Sat. Oct 31st, 2020
       قرآن مقدس رب کی وہ آخری کتاب ہے جسے نبی آخر الزماں محمد مصطفی ﷺ پر نازل کیا گیا اور اس کی تبیین و توضیح نبی ﷺ کی احادیث قرار دی گئی۔یعنی انسانی زندگی میں قرآن و سنت دونوں لازم و ملزوم شے ہیں۔جس طرح رب نے قرآن کریم کی حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے ویسے ہی حدیث کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ نے لے لیا ہے ”إنا نحن نزلناالذکر و إنا لہ لحافظون،،(الحجر:۹)قرآن کریم کی حفاظت کا اہتمام عہد نبوی ہی سے ہونے لگا تھا۔ ویسے ہی نبی کی زبان سے نکلے ہر ہر لفظ کی حفاظت کا اہتمام صحابہ کرام نے کیا۔سیدنا ابو ہریرہ،ابن عباس اور مالک بن انس اس میدان میں سر فہرست ہیں۔لیکن اس میں خواتین پیچھے نہیں رہیں بلکہ خود آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہؓ نے حفاظت حدیث اور اس کی تفہیم میں کارہائے نمایا ں انجام دیے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کانام صدیقہ،لقب حمیراء اور ام عبد اللہ کنیت تھی۔آپ کی پیدائش مکہ میں ۴۱۶ء میں ہوئی۔آپ ان خوش بخت خواتین میں سے تھیں جن کی تربیت خالص اسلامی ماحول میں ہوئی اور ابتدا ہی سے کفر و شرک کی آواز سے نا آشنا تھیں۔وہ خود کہتی ہیں کہ جب میں نے اپنے والدین کو دیکھا تو انہیں اسلام سے بہرہ مند پایا۔ازواج مطہرات میں سیدہ عائشہ کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ آپ ؓ نبی ﷺ کی سب سے چہیتی و لاڈلی بیوی تھیں،حتی کہ نبی کا انتقال بھی آپ ہی کے پاس ہوا۔
سیدہ عائشہؓ کی علمی بصیرت: سیدہ عائشہ صدیقہ نہایت ہی ذہین و فطین اورحاضر جوابی میں بہت مشہور تھیں۔معاملہ فہمی میں دوسروں سے ممتاز تھیں۔ جیسا کہ روایت ہے کہ ”کانت عائشۃ أفقہ الناس و أعلم الناس و أحسن الناس رأیا فی العامۃ،،کہ سیدہ عائشہ تمام لوگوں سے بڑھ کر فقیہ،جاننے والی اور عام معاملات میں اچھی رائے رکھنے والی تھیں (الحاکم فی المستدرک:۴/۵۱)سیدہ عائشہ علمی بصیرت کے اونچے درجات پر فائز تھیں۔بڑے بڑے صحابہ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر بعض نہایت اور مشکل و پیچیدہ مسائل دریافت کرتے اور اپنی علمی تشنگی بجھاتے تھے اور آپ ؓ بھی صحابہ کرام کو قرآن و سنت سے تشفی بخش جوابات مرحمت فرماتی تھیں۔جیسا کہ ابو موسی اشعری سے روایت ہے ”ما أشکل علینا أصحاب محمدﷺ حدیث قط فسألناہ عنہ عائشۃ إلا وجدنا عندہا منہ علماً،،کہ ہم اصحاب رسول کے لیے جب کبھی بھی کوئی حدیث مشکل ہو جاتی تو ہم ام المومنین سیدہ عائشہ سے دریافت کرتے تو ان کے ہاں اس حدیث کا صحیح علم ضرور پا لیتے (الترمذی:۳۸۸۳)اس سے یہ معلوم ہوا کہ نبی ﷺ کی رحلت کے بعد صحابہ کرام کو سیدہ عائشہ کی تبحر علمی اور فقہی بصیرت اور حدیث میں ان کی مہارت کا اعتراف تھا۔
سیدہ عائشہ بیک وقت کئی علوم پر مہارت تامہ رکھتی تھیں۔حدیث کے ساتھ علم فرائض،شعر گوئی،اور فقہ میں بھی کامل دسترس حاصل تھی۔عروہ ؓجو آپ کے بھانجہ تھے بیان کرتے ہیں ”ما رأیت أحداً أعلم بشعر و لا فریضۃ و لا أعلم بفقہ من عائشۃ (أخرجہ ابن ابی شیبۃفی الأدب:۴۹۳)یعنی میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ سے بڑھ کر شعر،فرائض اور فقہ کا عالم کسی کو نہیں دیکھا۔امام زہری سیدہ عائشہ کی علمی بصیرت کا اعتراف کرتے ہوئے یہاں تک فرما ئے ہیں کہ ”لو جمع علم نساء ہذہ الأمۃ، فیہن أزواج النبي ﷺ کان علم عائشۃ أکثر من علمہن،،کہ امہات المومنین سمیت ساری عورتوں کے علم کو ایک طرف اور سیدہ عائشہ کے علم کو دوسری طرف رکھ دیا جائے تو عائشہ کا علم بھاری ہوجائے گا (المعجم الکبیر:۳۳/۳۸۱)
سیدہ عائشہ فصاحت و بلاغت میں بھی اعلی مقام رکھتی تھیں۔ادب و خطابت میں ان کا پایہ بہت بلند تھا۔کہا جاتا ہے کہ اس باب میں سیدنا علی اور عمر کے علاوہ وہ تمام صحابہ سے ممتاز تھیں۔ان کی بعض تقریریں ادب میں زور کلام کے اعتبار سے شاہ کار کی حیثیت رکھتی ہیں۔نہایت ہی شیریں کلام اور فصیح اللسان تھیں۔
نبی ﷺ کے وصال کے بعد آپ ؓ 57سال تک شب و روز دین کی خدمت کرتی رہیں اور علم دین پھیلاتی رہیں۔صحابیات میں سب سے زیادہ احادیث آپ ہی سے مروی ہیں، چوں کہ حدیث سے آپ کو بڑا گہرا تعلق تھا۔کسی حدیث میں اگر کوئی شک و شبہ ہو تا تو آپ تشفی بخش جواب دے کر سائلین کو اطمینان فرماتی تھیں۔مثلاً ایک مرتبہ آپ ؓ نے فرمایا کہ تمام لوگ قربانی کے گوشت تین سے زیادہ دن تک نہ رکھیں۔ابن عمر اور ابو سعید نے یہ سمجھا کہ یہ حکم دائمی ہے تو سیدہ عائشہ نے جب یہ بات سنی تو فرمایا کہ یہ حکم نہ تو دائمی ہے اور نہ ہی واجب ہے بلکہ مستحب ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ قربانی کے گوشت کو جمع نہ کریں بلکہ دوسروں کو بھی کھلائیں۔آپ کی ایک قابل ذکر خصوصیت یہ تھی کہ آپ حدیث بیان کرنے کے ساتھ اس کے علم و حکمت پر بھی روشنی ڈال دیتی تھیں۔مثلاً ابو سعید خدری اور ابن عمر سے غسل جمعہ کے بارے میں صرف اتنا مروی ہے کہ جمعہ کے دن غسل کر لینا چاہیے۔ لیکن اس حدیث کے تعلق سے سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ چو ں کہ لوگ اپنے گھروں اور مدینہ کے آس پاس کی آبادیوں سے آتے ہیں اور ان کے جسم پر گر دو غبار لگے رہتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ غسل کر لیں تاکہ دوسرے لوگوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔
ابن عباس سے روایت ہے کہ آں حضور ﷺ نے فرمایا ”مردے کو اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتاہے،،اس  روایت کو جب سیدہ عائشہ نے سنا تو آپؓ نے انکار کر دیا۔فرمایا کہ اصل معاملہ یہ ہے کہ نبی ﷺ نے یہودی عورت کی میت پر اس کے اعزہ و اقارب کو روتے ہو ئے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ رورہے ہیں اور اسے عذاب ہو رہا ہے۔ آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ اس کے غلط اعمال کی سزا اسے مل رہی ہے……..پھر سیدہ عائشہ نے فرمایا کہ قرآن مجید کا ارشاد ہے ”ولا تزر وازرۃ وزری أخری (بنی اسرائیل:۵۱)یہ نہیں کہ رونے کی وجہ سے اسے عذاب ہو رہا ہے بلکہ اس میت کو اپنے گناہوں کا عذاب ہو رہا ہے جن کا ارتکاب دنیامیں اس نے کیا تھا۔علامہ سیوطی نے آپ کے تفقہ فی الدین پر ایک رسالہ ”عین الاصابۃ،،لکھی۔ جس سے سیدہ عائشہ کی دقت نظری،قوت حافظہ اور شوق حدیث کا پتہ چلتا ہے۔اس کتاب میں چالیس ایسی احادیث کا ذکر ہے جن سے سیدہ عائشہ کی علمی و فقہی بصیرت سامنے آتی ہے۔آپ سے تقریبا سو صحابہ اور صحابیات نے احادیث روایت کی ہے۔محدثین عظام کے مطابق سیدہ عائشہ کا شمار ان ہستیوں میں ہوتا ہے جن سے کثیر تعداد میں احادیث کی روایت ذکر کی گئی ہیں چھٹے نمبر پرہوتا ہے، بلکہ بعض کا خیا ل ہے کہ نبی ﷺ سے روایت کرنے والوں میں سے آپ کا نمبر چوتھا ہے۔صحابہ کرام کی مرویات کی فہرست دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ صرف ابوہریرہ اور ابن عباس اور ابن عمر کی مرویات آپ سے زیادہ ہیں۔محدثین عظام نے آپ کی مرویات کی تعداد (2210)بتائی ہے۔
آپ کی وفات خلافت امویہ میں ۷۶(قمری)۴۶(شمسی)سال کی عمر میں ۸۷۶ء مدینہ میں ہوئی۔قرآن مقدس رب کی وہ آخری کتاب ہے جسے نبی آخر الزماں محمد مصطفی ﷺ پر نازل کیا گیا اور اس کی تبیین و توضیح نبی ﷺ کی احادیث قرار دی گئی۔یعنی انسانی زندگی میں قرآن و سنت دونوں لازم و ملزوم شے ہیں۔جس طرح رب نے قرآن کریم کی حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے ویسے ہی حدیث کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ نے لے لیا ہے ”إنا نحن نزلناالذکر و إنا لہ لحافظون،،(الحجر:۹)قرآن کریم کی حفاظت کا اہتمام عہد نبوی ہی سے ہونے لگا تھا۔ ویسے ہی نبی کی زبان سے نکلے ہر ہر لفظ کی حفاظت کا اہتمام صحابہ کرام نے کیا۔سیدنا ابو ہریرہ،ابن عباس اور مالک بن انس اس میدان میں سر فہرست ہیں۔لیکن اس میں خواتین پیچھے نہیں رہیں بلکہ خود آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہؓ نے حفاظت حدیث اور اس کی تفہیم میں کارہائے نمایا ں انجام دیے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کانام صدیقہ،لقب حمیراء اور ام عبد اللہ کنیت تھی۔آپ کی پیدائش مکہ میں ۴۱۶ء میں ہوئی۔آپ ان خوش بخت خواتین میں سے تھیں جن کی تربیت خالص اسلامی ماحول میں ہوئی اور ابتدا ہی سے کفر و شرک کی آواز سے نا آشنا تھیں۔وہ خود کہتی ہیں کہ جب میں نے اپنے والدین کو دیکھا تو انہیں اسلام سے بہرہ مند پایا۔ازواج مطہرات میں سیدہ عائشہ کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ آپ ؓ نبی ﷺ کی سب سے چہیتی و لاڈلی بیوی تھیں،حتی کہ نبی کا انتقال بھی آپ ہی کے پاس ہوا۔
سیدہ عائشہؓ کی علمی بصیرت: سیدہ عائشہ صدیقہ نہایت ہی ذہین و فطین اورحاضر جوابی میں بہت مشہور تھیں۔معاملہ فہمی میں دوسروں سے ممتاز تھیں۔ جیسا کہ روایت ہے کہ ”کانت عائشۃ أفقہ الناس و أعلم الناس و أحسن الناس رأیا فی العامۃ،،کہ سیدہ عائشہ تمام لوگوں سے بڑھ کر فقیہ،جاننے والی اور عام معاملات میں اچھی رائے رکھنے والی تھیں (الحاکم فی المستدرک:۴/۵۱)سیدہ عائشہ علمی بصیرت کے اونچے درجات پر فائز تھیں۔بڑے بڑے صحابہ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر بعض نہایت اور مشکل و پیچیدہ مسائل دریافت کرتے اور اپنی علمی تشنگی بجھاتے تھے اور آپ ؓ بھی صحابہ کرام کو قرآن و سنت سے تشفی بخش جوابات مرحمت فرماتی تھیں۔جیسا کہ ابو موسی اشعری سے روایت ہے ”ما أشکل علینا أصحاب محمدﷺ حدیث قط فسألناہ عنہ عائشۃ إلا وجدنا عندہا منہ علماً،،کہ ہم اصحاب رسول کے لیے جب کبھی بھی کوئی حدیث مشکل ہو جاتی تو ہم ام المومنین سیدہ عائشہ سے دریافت کرتے تو ان کے ہاں اس حدیث کا صحیح علم ضرور پا لیتے (الترمذی:۳۸۸۳)اس سے یہ معلوم ہوا کہ نبی ﷺ کی رحلت کے بعد صحابہ کرام کو سیدہ عائشہ کی تبحر علمی اور فقہی بصیرت اور حدیث میں ان کی مہارت کا اعتراف تھا۔
سیدہ عائشہ بیک وقت کئی علوم پر مہارت تامہ رکھتی تھیں۔حدیث کے ساتھ علم فرائض،شعر گوئی،اور فقہ میں بھی کامل دسترس حاصل تھی۔عروہ ؓجو آپ کے بھانجہ تھے بیان کرتے ہیں ”ما رأیت أحداً أعلم بشعر و لا فریضۃ و لا أعلم بفقہ من عائشۃ (أخرجہ ابن ابی شیبۃفی الأدب:۴۹۳)یعنی میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ سے بڑھ کر شعر،فرائض اور فقہ کا عالم کسی کو نہیں دیکھا۔امام زہری سیدہ عائشہ کی علمی بصیرت کا اعتراف کرتے ہوئے یہاں تک فرما ئے ہیں کہ ”لو جمع علم نساء ہذہ الأمۃ، فیہن أزواج النبي ﷺ کان علم عائشۃ أکثر من علمہن،،کہ امہات المومنین سمیت ساری عورتوں کے علم کو ایک طرف اور سیدہ عائشہ کے علم کو دوسری طرف رکھ دیا جائے تو عائشہ کا علم بھاری ہوجائے گا (المعجم الکبیر:۳۳/۳۸۱)
سیدہ عائشہ فصاحت و بلاغت میں بھی اعلی مقام رکھتی تھیں۔ادب و خطابت میں ان کا پایہ بہت بلند تھا۔کہا جاتا ہے کہ اس باب میں سیدنا علی اور عمر کے علاوہ وہ تمام صحابہ سے ممتاز تھیں۔ان کی بعض تقریریں ادب میں زور کلام کے اعتبار سے شاہ کار کی حیثیت رکھتی ہیں۔نہایت ہی شیریں کلام اور فصیح اللسان تھیں۔
نبی ﷺ کے وصال کے بعد آپ ؓ 57سال تک شب و روز دین کی خدمت کرتی رہیں اور علم دین پھیلاتی رہیں۔صحابیات میں سب سے زیادہ احادیث آپ ہی سے مروی ہیں، چوں کہ حدیث سے آپ کو بڑا گہرا تعلق تھا۔کسی حدیث میں اگر کوئی شک و شبہ ہو تا تو آپ تشفی بخش جواب دے کر سائلین کو اطمینان فرماتی تھیں۔مثلاً ایک مرتبہ آپ ؓ نے فرمایا کہ تمام لوگ قربانی کے گوشت تین سے زیادہ دن تک نہ رکھیں۔ابن عمر اور ابو سعید نے یہ سمجھا کہ یہ حکم دائمی ہے تو سیدہ عائشہ نے جب یہ بات سنی تو فرمایا کہ یہ حکم نہ تو دائمی ہے اور نہ ہی واجب ہے بلکہ مستحب ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ قربانی کے گوشت کو جمع نہ کریں بلکہ دوسروں کو بھی کھلائیں۔آپ کی ایک قابل ذکر خصوصیت یہ تھی کہ آپ حدیث بیان کرنے کے ساتھ اس کے علم و حکمت پر بھی روشنی ڈال دیتی تھیں۔مثلاً ابو سعید خدری اور ابن عمر سے غسل جمعہ کے بارے میں صرف اتنا مروی ہے کہ جمعہ کے دن غسل کر لینا چاہیے۔ لیکن اس حدیث کے تعلق سے سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ چو ں کہ لوگ اپنے گھروں اور مدینہ کے آس پاس کی آبادیوں سے آتے ہیں اور ان کے جسم پر گر دو غبار لگے رہتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ غسل کر لیں تاکہ دوسرے لوگوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔
ابن عباس سے روایت ہے کہ آں حضور ﷺ نے فرمایا ”مردے کو اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتاہے،،اس  روایت کو جب سیدہ عائشہ نے سنا تو آپؓ نے انکار کر دیا۔فرمایا کہ اصل معاملہ یہ ہے کہ نبی ﷺ نے یہودی عورت کی میت پر اس کے اعزہ و اقارب کو روتے ہو ئے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ رورہے ہیں اور اسے عذاب ہو رہا ہے۔ آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ اس کے غلط اعمال کی سزا اسے مل رہی ہے……..پھر سیدہ عائشہ نے فرمایا کہ قرآن مجید کا ارشاد ہے ”ولا تزر وازرۃ وزری أخری (بنی اسرائیل:۵۱)یہ نہیں کہ رونے کی وجہ سے اسے عذاب ہو رہا ہے بلکہ اس میت کو اپنے گناہوں کا عذاب ہو رہا ہے جن کا ارتکاب دنیامیں اس نے کیا تھا۔علامہ سیوطی نے آپ کے تفقہ فی الدین پر ایک رسالہ ”عین الاصابۃ،،لکھی۔ جس سے سیدہ عائشہ کی دقت نظری،قوت حافظہ اور شوق حدیث کا پتہ چلتا ہے۔اس کتاب میں چالیس ایسی احادیث کا ذکر ہے جن سے سیدہ عائشہ کی علمی و فقہی بصیرت سامنے آتی ہے۔آپ سے تقریبا سو صحابہ اور صحابیات نے احادیث روایت کی ہے۔محدثین عظام کے مطابق سیدہ عائشہ کا شمار ان ہستیوں میں ہوتا ہے جن سے کثیر تعداد میں احادیث کی روایت ذکر کی گئی ہیں چھٹے نمبر پرہوتا ہے، بلکہ بعض کا خیا ل ہے کہ نبی ﷺ سے روایت کرنے والوں میں سے آپ کا نمبر چوتھا ہے۔صحابہ کرام کی مرویات کی فہرست دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ صرف ابوہریرہ اور ابن عباس اور ابن عمر کی مرویات آپ سے زیادہ ہیں۔محدثین عظام نے آپ کی مرویات کی تعداد (2210)بتائی ہے۔
آپ کی وفات خلافت امویہ میں ۷۶(قمری)۴۶(شمسی)سال کی عمر میں ۸۷۶ء مدینہ میں ہوئی۔

By sadique taimi

معلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *