Fri. Jan 15th, 2021
کانگریس
 صادق جمیل تیمی 
انڈین نیشنل کانگریس متحدہ ہندو پاک کی ایک قدیم اور جمہوریت ہند پر سب سے زیادہ حکومت کرنے والی جماعت ہے۔اس کا قیام 1885ء میں عمل میں آیا جب ایلن اوکٹیوین ہوم،دادا بھائی نوروجی،ڈنشا وچا،منموہن گھوش اور ولیم ویڈربرن اس کی بنیاد رکھی تھی۔کانگر یس پارٹی اپنے قیام کے بعد ہندستان میں برطانوی راج کے خلاف تقریبا 63سالوں تک مسلسل جد و جہد کی،تحریک آزادی ہند کے وقت اس کے ڈیڑھ کروڑاراکین تھے۔پاکستان کے محمد علی جناح مسلم لیگ کو تشکیل دینے سے قبل اسی پارٹی میں شامل تھے۔جب کہ تاریخ ہند کی عظیم و تاریخی شخصیات: مولانا ابو الکلام آزاد،گاندھی جی،جواہر لال نہرو،ڈاکٹر راجندر پر ساد،خان عبد الغفار خان جیسے قد آور لیڈران تا حیات اسی پارٹی سے وابستہ رہے۔
کانگریس اپنی ابتداے تاسیس ہی سے وطن اور اہل وطن کی مفادات میں کا م کرتی آرہی ہے،ملک کو انگریزوں کے چنگل سے آزادی دلانے میں بھی ان کا اہم رول رہا۔یہی وجہ ہے کہ زیادہ جیت کا سہرا انہیں کے سر گیا لیکن گردش زمانہ کے ساتھ ہار کا بھی سامنا کرنا پڑا دونوں کی مختصر تفصیل پیش خدمت ہے۔
ملک کی آزادی اور دو مختلف نظریات کی بنا پر تقسیم وطن کے بعد جمہوریت ہند کا پہلا لوک سبھا الیکشن 1952ء میں ہوا،جس میں کانگریس75.99%ووٹ حاصل کرکے  364سیٹوں کی مدد سے پہلی سرکار بنائی جس میں ملک کا پہلا وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو انتخاب کیا گیا۔پھر اس کے بعد 1957اور 1962ء میں جواہر لال نہرو کی قیادت میں کانگریس جیتنے میں کامیاب رہی۔ اس دوران انہوں نے ملک کی معیشت و اقتصادیات،ٹیکنالوجی،تعلیم اور طب جیسے اہم شعبہ جات  کی ترقیات میں اہم کردار ادا کیا تھا،اسی طرح غلامی کی مار جھیل چکی عوام میں خوش حالی کی لہر دوڑا دی تھی۔ اس لیے دونوں انتخابات کے نتائج بھی کانگریس کی جھولی میں آئے۔
لیکن یہ ایک ایسا دور تھا جب پاکستان سے ہندستان کے سیاسی تعلقات خراب ہوگئے تھے اور چین سے دوستانہ رویے میں بھی اکتوبر 1962ء سرحدی لڑائی کی بنا پر دراڑ آچکی تھی۔بد قسمتی یہ رہی کہ چینی افواج اپنی پوری تیاری و چابکدستی کے ساتھ انڈین افواج کو شرمناک شکست سے دوچار کیے جس سے پورے ملک میں خلفشار،بد امنی و بے چینی کا ماحول اور سرکار کے خلاف ہر چہار جانب چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں تھیں۔ادھر 1963ء میں نہرو کی طبیعت بگڑنے لگی تھی جس سے تاب نہ لاکر 1964ء میں دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ان کے انتقال کے بعد عارضی طور پر شاستری جی کو وزیر اعظم بنایا گیا لیکن یہ زیادہ دنو ں تک اقتدار میں نہ رہ سکے، ان کی موت ہوگئی۔ اس کے بعد کانگریس میں اس طرح کا کوئی بڑا سیاسی چہرہ نظرنہیں آرہا تھا جس کو وزارت عظمی کی کرسی پر فائز کیا جاتا ہے چنانچہ نہرو جی کی خاص مشیر کار اور ان کی بیٹی اندرا جی کا وزیر اعظم کے طور پر انتخاب کر لیا گیا۔
اس نازک گھڑی میں حقیقتاً کانگریس بڑی مشکلات کا سامنا کر رہی تھی۔ دو لڑائیوں (ہندو پاک،چین) کی وجہ سے بھارت کی معیشت بالکل سطح زمین پہنچ گئی تھی،اس کے علاوہ ”میجو آدی واسی بغاوت،قحط سالی،عدم تحفظ،غریبوں کی بد حالی اور پنجاب میں زبان و مذہب کو لے کر الگ قسم کا انقلاب جیسے مسائل ہندستان کو کھوکھلا اور کانگریس حکومت کو مطعون کر رہے تھے۔اسی دوران 1967ء میں لوک سبھا الیکشن ہوا جس میں کانگریس شرح فیصد ووٹ کے اعتبار سے پہلے کے بالمقابل بہت نیچے آگئی۔ الغرض اندرا کے آتے ہی کانگریس کا زوال کا آغاز ہو چکا تھا،کانگریس کی اس غیر متوقع سیٹ لانے سے پارٹی کے اندر بھی ہڑبونگ مچ گئی تھی اور آپسی مد بھید بھی بڑھنے لگا تھا۔ اسی بیچ 13مارچ 1967کو اندرا جی کو وزارت عظمی کی حلف دلائی گئی لیکن کانگریس نے اسے قانون شکنی کی وجہ سے12نومبر 1969کو مسترد کر دیا، اس کا نتیجہ ہوا کہ کانگریس دو حصوں میں بٹ گئی:ایک کانگریس (او)جس کے حامی مراری دیسائی تھے اور دوسرا کانگریس (آئی)جس میں اندرا گاندھی تھی۔
اندرا گاندھی نے دسمبر 1970ء تک CPIMکی مدد سے عارضی سرکار چلائی تھی لیکن اب چلانا نہیں چاہ رہی تھی چنانچہ ایک سال قبل ہی الیکشن کا اعلان کر دیا گیا اور 1971ء میں اندرا جی بھاری اکثریت سے کانگریس کو جیت دلائی۔71کی دہائی میں ہندو پاک کی لڑائی کی وجہ سے معیشت میں کافی گراوٹ آئی تھی،عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بڑھوتری بھی ایک مسئلہ تھی،اسی دوران یعنی 1975میں الہ آباد ہائی کورٹ نے بد عنوانی کے الزام میں 1971ء کے الیکشن کو رد کر دیا لیکن اندرا جی بجائے استعفی کے پورے ملک میں ایمریجنسی نافذ کر دی۔ اپوزیشن کے سارے لیڈروں کو جیل میں بند کر وا دی اور تقریبا دو سال یعنی1977 تک ملک میں ایمریجنسی نافذ رہی۔اس دوران اظہار رائے کی آزادی عوام سے سلب کر لی گئی تھی،ایمریجنسی سے اندرا کی شبیہ اور مقبولیت بری طرح مجروح ہوگئی تھی اب جب کہ چھٹا لوک سبھا الیکشن 1977میں ہوا تواس میں کانگریس کو اپنی تاریخ کی سب سے بڑی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔پھر اس کے بعد کانگریس1989ء کے الیکشن میں بھی ہار گئی۔ا س وقت چوں کہ ملک کئی طرح کے مسائل کو جوجھ رہا تھا۔بو فورس معاملہ،پنجاب میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی،ایل ٹی ٹی آئی اور سری لنکا سرکار کے بیچ گھریلو جنگ جیسے مسائل اس وقت راجیو گاندھی سرکار کے سامنے تھے۔
 1999ء میں بھی کانگریس کو منھ کی کھانی پڑی اور  بی جے پی این ڈی اے کی سرکار بنی۔بی جے پی جیتنے میں اس وجہ سے کامیاب ہوگئی تھی کہ اس سے قبل اٹل جی دو سال سرکار میں رہ چکے تھے اور الیکشن سے کچھ مہینے قبل کارگل کی جنگ ختم ہو گئی تھی جس سے کشمیر کی حالت میں سدھار آئی تھی، اس کے علاوہ پچھلے دو سالوں میں اٹل جی ملک کی اقتصادیات کو بھی کافی آگے لے گئے تھے۔دوسری طرف 1998میں کانگریس کی سب سے کم عمر صدر سونیا جی کو بنا دیا گیا تھا جس کو دوسری سیاسی پارٹیوں نے ”چناوی مدعہ،، کے طور پر خوب خوب استعمال کیا۔ لیکن اس کے بعد 2004اور 2010میں کانگریس پوری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں رہی۔بہرکیف آزادی ہند میں سب سے زیادمدتوں تک اقتدار کانگریس کے ہاتھ میں رہی اور انہوں نے ہندستان کو ترقیات کی بہاریں بھی دکھلائیں۔
جیسا کہ اوپر کی سطور سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ایک زمانہ تھا جب ہندستان میں کانگریس کی طوطی بولتی تھی،کوئی نظریہ یا کوئی پلاننگ کار گر نہیں ہوتی تھی،چوں کہ شروع ہی سے تحمل و رواداری اور سیکولرزم کے تئیں کانگریس کے پاس وسیع پالیسی تھی جس کی وجہ سے سرکاریں بنانے میں کامیاب رہی۔لیکن یہ بات بھی حقیقت کو چھوتی ہے کہ شروع ہی سے ملکی سیاست میں ایک ایسا طبقہ رہا جو و سعت اور رواداری کے سخت مخالف تھا جس کا اصلی چہرہ ناتھو رام گوڈسے کے ذریعہ 1948میں گاندھی جی کے قتل کے بعدسامنے آیا۔یہی طبقہ 2014ء کے الیکشن میں جیتنے میں کامیاب ہوا۔اوریہ ہونابھی چاہیے تھا کیوں کہ کا نگریس کا جو ایک بھرم تھا’نہ ہارنے کا،اسے توڑنا ضروری تھا۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ کانگریس اپنے آپ کو ”بر گد کا درخت،،تصور کر لیا تھا کہ اس کے سایے میں اور کوئی پیدا نہیں ہو سکتا۔ کانگریس اتنی عظیم پارٹی ہونے کے باوجود 2014ء کے لوک سبھا ہارنے کے بعد ایسا احساس ہورہا ہے تھا کہ اس کا وجود اس سے قبل تھا ہی نہیں اورنہ کبھی بڑا چہرے بن کر ابھر پائے گی۔
دنیا کا دستور رہا ہے کہ ہرترقی یافتہ قوم یا جماعت کسی زمانہ میں شکست و ریخت سے دوچار ہوتی ہے،کچھ مدتو ں تک لڑکھڑاتی ہے پھر اپنے پیروں کے بل کھڑا ہونا سیکھتی ہے تب جاکر کہیں اس کے اندر مضبوطی و استحکامی آتی ہے۔لیکن کانگریس کی مسلسل دوبار ہار کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ اس کا دماغی تواز ن بگڑ گیا ہے اور یہ دیوالیہ پن کی شکار ہو گئی ہے۔جیت پر جشن منانا اور ہار پر غم زدہ ہونا یہ تو فطری امر ہے لیکن شکست سے زیادہ شکست خوردگی کا احساس جان لیوا ہوتا ہے۔کانگریس کی ذلت آمیز شکست کے بعد اس کا یہی حال ہے یعنی شکست خوردگی کا احساس،جس کا اثر یہ ہوا کہ راہل گاندھی اپنی صدارت چھوڑ دی۔اچھی حالتوں میں قوم یا کسی مورچہ کی قیادت کرنا بہادری نہیں ہے بلکہ نازک و خطرناک گھڑیوں میں قیادت کرنا ہی اصل بہادری ہے۔
موجودہ وقت میں اس کی ایسی حالت ہوگئی ہے کہ ہر گزرنے والا پل کے ساتھ اس کے نظریات،منصوبہ بندی اور اس کے ساتھ جڑے لیڈران کی ذہنیت بدل رہی ہے اور خود سری کا یہ عالم ہے کہ لیڈران پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں،جس سے صاف ظاہر ہورہا ہے سونیا جی کی جو پکڑ پارٹی پر تھی و ہ اب وہ نظر نہیں آرہی ہے۔آرٹیکل370اور 35Aکی تنسیخ مودی سرکار کی مخالفت سے انحراف کرتے ہوئے جس طرح متعدد لیڈران نے بی جے پی کی حمایت کی،یہ سب سے قدیم سیاسی جماعت کی آئیڈیالوجی اور نظریے کا دیوالیہ پن ہے۔ 2019ء کے لوک سبھا الیکشن کے دوران بھی بہت سارے کانگریسی نیتا نتائج کو بھانپ لینے کی وجہ سے خفیہ طور پر دوسری پارٹی میں چلے گئے،اسی طرح کانگریس کی اپنی سنیئر قیادت کی حد سے زیادہ خود اعتمادی،انا پرستی اور پارٹی و ملک کے مقابلے میں ذاتی مفادات کو ترجیح دینا،بی جے پی کو صفایا کرنے والی پانچ ریاستوں میں کانگریسی لیڈران کا اپنے ہی کنبہ کے لوگوں میں ٹکٹ تقسیم کرنا،یہ وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پارٹی بحران کی شکار ہے اور اس طرح کی حالتوں سے دوچار ہورہی ہے اوریہ حالت دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔
اب کانگریس کے لیے وقت ہو چلا ہے کہ وہ اپنی حالت کو سدھارے،اپنی لٹی ہوئی عوامی حمایت اور کھویا ہوا وقار کو دوبارہ لانے کے لیے اپنے پرانے اصولوں اور اقدار کی جانب از سر نو واپس لوٹے،اور نرم ہندو توا کی جی بات آرہی ہے کہ’کانگریس نرم ہندو توا کی سیاست کر رہی ہے اسے ترک کر دینی چاہیے اور کھلے طور پر اصل ہندو توا کی علمبرداری کو جتلانا چاہیے،یہ بالکل احمقانہ فیصلہ ہے، کیوں کہ ہندستان میں ہزاروں سال سے ہندو مسلم شیر و شکر کی طرح آپس میں رہتے آئے ہیں اور کانگریس جو ملک میں زیادہ دنوں تک اقتدار میں رہی ہے، اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے پاس سیکولرز م اور غیر جانبدارانہ رویے و نظریات رہے۔ لیکن اس کو بھی ختم کر دیں تو ایسی صورت میں پارٹی کہیں کی نہیں رہے گی۔بی جے پی کی انتخابی منصوبہ بندی،حکمت عملی،سرگرمی اور مسلسل محنت سے سبق سیکھے،اسی طرح میڈیا سے اپنا رشتہ مضبوط بنائے رکھے،میڈیا میں پارٹی کے بارے میں جنہیں مکمل معلومات ہوں اور دفاع کی بھی صلاحیت ہو انہیں ہی بھیجیں۔جس طرح بی جے پی نہ صرف اپنے نظریات پر سختی سے کاربند ہے بلکہ مستقل مزاجی کے ساتھ اس پر عمل درآمد بھی کر رہی ہے اسی طرح کانگریس بھی اپنے نظریات پر قائم رہے۔ملک و قوم کے مفادات میں کام کرے،انا پرستی،خود غرضی اور اخلاقی گراوٹ سے باز آئے تبھی جاکر دوبارہ ملک کی بڑی پارٹی بن کر ابھر سکتی ہے اوردوبارہ اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کر سکتی ہے ۔ورنہ حال وہی ہوگا کہ   ؎
      بعد از خرابی خواجہ بیدار شب 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *