Fri. Jan 15th, 2021
کورونا وائرس اور اس میں کیے جانے والے اعمال
              عقیل مبارک تیمی 
 ان دنوں کرونا وائرس کی وجہ سے انسانی جلوت خلوت نماہے اور انسانی ہوس ہواس مختل ہےکہ کبھی بھی یہ مصیبت موت بن کر آدبوچے گی.گویا ان کے قلوب واذہان میں یہ بات سما گئی ہے کہ ہم اللہ کی طاقت وقوت کے سامنے محض ایک کھلونہ ہے. وہ جب جاہے جوجاہےکرشمہ ساز کرے. ایسے حالات وکوائف جو”حتى إذا ضاقت عليهم الأرض بما رحبت “جیسے دلدوز ودلخراش منظرہے.ہم اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ ہم اسے اسلامی شریعت کی روشنی میں سمجھے اور اور اس کا حل تلاش کرے-
   (1)اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف لوٹنا:اس وقت جب پوری دنیا مجبور محض ہے.اس بلا سے نجات پانے میں “وما اوتیم العلم الا قلیلا “کا کلی مصداق بنی ہوئی ہے- ایسے صورت حال میں اللہ کی طرف لوٹنےکے کئے اسباب ہیں-
 1 : توبہ واستغفار:جب غزوۂ تبوک میں پیچھے رہنے والے صحابہ کرام کے  اوپر زمین اپنی تمام تروسعت وکشادگی کے باوجود تنگ ہوگئی یہاں تک کہ خود انکی زندگی گراں ہوگئی اور انہیں یقین ہو چلا کہ اللہ کے علاوہ کوئی حامی نہیں تو اللہ نے انہیں توبہ کرنے کا سنہرہ موقع دیا(توبہ 118)اللہ کی جانب سے آزمائش( سنت ربانی) کودستور زمانہ سمجھ کر اللہ سے غافل ہوجائے تو اللہ انہیں کلی طور پر ہلاک کرنے سے پہلے تنگدستی اور مصیبت (بیماری) میں مبتلاکرتا ہے تاکہ اللہ کی طرف رجوع کرے. (الاعراف 94)اللہ شامت اعمال کے طور پر قحط سالی،مہنگائی،جنگ وجدال اور فتنہ وفساد مسلط کرتا اور بلاو مصیبت نازل کرتاہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان دنیاوی سزاؤں سے متأثر ہوکر اللہ کی طرف رجوع کریں اور اپنے گناہوں سے تائب ہوں(روم41)حضرت علی کا بیان ہے کہ بلا گناہ کی پاداش میں نازل ہوتا ہے اور توبہ کی بدولت اٹھا لیا جاتا ہے (جامع المسائل لابن تیمیہ (149)
  2 : توکل کرنا:ایمان وایقان کے ساتھ اللہ سے امیدیں وابسطہ رکھا جائے تو اللہ تعالی کافی ہے کہ مرادیں بر لائے”ومن يتكل على الله فهو حسبه”(طلاق 3)جب ابو سفیان اور اس کے رفقا اپنا خوراک حاصل کرنے کی نیت سے مدینہ کا رخ کیے اور اس کی خبر مسلمانوں کو دی گئی تو ان کا ایمان بڑھ گیااوروقالوا حسبناالله ونعم الوكيل (آل عمران 174)کہہ کراپنا اعتقاد پختہ کر لیا.نتیجتا اللہ تعالی نے “فانقلبوا بنعمة من الله وفضل لم يمسسهم سوء”(آل عمران 173)فرماکر نعمت غیر مترقبہ سے بہرور کیا اور تکلیف سے بچایا-توقع کے ان کلمات کو حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام نے بھی آگ میں ڈالے جانے سے پہلے اپنی زبان سے ادا کیے تھے اور آگ ان کی طبیعت کے موافق ٹھنڈی ہوگئی تھی-(بخاری)اللہ پہ بھروسہ کرنےکا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم تدبیر اختیا نہ کرے بلکہ توکل کے ساتھ تدبیر بھی لازم جانیں جیسا کہ اونٹ کے تعلق سے صحابی رسول نے کہا کہ باندھ لوں اور بھروسہ کروں یا آزاد چھوڑ دوں اور بھروسہ کروں.آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں باندھ لو اور بھروسہ کرو(رواہ الترمذی وحسنہ الالبانی)
  
   3 : بے بسی، لاچاری اور مہاماری کے وقت اللہ سے دعا کرنا یہ اسلام کی روشن تعلیم ہے جیسا ک اللہ سبحانہ وتعالی نے خود اس کی دعوت دیا ہے “وقال ربكم أدعوني أستجب لكم(غافر60)مہاماری کی حالات میں اللہ سے دست بدعا ہونے سے وہی ذات مہاماری سے نجات دلاتا ہے(نمل62)ایسے ہی مجبوری کی حالت میں جب ایوب علیہ الصلاۃ والسلام نے اللہ تعالی سے دعا کیا تو اللہ نے ان کی بےچارگی دور کر دی(أنبیا83-84) شریعت اسلامیہ کے اندر عام اوقات کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ خاص وقتوں اور خاص حالتوں کے لیے خاص دعائیں بھی ہیں انہیں یاد کرے،پڑھے اور پڑھایے-ان دعاؤں کو آگے کے سطور میں درج کرتے ہیں-
 4 : ذکر واذکار کرنا:بلا ومصیبت کےوقت مأثور دعاؤں کو پڑھنا.چند دعائیں درج کرتا ہوں- «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق»اس دعاکو ایک انسان کسی جگہ قیام کے دوران پڑھتا ہے جب تلک وہاں رہے گا اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی (مسلم) «باسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم»جو شخص اس دعا کو صبح وشام تین تین مرتبہ پڑھے گا اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی(أخرجه الحاكم في المسند1/695)نوح علیہ الصلاۃ والسلام کی دعا کو پڑھے«لا إله الا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين» (سنن الترمذی) گھر سے نکلنے کی دعا کثرت سے پڑھے«باسم الله توكلت على الله لا حول ولا قوة إلا بالله» (سنن ابی داؤد) بلاومصیبت اور خطر ناکی سے اللہ کی پناہ مانگے« الهم اني أعوذ بك من حلول البلاء ومن درك الشقاء وشماتة الأعداء» (الدعاء للطبراني 1335) صبح وشام اللہ تعالی سے صحت اور بخشش طلب کرے«الهم اني أسألك العافية في الدنيا والآخرة اللهم إني أسألك العفو والعافية في ديني ودنياي وأهلي ومالي اللهم أستر عوراتي وآمن روعاتي الهم احفظني من بين يدي ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي وأعوذ بعظمتك ان أغتال من تحتي »(مسند أحمد )
5/نیکی اور بھلائی کا کام کرنا:لوگوں کے ساتھ بھلائی انسان کو برائی کی آماجگاہ،آفات سماویہ اور ہلاکتوں سے بچاتا ہےاور دنیا میں جو بھلا کام کرتا ہے آخرت میں اس کے ساتھ بھلا ہوتا ہے«المعروف الى الناس يقي صاحبها مصارع السوء والآفات والهلكات وأهل المعروف في الدنيا هم اهل المعروف في آلآخرة»(المستدرك429) 
6 : قیام اللیل کا اہتمام کرنا:تہجد کی نماز اللہ سے قریب کرتی ہے،برائی سے روکتی ہے،خطاؤں کو مٹاتی ہے اور بیماری کو جسم سے دور کرتی ہے« عليكم بقيام الليل فانه دأب الصالحين قبلكم وإن قيام الليل قربة الى الله ومنهاة عن الإثم وتكفير للسيات ومطردة للداء عن الجسد» (الترمذي)
   (2)احتیاطی تدابیر اختیارکرنا:ماہراطبا کی طرف سے بہت ساری ہدایتیں بتائی جارہی ہیں کہ ہم ایک میٹر کی دوری سے بات کریں ،ماسک لگائیں، ہاتھ نہ ملائیں، اپنے ناک ومنھ چھونے سے گریز کریں،دن میں تین چار بار صابون وغیرہ سے ہاتھ صاف کریں اور گھروں کو لازم پکڑیں-اسلام کے کچھ ہدایات درج ذیل ہیں-
  1 : بیمار شخص سے دور رہنا:اللہ کے رسول نے فرمایا کوڑھ کے بیمار سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو”وفر من المجذوم كما تفر من الأسد”(بخاری 5707)اس معنی کی ایک اور حدیث ” لا يوردن ممرض على مصح”(بخاری5771)
  2 : ترک مصافحہ کرنا:وفد ثقیف میں ایک شخص کوڑھ والا تھا اللہ کے رسول نے کہا کہ ہم نے تم سے بیعت کر لی ہے لہذا تم واپس چلے جاؤ«انا قدبايعنا فارجع»(مسلم2231)اس واقعہ میں اللہ کےرسول اس آدمی سے ہاتھ ملائے اوروہ مدینہ میں قیام کرےاس سےمنع کردیا-
   3:جان لیوا بیماری والی جگہ سے دور رہنا:حدیث رسول ہے کہ جب تم کسی طاعون والی جگہ کے تعلق سے سنو تو وہاں نہ جاؤ اور کہیں ایسی جگہ میں ہو جہاں یہ بیماری عام ہو تو وہاں سے راہ فرار اختیار نہ کرو«فاذا سمعتم بأرض فلا تقدموا عليه واذا وقع بأرض وأنتم بها فلا تخرجوا فرارا منه»(بخاری 6973)اس پہ عمل کرتے ہوئے ولید بن عبد الملک سب سے پہلے «قرنطینہ»کی داغ بیل ڈالا تھا-اسے اس وقت سب سے کارگر علاج مان کر ایک طرح سے پوری دنیا lock down کردی گئی-
   4:برتن وغیرہ ڈھانپنا: کھانے پینے کی برتنوں کو ڈھاپنے کا حکم سنت نبوی سے ملتا ہے اس سبب کے ساتھ کہ سال میں ایک رات ایسی ہے جس میں بیماری نازل ہوتی ہے اور کھلے برتنوں میں اپنا مسکن بنالیتی ہے«غطوا الإناء واؤكوا السقاء فان في السنة ليلة ينزل فيها وباء لايمر بإنا ليس عليه غطاء أو سقاء ليس عليه وكاء الا نزل فيه من ذالك الوباء»(مسلم5374)لہذا ہر طرح کی برتنوں کو خواہ چھوٹا ہو یا بڑا استعمال کے لائق ڈھانپ کے رکھے-
   5:ہاتھ پیر اورچہرا وغیرہ دھولنا:صفائی ستھرائی اسلام کے خاص اور اہم پیغامات میں سے ہے-اللہ تعالی نے دوسری وحی میں ہی (وثيابك فاطهر والرجز فاهجر)فرماکر ہر نوعیت کی گندگی وپالیدگی سے پاک وصاف رہنے اور سماج ومعاشرہ کو بھی برائی وگندگی سےبچنے کی تلقین کرنے کا حکم جاری کیا-اسی طریقہ سے ہر نماز کے لیے وضو کو ضروری قرار دیا تاکہ لوگ اپنے جسم کے عام حصہ کو دھوتے رہے(يا أيها الذين آمنوا آمنوا إذا قمتم الى الصلوة فاغسلوا وجوهكم وأيديكم إلى المرافق وامسحوا برؤسكم وأرجلكم إلى الكعبين)
    (3)اسلامی ہدایت کے ذریعہ دم کرنا:اللہ پہ توکل،اعتقاد،اعتماد،توبہ واستغفار اور احتیاطی اسباب وذرائع کے باوجود یہ جان لیوا بیماری ہوجائے تو اسلامی احکام کی روشنی میں دم کرے -دم کرنے کی کی کئی ایک صورتیں ہیں-
    1:صورہ فاتحہ کے ذریعہ دم کرنا:چند صحابۂ کرام کسی سفر میں ایک عرب قبیلہ سے گزررہے تھے کہ اس قبیلہ کے سردار کو سانپ یا بچھو نے کاٹ لیا یا کوئی بیماری ہوگئی -قبیلہ کے ایک آدمی نے صحابہ سے پوچھا کہ آپ میں سے کوئی دم کرنا جانتا ہے ؟ایک صحابی گئے اورفاتحہ کے ذریعہ دم کیے.وہ صحیح ہوگیا چنانچہ سردار نے چند بکریاں تحفہ میں دیاتو صحابہ کرام لینے سے انکار کیا کہ ہم پہلے اللہ کے رسول سے پوچھین گے، اللہ کے رسول مسکراتے ہوئے بولے تمہیں کیسے معلوم کہ فاتحہ رقی ہے؟پھر کہا کہ لے لو اور مجھے بھی شریک کرلو(بخاری 5736مسلم 5784)
    2:اخلاص اور معوذتین کے ذریعہ:حضرت عائشہ بیان کرتی ہے کہ اللہ کے رسول جب بستر پہ آتے تو(قل هو الله أحد اور معوذتین) پڑھتے اور دونوں ہتھیلی پہ دم کرتے پھر چہرے سے جہاں تک ہاتھ پہنچتا بدن پہ پھیرتے-حضرت عائشہ مزید کہتی ہیں کہ مجھے بھی اس کا جکم دیتے(بخاری 5748)
   3:رقئ رسول کے ذریعہ:انس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ مجھے پریشانی ہے-حضرت انس نے کہا رقئ رسول کے ذریعہ دم کردوں؟اس نے ہاں کہا-حجرت انس اس دعا کے ذریعہ دم کردیا«اللهم رب الناس مذهب البأس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت شفاء لا يغادر سقما (بخاری 5742)
    4:بیماری کی جگہ ہاتھ رکھ کر اللہ سے پناہ مانگنا:حضرت عثمان بن ابو العاص الثقفی اللہ کے رسول سے شکایت کیا کہ جب سے اسلام لایا میرا بدن میں درد ہے-اللہ کے رسول نے سکھیا کہ درد کی جگہ ہاتھ رکھو اور تین مرتبہ «باسم الله» اور سات مرتبہ «أعوذ بالله وقدرته من شر ماأجد واحاذر»پڑھو(مسلم5788) 
     (4)علاج ومعالجہ کرنا:جھاڑ پھونک کے ساتھ ساتھ علاج کا بھی اہتمام کرے کیوں کہ دنیا میں کوئی ایسی بیماری نہیں جس کی دوا اور علاج نہ ہو-
   1:زمزم کے پانی سے علاج کرے:زمزم کا پانی ہر اس بیماری کاعلاج ہے جس کے لیے پیا جائے«ماء زمزم لما شرب له»أخرجه أحمد في المسند 14849)وصححه الباني
   2:کلجیرا سے :کلجیرا موت کے سوا ہر بیماری کی دوا ہے«عن ابي هريرة رضي الله عنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن في الحبة السوداء شفاء من كل داء إلا السام»قال ابن شهاب والسام الموت والحبة السوداء الشونيز(بخاری 5687مسلم 5818)
    3:شہد سے:ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اللہ کے رسول کے پاس آیا اور کہا کہ میرے بھائی کے پیٹ میں گڑبڑی ہے -اللہ کے رسول نے فرمایا”اس کو شہد پلاؤ”دوسری تیسری بار بھی شہد پلانے کہا گیا یہاں تک کہ چوتھی بار آیا اور کہا کہ ہم نے ایسا (شہد) کیا-اللہ کے رسول نے فرمایا کہ اللہ کا فرمان سچ ہے اور تمہارا بھائی کے پیٹ نے چھٹلادیااسے شہد پلاؤ-بہر حال وہ شہد پلایا گیا اور وہ شفایاب ہوگیا(بخاری5684مسلم2217)
    4:اونٹ کے پیشاب وگوبر سے:کچھ لوگ مدینہ تشریف لائے مگر انہیں مدینہ کا آب وہوا راس نہیں آیا تو اللہ کے رسول نے انہیں اونٹ کے پیشاب ولید پینے کا حکم دیا-انہوں نے ایسا کیا تو وہ ٹھیک ہوگئے(بخاری5686مسلم1671)
   دعا ہے پروردگار سے کہ ہمیں ذکر واذکار،نماز ونوافل کے اہتمام کرنے کی توفیق دے اور ہمت وحوصلہ سے کام لینے کی جرأت سے نوازے اور ہمارا خاتمہ بالخیر کرے(آمین)
 
   عقیل مبارک تیمی آمدہ باد کٹیہار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *