Mon. Nov 23rd, 2020
چندہ اور علماء کی بے عزتی
                  رشید سمیع سلفی بھیونڈی
رمضان کی آمد کے ساتھ ہی مدارس و جامعات کے علماء و مدرسین سفراء کا روپ دھار لیتے ہیں۔ رودادو رسيد، تصديقات و توصیات سے لیس ہوکر عازم سفر ہوجاتے ہیں۔ اندیشہ ہائے دوردراز کی پرواہ کیے بغیر حالات کے شوریدہ سر دریا میں بیڑہ ڈال دیتے ہیں، انجانے خوف، نا معلوم خدشات اور موہوم وساوس کے قدم بہ قدم وہ بڑھتے چلےجاتے ہیں۔ کوئی ایک منزل اور کوئی ایک ٹھکانہ نہیں ہوتا بلکہ جہاں شام ہوتی ہے وہیں چھاؤں ڈھونڈھ لیتے ہیں۔ ایک مہینہ خانہ بدوشوں جیسی زندگی گزارتے ہیں۔ نہ سحری کا بندوبست ہے اور نہ افطار کا ٹھکانہ۔ نہ آرام کا خیال ہے اور نہ ہی کوئی پرسان حال ہے۔ تقدیر کے رحم و کرم پر پورا مہینہ بھٹکنا ہی ان کا مقدر ہے۔ شاعر کہتا ہے:
اک جگہ رکتے نہیں عاشق بدنام کہیں
دن کہیں رات کہیں صبح کہیں شام کہیں
یہ یک ماہی سفر مختلف نشیب و فراز اور سرد و گرم سے ہوتا ہوا گزرتا ہے۔ بعض کی طرف سے حوصلہ افزا سلوک دیکھ کر ان کی ڈھارس بندھتی ہے اور بعض کی طرف سے دل آزار جملے سن کر وہ خائف سے ہوجاتے ہیں۔ بسا اوقات سنگ دلی، طوطا چشمی اور دلآزار رویے جان ہی نکال لیتے ہیں اور حساس قسم کا انسان دلبرداشتہ ہوکر رسید اور روداد کو دریابرد کرکے کسی اور میدان کا رخ کرنا ہی چاہتا ہے کہ اسے مدارس و جامعات کا درد پھر ستانے لگتا ہے اور کچھ ذاتی مجبوریاں بھی دامن گیر ہوجاتی ہیں۔ کلیجے پر پتھر رکھ کر وہ آگے بڑھ جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے اگر وہ چندہ نہیں کرے گا تو مدرسے کا خرچ کہاں سے پورا ہوگا؟ تنخواہیں کہاں سے آئیں گی؟ نونہالان قوم کیا کھائیں گے؟ مدرسہ پورا سال کیسے چلے گا؟ دین کے یہ قلعے کیسے باقی رہیں گے؟ یہ خدشات ہیں جو اس کے شکستہ عزائم کے تن مردہ میں جان ڈال دیتے ہیں۔ وہ تذلیل آمیز سلوک کو برداشت کرلیتا ہے۔ جلے کٹے جملے سن لیتا ہے اور اف تک نہیں کرتا۔
کہاں ہر ایک سے بار نشاط اٹھتا ہے
بلائیں یہ بھی محبت کے سر گئی ہوں گی
پورا مہینہ احساس و عزت نفس کو بالائے طاق رکھ کر پتھر بن کر رہتا ہے، کوئی بھی سر پھرا آتا ہے اور کڑوی کسیلی سنا کر چلا جاتا ہے کیونکہ وہ چند سو روپئے کی ایک عدد رسید پھڑواتا ہے۔ تصور کیجیے کیا گزرتی ہوگی جب کرسی پر بیٹھا ہوا سیٹھ عالم دین کو کھڑے کرکے سوالات کرتا ہے اور بڑی حقارت سے کہتا ہے جاؤ نیا چندہ نہیں دیتا، جاؤ ابھی حساب نہیں کیا ہے، چلو چلو چندہ ختم ہوگیا، اتنا لیٹ کیوں آئے؟ وہ جیسے داخل آفس ہوا تھا بس ویسے ہی الٹے قدم چلتا بنتا ہے۔بے چارہ آفس میں تھوڑا سانس لینے کے لیے بیٹھ بھی نہیں سکتا کیونکہ بیٹھنے کو کہا ہی نہیں گیا۔
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن
بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے
وہ تھکا ہارا بھوکا پیاسا کسی اور دروازے کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے، امید ہوتی ہے کہ آگے شاید کچھ رسیدیں پھٹ جائیں، شاید مدرسے کا کچھ فائدہ ہوجائے لیکن پتہ یہ چلتا ہے کہ کانچ کے پیچھے بیٹھا ہوا سیٹھ خود پیغام بھجوارہا ہے کہ کہہ دو سیٹھ دکان پر نہیں ہے بعد میں آؤ۔ وہ روزہ دار عالم دین جس کے پیروں میں اب چلنے کی سکت نہیں ہے، وہ پھر کوئی سایہ ڈھونڈنے لگ جاتا ہے تاکہ آگے بڑھنے کے لیے تازہ دم ہوسکے۔ لیکن سایہ کہاں ہے؟ پناہ کہاں ہے؟ بس وہی مسجد جہاں آدم بیزار مصلیوں کی نگاہوں کی کڑکتی بجلیوں کی زد پر رہنا پڑتا ہے لیکن شکر خدا کا کہ خدا کا گھر ہے، کوئی بھگاتا تو نہیں ہے۔
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے
حفیظ جونپوریپھر کیسے دل خون ہوتا ہے جب علماء کو آفسوں کے باہر قطاروں میں کھڑا رکھا جاتا ہے۔ پوری دنیا علماء کی تذلیل کے تماشے دیکھ رہی ہوتی ہے اور آفس میں بیٹھے ہوئے سیٹھ کے دل میں خوشی کے لڈو پھوٹ رہے ہوتے ہیں، قطاروں میں خوار ہو رہے علماء کی طویل لائن دیکھ کر نخل آرزو بارآوری ہوتی ہے، دل ہی دل میں سوچ رہا ہوتا ہے کہ کہ آج دنیا کو پتہ چلے گا میں کتنی زکوۃ بانٹتا ہوں اور کتنا سخی ہوں۔ وہ جہلاء جنھیں پورے سال کوئی گھاس نہیں ڈالتا تھا آج اپنی نامراد حسرتوں کے پھول کھلتا ہوا دیکھتے ہیں تو جیسے ان پر نشہ طاری ہوجاتا ہے کیونکہ آج ان کے آگے پیچھے علماء رسیدیں لے کر گھوم رہے ہیں، وہ بڑی شان بے نیازی سے لوگوں سے کہتے پھرتا ہے کہ روزانہ چار پانچ ہزار بس ایسے ہی چلا جاتا ہے۔ تذلیل کی یہ خون آشام آندھی تھمتی کہاں ہے، مسجدوں کے ٹرسٹی بھی رہی سہی کسر ہی نکال لیتے ہیں، اعلان کے لیے لمبے پروسیزر سے گذارنے کے بعد عالم کو جھولے کے ساتھ وہیں لب گیٹ کھڑا کرتے ہیں جہاں پیشہ ور بھکاری کھڑے کھڑے بھیک مانگا کرتے ہیں، بسااوقات خالی الذہن شخص انھیں بھی پیشہ ور بھکاری سمجھ بیٹھتا ہے اور چند ریزگاری ان کی طرف اچھال کر چلتا بنتا ہے، اس طرح وارثین انبیاء ناکردہ گناہ کی سزا بھگتتے ہیں اور ایک مہینے کا دلخراش اور جانکاہ سفر طے کرکے مدارس و جامعات کی نبض ڈوبنے سے بچاتے ہیں۔ قوم تو خوش ہے کہ مدرسے چل رہے ہیں۔ کاروبار دین پھل پھول رہا ہے لیکن مدارس و جامعات کی بقا کے لیے وارثین انبیاء کس طرح اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر ایک ایک پیسہ جوڑتے ہیں، یہ اگر پتہ بھی ہو تو کیا فرق پڑتا ہے؟
ایک بہت بڑی قربانی علماء کی یہ ہوتی ہے کہ پورا رمضان وہ عبادت و تلاوت کے مواقع سے محروم ہوتے ہیں۔ چندہ دہندگان کے وقت کا پابند ہوکر ان کو چلنا پڑتا ہے۔ سو اور پچاس روپیے کے لیے مخیرین اپنے دکان کے کئی چکر لگواتے ہیں۔عبادت کے لیے یکسوئی چاہیے، فراغت چاہیے، لیکن چندے کے خار زار میں لمحات صبح و شام اس طرح الجھے ہوتے ہیں کہ دم مارنے کی فرصت نہیں ہوتی، بس جیسے تیسے یہ فرائض سے عہدہ برآ ہوپاتے ہیں۔ اگر کوئی تن من دھن سے چندہ نہ کرے تو وہ ناکام مچند ٹھہرتا ہے اور مدرسے پر بوجھ قرار دیا جاتا ہے۔ کارکردگی بہتر نہ ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے، پھر اس کے خلاف ایسی دلآزار روش اپنائی جاتی ہے کہ اسے ادارہ چھوڑنا ہی پڑتا ہے، ایسے کتنے ہیں جو چاہت و صلاحیت کے باوجود پیشہ تدریس سے الگ ہیں کیونکہ وہ ایک اچھے مچند نہیں ہیں۔
میں اس سے منکر نہیں کہ اس میدان میں دھاندلی یا خیانت نہیں ہے بلکہ بعض لوگ تو مفادات کے پیش نظر ہی چندہ کرتے ہیں اور چند پیسوں کے لیے ہر حد سے گزر جانا چاہتے ہیں۔جھوٹ بولنا، خوشامد کرنا، فیصد پر چندہ کرنا، جعلی رسید چھپوانا اور کاغذی مدارس کے لیے چندہ کرنا ان کا معمول بن گیا ہے۔ لیکن جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کی وجہ سے سب کو مورد الزام ٹھہرانا غلط ہے۔ ایک لاٹھی سے سب کو ہانکنا ناانصافی ہے۔ چند کرپٹ افراد کے سبب ہر کسی پر شک کی چھری چلاتے پھرنا ظلم ہے۔ مچندین میں وہ شریف النفس علماء بھی ہوتے ہیں جو بصورت مجبوری چندہ کرتے ہیں۔ چندہ کرتے ہوئے، روداد و رسید کے ساتھ لوگوں کے دروازے پر جوتے چٹخاتے ہوئے ان کا دل کڑھ رہا ہوتا ہے، ضمیر ملامت کررہا ہوتا ہے، پورے سفر میں احساس شرمندگی کے ساتھ ایک ایک رسید کاٹ رہے ہوتے ہیں لیکن مرتا کیا نہ کرتا، بادل نخواستہ سب کچھ گوارا کرتے ہیں۔ اگر پیشہ تدریس سے جڑا رہنا ہے، تعلیم و تعلم کو مقصد زندگی بنائے رکھنا ہے تو چندے کا بندہ بن کر رہنا ہوگا۔ نہیں تو جائیے دروازہ کھلا ہے۔ ایک عالم دین مدرسہ اور تعلیم و تعلم کی راہ سے کنارہ کش ہوکر کہاں جائے گا۔ ہر کسی کے لیے دوسرے میدانوں میں مواقع اور امکانات نہیں ہوا کرتے۔ ہاں جن کے لیے مواقع ہموار ہوتے ہیں وہ مدرسہ چھوڑنے کے بعد پلٹ کر نہیں دیکھتے۔ وہ ایسا بدظن ہوکر جاتے ہیں کہ زندگی بھر ان کے دل و دماغ میں مدارس و جامعات کے خلاف زہر بھرا ہوتا ہے اور وہ گاہے بگاہ اس کا اظہار کرتے بھی رہتے ہیں۔ لیکن وہ مجبور محض علماء کیا کریں جن کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے۔ وہ کہاں جائیں؟کس کو اپنا غم سنائیں؟ کون ان کی مدد کرے گا؟ کون ان کی ڈھارس بندھائے گا؟
سنے گا کون میری چاک دامانی کا افسانہ
یہاں سب اپنے اپنے پیرہن کی بات کرتے ہیں
کلیم عاجزسب کچھ نا گوار ہونے کے باوجود اپنے گھر اور بچوں کی کفالت کے لیے انھیں بادل ناخواستہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔چندے کی تاریخ پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ مدارس و جامعات کی بقا کے لیے بصورت مجبوری اٹھایا گیا ایک قدم تھا۔ آغاز کار میں لوگوں میں جذبہ تھا، شوق تھا، تڑپ تھی اور شفاف طریقے سے سلسلہ چل رہا تھا لیکن مرور ایام کے ساتھ خرابیاں اور دھاندلیاں اور بیزاری آتی گئی اور اب تو معاملہ بہت ہی زیادہ فساد کا شکار ہوچکا ہے۔ بدقسمتی سے اب ذلت و رسوائی کے اس کوچے میں آبلہ پا علماء و وارثین نبوت ہو رہے ہیں۔ مدرسوں کے ذریعے پوری امت کے دینی وجود و تہذیبی شناخت کو بچانے کا ذمہ جیسے ان کے ہی سر رکھا گیا ہو۔ سوال یہ ہے کہ مولوی اگر چندے سے دستبردار ہوجائے تو اس کا کیا بگڑجائے گا؟ ٹھیک ہے مسجد و مدرسہ کی چاکری چھوڑنی پڑے گی تو کیا ہوا؟ کیا دوسرے علماء اس سے دور رہ کر نہیں جی رہے ہیں یا بھوکوں مرگئے؟ دوسروں کی طرح اللہ نے انھیں بھی اعضاء و جوارح کے ساتھ ایک عدد دماغ سے نوازا ہے، وقت پڑنے پر یہ بھی اپنا رزق تلاش لیں گے، اپنے بچوں کا پیٹ پال لیں گے، قوم کو تو ان کا زیر بار احسان ہونا چاہیے کہ ان کی محنت اور کد و کاوش سے گاڑی چل رہی ہے، خود ہی بچوں کو پورے سال تعلیم دیتے ہیں اور رمضان میں گداگری کرنے نکل پڑتے ہیں، جو بھی جمع کرکے لاتے ہیں اس پر ناظم کنڈلی مار کر بیٹھ جاتا ہے اور اسی مولوی پر حکومت کرتا ہے جس کے کیے ہوئے چندے پر وہ ناظم بنا پھرتا ہے۔ ہمارے قائدین کو اس مسئلے پر غور کرنا ہوگا۔ اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل تلاشنا ہوگا۔ کہیں خرابیاں صورتحال کو مزید سنگین نہ بنا دیں۔ مرکزی جمعیتوں کو آگے بڑھ کر اس کا کوئی متبادل پیدا کرنا چاہیے۔ یہ سچ ہے کہ وصولی کے اس منتشر انداز میں بہتوں کو فائدہ ہوگا اور مدرسوں کو بھی خطیر رقم مل جاتی ہے۔ لیکن اس راستے کے کرپشن، بدعنوانی کے سدباب اور علماء کو تذلیل سے بچانے کی ہی خاطر کچھ کیا جائے۔ کیا اچھا لگتا ہے یہ سن کر کہ جاہل سیٹھ ایک عالم دین کو سستے میں اپنی آفس اور دکان میں بے یار و مددگار پاکر طنز و تحقیر کے تیر برساتا ہے، سخت سست کہتا ہے اور علماء خاموش خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتے ہیں۔ مچندین جب اپنے تلخ تجربات بتا رہے ہوتے ہیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے اور یہ تحریر درحقیقت تکرار کے ساتھ ایسے ہی واقعات و احوال کو سن کر مجھے لکھنی پڑرہی ہے۔ آخر مدارس و جامعات کی بقا کے لیے تذلیل و تحقیر کی مسموم ہواؤں کا سامنا علماء ہی کیوں کریں؟ علماء ہی کیوں خوار ہوں؟ کیا امت کی ذمے داری صرف مجبور و مظلوم علماء کا محاسبہ اور تذلیل ہے؟کیا قیامت تک علماء کو امت کی طرف سے زبانی ہمدردی اور صبر کی تلقین ہی ملے گی یا پھر عملا بھی پیش رفت ہوگی۔ چندے کی بگڑتی صورتحال سے کب تک چشم پوشی کی جائے گی؟کیا یہ امت کا مسئلہ نہیں ہے اور شاید نہ بھی ہو کیونکہ یہاں داؤ پر اہل علم کا وقار لگا ہوتا ہے۔ طبقہ علماء کی عزت و آبرو پامال ہوتی ہے۔ اس لیے۔

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *