Thu. May 6th, 2021
ہندستان میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال
                            عقیل مبارک تیمی 
  ہندستان ایک جمہوری ملک ہے- کہنے کو تواس ملک میں ہر مذہب اور ہر شخص کو کھلی آزادی ہے.مگر اکثریت آج اقلیت کا جنازہ نکالنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہی ہے-اقلیت میں اکثریت ایک مسلمانوں کی ہے-یوں تو اس دیش میں یہ قوم اپنی قربانی،بےلوث محبت اور حب الوطنی کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے-اکثر سیاسی جماعتیں اپنی کرسی انہیں لوگوں کو مدعا بناکر حاصل کرتی ہیں اس لیے بھی انہیں متعدد طرح سے نشانہ بنایاجاتا ہے-مگر اب کی بار سرحد پارکانعرہ بلند ہورہا ہے-یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو اس کے لیے مسلمانوں کو کبھی دہشت گردی کا نام دیا جاتا ہے، کبھی” لو جہاد “کے نام پے نوجوان سلاخوں کے حوالے کردیے جاتے ہیں، کبھی گئوکشی کے نام پر مسلمانوں کو کیفر کردار تک پہنچائے جاتے ہیں کبھی بچہ چوری کے نام پر یہ مارے پیٹےجاتےہیں،کبھی ہجومی تشدد کی صورت میں ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے،الغرض انہیں ہر طرح سےکھدیڑاجاتا ہے-ایسے وقت میں ہمارے علماوملی قائدین ان مظلوم مسلمانوں کو انصاف دلانےاور ان کے مسائل حل کرنے میں پورے طور سے کھرے نہیں اتر پارہے ہیں -جس کی وجہ سے عوام کا قائدین سےتعلق ٹوٹتا نظرآرہا ہے جو کسی بھی قوم کی زوال وپستی کی سب سے بنیادی وجہ ہے-خیر اس صورت حال میں ایک عام مسلمان اور شہری کی کیا کیا ذمہ داریاں بنتی ہیں -اس کی تفصیل درج ذیل ہے-
   1–اس وقت ہماری حالت نا گفتہ بہ ہے-ان دگرگوں حالات سے پرے ہونےکےلیےکتاب اللہ اور فرامین رسول کو حرزجاں بنانا ہوگاجیساکہ فرمان رسول ہے “تركت فيكم امرين لن تضلواما تمسكتم بهماكتاب الله وسنة نبيه” 
   2–تعلیم حاصل کرنا:انسانی تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتاہےکہ دنیا میں وہی قوم طاقتور،مضبوط اورباعزت رہی جن کے پاس علم کا خزینہ رہافرمانی باری تعالی ہے”والذين اوتواالعلم درجات”
  3–اقتصادی اعتبارسے مضبوط ہونا:پیسہ کمانااورآگے بڑھنایہ انسانی ضروتوں میں سے ہےاورشریعت میں ایک ممدوح عمل ہے -دراصل زکوۃ تجار،جاگیردار،اوراہل ثروت سے ہے-یہ ارکان اسلام کا ایک اہم حصہ ہے اور خدمت خلق کا ذریعہ بھی ہے- لہذا اس نیت سے پیسہ کمانا کہ اس سےاپنی بھلائی کے ساتھ دوسروں کی بھی بھلائی ہو اور غربت و افلاس کا خاتمہ ہو تو یہ باعث ثواب اور نیکی کا کام ہے ، اسی کے ذریعہ رفاہ عامہ میں عظیم و نمایاں خدمات انجام دیے جا سکتے ہیں – 
    4–نظام کائنات میں فکر ونظر اور قدرتی تخلیق میں غوروفکر:اللہ تعالی نے بارہاقرآن کریم  میں آسمان وزمین،چاند وسورج،ستارے وسیارے اور انسانی تخلیق میں غوروفکر کی دعوت دی ہے وہ اس لیے کہ دنیا انہیں چیزوں سے بنی ہے اور انہیں میں دنیا کی ترقی وعبرت کا راز پنہاں ہے-“اولم ينظروا في ملكوت السموات والأرض وما خلق الله من شيء” دوسرے مقام میں فرمایا”قل أنظرواماذا في السموات والأرض “شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا قول ہے کہ عبرت حاصل کرنے کےلیے علوی اور سفلی مخلوقات میں غوروفکرکاحکم دیاگیااوراس کی ترغیب بھی دلائی گئی ہے- 
   5–ملک کی بدلتی حالات پے نگاہ رکھنا:ملک کی بدلتی حالات اور ان کے اسباب وعلل جاننا اور اپنی قوم کو آگاہ کرنا کہ یہ شرانگیزی کیوں ہوتی ہے؟اور کون لوگ انجام دیتے ہیں ؟اورکن کوفائدہ ہوتا ہے؟    
   6-مسلمانوں میں تعلیم عام کرنا:علماودعاۃ عوام کی تربیت کرتے وقت اس پر خصوصی توجہ دیں کہ عوام دیگر جگہوں مثلا مارکیٹ اور چائے دکان وغیرہ میں تعلیم، سیاست اور سماجی پچھڑاپن وغیرہ کے تعلق سے  خوب گفتگو کریں اور کوئی مثبت نتیجہ نکالنے کی کوشش کریں کیوں كہ عوام علما سے مسئلے کا حل چاہتی ہےاوراس وقت سیاسی پیچ وخم سے بچنے کی تدبیریں پیش کرنا مسئلے کا حل ہے-
  7–نبیوں والا عمل کرنا: یعنی امر بالمعروف ونہی عن المنکر کہ اچھاکام کرے،برائی سے روکے،برائی سےدور رہےاور برائی سے بچنے کی تلقین کرے-اس ردعمل کو اللہ کہیں”کنتم خیرامة”کہا،کہیں”اولئک من الصالحین”کہا،کہیں “اولئک المفلحون”کہا،کہیں”اولئک سیرحمہم الله” کہا-جس میں کامیابی اور سر بلندی ہے-
 
    8–صبر وتحمل سے کام لینا :مصائب وآلام، شرانگیزی،فتنہ وفساد اور ظلم وزیاتی کالامتناہی سلسلہ دو وجہوں سے آتا ہے -پہلی وجہ انسان کی برائی کابرا نتیجہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے مصیبت آتی ہے –  جیسا کہ اس کافرمان ہے “ظهرالفساد في البروالبحر بما كسبت أيدي الناس”اس کا علاج توبہ واستغفار ہے-دوسری وجہ ابتلا وآزمائش ہے”ولنبلونكم بشيء من الخوف والجوع ونقص من الأموال والانفس والثمرات وبشر الصابرين”اور یہ نیک بندوں کے ساتھ خاص ہے-ان صورتوں میں صبر روح حیات ہے-“وإن تصبروا وتتقوا لايضركم كيدهم شيئا”قرآن کریم میں اللہ نے صبرکو الگ الگ جگہوں میں الگ الگ فائدے سے جوڑا ہےیہاں باطل طاقتوں کا یلغار،شورش،سازش،مکروفریب نقصان دہ نہیں ہو سکتااگر صبر کیا جائے –
9–حقوق کی ادائیگی:کوئی بھی حکومت دیرپا اس وقت تک رہی جب تلک وہ دوسروں کے حقوق کی پامالی سے بچتی رہی اور عدل وانصاف سے کام لیتی رہی-اسی طرح وہی سماج خوشحال ہے جہاں آپسی رواداری ہے،اخوت وبھائی چارہ ہے،اس کی مثال ہجرت مدینہ کےبعد مدینہ میں انصار ومہاجرین کے درمیان بھائی چارہ ہے 
10–اتحاد کو لازم پکڑنا:آج ہمارا طبقہ چاہے اجتماعی ہو یاانفرادی معمولی وجہ سے الگ ہوجاتا ہے اور خلفشار کے شکارہوجاتا ہے جبکہ اتحاد ہم مسلمانوں کی آن بان شان اور پہنچان ہے-اس نسخہ کیمیہ کو اپنانا ہوگاورنہ ہماری پسپائی مسلم ہے-فرمان باری تعالی اسی پے دال ہے”فتفشلوا وتذهب ريحكم”
 11–)منفی activities سے گریز:شوسل میڈیا کے الم غلم کاچرچاکرے،پوسٹ وشئرکرے اور نہ ہی فار ورڈ کرے-ایک تو یہ قانونی جرم ہےاور فتنہ پرور ذہنیت اسی کے گھات میں بیٹھی ہے-دوسری بات یہ ہے کہ یہ شریعت کے خلاف ہےجیسا کہ فرمان باری تعالی ہے”ولا تقف ما ليس لك به علم ان السمع والبصر والفواد كل أولئك كان عنهم مسؤولا”اسی طرح سے منفی تقریر نہ کرے،منفی خطبہ نہ دےاور نہ ہی منفی مضمون لکھے-مطلب قول وعمل میں چوکس رہے، دانائی سے کام لے اور غور وفکر کے بعد حکم لگائے-
   12–ملامت اور فتوی بازی سے گریزکرنا:آج مسلم معاشرہ بآسانی دوسروں پے کیچڑ اچھالتے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں- یہاں تک کہ عبادت گزار اپنے سے کمتر لوگوں کی تکفیر سے بھی اجتناب نہیں کرتے ہیں جبکہ تکفیر شخصی باطل عمل ہے اوراس سےسماج کے اندر برائی کا ماحول پیدا ہوتاہے-
   13–توبہ واستغفار کرے:غلطی کرنا انسان کی فطرت میں ودیعت ہےاس لیے انہیں توبہ کرنے کاحکم ملا” واستغفرالله ان الله كان غفورا رحيما”اور ساتھ ہی اس میں کامیابی بھی رکھافرمایا”وتوبوا الی الله جميعاً أيها المؤمنون لعلكم تفلحون”یعنی پسپائی کے وقت ندامت وپشیمان ہوجاؤ تاکہ تمہیں عزت وسربلندی ملے-
   خلاصہ کلام یہ ہےکہ اس وقت ہم مسلمانوں کو یہ اور ان جیسی مزیدباتوں پے عمل کرناہوگااوراپنی تربیتی اصول، طریقے،اور زاویہ پے نظر ثانی کرنا ہوگااوراس میں حالات کے موفق تبدیلی لانا ہوگاتاکہ ہماری حالت بہتر سے بہتر ہواور اس میں اللہ کا تعاون کارفرما ہو-“ان الله لا يغير بقوم حتى يغيروا ما بأنفسهم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *