Mon. Nov 23rd, 2020
بینک سے جاری ہونے والے کارڈ کا شرعی حکم1

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان کی تخلیق کا عین مقصد عبودیت الہی ہے اور ان کے احکام و فرمودات کی بجاآوری ہے۔ اللہ تعالی نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہیں اپنی زندگی جینے کے لیے کاروبار اور کسب و کمائی کی تلقین بھی کی ہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے ”فإذا قضیت الصلاۃ فانتشروا فی الأرض و ابتغوا من فضل اللہ،،(الجمعۃ: ۵۱)یعنی جب نماز مکمل ہو جائے تو زمین میں پھیل جاو اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔اہل علم کے نزدیک کسب معیشت کے طور طریقوں میں سب سے افضل و اشرف طریقہ تجارت ہے۔جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا”أحل اللہ البیع و حرم الربا،،(البقرۃ: ۵۷۲) آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کون سی کمائی سب سے افضل ہے؟تو آپ ﷺ نے فرمایا ”عمل الرجل بیدہ و کل بیع مبرور،،یعنی آدمی کا اپنے ہاتھ کی کمائی اور ہر وہ تجارت جو دھوکہ سے پاک ہو(السلسلۃ الصحیحۃ:۷۰۶) اسی طرح اللہ تعالی کاارشاد ہے ”لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل إلا أن تکون تجارۃ عن تراض منکم،،یعنی تم اپنے مال کو باطل طریقے سے مت کھاؤ بلکہ باہمی تجارت سے نفع حاصل کرو،،(النساء:۹۲)

عہد نبوی میں تجارت کے طریقے: جب ہم سیرت کی ورق گردانی کرتے ہیں اور قرون مفضلہ کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات طشت ازبام ہو جاتی ہے کہ نبی ﷺ اور صحابہ کرام کا سب سے زیادہ محبوب و مرغوب عمل حرفت و صنعت اور تجارت ہی تھا۔سابقین انبیاے کرام بھی کاروبار کیا کرتے تھے۔ سیدنا آدم نے زراعت،سیدنا ادریس نے سلائی،اور نبی ﷺنے بنفس نفیس تجارت کی،شراکت و مضاربت پر بھی تجارت کی۔نبوت سے قبل سیدنا خدیجہ الکبری ؓ کے مال لے کر ملک شام گئے اور اس سے خدیجہ کو خاطرخواہ فائدہ پہنچایا۔اسی طرح عبد اللہ بن سائب کے ساتھ شراکت پر کاروبار کیا۔عبد اللہ بن سائب کہتے ہیں کہ میں زمانہ جاہلیت میں سرور کائنات کا شریک تجارت تھا جب میں مدینہ تشریف آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پہنچانتے ہو تو میں نے کہا:کیوں نہیں،”کنت شریکی فنعم الشریک کنت لا تداری و لا تماری،،(صحیح ابوداؤد للألباني:۶۳۸۴))
صحابہ کرام میں اکثر و بیشتر کسی نہ کسی کاروبار سے وابستہ تھے ہی۔سیدنا ابو بکرؓ کپڑوں کی تجارت اورسیدنا عمر فاروقؓ ریشم کی تجارت کیا کرتے تھے۔سیدنا عثمان غنیؓ رئیس التجار تھے۔آپ سے بڑا تاجر نہ قریش میں تھا اور نہ عرب میں۔بعض صحابہ کرام بازاروں میں بیٹھ کر بیع و شرا کرتے تھے اور بعض گرم لوہے پر ضرب لگا کر تلوار تخلیق کرتے تھے۔سیدنا عوام بن زبیر سے روایت ہے کہ آدمی کندھے پر رسی ڈال کر ایندھن کی لکڑیاں اٹھائے ہو ئے بازار میں فروخت کے لیے رکھتے اور اس کاروبار کے منافع سے اپنی ذات پر صرف کرتے تھے۔
آج کے اس ترقی یافتہ اور ٹکنالوجی کے دور نے دنیا کو سمیٹ کر مٹھی میں بند کر دیا ہے۔تاجروں و صنعت کاروں کو بینک کی شکل میں ایک عجیب و غریب تحفہ مل گیا ہے۔یہ بینک عوام کی رقم جمع رکھتا ہے اور اس کے لیے مختلف قسم کے کارڈز ایشو کرتا ہے جس سے کھاتا ہو لڈر اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق اس میں سے روپے نکالتا ہے۔
بینک کی ابتدا و ارتقا: بینک ایسے تجارتی ادارے کا نام ہے جو لوگوں کی رقمیں اپنے پاس جمع کرکے تاجروں و صنعت کاروں اور دیگر ضرورت مند افراد کو فراہم کرتا ہے۔(اسلام میں جدید معیشت و تجارت:۰۱۱) بینک کے وجود کے سلسلے میں مورخین نے لکھا ہے کہ لوگ اپناسونا صرافوں کے پاس بطور امانت رکھتے تھے، سنار اس کی رسید لکھ دیتے تھے۔ رفتہ رفتہ ان رسیدوں سے ہی معاملات شروع ہو گئے، لوگ سونا واپس لینے کم آتے تھے۔ یہ صورت حال دیکھ صرافوں نے سونا قرض دینا شروع کر دیا،پھر جب دیکھا کہ لوگ رسیدوں سے ہی معاملات کرتے ہیں تو صرافوں نے قرض خواہوں کو سونے کی تجارتی رسیدیں دینی شروع کردیں۔ اس طرح بینک کی صورت پیدا ہو ئی جو بعد میں ایک منظم ادارے کی شکل دے دی گئی جو آج ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔(حوالہ مذکورہ ایضاً)
بینکی کاروبار:بینک کا پورا نظام یا سسٹم کاروبار سود پر منحصر ہے،الا یہ کہ وہ اسلامی بینک ہو۔ اس میں مختلف شعبہ جات پائے جاتے ہیں جس میں مختلف قسم کے اکاؤنٹ جاری کرکے سود وصول کیا جاتا ہے۔saving account(محفوظ کھاتا)اس میں اکاؤنٹ ہو لڈر کے لیے مختلف پابندیاں ہوتی ہیں اور اس میں بطور ٹیکس بینک کچھ روپیوں میں سے کاٹ لیتا ہے۔اسی طرح Fixed depositاس میں مقررہ مدت سے پہلے رقم واپس نہیں لی جاسکتی ہے۔ اس لیے کہ بینک عوام کی رقم لون اور سودی قرض پر لگا دیتا ہے، پھر بینک اس سے سود وصول کرتا ہے، ان میں سے کچھ کھاتہ دار کو دیتا ہے اور باقی کا مالک خود ہو جاتا ہے جو شریعت کی نگاہ میں قابل قبول نہیں ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بینک میں ناجائز معاملات کے ساتھ آج بہت سے جائز معاملات بھی وابستہ ہو چکے ہیں۔ مثلا ً current account (چالو کھاتہ)جس میں کوئی آدمی سود لیتا ہے اور نہ ہی دیتا ہے، صرف اپنی رقم بینک میں محفوظ کرنے کی غرض سے بینک میں جمع کر دیتا ہے۔جمہور فقہا نے ایسے کھاتا کھولنے کی اجازت دی ہے۔ مولانا تقی عثمانی نے سودی کے کرنٹ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانے کے جواز کو اپنے مقالہ میں مدلل طور لکھا ہے (فقہی معاملا ت:۲/۴۲۲۳)میں موجود ہے۔اسی طرح بینک کے لاکرز Lockers سسٹم کو جائز کہا گیا ہے۔
بینک سے جاری ہونے والے کارڈز اور ان کا حکم
(۱)اے ٹی ایم کارڈ(ATM Card)
         یہ کارڈ بینک اپنے اکاؤنٹ ہولڈر کو عطا کرتا ہے۔بینک اپنے اکاؤنٹ ہولڈر کو بینک کی بھیڑ اور دھکم دھکی اور مشقت و پریشانی سے آزاد کرتا ہے۔اس سے اکاؤنٹ ہولڈر اپنے شہر یا ملک کے کسی بھی گوشہ میں اپنی مطلوبہ رقم نکال سکتا ہے۔اس کارڈ سے کسی طرح کا کوئی سودی کاروبار،بیع و شرا اور تجارتی معاملات نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے سودی بو آتی،نہ ہی کوئی فیس دینا ہوتی ہے۔صرف اس کو جاری کرنے میں فیس کی ادائیگی لازم آتی ہے جو کہ سود نہیں ہے۔سود صرف کارڈ کی صنعت کاری کی فیس ہے۔جس طرح پاسپورٹ،لائسنس اور اسکولی کارڈ بنانے میں فیس کی ادائیگی میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔جہاں تک اس کارڈ کا استعمال کرنا درست یا غیر درست کی بات ہے تو کھاتہ دار وہی رقم نکالتا ہے جو اس کے اکاؤنٹ میں موجود ہے اس سے زائد نہیں نکال سکتا ہے، جس کی وجہ سے سود لازم آئے اور نہ ہی شریعت کے خلاف کوئی چیز موجود ہے،جس کی وجہ سے مرجوح و مقبوح قرار دیا جائے تو بلاشبہ اس کو استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔
(۲)ڈبیٹ کارڈ(Debit card)
ڈبیٹ کا رڈ ایک ایسا کارڈ ہے جسے خریدار استعمال کرتا ہے،اس معنی میں کہ اس کی رقم بلاواسطہ اس کے اکاؤنٹ سے دوکاندار کو ٹرانسفر کردی جائے گی (چمبرس ڈکشنری:۴۴۳)یہ کارڈ جاری کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بینک اپنے کھاتہ دار کو خرید و فروخت میں سہولت اور بینک میں بھیڑ و ہجوم سے نجات دلاتا ہے ۔اس سے کسی طرح کا کوئی سودی لین دین نہیں ہوتا ہے اور اے ٹی ایم کے مثل ہے مگر اس میں ایک اضافہ ہے کہ اس کارڈ کے ذریعہ خرید و فروخت کا کام انجام دے سکتے ہیں۔ملک کے کسی بھی خطے اورگوشے میں وہا ں کی مارکیٹ اور دوکانوں سے جہاں یہ کارڈ استعمال کرنے کی مشین اور آلات موجود ہو ں،خرید و فروخت کیا جا سکتا ہے، اس کی مدد سے سامان کی قیمت کارڈ ہو لڈر کے اکاؤنٹ سے دوکاندار کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتی ہے۔یہ کارڈ بینک میں جمع رقم کی رسید یا وثیقہ ہے۔اس سے اتنی خریداری کی جاسکتی ہے جتنی رقم اکاؤنٹ میں موجود ہو، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں جس کی بنیاد پر سود لازم آتا ہو۔اس سے تین طرح کے فائدوں سے مستفید ہو سکتے ہیں (۱)خرید و فروخت کے بعد قیمت کی ادائیگی (۲)ضرورت پر رقم کا حصول (۳)اپنے کاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی۔شرعی نقطہ نظر سے اس کے استعمال میں کوئی ناجائز پہلو نظر نہیں آتا (بینک سے جاری  ہونے والے کارڈ اور ان کا شرعی حکم:۵۲)
(۳)کریڈٹ کارڈ (Credit card)
 ایک ایسا کارڈ جو کسی بینک یا کمپنی وغیرہ سے جاری کیا گیا ہو اور جس کے ذریعہ کارڈ ہولڈر کو ادھار سامان وغیرہ خریدنے یا دوسری خدمات حاصل کرنے کا مجاز بنایا جاتا ہے (چیمبر س ڈکشنری:۷۱۳)یہ کارڈ بینک اپنے گاہکوں کے لیے جاری کرتا ہے۔ اس قسم کے کارڈ دنیا میں بہت زیادہ عام ہیں؛ اس میں Visaاو ر Master cardسب سے زیادہ مشہور ہیں۔یہ کارڈ تین طرح کے ہوتے ہیں:
 (۱)سلو کارڈ یا عام کارڈ:اس میں کارڈ ہو لڈر کو زیادہ رقم قرض لینے کی اجازت نہیں ہوتی ہے، مثلا ہزار ڈالر۔
(۲)سنہرے کارڈ یا ممتاز کارڈ: اس میں کارڈ ہو لڈر کو سابق سے زیادہ بڑھ کر قرض لینے کی اجازت ہے۔
 (۳)پلاسٹک کارڈ : کھاتہ دار کی مالی حیثیت اور بینک کا اس پر اعتماد کے حساب سے اس کارڈکو کچھ اضافی خصوصیات کے ساتھ جاری کرتا ہے۔یہ کارڈ معمولی قرض اور بھاری قرض دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کے علاوہ گولڈ کارڈ کو برانڈیڈ کارڈ جو کریڈٹ کارڈ ہی کی ایک قسم ہے۔
کریڈ ٹ کارڈ کے ذریعہ انجام دیے جانے والے تمام کاروبار سودی نظام پر منحصر ہیں۔ اس کارڈ کے ذریعہ خرید و فروخت کے بعد قیمت کی ادائیگی،رقم نکالنا پھر اپنے کاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کے لیے اپنے اکاؤنٹ میں رقم ہونا لازم نہیں بلکہ اس کے ذریعہ بینک کے واسطے سے بطور ادھار اور قرض اس دکاندار کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیتے ہیں۔یہ قرض کارڈ ہو لڈر کو بینک کے حوالے پندرہ دن کے اندر میں ادا کرنا ہوتا ہے، ایسا نہ کرنے کی صورت میں یومیہ شرح اور سود کے حساب سے مزید رقم ادا کرنا لازم ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا وہی حکم ہے جو ربا النسئیہ کا حکم ہے۔ربا النسئیہ کہتے ہیں ”ہو القرض المشروط فیہ الأجل و زیادۃ مال علی المستقرض،،علامہ ابن الجوزی نے اسی کو ”ربا جاہلی،،کا نام دیا ہے۔(احکام القرآن:۱/۷۵۵)جس کو شریعت نے حرام اور ناقابل قبول کہا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ اسلام نے کاروبار کی اجازت دی ہے۔ آج کے اس ٹکنالوجی کے دور میں کاروبار کی شکلیں بدل گئی ہیں اور مختلف سہولتیں پیدا ہو گئی ہیں۔تاجروں اور صنعت کاروں کو بینک کی شکل میں رقم کی منتقلی اور خرید و فروخت کے بعد رقم کی ادائیگی بہت آسان ہو گئی ہے۔اس بینک کی جانب سے بہت سارے شعبے اور کارڈ زجاری کیے گئے ہیں، جن میں بعض کا استعمال درست ہے جیسے اے ٹی ایم کارڈ،ڈبیٹ کارڈ اور بعض کا استعمال غیر درست جیسے کریڈٹ کارڈ،گولڈن کارڈ وغیرہ۔
                                                              واللہ اعلم بالصواب۔
       از  :  صادق  جمیل  تیمی

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *