Fri. Jan 15th, 2021

              أنبارالحق نیرؔ  تیمی
ہمارے استاد محترم عاطف أحمد عثمان خيمر، “مہارت استماع” پڑھاتے تھے۔ وہ ہمیشہ ہمیں نصیحت کیا کرتے تھے کہ آپ مصطفی لطفی منفلوطی کو پڑھیں۔ ان کی کتابوں کا مطالعہ کریں۔ ان کے انوکھے  انداز اور پر کشش اسلوب نگارش سے استفادہ کریں، ان کے  نرالے تعبیرات، فصاحت و بلاغت سے معمور جملے اور  حلاوت و چاشنی سے سرشار  الفاظ کو اپنی زبانوں اور تحریروں میں استعمال کریں۔۔۔ عمل پیہم اور جہدِ مسلسل جاری رکھیں۔ان شاءاللہ ایک سال کے اندر اندر اپنے آپ میں تبدیلی پائیں گے۔ آپ کی بات میں چاشنی ہوگی۔ آپ کی زبان و بیان اور قلم و قرطاس دوسروں سے منفرد ہوں گے۔ آپ کی تحریروں میں سلاست، سادگی اور روانی جھلکیں گیں۔  

    میں نے ان کی نصیحتوں سے ایک سال قبل ہی منفلوطی ، صادق رافعی اور دوسرے ادباء کی چند کتابیں خرید لی تھی لیکن انہیں پڑھنے کی زحمت نہیں کی۔ 
  میں نے ان کی رشد و ہدایت کے مطابق منفلوطی صاحب کو پڑھنا شروع کیا، لیکن ان کے جملے پورے طور پر سمجھ میں نہیں آرہے تھے جس کی وجہ سے چند ہی لمحات کے بعد  اضمحلال کا شکار ہو جاتا تھا،دلچسپی نفرت کرنے لگتی تھی، ذوق ساتھ چھوڑنے لگتا تھا، ذہنی ارتکاز روٹھ جاتا تھا۔ در آخر  دن میں صرف ایک صفحہ اس کو پڑھتا پھر دوسرے ادباء کو پڑھنے لگتا۔ چنانچہ میں صادق رافعی صاحب کو پڑھنا شروع کیا۔ ان کی کتاب” کتاب المساکین” اٹھایا اور پڑھا تو پڑھتے چلا گیا۔۔۔۔۔۔بہرحال یہ کتاب بہت اچھی لگی،  کیونکہ یہ پورے طور پر ذہن میں اتر رہی تھی اور حاشیہ خیال کا حصہ بننے لگی تھی۔ چنانچہ میں مندرجہ ذیل سطور میں صادق رافعی صاحب اور ان کی کتاب”کتاب المساکین” کی چند جھلکیاں پیش کرنے کی کوشش کرونگا۔
      مصطفی صادق عبد الرزاق سعید احمد عبد القادر الرافعی” سن 1880 ء میں قلیوبیا گورنری کے ایک گاؤں بہتیم میں پیدا ہوئے۔ آپ کا لقب رافعی ہے۔ لقب کی توجیہ بیان کرتے ہوئے مصطفی صادق کہتے ہیں کہ ان کے آباء واجداد میں سے ایک شیخ علمی و فقہی  اجتہاد میں شہرت رکھتے تھے۔ لوگ انہیں امام شافعی رحمہ اللہ سے تشبیہ دیتے ہوئے ان کو رافعی کہنے لگے۔ چنانچہ وہ محمود الرافعی کے نام سے مشہور ہو گئے۔ 
     آپ کی شخصیت نابغہ روزگار تھی۔ آپ ادیب باکمال ،شاعر بے مثال تھے اور ناقد فقید المثال تھے ۔آپ فصاحت و بلاغت کے بے تاج بادشاہ تھے۔ آپ کے نثری فن پاروں کی  کوئی نظیر اور ثانی  نہیں۔  کیونکہ آپ کو عربی ادب سے قلبی لگاؤ تھا۔ آپ کی تحریروں میں فکر کا جلال اور اسلوب کا جمال دونوں بیک وقت پائے جاتے تھے کیونکہ آپ ایسی عقل کے مالک تھے جنہیں معانی کی تخلیق اور دور دراز استدلال تک رسائی حاصل کرلینے پر عبور حاصل تھا۔ آپ کئی ادبی کتابوں کے مصنف بھی ہیں ۔آپ کی مدح سرائی میں بہت سے  علماء نے بہت کچھ لکھا لیکن ایک کو بیان کرنے پر اکتفا کر رہا ہوں۔ ڈاکٹر شوقی ضیف آپ کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:” ان کی شاعری میں بارودی کے نیو کلاسیکی اسلوب کی جھلک ملتی ہے۔ ان کے دیوان میں غزل، تہنیت نامہ اور مرثیہ جیسے اصناف سخن پائے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے علاوہ رافعی نے فطرت اور جدید ایجادات کو بھی اپنے اشعار کا جامہ پہنا یا ہے “۔
      جہاں تک کتاب المساکین کی بات ہے تو اس کا سن تالیف 1917م ہے۔ یہ کتاب سادگی ، سلاست اور اسلوب کے اعتبار سے ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ مؤلف نے اس میں مسکینوں اور محتاجوں کے درد و الم کی تصویر کشی کی ہے۔ فقر و فاقہ، زیست و حیات، جنگ و جدل، قسمت و تقدیر ، خیر و برکت، شر و بدی اور حسن و جمال کے متعلق افکار و نظریات پیش کئے ہیں۔ اس کی سبب تالیف بیان کرتے ہوئے صادق رافعی خود رقمطراز ہیں کہ وہ” منیہ جناح” اپنے اصہار کی زیارت کے غرض سے گئے تھے۔ وہاں شیخ علی سے ملاقات ہوئی جن کو بے یار و مددگار، لامکانی، لاچارگی اور مفلوک الحالی کی حالت میں پایا۔ ان کی خبر و خیریت پوچھی۔ ان سے زندگی کے فلسفے معلوم کئے۔ انہوں نے اس دارفانی کے تمام مشکلات کا حل بتادیا۔ چنانچہ شیخ علی کے فلسفہ نے رافعی کو اس کتاب کی تالیف پر ابھارا۔لیکن جو کتاب میرے ہاتھ میں ہے اس میں صفحہ 11 پر شیخ محمد سعید العریان تالیف کے دو اسباب بیان کرتے ہیں: جنگ کی ہولناکی جس نے بھوک ، قحط اور قیمتوں میں اضافہ کے ذریعے مصر کو تباہ کیا اور دوسرا شیخ علی کی محتاجی و مفلسی۔ احمد زکی باشا اس کتاب کی مدح سرائی میں یوں گویا ہیں: لقد جعلت لنا شكسبير كما للإنجليز و هيجو كما للفرنسيين هيجو و غوته كما للألمان غوته.
  آخر میں، میں اپنے استاد محترم کی نصیحت کو رو بہ عمل لاتے ہوئے کہنا چا ہوں گا کہ اگر آپ بھی عربی ادب سے شغف رکھتے ہیں۔ آپ کے اندر بھی عربی زبان سیکھنے کا جنون ہے۔ عربی میں کچھ لکھنے بولنے کا ذوق وشوق ہے۔ سحربیانی، طلاقت لسانی اور طرزِ نگارش میں خوش اسلوبی کا جوش و جذبہ ہے۔ تب آپ ضرور مصطفى صادق الرافعي اور ان کے علاوہ عباس محمود العقاد ۔ محمود محمد شاكر  – مصطفى لطفي المنفلوطي۔ طه حسين وغیرہم جیسے ادباء و شعراء کے ادبی کتابوں کا مطالعہ اور ان سے استفادہ کرنا شروع کردیں۔۔۔۔۔۔۔ان شاءاللہ ایک سال کے اندر اندر اپنے آپ میں ادب کی خوشبو محسوس کریں گے – 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *