Mon. Nov 23rd, 2020
مسجدوں کی منتقلی کا معاملہ
         شفیق اسماعیل سلفی
اسلام میں مساجد کی بڑی اہمیت ہے۔یہ اللہ کا گھر ہے اور وہ مقدس جگہ ہے جو روئے زمین کے اندر سب سے افضل و اعلی ہے۔یہ وہی جگہ ہے جہاں صبح و شام،رات و دن اللہ کو یاد کیا جاتا ہے۔اس کی اہمیت اس سے لگائی جا سکتی ہے کہ خود پیغمبر اسلام ﷺ اس کی تعمیر و ترقی میں بنفس نفیس شریک رہے اور کام کیے۔اس کا تقدس و احترام ہر مسلمان پر فرض و واجب ہے۔اس کی حفاظت و صیانت ایک مومن اپنے لیے باعث فخر اور سبب اجر سمجھتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر اسے ایک جگہ سے دوسری منتقل کر دی جائے تو کیا اس کے تقدس میں کمی یا نقص لازم آئے گا۔آئیے ذیل کے سطور میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگر مسجد ویران اور غیر آباد ہو جائے جس غرض سے بنائی گئی ہے وہ مقصد فوت ہو جائے تو اسے دوسری جگہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح اگر دو مسجد ہو ایک میں لوگ جاتے ہوں اور دوسری میں کسی رکاوٹ کی وجہ سے نہ جا پاتے ہوں اور وہ ویران ہو رہی ہو اور پہلی والی مسجد مصلیوں سے تنگ آجائے تو اس کے قریب والی آباد مسجد میں ضم کیا جا سکتا ہے،نیز اس کا سامان دوسری مسجد میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔اس سلسلے میں چند مفتیان کے فتاوے ذیل میں پیش خدمت ہیں:
(۱)حافظ عبد اللہ محدث روپڑی
مسجد وقف کی قسم سے ہے اور یہ وقف عقد لازم ہے فسخ نہیں ہو سکتا۔حدیث میں ہے ”لا یباع أصلہا ولا یوہب ولا یورث،،(مسلم:۲۳۶۱)اس بنا پر مسجد کی عمارت خواہ بالکل خراب ہو جائے وہ چٹیل میدان رہے گا اور اگر وہاں مسجد بنانے کی کوئی صورت ہی نہ ہو اور نماز کے لیے دوسری مسجد موجود ہو تو اس وقف کی صورت بدل دی جائے جس سے دوسری مسجد کو فائدہ ہے مثلاً وہ جگہ کرایہ پر یا ٹھیکہ پر دے دیا جائے،اگر یہ مقصدبھی فوت ہوتا دکھا ئی دے تو اسے فروخت کرکے اس کی قیمت دوسری مسجد پر خرچ کر دیا جائے،اگر مسجد کو ضرورت نہ ہو تو تدریس یا نیک مصرف میں لگا دی جائے،اگر اس کی بھی ضرورت نہ ہو تو قبرستان کی فراہمی یا اس کی گھیرا بندی میں لگا دی جائے۔
ام المومنینعائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ رسول ﷺنے فرمایا ”یا عائشۃ!لولا أن قومک حدیثو عہد بجاہلےۃ،أو قال بکفر لأ نفقت کنزالکعبۃ فی سبیل اللہ، و لجعلت بابہا بالأرض ولأ دخلت فیہا من الحجر،،(مسلم:۳۳۳۱)یعنی اے عائشہ!اگر تیری قوم کفر (جاہلیت) کے ساتھ نئے زمانہ والی نہ ہوتی تو میں کعبہ کا خزانہ نکال کر اللہ کی راہ میں تقسیم کر دیتا اور بیت اللہ کا دروازہ زمین کے ساتھ ملا دیتا اور حجر کا کچھ حصہ بیت اللہ میں داخل کر دیتا۔
بیت اللہ کے خزانہ سے مراد وہ مال جو لوگ بیت اللہ کی خاطر نذر کیا کرتے تھے جیسے مساجد میں لوگ دیتے ہیں۔یہ خزانہ بیت اللہ میں مدفون تھا،اللہ کے رسول ﷺ نے دیکھا کہ ضرورت سے زائد ہے تو خیال پیدا ہوا کہ فی سبیل اللہ کام میں لگا دیا جائے لیکن نو مسلموں کی رعایت کرکے ترک کر دیا کہ وہ سوچیں گے کہ مال بیت اللہ کا ہے اورمصرف کہیں  اور؟اعتراض و شک کرنا چاہے گا – معلوم ہوا کہ وقف کی حالت اگر ایسی ہو کہ وہ ضائع ہوتا دکھے تو اس کی کوئی ایسی صورت بنانی چاہیے کہ ضائع ہونے سے بچ جائے۔امام احمدبھی وقف کی تبدیلی کے قائل ہیں  ”واحتج الإمام بأن ابن مسعو د رضی اللہ عنہ قد حول المسجد الجامع من التمارین أی بالکوفۃ،،امام احمد نے استدلال کیا کہ عبد اللہ بن مسعودنے جامع مسجد کھجوروں کے تاجروں سے بدل دی (یعنی اس کے بدلہ کوفہ ہی میں کوئی جگہ کر لی،،  (کشف القناع عن متن الاقناع:۲/۱۷۴)اور عمرؓ سے روایت ہے کہ شارع عام تنگ ہو گیا تو انہوں نے مسجد کا کچھ حصہ راستہ میں ڈال دیا (فتاوی ابن تیمیہ:کتاب الوقف:۳/۲۵۲)حنفیہ کا آخری فتوی بھی یہی ہے (در المختار:۳/۷۰۴)امام محمد نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر وقف بے کا رہو جائے تو اصل مالک(واہب)کی ملکیت میں واپس چلی جائے گی۔
(۲)شیخ الحدیث عبد المنان نور پوری
آپ سے مسجد کی منتقلی اور اس کے سامان کی خرید وفروخت کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب دیا کہ منتقلی جائز ہے،بشرطیکہ مسجد کی آباد کاری مقصود ہو بربادی اور ختم کرنے کے لیے نہیں،اسی طر ح سامان کا حکم ہے جس سے مسجد کی آبادی مقصود ہو۔اللہ نے فرمایا ”إنما یعمر مساجد اللہ من اٰمن باللہ۔۔۔۔(التوبۃ:۸)
(۳)شیخ الحدیث مفتی حافظ عبد الستار حماد
آپ سے پوچھا گیا کہ سڑک کے کنارے بنی مسجد کی منتقلی کا کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا:بلا وجہ ایسا کرنا درست نہیں ہے البتہ اگر وہ ویران ہو جائے اور اس کی تعمیر فوت ہو جائے تو ایسی حالت میں اس کی منتقلی جائز ہے او راس کے ساز و سامان کو دوسری مسجد میں استعمال کرنا جائز ہے۔سیدنا عمر ؓ نے کوفہ کی ایک پرانی مسجد کو دوسری جگہ منتقل کرکے اس کی جگہ کھجوروں کی منڈی بنا دی تھی،،(فتاوی ابن تیمیہ:۱۳/۵۶۲)
اگر سڑک کنارے مسجد کو دکان و غیرہ کی صورت میں تبدیل کرنا ناگزیر ہو تو اس کی آمدنی،کرایہ دوسری مسجد پر صرف ہونا چاہیے (فتاوی اصحاب الحدیث)
مسجد کی منتقلی کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ”کوفہ میں بیت المال کو نقب لگا کر کسی نے چوری کر لی،نقب لگانے والا بھی پکڑا گیا،اس وقت بیت المال کے نگراں عبد اللہ بن مسعود تھے۔انھوں نے امیر المومنین عمر ؓ کو خط لکھا تو عمر نے جواب دیا”أن أنقل المسجد و صیر بیت المال فی قبلتہ،،یعنی مسجد کو یہا ں سے منتقل کر لو کہ بیت المال مسجد کے قبلہ میں آجائے،لہذا سعد بن مالک نے وہاں سے مسجد ختم کرکے کھجوروں کی منڈی بنا دی،،(فتاوی ابن تیمیہ:۱۳/۷۱۲)
منتقلی کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جس چیز کی نذر مانی گئی ہو وہ بھی وقف کے حکم میں ہو جاتی ہے۔باجو د اس کہ اس کی تبدیلی جائز ہے،مثلاً کوئی نذر مانے کہ میں اپنے گھر کو مسجد بنا دوں گا،پھر وہ اس سے اچھی اور مناسب جگہ پر مسجد بنا دیتا ہے تو یہ جائز ہے۔
مسند احمد اور ابو داؤد میں ہے کہ فتح مکہ کے موقع سے ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا کہ اللہ کے رسول ﷺ میں نے بیت المقدس جا کر نماز پڑھنے کی نذر مانی ہے،تو آپ ﷺ نے فرمایا ”صل ہاہنا،یہیں نماز پڑھ لو،اسی بات کو انہوں نے تین مرتبہ دہر ائی تو نبی ﷺ نے فرمایا ”فشأنکإذاً،،تب تیری مرضی، تم وہیں جاکر نماز پڑھ سکتے ہو،،(ابو داؤد:۵۰۳۳،مسند احمد:۳/۳۶۳،صحیح)
اور ایک روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ”والذی بعث محمداً بالحق لو صلیت ہاہنا لأجزأ عنک صلوۃ فی بیت المقدس،،(ابو داؤد:۶۰۳۳،مسند احمد:۳/۳۷۳سند میں کلام ہے تاہم معنی ماقبل کی صحیح روایت کے موافق ہے)
تمام دلائل و براہین سے یہ پہلو روشن ہوتا ہے کہ مسجد کی تعمیر کی غرض و غایت فوت ہونے،اس کے ضائع ہونے اور مسجد کے غصب ہو نے کی صورت میں اس کی منتقلی جائز ہے ورنہ ایک منتقلی سے ایک بیش قیمت سرمایہ ضائع ہو جائے گا۔واللہ أعلم

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *