Fri. Jan 15th, 2021
علم میراث

                                                                                                       صادق جمیل تیمی 

 اسلام ایک دین ِ فطرت ہے،ایک جامع اورہمہ گیردستورِ حیات ہے،اس کی تمام تعلیمات وہدایات ایک طرف جہاں زندگی کے تمام شعبہ ہائے کو محیط ہیں وہیں ان میں مزاج انسانی اور انسانی جبلت کا بھرپور خیال رکھا گیا ہے۔عبادات ہوں یامعاملات،اخلاقیات ہوں یااقتصادیات،مناکحت ہویامعاشرت،غرض ہرشعبہ میں تعلیمات اسلامی اپنی ٹھوس و مستحکم ہدایات سے ایک ایسی شمع فراہم کرتی ہیں جو دیگر مذاہب فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔اسلام  کامزاج یہ ہے کہ مال ودولت پرچندمخصوص افرادکی اجارہ داری نہ ہو؛بلکہ اس کاکثرت سے انسانی معاشرہ میں لین دین ہو،ایسانہ ہوکہ سرمایہ دارطبقہ مال ودولت پرسانپ بن کربیٹھ جائے،اورغریب وتہی دست طبقہ نانِ شبینہ کے لیے ترسے اورکوڑی کوڑی کامحتاج ہوجائے،بلکہ دولت کی تقسیم کاعمل خوب سے خوب انجام پائے۔مالیات سے متعلق اسلام کاجومنظم اورمنصوبہ بندنظام ہے مثلا:زکاۃ،صدقہ فطر،عشر،خراج،صدقات ِنافلہ،کفارہ مالیہ وغیرہ،ان کااگرکوئی انصاف پسندجائزہ لے تووہ برملا اظہار کرنیپرمجبورہوجائے گاکہ روئے زمین پراسلام ہی وہ واحدمذہب ہے جومال ودولت کی منصفانہ تقسیم پرزوردیتاہے،اورفاقہ،بھوک مری،اورغربت وتنگ دستی سے نجات دلاتا ہے۔دنیاسے بھوک مری اسی وقت مٹ سکتی ہے جب اسلام کے مالی نظام کو نافذ کیا جائے گا۔

اسلام کاقانون ِمیراث

                اسلام کاقانون ِمیراث بھی اسی حکمت ِخداوندی کاخاص مظہرہے،اسلام کاآفتاب طلوع ہونے سے پہلے وراثت کی تقسیم میں عجیب وغریب قسم کی افراط وتفریط پائی جاتی تھی،زمانہ جاہلیت میں میراث کاحقداران لوگوں کوسمجھاجاتاتھاجومیدان ِکارزارمیں شجاعت وبہادری کاجوہردکھلانے اوردشمنوں کے دانت کھٹے کردینے کی صلاحیت رکھتے تھے،عورتوں اورنابالغ بچوں کومیراث سے محروم رکھاجاتاتھا،یہودیوں کے یہاں بڑے لڑکے کوپوری میراث کامستحق قراردیاجاتاتھا۔شریعت ِاسلامیہ نے میراث کی تقسیم کے حوالہ سے ایک متوازن اورمنصفانہ نظام تشکیل دیاہے،مردوں اورپختہ کارجوانوں کے ساتھ معصوم بچوں کوبھی ترکہ کاحقدارقراردیا،ان عورتوں کوبھی ترکہ سے حصہ دلایاجنہیں بالکلیہ تمام مذاہب ِعالم میں قابل ِاعتنانہیں سمجھاگیاتھا۔

میراث کی منصفانہ تقسیم:اہمیت و ضرورت

                قانون میراث کو اس حیثیت سے امتیازی مقام حاصل ہے کہ اللہ رب العزت نے اس کی تمام جزئی تفاصیل کو قرآن مجید میں بیان کردیا ہے۔ صلوٰۃ اور زکوٰۃ جیسی اہم عبادتوں کی تفصیل اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نہیں بیان فرمائی ان کی ادائیگی کے طور طریقے کی وضاحت کی ذمہ داری نبی کریم ﷺ کے سپرد کردی۔ اس کے بالمقابل قانون میراث کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے خود نہایت تفصیل کے ساتھ ایک ایک رشتہ دار کی تعیین کر کے ان کے حصہ کی مقدار متعین کرتے ہوئے بیان فرمایا۔ قانون میراث کی اس انفرادی خصوصیت کے بعد مزید کسی اور دلیل کی ضرورت ہی نہیں باقی رہتی کہ اسے اس ثبوت کے طور پر بیان کیا جائے کہ شریعت کے مطابق میراث کی تقسیم ضروری ہے۔ قرآن مجید اور صحیح احادیث سے کسی مسئلہ کے واضح ہوجانے کے بعد کوئی شخص اس پر عمل نہ کرے اور اس سے بچنے کے لیے بہانے تلاش کرے تو اسے اپنے دعوائے ایمانی پر نظر ثانی کرلینی چاہئے۔

                آیت میراث سے پہلے مقدمہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے جن آیات کو بیان کیا ہے وہ انتہائی اہم ہیں۔ ارشاد ہے:للرِّجَالِ نَصِیبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَٰلِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِیبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَٰلِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ أَوْ کَثُر نَصِیبًا مَّفْرُوضًا،،’والدین اور قریبی رشتہ دار جو کچھ مال و دولت چھوڑ جائیں اس میں مردوں کا حصہ ہے اور عورتوں کا بھی اس مال میں حصہ ہے جو ان کے والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ کر مریں۔ خواہ وہ کم ہو یا زیادہ یہ حصے (اللہ کی طرف سے) مقرر کئے ہوئے ہیں۔

مذکورہ آیت سے معلوم ہواکہ (الف)۔ میراث کے حق دار صرف مرد ہی نہیں بلکہ عورتیں بھی اس کی حقدار ہیں۔ لہٰذا صرف اولاد نرینہ کو میراث کا حق دار ٹھہرانے والوں کی اس آیت میں زبردست تردید ہے۔

(ب)۔میراث کی تقسیم ہر حال میں ہونی چاہئے خواہ مال کتنا ہی کم کیوں نہ ہو یہاں تک کہ اگر دس گززمین ہو اور دس وارث ہوں تو قرآن مجید میں بتائے گئے طریقے کے مطابق ان میں تقسیم کیا جائے گا۔ ”مِمَّا“ کے لفظ کے عموم ہی سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اس میں جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ، زرعی اور غیر زرعی، دوکان یا مکان کسی قسم کی تفریق نہیں کی جائے گی۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی شخص ان میں سے اپنا حصہ بیچ کر الگ ہوجائے یا بغیر معاوضہ کے اپنا حق کسی کو دے دے۔

                اللہ تعالیٰ نے لڑکیوں کے حصہ کو اصل بنا کر اسی کے مطابق میراث کی تقسیم کا قاعدہ بیان فرمایا ہے، چنانچہ ارشاد ہے: یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَیَیْنِ فَإِن کُنَّ نِسَاء فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَہُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ وَإِن کَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَہَا النِّصْفُ(النساء:۱۱)”اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں ہدایت کرتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہے۔“معلوم ہا کہ لڑکے کا حصہ نکالنے سے پہلے لڑکی کا حصہ متعین کرنا ہوگاجس کو بنیاد بناکر لڑکے کے حق کی تعیین کی جائے گی۔ اس سے لڑکیوں کے حق کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ افسوس کہ یہ بات صرف پڑھنے پڑھانے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

                قانون میراث کے ایک حصہ کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے عرب جاہلیت کی اس غلط فکر کو نشانہ بنایا ہے جس کی بنیاد پر وہ اپنے چھوٹے بھائیوں کو جو لڑائی میں حصہ نہیں لے سکتے تھے میراث میں حصہ نہیں دیتے تھے، اسی قاعدہ کی بنیاد پر وہ عورتوں کو بھی میراث کا حق دار نہیں سمجھتے تھے کیو ں کہ وہ بھی ان کی نظر میں غیر مفید تھیں۔ استحقاقی میراث کے خالص مادہ پرستانہ نظریہ کی قرآن نے بہت ہی اچھے اور عمدہ طریقے سے تردید فرمائی اور کہا:آبَاؤُکُمْ وَأَبْنَاؤُکُمْ لاَ تَدْرُونَ أَیُّہُمْ أَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا فَرِیضَۃً مِّنَ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ کَانَ عَلِیمًا حَکِیمًا،”تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون نفع کے اعتبار سے تم سے زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے اللہ نے مقرر کردئے ہیں، اور اللہ یقیناجاننے والا اور بردبار ہے۔“

                مذکورہ بالا آیات کی روشنی میں ہمیں اپنامحاسبہ کرنا چاہئے کہ ہم اسلام کے کتنے اہم حکم کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے رویہ میں تبدیلی لائیں اور اسلام کو مکمل طور پر اپنی زندگی کے تمام گوشوں میں نافذ کریں۔ بعض احکام پر عمل کرنا اور بعض احکام کو اپنی مرضی کے مطابق نہ پاکر ان پر عمل نہ کرناایسا قبیح عمل ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو پھٹکار لگائی ہے اوران کی لت و رسوائی کا ذمہ دار ان کے اس عمل کو قرار دیا۔ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاءُ مَنْ یَفْعَلُ ذَلِکَ مِنْکُمْ إِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُرَدُّونَ إِلَی أَشَدِّ الْعَذَابِ وَمَا اللَّہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ(البقرۃ:85)”کیا تم کتاب کے ایک حصہ پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصہ کے ساتھ کفر کرتے ہو تم میں سے جو لوگ ایسا کریں ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیئے جائیں۔ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے غافل نہیں ہے۔“

میراث کے اصول

٭ قرآن مجید میں تقسیمِ وراثت پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے _ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دین کے دیگر احکام کی صرف اصولی اور بنیادی باتیں قرآن میں بیان کی گئی ہیں، ان کی تفصیلات و جزئیات احادیث سے معلوم ہوتی ہیں، لیکن میراث کے تفصیلی احکام قرآن مجید ہی میں بیان کردیے گئے ہیں۔

٭ وراثت کے جملہ احکام سورہ  النساء میں مذکور ہیں _ آیات 7 تا 10 میں اس سے متعلق چند بنیادی باتیں ذکر کی گئی ہیں اور ہر حال میں تقسیمِ وراثت پر ابھارا گیا ہے _ آیات 11 و 12 میں مستحقین کے حصے بیان کیے گئے ہیں۔ آیت 13 میں اس حکم پر عمل کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے اور آیت 14 میں اس پر عمل نہ کرنے والوں کو جہنم کی درد ناک سزا کی وعید سنائی گئی ہے _ آیت 176 میں بھی وراثت کے بعض احکام مذکور ہیں۔مزید معلومات کے لیے مستند تفسیر میں ان آیات کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔

٭اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وراثت میں عورتوں کا بھی حصہ ہے _ (النساء:7) دنیا کے تمام مذاہب اور تمام تہذیبوں نے اس معاملے میں عورتوں کی حق تلفی کی ہے۔ یہ اسلام کا امتیاز ہے کہ اس نے اس کا حق تسلیم کیا ہے اور اس کی ادائیگی کی تاکید کی ہے۔

٭قرآن کا حکم ہے کہ مالِ وراثت چاہے جتنا کم سے کم ہو، یا چاہے جتنا زیادہ سے زیادہ، اسے لازماً تقسیم ہونا چاہیے (النساء:7) مفسرینِ کرام نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اگر ایسا سامان ہو جو صرف مردوں کے استعمال کا ہو، عورتوں کے کام کا نہ ہو تو بھی لازماً اس کی تقسیم ہونی چاہیے۔

٭ قرآن کہتا ہے کہ ہر مستحق کا حصہ متعین کردیا گیا ہے _ اسی کے مطابق ٹھیک ٹھیک تقسیم ہونی چاہیے _ اس میں کمی یا زیادتی کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے اور یہ تقسیم اختیاری یا ترجیحی نہیں، بلکہ لازمی ہے _ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض کردہ ہے”نَصِیْباً مَفْرُوْضاً (النساء:7)

٭وراثت کی تقسیم کسی شخص کے مرنے کے بعد ہی ہوسکتی ہے، اس کی زندگی میں نہیں، البتہ زندگی میں وہ کسی کو ہبہ یا وصیت کرسکتا ہے۔

٭ وراثت کی تقسیم میّت کی تجہیز و تکفین کے مصارف نکالنے، قرض ادا کرنے اور وصیت پوری کرنے کے بعد باقی مال میں کی جائے گی۔

٭ مستحقینِ وراثت چاہیں تو اپنی مرضی سے کسی دور کے رشتے دار یا متعلق کو مالِ وراثت میں سے کچھ دے سکتے ہیں (النساء:8)

اسی طرح کوئی مستحقِ وراثت اپنی آزاد مرضی سے اپنا حصہ چھوڑ سکتا ہے یا وراثت کے کسی دوسرے مستحق یا غیر مستحق کو دے سکتا ہے۔

٭میّت کے وہ رشتے دار وراثت کے مستحق ہوتے ہیں جو اس کے انتقال کے وقت زندہ ہوں _ جن کا انتقال اس کی زندگی میں ہوگیا ہو وہ مستحقِ وراثت نہیں ہوسکتے _ مثلاً کسی شخص کے 3 بیٹے ہوں، ایک بیٹے کا انتقال اس کی زندگی میں ہوجائے تو اس شخص کے انتقال کے وقت مرحوم بیٹے یا اس کی بیوہ اور بچوں کا حصہ نہیں لگے گا _

٭ جن مستحقین کے حصے قرآن مجید میں بیان کردیے گئے ہیں وہ ‘اصحاب الفرائض’ کہلاتے ہیں _ دوسری کڑی ‘عصبہ کی ہے _ فقہاء نے میّت سے رشتے کی قربت اور دوری کے اعتبار سے ان کے مراتب متعین کردیے ہیں _ تیسری کڑی’ ذوی الارحام’ کی ہے _ پہلے وراثت اصحاب الفرائض میں تقسیم کی جائے گی، اس کے بعد اگر کچھ مالِ وراثت بچے گا تو وہ عصبہ میں تقسیم ہوگا _ وہ نہ ہوں تو ذوی الارحام کو دیا جائے گا۔

٭ ماں، باپ، بیوی، شوہر، بیٹا، بیٹی کسی بھی صورت میں وراثت سے محروم نہیں ہوتے _

٭بیٹی أصحاب الفرائض میں سے ہے، لیکن اگر بیٹا بھی ہو تو بیٹی عصبہ بن جاتی ہے اور دونوں کو 2:1 کے تناسب سے وراثت ملتی ہے _

٭بعض صورتوں میں مرد اور عورت کو برابر وراثت ملتی ہے _ مثلاً اگر میّت کی اولاد بھی ہو اور ماں باپ بھی زندہ ہوں تو ماں باپ ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا _

٭ جن صورتوں میں عورت کو مرد کے مقابلے میں نصف ملتا ہے اس کی وجہ اسلام کا نظامِ معاشرت ہے _ اسلام نے خرچ کرنے کی ذمے داری عورت پر نہیں ڈالی ہے، بلکہ مرد کو اس کا ذمے دار بنایا ہے _ عورت جو کچھ پاتی ہے وہ اس کے پاس محفوظ رہتا ہے، جب کہ مرد جو کچھ پاتا ہے اسے اپنے بیوی بچوں اور ماں باپ پر خرچ کرنا ہوتا ہے۔

٭کسی شخص کے کئی بیٹے ہوں، ایک بیٹے کا انتقال اس کی زندگی میں ہو جائے تو اس شخص کے انتقال کے وقت مرحوم بیٹے کی بیوہ اور بچوں کا حصہ نہیں لگے گا، لیکن وہ شخص اپنی زندگی میں بیوہ بہو اور یتیم پوتوں اور پوتیوں کو جتنا چاہے ہبہ کرسکتا ہے، یا ایک تہائی کے بہ قدر وصیت کرسکتا ہے _ اگر ایسا نہ ہوا تو بھی یتیم بچوں کی کفالت کی ذمے داری چچا پر عائد ہوتی ہے۔

٭احکامِ وراثت سے مسلم سماج بالکل بے گانہ ہے _ اسے نہ اس کی خبر ہے اور نہ اس کے اندر اس پر عمل کا جذبہ پایا جاتا ہے۔

میراث کی صحیح تقسیم نہ کرنے پروعید

                دین ِ اسلام کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ دیگرمذاہب کی طرح صرف اصول وقوانین ہی وضع نہیں کرتا؛بلکہ ان پرعمل آوری کویقینی بنانے کے لیے ٹھوس اورپختہ اقدامات بھی کرتاہے،امت ِمسلمہ میں طاعت وقبول کی شمع فروزاں کرنے میں عقیدہ آخرت غیرمعمولی اوراہم کرداراداکرتاہے۔شریعت کے منشا کے خلاف قدم اٹھانے میں سد ِراہ ثابت ہوتاہے،قانون اورپولیس کاخوف اسے دامن گیرنہیں ہوتا؛اسے تواس خداکاخوف دامن گیرہوتاہے جوانسان کے ظاہروباطن سے یکساں طورپرواقف ہے۔قانون ِمیراث پرعمل آوری کویقینی بنانے کے لیے اسلام نے مسلمانوں میں جزاوسزاکاعقیدہ مستحضرکیاہے،چنانچہ میراث کی تقسیم میں کوتاہی کرنے والوں کے لئے قرآن وسنت میں سخت وعیدبیان کی ہے،اوران کواللہ کے غضب وغصہ کاحقدارٹھہرایاہے،اللہ تبارک وتعالی کاارشادہے:و من یعص اللہ و رسولہ و من یتعدد حدودہ یدخلہ ناراً خالداً فیہا،،جوشخص اللہ اوراس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اوراس کے مقررکردہ حدودسے تجاوکرے گاتواسے اللہ جہنم میں داخل کرے گا،جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا،اوراس کے لیے ذلت آمیزعذاب ہوگا۔(النساء:۱۴) اسی طرح حدیث رسول ﷺ ہے ”من اقتطع شبراً من الأرض ظلماً طوقہ اللہ یوم القیامۃ من سبع أرضین،،یعنیجوشخص ناحق ایک بالشت زمین بھی غصب کرے گاقیامت کے دن اسے سات زمینوں کاطوق پہنایاجائے گا،(شرح النووے علی مسلم: 1610)

                مذکورہ نصوص سے جہاں عدم تقسیم میراث کی وعید سامنے آتی ہے وہیں پر میراث کو اس کے مستحقین تک پہنچانے کی تلقین بھی ہے اور یہ کہ انسان اس معاملے میں حد سے تجاوز نہ کرے بلکہ ہدایات ربانی اور فرمودات رسول ﷺ کی روشنے میں میراث کی تقسیم کرے،اسی میں بھلائی ہے ورنہ جہنم کی آگ اور زہریلا سانپ کے ڈنک کے لیے تیار ہو جائے۔

میراث کی تقسیم میں تاخیر

                میراث کی عدم تقسیم اور اسے مستحقین تک نہ پہنچانے میں جو شرعی حدود اور اخروی عذاب مقررہے اس کے علی الرغم مسلم سماج کی تقسیم میراث پر نظر ڈالی جائے تو بڑی مایوسی ہوتی ہے کہ کمزور و لاغر سگے بھائیوں اور بہنوں کو محروم رکھا جاتا ہے۔شرعی حدود و قوانین و تقسیم میراث کے علم کے باوجود بھی اس پر عمل در آمد نہیں ہوتا ہے۔یعنی یہ دوسروں کا مال کھانا ہوا اس سلسلے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔”ولا تأکلوا أموالہم الی أموالکم،،(النساء:2)

                میراث کی تقسیم کے حوالہ سے ایک کوتاہی ہمارے مسلم سماج میں یہ پائی جاتی ہے کہ مورث کے مرنے کے بعدمیراث کی تقسیم میں بلاوجہ تاخیرکی جاتی ہے،اورمیت کے انتقال کے وقت اس کے مال پرجس وارث کاقبضہ ہوتاہے،ایک لمبے عرصے تک وہ اسی کے قبضہ میں رہتاہے،اوراس کے منافع سے مستفیدہوتاہے،میراث کی تقسیم میں تاخیربہ ظاہرایک معمولی اورغیراہم چیزمحسوس ہوتی ہے؛تاہم آگے چل کراس سے بہت سے مفاسداورنقصانات ہوتے ہیں،اورکئی ناخوش گوارنتائج اس پرمرتب ہوتے ہیں۔میراث کی جلدسے جلدتقسیم عافیت کاذریعہ ہے،اورباہمی جھگڑے اوررسہ کشی سے حفاظت کاموجب ہے،کیوں کہ مورث کے انتقال کے بعدطبعی طورپررشتہ دارکوصدمہ ہوتاہے،ان کادل رنج وغم سے مضطرب اوربے چین ہوتاہے،لیکن جوں جوں دن گزرتاجاتاہے،رنج والم کابادل چھٹتاجاتاہے،اورقلق واضطراب کی حدت کم ہوتی جاتی ہے،اورمورث کے مال کی طرف للچائی ہوئی نگاہیں اٹھناشروع ہوجاتی ہیں۔میراث کی تقسیم میں تاخیرسے ایک نقصان یہ ہوتاہے کہ جومالی لحاظ سے مفلوک الحال ہوتے ہیں،وہ میراث کی فوری طورپرتقسیم نہ ہونے کی وجہ سے پریشانی اورکسمپرسی کی زندگی گزارنے پرمجبورہوتے ہیں،دوسروں کے سامنے دست ِسوال کرنے کی نوبت آجاتی ہے،حالاں کہ میراث کی جلدی تقسیم اگرعمل میں آتی توانہیں اس طرح نہیں کرنا پڑتا۔

                تقسیم میراث میں تاخیر کی صورت میں ایک خاندان کے کئی افراد میں باہمی نزاع پیدا ہو جاتا ہے۔اسی طرح مورث کے انتقال کے بعد اگر چند ورثا اس کے مال کو کھائے اور دوسرے کو محروم رکھے تو ایسی صورت میں بھی حق تلفی ہے جو کسی بھی صورت میں درست نہیں،اس طرح کے متشابہ مال کھانا شرعاً بھی جائز نہیں۔اسی طرح میراث کی تقسیم اگرجلدروبہ عمل نہ لایاجائے توورثاء میں باہم نزاع اورجھگڑے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں یہاں تک کہ معاملہ قتل تک پہنچ جاتا ہے۔اسی طرح مورث کے انتقال کے بعد ترکہ محض لڑکے اور بیوہ ہڑپ لیتی ہے جو کہ بالکل درست نہیں ہے بلکہ ایک ایک کو جمع کیا جائے اور تمام کو سارے میں تقسیم کیے جائیں۔

لڑکی کومیراث میں نظراندازکردینے کارجحان

                ایک کوتاہی ہمارے معاشرے میں یہ بھی پائی جاتی ہے کہ لڑکیوں کوترکہ میں حصہ نہیں دیاجاتاہے،اورمورث کے پورے مال پرعمومالڑکے سانپ بن کربیٹھ جاتے ہیں،کسی وارث کومحروم کردینے اوراس کوحصہ نہ دینے سے متعلق قرآن وسنت میں بڑی سخت وعیدآئی ہے،آپﷺکاارشادگرامی ہے:جس شخص نے کسی وارث کومیراث سے محروم کردیاتواللہ تعالی اس کوجنت میں اس کے حصے سے محروم فرمائیں گے۔(مشکاۃ)ایک روایت میں ہے:تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دومیں تمہیں جنت کی ضمانت دیتاہوں،ان چھ چیزوں میں آپﷺتے یہ بھی بیان فرمایا:تم میراث کی تقسیم میں ناانصافی مت کرو۔(مجمع الزوائد)بہنیں جب اپناحصہ مانگتی ہیں توبھائی ان سے کہہ دیتے ہیں کہ والدصاحب کے ترکہ سے تمہیں جہیزمل چکاہے؛لہذامرنے کے بعداب تمہاراکوئی حصہ نہیں ہے،یادرکھناچاہیے کہ میراث ایک شرعی حق ہے،مورث کے مرنے کے بعدہروارث اپنے حصہ کامستحق ہوتاہے،جہیزکی وجہ سے میراث میں لڑکیوں کاحق ساقط نہیں ہوتا،ایک ظاہربیں انسان کوصرف اتنامحسوس ہوتاہے کہ لڑکیوں کوان کے حصہ میراث سے محروم رکھاگیا؛لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاملہ صرف یہیں پرختم نہیں ہوجاتا؛بلکہ لڑکیوں کاحصہ روک کرجس جس وارث نے اپنے مقررہ حصہ سے زائدلیاہے اس نے گویاحلال مال کے ساتھ حرام مال کوملالیا،اورجب حلال اورطیب مال کے ساتھ حرام مال کی تھوڑی سی بھی آمیزش ہوجاتی ہے توپھراس مال کی برکت اٹھالی جاتی ہے،اورانسان  مختلف پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

                ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، یہاں ملکی قانون کے دائرہ میں رہ کر ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہے۔ مسلم پرسنل لاء جسے حکومت ہند بھی تسلیم کرتی ہے اس میں نکاح اور طلاق کے ساتھ وراثت کے قوانین بھی شامل ہیں، نکاح اور طلاق کے متعلق تو اسلامی شریعت کے مطابق عمل کرنے کی کسی حد تک کوشش کی جاتی ہے اور اگر کبھی ایک دو مسئلے اس سلسلہ میں پیداہوتے ہیں تو علماء کرام کی طرف رجوع کیاجاتا ہے، مگر اس پرسنل لاء کے انتہائی اہم جزؤراثت سے متعلق قوانین کو مسلمانوں نے اجتماعی طور پر پس پشت ڈال دیا ہے۔ عام طور پر عورتوں کو وراثت سے محروم کردیا جاتا ہے۔ عوام کی بے حسی تو ایک طرف خود علمائکرام بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں بلکہ اکثر دفعہ خود اس جرم میں ملوث ہوتے ہیں حالاں کہ یہ ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس عظیم ناانصافی کے خلاف جو عورت ذات کے ساتھ ہو رہی ہے آواز بلند کرتے مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہورہا ہے۔

                کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ لڑکیاں اپنا حق خود ہی معاف کردیتی ہیں، اس وجہ سے ان کا حصہ نہ مقرر کرنے میں کوئی قباحت نہیں، کیا واقعی بات ایسی ہی ہے جس طرح کہی جاتی ہے؟ حقیقت میں مسئلہ یہ ہے کہ لڑکیاں اپنا حصہ معاف کرتی نہیں ہیں بلکہ ان سے معاف کرایا جاتا ہے۔ ان کے سامنے کچھ ایسے حالات پیدا کئے جاتے ہیں جن سے مجبور ہو کر وہ اپنے حق سے دستبردار ہونے ہی میں اپنی عافیت سمجھتی ہیں۔ کھلے یا دبے لفظوں میں انہیں میکہ یا حق وراثت میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کو کہا جاتا ہے۔ عورت ذات جو خود اپنی بے عزتی برداشت کرسکتی ہے مگر اپنے میکہ کے خلاف ایک لفظ بھی سننا گوارا نہیں کرتی وہ کیو ں کر یہ برداشت کرسکتی ہے کہ اس سے اس کا میکہ چھوٹ جائے۔ وہ تویہی چاہتی ہے کہ زندگی کی آخری سانس تک اس کا تعلق میکہ سے جڑا رہے، اس کے بھائی اس کے دکھ سکھ کے ساتھی بنے رہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ میکہ پر جائیداد کو قربان کردیتی ہے۔

                اس سلسلہ میں لڑکیوں کو بھی اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہوگی۔ دباؤمیں آکر معاف کردینے کے عمل کی وجہ سے قانون میراث پر عمل متروک ہو چکا ہے۔ انہیں اپنا واجبی حق حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ جہاں تک میکہ چھوٹنے کا سوال ہے تو میکہ اس صورت میں چھوٹے گا جب وہاں ان کی کوئی زمین جائیداد نہیں ہوگی۔ وراثت کی شکل میں جب زمین جائیداد ہوگی اور وہاں آنا جاناہوگا تو میکہ چھوٹنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوگا۔ چند دنوں کی ناراضگی کے بعدبھائی خود لائن پر آجائیں گے۔

One thought on “میراث کے مسائل اور تقاضے”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *