عبور کر لیا تھا، لیکن بالآخر اسے بھی نظر انداز کرتے ہوئے پٹنہ میں نوکری حاصل کرنے کو ترجیح دی۔

چنانچہ ملازمت کا آغاز پٹنہ کالجیٹ ہائی اسکول دریا پور پٹنہ سے ہوا۔ یہاں چھ مہینے تدریسی خدمات فراہم کرنے کے بعد محکمہ جاتی تبادلے کی بنیاد پر پٹنہ ہائی اسکول گردنی باغ پٹنہ منتقل ہوگئے۔ یہ پٹنہ کا سب سے مشہور و معروف ہائی اسکول تھا، جو اپنے نظم و نسق، اصول و ضوابط کی پابندی اور مثالی تعلیم و تربیت کے لیے خاصا مشہور تھا۔ ان دنوں وہاں کے پرنسپل کٹیہار ضلع کے دیگھری گاؤں سے تعلق رکھنے والے جناب دھرمانند جھا صاحب ہوا کرتے تھے، جو تعلیمی نظم و نسق کے معاملے میں بڑی شہرت رکھتے تھے اور بڑے بارعب اور دبدبہ والے انسان تھے۔ یہاں فائن آرٹس کے ٹیچر ایک خوش مزاج اور نیک دل انسان جناب مہدی حسن صاحب تھے، جو بسمل عظیم آبادی کے فرزند تھے، جن کے ایک شعر نے جنگ آزادی کی مہم کو وہ جوش و جنوں عطا کیا، جس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ شعر تھا :
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

پھر 1980 کے اواخر میں اپ گریڈ اسکیل میں ترقی کے ساتھ گورنمنٹ ہائی اسکول نوبت پور، پٹنہ میں تبادلہ ہو گیا۔ لیکن یہاں چوں کہ جانے آنے میں دشواری کا سامنا تھا، اس لیے ایک آدھ سال کے اندر بہار اسٹیٹ ٹکسٹ بک کارپوریشن پٹنہ میں تبادلہ کرا لیا اور لنگویج اکسپرٹ کی حیثیت سے کام کرنے لگے۔ یہاں سے پورے بہار کے لیے اسکولی کتابوں کی طباعت ہوتی تھی اور آپ کے ذمے کام تھا کتابوں کی صحت اور طباعت کی خامیوں پر نظر رکھنا۔ یہاں مشہور صحافی، شاعر اور نثر نگار قیوم خضر کے بیٹے اظہار خضر کے ساتھ کام کرنے ملا، جو خود بھی ایک صاف ستھرے ادبی ذوق کے مالک انسان اور کئی کتابوں کے مصنف تھے۔

ابھی یہاں سال بھر بھی نہیں گزرا تھا کہ بہار یونی ورسٹی سروس کمیشن پٹنہ کی جانب سے چند یونی ورسٹیوں میں لکچرر کے عہدے پر بحالی کے لیے اعلان آیا، تو پروسیس کا حصہ بن گئے اور بالآخر 13 نومبر 1982 کو متھلا یونی ورسٹی دربھنگہ سے ملحق کالج جے این کالج مدھوبنی کے شعبۂ اردو سے وابستہ ہو گئے۔ اس طرح ان کا وہ دیرینہ خواب پورا ہو گیا، جس کے لیے مسلسل کوشاں تھے اور جس کی وجہ سے علاقے میں ملنے والی کئی ملازمتوں کو قبول کرنے سے معذرت کر چکے تھے۔

ایک خاص انداز کی پینٹنگ کے لیے مشہور شہر مدھوبنی میں واقع اس کالج میں لگ بھگ چھ سال گزارنے کے بعد تبادلہ کراکے ڈی ایس کالج کٹیہار آ گئے۔ 5 جولائی 1989 کو ڈی ایس کالج جوائن کیا اور پچیس سال سے زیادہ عرصے تک اس کالج کو اپنی بیش قیمت خدمات فراہم کرنے بعد 31 اکتوبر 2015 کو 65 سال کی عمر میں سبک دوش ہوئے۔ اس بیچ یونی ورسٹی کی انتظامی پالیسی کے تحت جولائی 1999 کو پورنیہ مہیلا کالج پورنیہ میں تبادلہ ہوجانے کی وجہ سے دس مہینے وہاں بھی خدمات دینی پڑی تھیں۔

ڈی ایس کالج کی مدت کار کے دوران لمبے وقت تک شعبہ اردو و فارسی کے صدر نشیں کے ساتھ ساتھ کالج میں بزم ادب کے صدر ہونے کی حیثیت سے مختلف ادبی و ثقافتی پروگراموں، سیمیناروں اور مشاعروں کے انعقاد میں اہم رول ادا کیا۔ اسی طرح اساتذہ یونین کے نائب صدر کی حیثیت سے بھی اساتذہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر انداز میں کام کرتے رہے۔

ڈاکٹر عبد اللطیف حیدری کی عملی زندگی کا ایک نمایاں باب قومی تنظیم ہے۔ دراصل قومی تنظیم کی بنیاد پٹنہ میں رہ کر تعلیم حاصل کر رہے سیمانچل کے ایسے حساس طلبہ کے ہاتھوں پڑی تھی، جو اپنی قوم کے ہمہ جہت پچھڑے پن سے پریشان تھے اور اسے اس سے نجات دلانے کی کوشش کرنا چاہتے تھے۔ اسی پس منظر میں ان کی ایک میٹنگ فروری 1971 کو، لیلی کاٹج پٹنہ میں، جناب عبدالمنان نشتر صاحب کے کمرے میں ہوئی تھی اور متفقہ طور پر ایک تنظیم کے قیام کا فیصلہ لیا گیا تھا۔ بعد میں اس کی توثیق کے طور پر یکم اپریل 1971 کو مدرسہ اصلاحیہ سیماپور کے احاطے میں ایک اجلاس منعقد کیا گیا تھا اور غور و خوض کے بعد سنگٹھن کا نام قومی تنظیم رکھا گیا تھا۔ اس اجلاس میں اس کے جو تین بنیادی مقاصد طے کیے گئے تھے، وہ تھے؛ تعلیمی بیداری، سماجی اصلاح اور معاشی ارتقا۔ اس اجلاس میں اس کی ایک مجلس منتظمہ کی تشکیل بھی عمل میں آئی تھی اور اس کے صدر جناب عبد الرحمن صاحب جو بعد میں سرکل انسپکٹر بنے اور سکریٹری جناب عبدالمنان نشتر صاحب بنائے گئے تھے۔

پھر، اوائل جولائی 1972 میں مدرسہ سراج العلوم جگدیش پور کٹیہار کے احاطے میں اس کا ایک اور اجلاس ہوا تھا، جس میں تنظیم کے عہدے داران اور کارکنان کا انتخاب از سر نو عمل میں آیا تھا۔ اس بار جناب منصور عالم صاحب (سابق وزیر حکومت بہار) صدر اور ڈاکٹر عبد اللطیف حیدری صاحب جنرل سکریٹری منتخب ہوئے تھے۔ اسی مجلس میں حاجی محمد سلطان صاحب (پرمکھ پران پور) سرپرست، ماسٹر عبدالحکیم صاحب (آمدہ باد) اور جناب زین العابدین صاحب (ڈرائیور ٹولہ کٹیہار) نائب صدر، ماسٹر عبد اللطیف صاحب (گیدھاباڑی) خازن، جناب ابوالکلام صاحب (چرخی) اور مولانا محمد اسرائیل سلفی (منیہاری) جوائنٹ سکریٹری، جب کہ مولوی محمد نورشاد صاحب (آڑمارا) معاون سکریٹری بنائے گئے تھے۔ مجلس منتظمہ کے رکن کے طور پر ڈاکٹر ارزد علی (سالماری)، مولانا عبد الرشید نجمی (بگھواکول)، ماسٹر ابوالقاسم صاحب (سیموریہ)، ماسٹر عطاء الرحمن صاحب (آمدہ باد)، ماسٹر معین الاسلام صاحب (صدرٹولہ)، ماسٹر شمس الدین صاحب (گیروا)، ماسٹر فضل الرحمن صاحب (منوہر پور)، ماسٹر مہتاب الدین صاحب (کجرا)، ماسٹر سراج الحق صاحب (مرگھیا)، ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب (جے نگر)، مولانا محمد اسرائیل اصلاحی (رکسی) جناب مطیع الرحمن صاحب (اعظم پور)، ماسٹر انیس الرحمن صاحب (سنیلی)، جناب محمد عباس علی (کجرا)، ماسٹر عبدالرفیع صاحب (جنرا دھار)، ماسٹر ابو بکر صدیق (ڈہریا) اور ماسٹر محمود عالم (سکریلی) وغیرہ جیسے ذی قدر لوگوں کا انتخاب عمل میں آیا تھا۔

قومی تنظیم لگ بھگ بیس پچیس سال فعال رہی اور اس دوران اس نے معاشرے میں تعلیمی و سماجی بیداری لانے کے کئی کام کیے۔ تین طلاق پر قدغن، کثرت طلاق پر روک، نکاح نامے کی اشاعت اور اس کے استعمال کی ترغیب، ایک دوسرے کو عدالت میں گھسیٹنے کی بجائے آپسی اختلافات کو سماجی اعتبار سے حل کرنے کی پہل، کم سنی کی شادی سے احتراز کی تاکید، تعلیم سے جڑنے کی ترغیب اور ان امور کے لیے بڑی بڑی کانفرنسوں اور عام اجتماعات کا انعقاد۔ یہ سارے کام اس کے کھاتے میں درج ہیں۔ حیدری صاحب قومی تنظیم کے ایک اہم ترین کام کی نشان دہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“(یہ تنظیم) علاقائی مسلم معاشرہ، بالخصوص شیر شاہ آبادی سماج کی فلاح و بہبود اور اصلاح و تعمیر کی خاطر برابر اقدامات سر انجام دینے میں پیش پیش رہی تھی۔ اسی دوران سماجی اصلاح کے ضمن میں غیر شرعی طلاق کی لعنت اور کثرت طلاق کی مذموم روایت کے خاتمہ کے لیے باضابطہ تحریک چھیڑی گئی تھی اور حقوق نسواں کے تحفظ کے سلسلے میں بھی منظم کوششیں کی جاتی رہی تھیں۔ اس سلسلے میں مدرسہ دینی بنیادی تعلیم گاہ کجرا (سیماپور) اور مدرسہ مفتاح العلوم بھیڑمارا، منشاہی کے احاطے میں شرعی عدالتوں کا قیام بھی باضابطہ عمل میں لایا گیا تھا اور ان کے ذریعے سیکڑوں قضیے بھی حل کیے گئے تھے۔ یہاں تک کہ الحاج جناب مولوی نورشاد آڑمارا کی نگرانی میں دینی بنیادی تعلیم گاہ کجرا سیماپور کے احاطے میں شرعی عدالت کے تحت 230 سے زائد مقدمات کی شنوائی کی گئی تھی، جن میں سے بعض مقدموں میں خاطی فریق کو ہزاروں روپے بطور تاوان بھرنے پڑے تھے۔ اسی طرح بہت سارے معاملات مدرسہ مفتاح العلوم بھیڑمارا کے احاطے میں جناب مولانا محمد اسرائیل سلفی کی نگرانی میں قائم عدالت میں حل کیے گئے تھے۔ ان میں بھی بہت سے قضیے ایسے تھے، جن میں زیادتی کرنے والے فریق کو مچلکےکے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر معاوضے اور جرمانے بھی ادا کرنے پڑے تھے۔” (ہمارے بھی ہیں عزائم کیسے کیسے! ص : 67)

قومی تنظیم کی نگرانی میں جو کانفرنسیں اور اجتماعات ہوئے، ان کا ذکر کرتے ہوئے حیدری صاحب لکھتے ہیں:
“چنانچہ اس ضمن میں بہت سے سیمینار اور اجتماعات ایسے بھی منعقد ہوئے، جن کی یادیں ذہن میں اب تک تازہ ہیں اور جو معاشرے کے ارتقا کی تاریخ اور تحریک کی راہ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جیسا کہ 1980 میں دینی بنیادی تعلیم گاہ کجرا سیماپور کے احاطے میں منعقدہ ایک روزہ عظیم الشان تعلیمی بیداری کانفرنس و سیمینار، جناب مولانا محمد مسلم آزاد کی رہ نمائی میں مدرسہ فیض الغرباء دھوم گڑھ کے احاطے میں 26-27 دسمبر 1981 کو منعقدہ دو روزہ ملی بیداری اجتماع و سیمینار، جناب مولانا محمد سعید ندوی پرنسپل مدرسہ اصلاحیہ سیماپور کی رہ نمائی میں 29-30 دسمبر 1982 کو تیسری دو روزہ تعلیمی بیداری کانفرنس، جناب الحاج ماسٹر فضل الرحمن کی قیادت میں 29-30 دسمبر 1983 کو منعقدہ چوتھی دو روزہ تاریخی قومی ایکتا کانفرنس و سیمینار، جناب منصور عالم صدر قومی تنظیم کی سرپرستی میں مارچ 1985 میں مدرسہ دارالھدی کٹھوتیہ کے احاطے میں پانچویں اصلاح معاشرہ کانفرنس، جناب الحاج محمد سلطان پرمکھ پران پور کی سرپرستی میں 11-12 مارچ 1987 کو روشنا ہاٹ میں منعقدہ چھٹی دو روزہ عظیم الشان اصلاح معاشرہ کانفرنس و سیمینار، جناب شعیب علی کمیشن لابھا کی حمایت میں 29-30 دسمبر 1989 کو لابھا میں منعقدہ ساتواں دو روزہ فرقہ پرستی مخالف اجتماع و مذاکرہ اور جناب مکھیا محمد سہراب علی تین پانیہ کی نگرانی میں 19 فروری 2002 کو مدرسہ تنظیم الاسلام تین پانیہ کوڑھا میں منعقدہ آٹھواں تعلیمی و تبلیغی اجتماع۔” (ہمارے بھی ہیں عزائم کیسے کیسے! ص : 73-74)

حیدری صاحب کی زندگی کا ایک اہم باب جامعہ اسلامیہ تتواری ہے۔ اس ادارے کی بنیاد 1982 میں مدرسہ اعزاز الاسلام کے نام سے پڑی تھی۔ بنیاد مولانا علی اصغر قاسمی کی قیادت میں رکھی گئی تھی، جو ایک جید عالم دین تھے اور خود حیدری صاحب ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کر چکے تھے۔ مولانا اس ادارے کے صدر مدرس بھی تھے۔ ویسے تو حیدری صاحب پہلے دن سے ہی اس ادارے سے وابستہ تھے، لیکن مارچ 1986 کو اس کی مجلس منتظمہ کے صدر بنا دیے گئے اور 1999 تک بحسن و خوبی اس منصب کا حق ادا کرتے رہے۔ اس دوران جناب منصور عالم صاحب تتواری، جناب نور عالم سبک دوش صدر مدرس مدرسہ دارالھدی کٹھوتیہ اور جناب جمال الدین صاحب تتواری نے آپ کے ساتھ باری باری سکریٹری کے طور پر کام کیا۔ مولانا علی اصغر قاسمی کے بعد مولانا عبد البصیر ندوی کو صدر مدرسی کی ذمے داری ملی اور وہ بھی خوش اسلوبی سے اپنی ذمے داری ادا کرتے رہے۔ اس دوران مدرسہ اعزاز الاسلام جامعہ اسلامیہ تتواری کے نئے نام کے ساتھ پوری تندہی سے تعلیم و تربیت کا کام کرتا رہا اور مسلسل ترقی کی راہ پر رواں دواں رہا۔ باصلاحیت اور تجربہ کار اساتذہ کی خدمات کی فراہمی، کچھ زمینوں کی خریداری، پختہ کمروں کی تعمیر اور طلبہ کے قیام و طعام کے معیار کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری تھیں کہ 1999 کو آپسی اختلاف اور خلفشار کی زبردست آندھی آئی، جس نے اس ادارے کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ اس کی شہرت اور نیک نامی کو بڑا نقصان پہنچایا۔ ادارہ دو حصوں میں بٹ گیا۔ ایک حصہ تتواری ہی میں رہا، تو دوسرا حصہ کیمپ کی شکل میں ادھر ادھر بھٹکتا رہا اور اسی طرح بارہ سال کا ایک طویل عرصہ گزر گیا۔

لیکن بالآخر اللہ کا فضل و کرم ہوا۔ علاقے والوں نے اس اختلاف کے نقصان کو محسوس کیا اور اسے ختم کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ نتیجتا 14 مئی 2012 کو جامعہ کی وسیع و عریض مسجد میں علاقے کے سیکڑوں با اثر لوگوں کی موجودگی میں صلح و صفائی ہوگئی، گلے شکوے ختم ہوئے اور سب نے ایک ساتھ مل کر کام کرنے کا عہد کیا۔

ادارہ نئے جوش و خروش کے ساتھ آگے بڑھے اور تعلیم و تربیت کا کام بہتر انداز میں ہو سکے، اس کے لیے نئے سرے سے مجلس منتظمہ کی تشکیل کا فیصلہ لیا گیا اور مجلس منتظمہ کے صدر کے طور پر جناب منصور عالم سابق وزیر حکومت بہار اور سکریٹری کے طور پر حیدری کو منتخب کیا گیا۔

اس تاریخ ساز صلح و صفائی کے بعد ادارہ پھر سے ترقی کی راہ پر رواں دواں ہے۔ ان دنوں بزرگ عالم دین مولانا شفیق عالم ندوی صاحب اس کے صدر مدرس ہیں۔ مولانا محمد زبیر صاحب سبک دوش مدرس مدرسہ دارالہدی چانپی اس میں اپنی بیش قیمت خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ بڑی تعداد میں طلبہ بھی علمی تشنگی بجھا رہے ہیں۔

جامعہ اسلامیہ تتواری نے معیاری تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ عام اجلاسوں، سیمیناروں، حج تربیتی کیمپوں اور سماج کے نمایاں کارکردگی کے حامل لوگوں کے لیے اعزازی پروگراموں کے انعقاد کے ذریعے بھی قابل قدر کام کیا ہے۔

اسی جامعہ کے احاطے میں، حیدری صاحب کی پہل پر، ایک اجلاس عام کی مناسبت سے، یکم مارچ 1991 کو مولانا عبدالخالق سلفی، مولانا عبد الستار سلفی اور ڈاکٹر عبدالحلیم سلفی کی موجودگی میں ضلعی جمعیت اہل حدیث کٹیہار کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔ حیدری صاحب ہی کی تحریک پر مولانا مصلح الدین سلفی امیر اور مولانا محمد سعید ندوی ناظم بنائے گئے تھے۔ یاد رہے کہ سیمانچل کی دھرتی میں یہ جمعیت کی اولین تشکیل تھی۔

حیدری صاحب کی شخصیت ABSA یعنی آل بہار شیر شاہ آبادی ایسو سی ایشن سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ ABSA کی بنیاد مرحوم مبارک حسین نے 1982 میں رکھی تھی اور 1983 میں اسے سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کرا لیا تھا۔ رجسٹریشن کے وقت ایسو سی ایشن کے عہدے داروں کے جو نام دیے گئے تھے، وہ کچھ اس طرح ہیں : جناب محمد مبارک حسین (چیئرمین ضلع پریشد کٹیہار) صدر، جناب حاجی عین الحق (صاحب گنج، سابق ایم ایل ے) نائب صدر، جناب حاجی محمد سلطان (پرمکھ پران پور) نائب صدر، جناب حاجی محمد عثمان (مونگرا، کٹیہار) خازن، جناب محمد شکور (ایم ایل اے) سرپرست، جناب خلیل الرحمن سلفی (بسمتیہ، ارریا) جنرل سکریٹری، جناب عبداللطیف (لکچرر) جوائنٹ سکریٹری، جناب عبدالجبار (انجینئر) معاون سکریٹری اور جناب محمد ثابت علی (ہڑوا ڈانگا، کشن گنج) معاون سکریٹری۔

ایسو سی ایشن کی تاریخ کا ایک اہم کام 2 فروری 1984 کو ریلوے میدان کٹیہار کے احاطے میں “وراٹ قومی ایکتا سمیلن” کے عنوان سے منعقد ہونے والا فرقہ پرستی مخالف سمیلن تھا، جس میں بہار کے اس وقت کے وزیر اعلی جناب چندر شیکھر سنگھ نے یہ کہتے ہوئے تمام فرقہ پرست عناصر کا منہ بند کردیا تھا کہ سیمانچل میں بسنے والے بنگلہ بھاشی مسلمان بھارت کے مستقل باشندہ ہیں اور ان کے آبا و اجداد اسی سرزمین کے رہنے والے تھے، لہذا ان کی شہریت سے متعلق پیدا کیے جانے والے تمام شکوک و شبہات بے بنیاد ہیں۔ لاکھوں کے مجمع والے اس سمیلن نے جہاں یہاں کے عام کو راحت کی سانس لینے کا موقع دیا تھا، وہیں سچ پوچھیے تو مبارک صاحب کو ایک استھاپت نیتا بنا دیا تھا اور لاکھوں لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے خاص جگہ بنا دی تھی۔

لمبی سیاسی زندگی گزارنے کے بعد 27 ستمبر 2006 کو جب مرحوم مبارک حسین کی ناگہانی موت ہو گئی، تو سماج کے اہل حل و عقد کی نگاہ انتخاب حیدری صاحب پر جاکر ٹھہری۔ چنانچہ 29 اکتوبر 2006 کو انھیں ابسا کے صدر اور مولانا انعام الحق کو جنرل سکریٹری کی ذمے داری سونپ دی گئی۔ دونوں حضرات نے چھ سال تک اس ذمے داری کو نبھایا اور اسے ایکٹیو موڈ میں لانے کی کوشش کی۔

دونوں حضرات کی نگرانی میں باضابطہ ضلع کمیٹیوں کی تشکیل عمل میں آئی، بلاک کمیٹیاں بنائی گئیں، آٹھ ڈسمل زمین خرید کر ابسا کے نام پر رجسٹرڈ اور حاجی پور بستی میں واقع دو ایکڑ زمین کے لیے راستہ نکالا گیا، مذکورہ زمین پر چار ہزار اسکوائر فٹ پر مشتمل شیرشاہ آبادی کمپلیکس کی تعمیر کا کام شروع کرکے اسے لینٹر تک پہنچایا گیا، 2008 میں سپول کے سیلاب زدہ لوگوں کے لیے بڑے پیمانے پر راحت رسانی کا کام کیا گیا اور بڑے شان دار انداز میں آل انڈیا مبارک حسین میموریل سیمینار کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔

25 دسمبر 2007 کو ٹاؤن ہال کٹیہار میں منعقد ہونے والے آل انڈیا مبارک حسین میموریل سیمینار میں اس وقت کے بہار پردیش کمیٹی کے صدر جناب سدانند سنگھ، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، سابق ممبر پارلیمنٹ جناب طارق انور، اسپیکر اسٹیٹ اسمبلی جھارکھنڈ محمد عالم گیر عالم، سکریٹری آل انڈیا کانگریس کمیٹی جناب پرویز ہاشمی، سابق رکن پالیمنٹ جناب یووراج سنگھ، سابق ایم پی راجیہ سبھا جناب نریش کمار یادو، سابق وزیر تعلیم حکومت بہار جناب رام پرکاش مہتو، سابق وزیر اقلیتی فلاح و بہبود جناب منصور عالم اور جناب احمد اشفاق کریم منیجنگ ڈائریکٹر کٹیہار میڈیکل کالج کے ساتھ ساتھ آدھے درجن سے زیادی سابق و موجودہ ایم ایل اے، غیر معمولی تعداد میں سیاسی رہ نماؤں، ملی قائدین، دانش ور حضرات اور ہزاروں کی تعداد میں عام لوگوں نے اپنی شرکت درج کرائی۔

اس طرح دیکھا جائے تو حیدری صاحب نے گوناگوں ملازمتی مصروفیات کے باوجود متعدد تعلیمی اداروں اور سماجی و دینی تنظیموں کو خون جگر سے سیچنے کا کام کیا ہے اور آج بھی کر رہے ہیں۔

لیکن کمال یہ ہے کہ ان ساری مشغولیات کے باوجود قلم و قرطاس سے بھی اپنا ناطہ ٹوٹنے نہ دیا۔ دسیوں علمی و تحقیقی مقالوں ساتھ ساتھ، جو مختلف سیمیناروں میں پڑھے گئے، اب تک کئی کتابیں لکھ چکے ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری بھی ہے۔

ان کی کتاب “خسرو اقلیم سخن” امیر خسرو کے حالات زندگی، شاعرانہ کمالات اور منتخب کلام پر مشتمل ہے۔

ان کی دوسری کتاب “उर्दू ग़ज़ल का ऐतिहासिक स्वरूप” ہندی قارئین کو اردو غرل اور غرل گو شعرا سے روشناس کرانے کی ایک قابل قدر کوشش ہے۔ اس میں ایک سو گیارہ قدیم و جدید غزل گو شعرا کے مختصر تعارف کے ساتھ ساتھ ان کے کلام کا دل کش انتخاب پیش کیا گیا ہے اور ساتھ ہی قارئین کی سہولت کے مدنظر مشکل الفاظ کے معانی بھی دیے گئے ہیں۔

ان کی تیسری کتاب “ہمارے بھی ہیں عزائم کیسے کیسے!” دراصل ان کے کاروان حیات کا عکس ہے۔ اس میں ان کی شخصیت، ان کی علمی و سماجی سرگرمیوں، ان سے جڑے ہوئے لوگوں، ان سے وابستہ اداروں، ان سے تعلق رکھنے والے سنگٹھنوں اور ان کے سماج و معاشرے کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔

یہ تینوں کتابیں چھپ کر منظر عام پر آچکی ہیں۔ جب کہ ان کی ایک اور کتاب “غبار سفر” سفر حج و عمرہ کی مفصل روئیداد پر مشتمل ہے اور طباعت کے مرحلے تک پہنچی ہوئی ہے۔

اسی طرح ایک اور کتاب “بساط غزل” ترتیب کے مرحلے سے گزر کر کمپوزنگ کے مرحلے میں ہے۔ اس میں اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ زمانی ترتیب کے ساتھ غزل کے تمام قابل ذکر شعرا کے مختصر تعارف کے ساتھ ساتھ ان کے کلام سے کچھ نمونے پیش کر دیے جائیں۔ اس طرح یہ ایک تاریخی دستاویز ہوگا، جو چھ سات سو شعرا کے مختصر احوال کے ساتھ ساتھ ان کے کلام کے نمونے سے روبرو ہونے کا موقع فراہم کرے گا۔

حیدری صاحب پچھلے پچاس سالوں سے سماجی کاموں میں لگے ہوئے ہیں اور ان کا سماجی رابطہ بہت مضبوط ہے۔ لوگوں کے سکھ دکھ میں شریک ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ پروگراموں میں جہاں بھی بلایا جائے، پہنچ جاتے ہیں۔ عام طور پر جنازوں میں دکھ جاتے ہیں۔ لوگوں سے ہنس کر ملتے اور کھل کر بات کرتے ہیں۔ میں نے شخصیات کے بارے میں لکھتے وقت جب بھی ان سے رابطہ کیا، انھوں نے میری معلومات میں اضافہ کیا اور نیک خواہشات کا اظہار ؛فرمایا۔

ان کی شخصیت کے اندر قائدانہ صلاحیتیں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں۔ وہ سچ مچ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں۔ انھیں پروگراموں یا جنازوں میں اکیلے شریک ہوتے کم ہی دیکھا گیا ہے۔ عام طور پر ان کے ساتھ حرکت میں برکت پر یقین رکھنے والے قلندرانہ صفت کے حامل بزرگ لوگوں کی ایک ٹیم ہوا کرتی ہے۔ جناب ماسٹر عبدالرشید نجمی، مولانا نور عالم سلفی، مولانا عباس علی اصلاحی، جناب ماسٹر شمس الدین، حاجی بدرالدین، حاجی منظور عالم اور ماسٹر محمود عالم وغیرہ جیسے ذی وقار لوگوں کا یہ قافلہ دراصل دل جلوں کا ایک قافلہ ہے، جو ہمیشہ صحرا نوردی میں مشغول نظر آتا ہے۔

گھر پریوار کی بات کریں، تو شادی فوقانیہ کے بعد ہی ہوگئی تھی۔ شریکۂ حیات بادینور خاتون ایک دین دار اور وفا شعار خاتون ہیں۔ پانچ بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازے گئے۔ نسیمہ تبسم، جمیل احمد حیدری، اقبال احمد حیدری، مشکور احمد حیدری، مسعود احمد حیدری، مسرور احمد حیدری اور نزہت زیبا۔ سب کے لیے اچھی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا۔ جمیل احمد رامیشور یادو منیہاری کالج کے شعبۂ جغرافیہ سے وابستہ ہیں، اقبال احمد کجرا مڈل اسکول کے ٹیچر ہیں، مشکور احمد دینی بنیادی تعلیم گاہ کجرا کے مدرس ہیں، مسعود احمد SHO ہیں اور ڈاکٹر مسرور احمد جے کے کالج بیرول، دربھنگہ میں گیسٹ ٹیچر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

سچ پوچھیے تو حیدری صاحب کی شخصیت ایک رواں دواں اور توانائیوں سے بھر پور شخصیت ہے، جس کی راہ میں نہ رکاوٹیں ٹھہر سکیں اور نہ موانع حائل ہو سکے۔ اب تک کی پوری زندگی حرکت میں برکت سے عبارت ہے اور ہماری دعا ہے کہ حرکت و عمل کا یہ سلسلہ تا دیر جاری رہے…!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *