Mon. Nov 23rd, 2020
ڈاکٹر محمد لقمان سلفی کا بچپن میں بنگلہ زبان سے لگاو
               صادق جمیل تیمی 
زمانہ خواہ کوئی بھی ہو، ہر ایک عہد میں کچھ ایسی شخصیات ضرور جنم لیتی ہیں جو اپنے کارناموں کی بدولت ہمیشہ کے لیے امرہو جاتی ہیں۔زمانہ ماضی میں اس طرح کی کئی مثالیں مل جائیں گی جو کل بھی زندہ تھیں آج بھی ہیں اور کل بھی رہیں گی۔ مگر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ شخصیات تھیں جنھوں نے اپنی تخلیقات سے نہ صرف اپنے عہد کو متاثر کیا بلکہ آنے والے ادوار پر بھی اپنے گہرے نقوش ثبت کیے۔اگر بات اردو کی جائے تو اردو کے ادبی افق پر بھی اس نوع کی شخصیات بڑی تعداد میں ہیں اور ان میں امیر خسرو، ولی، میر، غالب اور اقبال وغیرہ کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔عربی زبان میں ہندستانی ادبا و شعرا کی بات کی جائے تو حسن محمد صغانی،مرتضی بلگرامی،نو اب صدیق حسن خاں،سید سلیمان ندوی،یوسف سورتی،عبد العزیز میمنی،مقتدی حسن ازہری و دیگر قابل ذکر ہیں۔ان میں ایک اہم و بڑا  نام سرزمین بہار کے عظیم سپوت علامہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی کا ہے جنہوں نے عربی زبان و ادب میں لازوال خدمات انجام دیں۔ساتھ میں عالمی ادب کا بھی مطالعہ کیا۔سعودی شہریت کے بعد عربی ہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔آپ جہاں عربی، اردو،انگلش،میتھلی جیسی زبانوں پر عبور رکھتے تھے وہیں پر آپ بنگلہ زبان سے بھی بخوبی واقف تھے۔بنگلہ زبان ایک جنوبی ایشیائی زبان ہے جو بنگلہ دیش اور بھارتی ریاست بنگال میں بولی جاتی ہے۔ دونوں جگہوں پر اسے سرکاری زبان کی حیثیت حاصل ہے۔ تقریباً 220 ملین سے زائد افراد بنگالی کو بطور مادری زبان بولتے ہیں، کل 300 ملین افراد بنگالی میں بات کرسکتے ہیں۔
بنگلہ زبان ایک تہذیبی و تمدنی زبان ہے۔دنیا کی سب سے شیریں و میٹھی زبان ہے۔یہ وہ زبان ہے جس میں ادب کا پہلا انعام “نوبل” عظیم فلسفی و شاعر ربندر ناتھ ٹائیگور کو اپنی مشہور زمانہ کتاب ”گیتا نجلی،،کی وجہ سے دیا گیا۔قاضی نذر الاسلام اس کے علمبردارشاعر ہیں۔اس کی اثر آفرینی و اثر انگیزی اور میٹھاس کا نتیجہ ہے کہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی میتھلی و بھوجپوری علاقے کے ہونے کے باوجودبھی بنگلہ زبان سے واقفیت حاصل کرتے ہیں، اسے بولتے ہیں اور مشہور زمانہ کتاب ”امیر حمزہ،،کو پوری یاد کر لیتے ہیں۔چوں کہ جب آپ چھوٹے تھے تو آپ کے داد ا آپ کو پورنیہ کے چھراماری (جوا بھی کٹیہار کا حصہ ہے)میں مولوی محمد الیاس کے مدرسہ میں تعلیم و تربیت کے لیے رکھ دیے تھے جس کا ذکر ڈاکٹر صاحب نے اپنی خود نوشت سوانح حیات صفحہ نمبر 27سے 33تک میں کیا۔مولوی محمد الیاس بچوں کو بہت زیادہ مارتے تھے اور سخت لہجہ اپناتے تھے آپ ایک جگہ ان کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ:
”ان کی ترش روئی اور سخت گیری کی وجہ سے بہت سے لڑکے ان کا مدرسہ چھوڑ دیتے تھے۔میں نے وہاں اردو اور فارسی کی پہلی اور دوسری کتابیں ختم کر لی اور اچھی طرح لکھنا سیکھ لیا،،(کاروان حیات:29)
مولوی محمد الیاس کے ہاں آپ پڑھتے تھے لیکن کھانا،پینا اور رہنا شیخ عبد القادر کے ہاں ہوتا تھا جو آپ کے دادا کے بڑے عقیدت مند تھے۔چوں کہ شیخ عبد القادر کی زبان بنگلہ تھی اور اس زبان کو وہ پڑھتے بھی رہتے تھے۔ان کی مجلس میں بنگلہ کہانیوں کی بڑی و مشہور کتاب ”امیر حمزہ،،رہتی تھی۔ڈاکٹر صاحب بغیر کسی استاد کے اسے خود سے پڑھنا سیکھ لیا بلکہ پوری کتاب کو  یاد بھی کر لیا۔بنگلہ زبان سے آپ کی واقفیت اور کتاب امیر حمزہ کو ازخود ازبر کرنے کے سلسلے میں لکھتے ہیں:
”میں ایک ماسٹر صاحب سے پرائیوٹ ٹیوشن پڑھ کر ہندی لکھنے،پڑھنے لگا اور وہاں کی بنگالی زبان ”امیر حمزہ،،نام کی قصوں کی ایک بڑی کتاب جو شیخ عبد القادر صاحب کی مجلس میں پڑی رہتی تھی،اسے پڑھتے پڑھتے سیکھ لیا اور اوروں کو سنانے لگا۔مدینہ یونیورسٹی میں ہمارے استاد گرامی قدر اور تفسیر میں عصر حاضر کے امام جناب شیخ محمد الامین شنقیطی رحمہ علیہ نے اپنے غایت درجہ ذہین ہونے کی ایک دلیل یہ پیش کی تھی کہ انہوں نے قرآن کریم دو ماہ میں از خود پڑھ لیا۔توان جیسوں کا ایک شاگرد اگر یہ دعوی کرے تو حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ میں نے بھی تو قرآن کریم از خو د دو ماہ میں پڑھ کر ختم کر لیا تھا،اور اس پر بھی مستزاد یہ ہے کہ میں نے بنگالی زبان بغیر استاد کی مدد کے خود سیکھ لیا اور اس کم عمری میں لوگوں کو ”امیر حمزہ،،نامی کہانیوں کی کتاب پڑھ کر جناب عبد القادر صاحب کی مجلس میں آنے والوں کو سنانے لگا۔یہ بات کسی استعلا و خود ستائی کے لیے نہیں،بلکہ رب العالمین کے شکر و امتنان کے طور پر لکھ رہا ہوں،،(کاروان حیات:30)
مذکورہ بالا عبارت سے یہ بات مترشح ہو جاتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب بلا کے ذہین تھے، بغیر استاد کے بنگلہ زبان کی سوجھ بوجھ آگئی تھی،پڑھنا سیکھ گئے تھے۔ ورنہ ہم لوگ خود بنگلہ باسی و بنگلہ بولنے والے ہیں لیکن عمر کی چوبیس بہاریں دیکھ چکنے کے بعد بھی ڈھنگ سے بنگالی لکھنا پڑھنا نہیں آیاجب کہ ہمیں اسے سیکھنا چاہیے لیکن ایک ایسا شخص جنہیں بنگالی سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے وہ اپنی کم سنی ہی میں نہ صرف اسے بغیر استاد کی مدد سے سیکھتے ہیں بلکہ اس زبان کی مشہور کہانیوں کی کتاب ”امیر حمزہ،،کو پوری یاد کر لیتے ہیں اور انہیں اپنے استاد کے پاس آنے والے لوگوں کو سناتے بھی ہیں۔
  جامعہ امام ابن تیمیہ کے ایام طالب علمی( 2010-2016) میں ڈاکٹر صاحب جامعہ تشریف لاتے تھے لیکن کبھی بنگلہ سنتے یا بولتے نہیں پایا چوں کہ وہاں کی زبان اردو ہے اور اہل علم جو آپ کے پاس رہتے تھے اردو و عربی و دیگر زبانوں  کے جانکار ہوتے تھے اس وجہ سے آپ بنگلہ بولتے نہیں تھے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اسے بھول گئے تھے یا جانتے ہی نہیں تھے ایسی بات نہیں ہے کیوں کہ عربی کا ایک مقولہ ہے کہ ”العلم فی الصغر کالنقش فی الحجر،،کہ بچپنے کا علم پتھر کی لکیر جیسی ہے۔انسان جب کسی چیز کو کبھی پڑھ لیتا ہے یا اسے یاد کر لیتا ہے تو یہ چیز اس کے ذہن کے کسی گوشہ میں محفوظ ہو جاتی ہے اور بڑھتے علم کے ساتھ کبھی نہ کبھی وہ چیز ذہن میں آجاتی ہے۔مولاناآزاد اپنے قید و بند کی زندگی قلعہ احمد نگر میں جب تھے جہاں نہ ان کے لیے کتاب کی اجازت تھی اور نہ ہی قلم و قرطاس کی اس زمانہ کی بات ہے وہ لکھتے ہیں کہ برسوں کے مطالعہ کی ہوئی چیز دماغ کے کسی گوشہ میں آجاتی ہے اور ایسا احساس ہوتا ہے میں نے ابھی ابھی مطالعہ کیا ہے –
مختصر یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب دیگر زبانوں پر دسترس رکھنے کے ساتھ بنگلہ زبان کی سوجھ بوجھ رکھتے تھے۔اس کی واضح مثال یہ ہے کہ آپ نے اپنے پورنیہ کے قیام کے دوران بنگلہ زبان کی مشہور کہانیوں کی کتاب ”امیر حمزہ،،نہ صرف پڑھنا سیکھا بلکہ اسے بغیر استاد کی مدد لیے یاد کیا اور لوگوں کو برملا و برجستگی کے ساتھ سناتے تھے۔

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *