Sat. Oct 31st, 2020
                                                                  مشتاق احمد ندوی
بات 1977 کے بہار ودھان سبھا الیکشن کی ہے۔ براری ودھان سبھا حلقے کی از سر نو حد بندی عمل میں آئی اور پران پور کی شکل میں ایک نیا ودھان سبھا چھیتر وجود میں آیا۔ شکور صاحب نے، جو براری سے 1969 اور 1972 کے انتخابات جیت چکے تھے، براری کی بجائے نئے حلقے پران پور سے چناوی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا اور اس طرح براری ودھان سبھا چھیتر نے ایک اور ‘مدرس’ کو کوچۂ سیاست میں قدم رکھنے کا موقع دیا۔ منصور صاحب، جو مدرسہ دار الہدی کٹھوتیہ براری میں فاضل کے عہدے پر بحال تھے، آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترے اور پہلا چناؤ ہار گئے۔ یہ انتخاب شکور صاحب بھی کانگریس مخالف آندھی کا شکار ہوکر ہار گئے تھے۔
1980 کا الیکشن آیا، تو شکور صاحب پران پور سے، مبارک صاحب منیہاری سے اور منصور صاحب براری سے میدان میں اترے۔ شکور صاحب اور مبارک صاحب کانگریس کا ٹکٹ لے کر سامنے آئے تھے، تو منصور صاحب آزاد امیدوار کی حیثیت سے۔ اس بار شکور صاحب نے جیت درج کی، تو مبارک صاحب اپنا پہلا اور منصور صاحب اپنا دوسرا چناؤ ہار گئے۔
 پانج سال بعد پھر 1985 کا چناؤ آیا، تو شکور صاحب کو کانگریس سے ٹکٹ نہ مل سکا اور وہ چناؤ نہ لڑ سکے۔ مبارک صاحب اور منصور صاحب میدان میں رہے اور دونوں چناؤ جیت گئے۔ اس طرح اس علاقے کے سیاسی افق پر دو نئے رہ نماؤوں کا ظہور ہوا، جنھوں نے لمبے وقت تک سیاست میں رہ کر ملک و قوم کو اپنی خدمات فراہم کیں۔ مبارک حسین نے کانگریس پارٹی کے ایک معزز اور قابل احترام رکن کی حیثیت سے لمبے وقت تک کام کیا اور متعدد بار چناؤ جیتنے میں کامیاب رہے، جب کہ منصور صاحب راجد کے ایک سینیر لیڈر اور آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو کے ایک قابل اعتماد ساتھی کی حیثیت سے جانے جاتے رہے اور 1997 میں جب رابڑی کی قیادت میں سرکار بنی تو محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے وزیر بنائے گئے اور 2000 کا چناؤ جیتنے کے بعد محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کے منتری بنائے گئے۔
مبارک صاحب اور منصور صاحب گرچہ الگ الگ پارٹیوں سے وابستہ تھے، لیکن دونوں کے درمیان تعلقات ہمیشہ شگفتہ اور خوش گوار رہے۔ دونوں ایک دوسرے کو عزت و احترام دیتے اور ایک دوسرے سے والہانہ وابستگی
 رکھتے تھے۔
ذاتی زندگی کی بات کریں تو منصور صاحب 22 ستمبر 1942 کو پیدا ہوئے۔ آبائی گاؤں گیروا، جگدیش پور براری ہے اور پرورش و پرداخت کٹھوتیہ، جگدیش پور، براری میں ماما عبد الرحمن صاحب کے یہاں ہوئی، جو معاشی اعتبار سے خوش حال اور فارغ البال انسان تھے۔ تعلیم و تربیت کا بار بھی انھوں نے ہی اٹھایا تھا۔
وسطانیہ اور فوقانیہ تک کی تعلیم مدرسہ اصلاحیہ سیماپور میں حاصل کی، جو ان دنوں مولانا ابو بکر ہارونی کی صدر مدرسی اور حاجی محمد اسحاق صاحب کی سرپرستی میں بہترین تعلیم و تربیت فراہم کر رہا تھا۔ 1952 میں اصلاحیہ میں داخلہ لیا۔ 1956 میں وسطانیہ پاس کیا۔ 1958 فوقانیہ کا امتحان دیا۔ پھر دربھنگہ کا رخ گیا اور 1960 میں دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ سے مولوی کیا اور 1962 میں عالم کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں 1964 میں مدرسہ شمس الھدی پٹنہ سے فاضل کا امتحان پاس کیا۔ اسی سال ضلع اسکول پٹنہ سے آزاد امیدوارکی حیثیت سے میٹرک کر لیا۔ 1965 میں نائٹ کالج پٹنہ سے پری یونی ورسٹی پاس کیا اور اس کے بعد ڈی ایس کالج کٹیہار میں بی اے میں ایڈمیشن لیا۔ پھر، 1969-70 کے سیشن میں نائٹ کالج پٹنہ سے قانون (LLB) کی ڈگری لی۔
منصور صاحب پڑھنے میں کافی ذہیں و فطین تھے، اس لیے ہر مرحلے میں نمایاں نمبرات سے پاس ہوتے رہے۔ کئی بار بورڈ یا یونی ورسٹی بھر میں بھی خصوصی پوزیشن حاصل کرنے میں کام یاب رہے۔
اب بات کرتے ہیں عملی زندگی کی۔ چوں کہ قانون کی ڈگری لے رکھی تھی، اس لیے لگ بھگ ایک سال کٹیہار سول کورٹ میں لا کی پریکٹس کی، لیکن طبیعت کے موافق نہ ہونے کی وجہ سے یہ پیشہ راس نہ آیا۔ سو وکالت چھوڑ مدرسہ دار الھدی کٹھوتیہ میں فاضل کے عہدے پر بحال ہو گئے۔ لیکن 9177 میں براری ودھان سبھا چھیتر کی از سر نو حد بندی اور پران پور ودھان سبھا چھیتر کی تشکیل کے بعد وقت کی ضرورت کے پیش نظر نوکری سے استعفی دے کر انتخابی میدان میں اتر پڑے۔
جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے، منصور صاحب پہلی بار 1985 میں چناؤ جیتے۔ اس بار ‘دلت، مزدور، کسان پارٹی’ سے لڑے تھے۔ 1990 میں جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر قسمت آرائی کی  اور چناؤ ہار گئے۔ 1995 کا چناؤ جیتے اور 1997 میں رابڑی دیوی سرکار میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے وزیر بنے۔ 2000 کا چناؤ پھر جیتے اور اقلیتی فلاح و بہبود کی وزارت سنبھالی۔ اس بار کے چناؤ میں شکور صاحب بھی ان کے مد مقابل تھے۔ انھوں نے این سی پی جوائن کر لی تھی اور پران پور چھوڑ براری کو میدان عمل بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود منصور صاحب جیت درج کرنے میں کامیاب رہے۔ البتہ یہ آخری جیت ثابت ہوئی۔ اس کے بعد 2005 اور 2010 کا الیکشن ہار گئے اور اس کے بعد چناوی راج نیتی سے کنارہ کش ہو گئے۔
منصور صاحب کی شخصیت کا امتیازی وصف ان کی صاف ستھری شبیہ ہے۔ وہ سیاست میں رہے، لیکن سیاست میں ڈھل نہیں سکے۔ ایم ایل اے بنے اور منتری بھی، لیکن کبھی عہدے کا غلط استعمال نہیں کیا، بدعنوانیوں میں ملوث نہیں ہوئے، دھونس نہیں جمایا، بلیک میل نہیں کیا، عہدے اور رتبے کی آڑ میں چھپنے کی کوشش نہیں کی۔
ان کی اس شبیہ کو قائم رکھنے میں ان کی سادگی پسند طبیعت نے بھی نمایاں کردار نبھایا۔ وہ فطری طور پر سادہ مزاج واقع ہوئے ہیں۔ ہمیشہ تام جھام سے کوسوں دور رہے۔ ان کے آگے پیچھے گاڑیوں کی قطاریں نہیں دیکھی گئیں اور کبھی جھوٹے رعب داب کا اظہار نظر نہیں آیا۔
وہ ہمیشہ سہل الحصول رہے۔ کوئی بھی ان سے مل سکتا تھا۔ اپنی بات رکھ سکتا تھا۔ اپنے مسائل سنا سکتا تھا۔ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو غریب، جان پہچان کا ہو ان جان۔ ان کے یہاں پہنچنے کے لیے واسطوں اور زینوں کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ وہ ہر ایک کی بات دھیان سے سنتے اور جہاں تک بن پڑتا، اس کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے۔
انھوں نے بڑی نرم طبیعت پائی ہے۔ بات بڑی نرمی سے کرتے ہیں۔ آواز دھیمی رہتی ہے۔ کرختگی اور ترشی کی آمیزش بالکل نہیں ملتی۔ زیادہ بولنے کے بھی عادی نہیں ہیں۔ بقدر ضرورت ہی بات کرتے ہیں اور بولنے کی بجائے سننے میں وشواس رکھتے ہیں۔ نہایت متواضع اور ملنسار طبیعت کے مالک ہیں۔ گھمنڈ، غرور اور تکبر جیسی چیزیں انھیں چھوکر بھی نہیں گزری ہیں۔
علم اور اہل علم سے بڑی محبت رکھتے ہیں اور انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایم ایل اے رہے ہوں یا منتری، جب بھی کسی اجلاس عام اور کانفرنس میں بلائے گئے، ڈھیر ساری مشغولیات کے باوجود، بڑی محبت سے شریک ہوئے۔ اس پر یہ کہ جب بھی بولنے کا موقع ملا، سیاسی گفتگو کی بجائے تعلیم اور سماجی اصلاح کی بات کی۔ وہ بھی اس قدر جامع الفاظ اور کم وقت میں کہ ہمیشہ یہ لگتا کہ کچھ دیر اور بولتے تو اچھا رہتا۔
2018 کی بات ہے۔ CRDC کی نگرانی میں مولانا ابو بکر ہارونی رحمہ اللہ کی حیات و خدمات پر ایک سیمینار ہونا تھا۔ میں اور برادرم نسیم اختر ندوی ایک نشست کے صدر کی حیثیت سے سیمینار میں شرکت کی دعوت دینے کے مقصد سے ان کے یہاں پہنچے، تو بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ ملے اور ہماری دعوت قبول کرلی۔ میں نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ان کی زندگی کے کچھ اہم پہلؤوں کے بارے میں بات شروع کی، تو بڑی محبت سے ہر سوال کا جواب دیا۔ اس درمیان مجھے ایک بار بھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ میں کسی سابق وزیر سے بات کر رہا ہوں۔ پھر سیمینار کا دن آیا، تو مجھ جیسے سماجی و تعلیمی بیداری کے خواہاں لوگوں کے لیے وہ منظر ایک یادگار منظر بن گیا، جب ستکار ہوٹل کٹیہار کے کانفرنس ہال کے اسٹیج پر مولانا ابوبکر ہارونی کے چار باکمال شاگرد؛ مولانا عطاء الرحمن مدنی، ہمارے ممدوح جناب منصور عالم صاحب، سابق ایم ایل جناب محمد شکور صاحب اور ڈاکٹر عبد اللطیف حیدری ایک ساتھ رونق اسٹیج ہوئے۔
منصور صاحب کی تعلیمی اور سماجی امور سے بھی دل چسپی رہی ہے۔ سماجی اصلاح پر مبنی تحریک قومی تنظیم کے صدر رہے۔ اس تحریک کے اصل رواں ڈاکٹر عبداللطیف حیدر تھے۔ اس تحریک نے بیس ویں صدی کے آخری ربع میں سیمانچل کے اندر سماجی بیداری کے باب میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اس کا سب سے بڑا کام طلاق کی روک تھام کے سلسلے میں تھا۔ ایک وقت تھا کہ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی طلاق دے دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے تھے۔ اس پر قدغن لگانے کے لیے قومی تنظیم نے، جس میں حیدری صاحب اور منصور صاحب کے علاوہ حاجی سلطان صاحب جیسے مضبوط لوگوں کی اچھی خاصی ٹیم موجود تھی، بڑی محنت کی۔ یہ حضرات گاؤں گاؤں پہنچے، لوگوں سے رابطے کیے اور بڑی بڑی اصلاحی کانفرنسیں کرائیں، جن میں ملک کے نام ور علما اور دانش وروں نے شرکت کی اور لوگوں کو جگانے کا کام کیا، جس کے مثبت نتائج بعد میں دیکھنے کو ملے۔
منصور صاحب کچھ دن مدرسہ اصلاحیہ سیماپور کی مجلس منتظمہ کے بھی صدر رہ چکے ہیں۔ اسی طرح لمبے وقت سے سر زمین کٹیہار کی ایک اہم ترین درس گاہ جامعہ اسلامیہ تتواری کی مجلس منتظمہ کے بھی صدر ہیں۔ میں نے جامعہ میں تعلیم حاصل کی ہے اور پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پچھلے تیس چالیس سالوں سے سیمانچل کی سرزمین میں دینی تعلیم کے فروغ کے باب میں جامعہ کی جو خدمات رہی ہیں، انھیں آنے والا مؤرخ کبھی نظر نہیں کر سکتا۔
24 اکتوبر 2019 کی بات ہے۔ جامعہ کے احاطے میں ایک اجلاس عام تھا اور اس کے پہلے سیشن میں ڈاکٹر عبد اللطیف حیدری کی کتاب “ہمارے بھی غزائم کیسے کیسے!” کی رسم اجرا تھی۔ پروگرام کی صدارت منصور صاحب ہی فرما رہے تھے اور اس میں ڈاکٹر رام پرکاش مہتو سابق وزیر تعلیم حکومت بہار، ڈاکٹر عبد الرشید مظہری کشن گنج، ڈاکٹر انور ارج صدر شعبہ اردو و فارسی ڈی ایس کالج کٹیہار،جناب توقیر عالم جنرل سکریٹری آل انڈیا یوتھ کانگریس، مولانا عبد الجلیل مدنی مدیر معہد ماریہ للبنات پران پور، ڈاکٹر سعید الرحمن صدر آل بہار شیر شاہ آبادی ایسو سی ایشن، ڈاکٹر عزیز الرحمن سلفی، ڈاکٹر شمیم علی سرجن، ظفر شیرشاہ آبادی، مولانا سلیم الدین مدنی، ایڈووکیٹ تجمل حق اور ضیاء الحق صاحب سابق پرمکھ (پورنیہ) وغیرہ موجود تھے۔ مقالوں اور تاثرات کا سلسلہ ختم ہوا، تو میں نے بطور ناظم اجلاس منصور صاحب سے درخواست کی کہ صدر مجلس کی حیثیت سے ہمیں اپنے مختصر تاثرات سے محظوظ ہونے کا موقع عنایت کریں۔ لیکن انھوں نے معذرت کر دی۔ وجہ یہ تھی کچھ دنوں پہلے ان کے برین کا آپریشن ہوا تھا اور ڈاکٹر نے زیادہ بولنے سے منع کر رکھا تھا۔
شیرشاہ آبادی برادری کو ریزرویشن دلانے میں بھی منصور صاحب کا اہم کردار رہا ہے۔ جن دنوں ریزرویشن ملا، ان دنوں بہار میں جنتا دل کی سرکار تھی اور منصور صاحب اس کے جیتے ہوئے ایم ایل اے تھے۔
منصور عالم صاحب کے چھوٹے بیٹے جناب توقیر عالم صاحب سیاسی دنیا کا ایک معروف چہرہ بن چکے ہیں۔ جواہر لعل یونی ورسٹی سے M. Phil  کرنے کے بعد سیاسی میدان میں سرگرم عمل ہیں اور ان دنوں آل انڈیا یوتھ کانگریس کے جنرل سکریٹری ہیں۔ بہت ہی محنتی، جہد و عمل پر یقین رکھنے والے، بنا تھکے لگاتار کام کرنے والے اور اخلاق و مروت سے بھر شخصیت کے مالک انسان ہیں۔ ان سے ہماری بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ اللہ ملک و قوم کی خدمت کے اس جذبے کو مزید آب و تاب عطا کرے۔
برین آپریشن کے بعد منصور صاحب اب زیادہ تر گھر ہی میں رہتے ہیں اور کہیں جانا آنا تقریبا نا کے برابر ہوتا ہے۔ لیکن کوئی ملنے پہنچ جائے تو آج بھی بڑے والہانہ انداز میں ملتے ہیں اور اخلاق و مروت کی کرشمہ سازی پورے آب و تاب کے ساتھ جلوہ نما نظر آتی ہے۔ اللہ کرے اس بزرگ پیڑ کا سایہ تا دیر قائم رہے….!!!

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *