Fri. Jan 15th, 2021
مسلمانوں میں قیادت کا فقدان
                                                                            صادق جمیل تیمی 
دنیا میں کل آبادی  تقریبا آٹھ ارب ہے جس میں مسلمانوں کی پونے دو ارب آبادی ہے ،یعنی ایک چوتھائی 25فیصد آبادی دنیا میں مسلمانوں کی ہے -47ایسے ممالک ہیں جنہیں اسلامی کہا جاتا ہے. یہ ایک خوش کن حقیقت ہے لیکن جب عالم اسلام کی حالت دیکھتے ہیں اور اس میں مسلمانوں کی رہبری کو دیکھتے ہیں تو مایوسی کی ایک  کرن چھا جاتی ہے ،جہاں تک بات ہندوستان کی ہے تو ایک انڈین تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً بیس کروڑ ہے لیکن افسوس و تاسف کا بادل سامنے اس وقت آتا ہے جب مسلم قیادت کی طرف نظر ڈالتے ہیں-بیس کروڑ مسلم آبادی میں بیس ایسے مسلم نہیں ملیں گے جو مسلمانوں کی صحیح رہبری و نمائیندگی کرے….. اس خلا کو پر کرنے کے لئے ملک کے چند دانشوران و بہی خواہان مل کر 1964میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت قائم کی اور یہ بات طے پائی کہ تمام مسلم معاشرتی مسائل میں مشاورت کی راے راجح و صائب مانی جائے گی -لیکن دوسری قومی تنظیموں کی طرح اس میں بھی عہدے کی رسہ کشی نے مجلس کے اہداف و مقاصد کو پس پشت کر دیا،اس کے بعد مسلم پرسنل لا کا قیام عمل میں آیا ،لیکن اس نے بھی گزشتہ پینتالیس سالوں سے مایوسی کا راستہ دیکھایا -مجھے جو اصل بات کہنی ہے وہ یہ ہے کہ اسی تنظیم سے جڑا ایک ضمیر فروش فرد وسیم رضوی نے بابری مسجد مقدمے کا فیصلہ جو جنوری 2018میں ہونے والا ہے اپنی ذاتی منفعت کے لئے فروخت کر دیا بلکہ مسلم پرسنل کے صدر بڑے طمطراق سے یہ کہتے ہیں کہ “ہمیں سپریم کورٹ کا فیصلہ منظور ہے “ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بابری مسجد سانحہ کے مجرمین و ملزمین کو کیفر کردار تک پہنچا یا جاتا لیکن اس کی طرف کوئی توجہ نہیں!!!!
آج ہندوستانی مسلمان جس نازک دور سے گزر رہے ہیں کبھی بھی ایسی بری حالت سے دوچار نہیں ہوئے ،آج اس کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ،اس پر بھی مستزاد یہ ہے کہ آپ کو ہر دن کوئی نہ کوئی  چینلسٹ  عمامہ پوش  ،انگوچھہ بردوش مولوی قسم کے لوگ مسلمانوں کی معاشرتی مسائل پر فتویٰ دیتے ہوئے نظر  آییں گے  اور ٹی وی پر آنا فخر سمجھنے لگا ہے ایسی صورت حال میں ہر شعبہ حیات کے دانشوران آگے آئیں جلد سے مسلم باگ ڈور سنبھالے ورنہ یہ رخش قوم کہاں تھمے ،یا فقر و مذلت میں جا گرے ،کہا نہیں جا سکتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *