Sat. Oct 31st, 2020
                
 
                                                         محمد صادق جمیل تیمی
قرآن کریم اللہ کی وہ مقدس کتاب ہے جو نبی آخر الزماں محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے۔قرآن ہی امت محمدیہ کے لیے رہنماے حیات ہے اور راہ راست کی تعیین اسی سے ہو تی ہے ”إن ہذا القرآن یہدی للتی ہی أقوم،،(الاسراء:۹)قرآن کریم کو الگ الگ تیس سال کی مدت میں اللہ تعالی نے لوح محفوظ سے نازل کیا۔نبی ﷺ نے پورے قرآن کو اپنے سینے میں محفوظ کر لیا تھا اور اس کے بعد صحابہ کرام کو بھی آپ املا کراتے تھے۔قرآن کی جس آیت میں صحابہ کرام کو سمجھنے میں دشواری ہوتی تھی،فوراً نبی ﷺ سے دریافت کر لیتے تھے،چوں کہ قرآن کے اندر بہت ساری چیزیں اجمالی طور پر بیان کی گئی ہیں۔قرآن فہمی میں صحابہ کرام بہت رغبت رکھتے تھے اور نبی ﷺ سے ایک ایک آیت سیکھتے اور اس پر عمل کرتے تھے،پھر اس کے بعد دوسری آیت کو سیکھتے تھے۔یعنی ان کا مشغلہ ہی قرآن کے معانی و مفاہیم کو سمجھنا تھا۔تاہم ان میں سے چند ایسے ہیں جنہوں نے اس خاص فن یعنی تفسیر میں مہارت و براعت حاصل کی۔ان کامختصر تذکرہ اس مضمون میں پیش ہے۔
مفسرین یہ مفسر کی جمع ہے،اس کے معنی کسی چیز کو کھول کھول کر بیان کرنے والے کے ہیں۔ جب کہ عرف عام میں مفسر قرآن کریم کے مفہوم اور اس کی آیت کے سلسلے میں مکمل جانکاری رکھنے والے کو مفسر کہتے ہیں۔مفسرین صحابہ میں سرفہرست جن اصحاب رسول ﷺ کا نام آتا ہے وہ ہیں:ابو بکر،عمر فاروق،عثمان و علی،ابن عباس، ابن مسعود،ابی بن کعب،زید بن ثابت،ابو موسی اشعری،عبد اللہ بن زبیر رضوان اللہ علیہم جیسے صحابہ کرام ہیں۔ان کے علاوہ بھی چند اصحاب رسولﷺ مفسر ہیں لیکن ان سے تفسیری روایات بہت کم منقول ہیں، اس وجہ سے ان کا نام نہیں لیا گیا۔ان میں سے زیدبن ثابت،ابو موسی اشعری اور عبد اللہ بن زبیر اگر چہ مشہو ر تھے، مگر ان سے بہت کم تفسیری اقوال منقول ہیں اور شہرت میں چار کثیر الروایات صحابہ(ابن عباسؓ،ابن مسعودؓ،علیؓ اور ابی بن کعبؓ) تک نہیں پہنچے۔
نظر بریں ہم صرف چار صحابہ کرام کا تفصیلی تذکرہ کریں گے جن سے بکثرت تفسیری اقوال منقول ہیں۔ملاحظہ ہوں:
(1)عبد اللہ بن عباس
آپ نبی ﷺ کے چچا زاد بھائی تھے۔آپ کی ولادت ہجرت سے تین سال قبل ہوئی تھی۔آپ شروع ہی سے نبی ﷺ کی خدمت میں لگے رہے کیوں کہ آپ نبی ﷺ کے چچا زاد بھائی ہونے کے ساتھ ان کی خالہ میمونہؓ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ بھی تھیں۔اصحاب رسول ﷺ میں ابن عباس و ہ خوش نصیب صحابی تھے جنہیں رسول ﷺ اپنے سینے سے چمٹا کر یہ دعا فرمائی تھی ”اللہم علّمہ الحکمۃ،،اے اللہ تو اسے حکمت کی تعلیم عطا فرما،،(البخاری:۶۵۷۳)اور اسی مفہوم کی دوسری دعا جسے نبی ﷺ نے ابن عباس کے لیے کہی تھی، اس وقت جب یہ نبی کے  وضو کے لیے پانی رکھے تو نبی ﷺنے فرمایا ”اللہم فقہہ فی الدین،،(البخاری:۳۴۱)دعا ہی کی برکت تھی کہ اللہ نے آپ کو اس امت کا مفسر اور حبر الامۃ یعنی سب سے بڑے عالم ہونے کا شرف بخشا۔آپ کی فضیلت اس سے لگائی جا سکتی ہے کہ نبی ﷺ کے گزر جانے کے بعد خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ تعالی آپ کو اپنی مجلس میں سب سے قریب بیٹھاتے تھے۔اس پر مہاجروں نے کہا کہ آپ ہمارے لڑکے کو ابن عباس کی طرح کی کیوں نہیں بلاتے یا بیٹھاتے ہیں؟تو آپؓنے فرمایا کہ”إنہ من حیث تعلم،، یہ نوجوان تو پختہ عمر والوں جیسے دانائی رکھتا ہے(البخاری:۵/۲۱۵)اس کے بعد عمر نے تمام لوگوں کو جمع کیا اور ”إذا جاء نصر اللہ و الفتح،،کی تلاوت کرنے کے بعد لوگوں سے دریافت کیا کہ اس سورت میں اللہ تعالی نے ہمیں کیا حکم دیا ہے؟بعض نے کہا کہ فتح نصیب ہونے کے بعد ہم اللہ کی حمد و ثنا بیان کریں اور بعض خاموش رہے۔اس کے بعد عمر نے ابن عباس سے پوچھا کہ آ پ کا بھی یہی خیال ہے کیا؟تو آپ ؓ نے فرمایا کہ نہیں،تو ابن عباس نے فرمایا کہ اس سورت میں نبی ﷺ کی موت کی خبر ہے کہ جب اللہ تعالی کی نصر ت پہنچے اور فتح سے مراد فتح مکہ ہے………اس تفسیرکو سننے کے بعد سیدنا عمر نے فرمایا ”ما أعلم منہا إلا تقول،،(البخاری:۰۷۹۶) بعینہ میں بھی اس سلسلے میں اتنا ہی جانتا ہوں۔ابن مسعود نے آپ کو ترجمان القرآن بتلایا ہے۔(مستدرک حاکم:۳/۷۳۵)
(2)عبد اللہ بن مسعود
آپ کا شمار ان صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہیں ابتداے دعوت ہی کے دوران قبول اسلا م کی سعادت نصیب ہو ئی تھی۔آپ ؓ کا خود فرمان ہے کہ اسلام قبول کرنے والا میں چھٹا مسلم تھا۔اسلام لانے کے بعد آپ ہمیشہ نبی ﷺ کے ساتھ رہے۔قربت نبی ﷺ کا عالم یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ کی مسواک اور نعلین مبارک اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔قرآن مجید کے اسرار و رموز اور اس کے مصالح و حکم میں آپ نے اتنا ملکہ حاصل کیا تھا کہ نبی ﷺ نے قرآن کی تفسیر اور اس سے جڑا کسی بھی قسم کا علم ابن مسعود سے سیکھنے کا حکم دیا۔ایک موقع پر نبی ﷺ نے ابن مسعود سے قرآن کی تلاوت کرنے کو کہا تو آپ نے قرآن کی تلاوت کی۔عمر و بن عاص فرماتے ہیں کہ میں نے جب سے نبی ﷺ سے سنا کہ کہ قرآن چا ر آدمی:ابن مسعود،سالم،معاذ اور ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہم سے سیکھو تو میں اسی وقت سے ابن مسعود سے محبت کرنے لگا۔اس آدمی کا مقام و مرتبہ کا کیا عالم ہوگاجس کی قرآن فہمی کی گواہی خود رسالت مآب ﷺ کی زبان نے دی ہو۔ابن مسعود کو قرآن فہمی اور کسی بھی آیت کے سلسلے میں کسی بھی قسم کے سوال کے بار ے میں خود کو بھی اعتراف تھا۔آپ نے فرمایا ”والذي لا إلہ غیرہ ما نزلت آےۃ من کتاب اللہ إلا و أنا أعلم فیمن نزلت أین نزلت،، قرآن کی کوئی ایسی آیت نہیں جس کے متعلق میں نہیں جانتا ہوں کہ وہ آیت کہاں نازل ہوئی اور کس کے بارے میں نازل ہوئی،،(البخاری:فضائل القرآن:۲۰۰۵)تاہم آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجھے کسی ایسے آدمی کا پتہ ہو جو قرآن کا علم مجھ سے بھی زیادہ رکھتا ہے تو میں اس تک ضرور جاؤں گا اور قرآن وسنت کا علم سیکھوں گا۔ایک مرتبہ سیدنا علی کے پاس ابن مسعود کا ذکر کیا گیا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ ”قرآن کا علم ابن مسعود پر ختم ہو جاتا ہے،،(الاسرائیلیات والموضوعات فی کتب التفسیر)
(3)علی بن ابی طالب
آپ کا نام علی،کنیت ابو الحسن تھی۔آپﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد محترم تھے۔آپ ؓ خلفاے راشدین میں سے چہارم اور بنی ہاشم میں سے اولین خلیفہ تھے۔آپ نوجوان میں سب سے پہلے مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آپ علم وحکمت کے بحر بیکراں تھے۔زور قوت،فصاحت و بلاغت اور شعرو شاعری اور خطابت میں ید طولی رکھتے تھے۔مشکل سے مشکل مسائل کے حل کے لیے صحابہ کرام آپ کے پاس رجوع کرتے تھے۔رسول اکرم ﷺ آپ کے لیے دعا فرمائی تھی کہ اے اللہ! اس کی زبان کو استقامت اور دل کو ہدایت عطا فرما۔ابن مسعود اور علقمہ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ کے اندر حضرت علی سب سے بڑے قاضی تھے۔عطا سے پوچھا گیا کہ علی سے کوئی بڑھ کر عالم تھے؟تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی قسم مجھے ان کے علاوہ کو ئی نہیں دکھتا۔سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جب سیدنا علی سے کوئی بات ثابت ہو جاتی ہے تو ہم دوسرے سے دوبار ہ رجوع نہیں کرتے(اسد الغابۃ:۳/۰۳۲)
(4)ابی بن کعب
آپ کا نام ابی بن کعب بن قیس انصاری،کنیت ابو المنذرتھی۔رسول اکرم ﷺ جب ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو آپ اولین کاتب قرار پائے۔نبی ﷺ نے ابی کے بارے میں فرمایا کہ ”اقرء ہم ابی بن کعب،،یعنی سب سے بڑے قاری ابی ہیں۔آپ مشہور مفسرین صحابہ میں سے ہیں۔نبی ﷺ نے ایک بار ابی سے فرمایا کہ اللہ تعالی نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کو سورت”لم یکن الذین کفروا،،سناوں۔ابیؓ نے فرمایا کہ اللہ نے میرا نام لے کر حکم دیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا:ہاں!یہ سن کر ابیؓ رونے لگے۔اس کے متعلق سے کسی نے سوال کیا تو آپ نے یہ آیت تلاوت کی ”قل بفضل اللہ و برحمتہ فبذلک فلیفرحوا خیر مما یجمعون،،(یونس:۸۵)ابی اصحاب میں سب سے بڑے عالم تھے،سب سے بڑے عالم ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں؛ پہلی یہ ہے کہ یہ حلقہ بہ گوش اسلام ہونے سے قبل یہود کا بڑا عالم تھا۔دوسری وجہ یہ ہے کہ کتب قدیمہ کے اسرارو رموز سے بہ خوبی آگاہ تھے۔تیسری یہ کہ آپ نبی ﷺ کے کاتب وحی بھی تھے۔

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *