Mon. Aug 2nd, 2021
زبان و قلم کی طاقت
                   انبار الحق شمیم اختر تیمی
جب سورج شب دیجور سے ٹکراتا ہے تو صبح اپنی تمام تر شفافیت، تازگی ، رعنائی، قطرہ شبنم کی آب و تاب، پر رونق مسحور فضا، چڑیوں کی چہچہاہٹ، پر تکلف سی ، مہکتی، سہانی ، کڑک چائے، کسانوں کی سرگرمی، کام کاج کی جانب بھاگ دوڑ، شہروں میں گہما گہمی، اسکول، کالج ، یونیورسٹی کے ترانے، دکانیں، فیکٹریاں میں چہل پہل کے ساتھ ، نمودار ہوتی ہے۔جب اسماعیل علیہ السلام اپنی ایڑیوں کو زمین پر رگڑتے ہیں  تو کرہ ارضی پر زمزم نامی ایک بابرکت چشمہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جاری ہوتا ہے۔ جب بارش زمینوں پر پڑتی ہے تو برسات زمینوں کے کوکھ کو زرخیز کردیتی ہے,  کھیت لہلہانے لگتے ہیں، فصل گل کی شادابی آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے،قدرت کے حسین نظارے جلوے بکھیرتے ہیں.گلستاں کی خوبصورتی اور حسن و جمال سے لطف و فیض وصول کرنے کا زریں موقع ملتا ہے۔ جب پانی پانی سے نبرد آزما ہوتا ہے تو سمندر میں تموج و تلاطم خیز لہر دوڑ جاتی ہے۔ جب ہندو و مسلم میں یکتائیت پائی جاتی ہے تو گنگا جمنی تہذیب کی مثال پیش کی جاتی ہے۔ جب علم و عمل کا سنگم ہوتا ہے تو ابن قیم، ابن باز اور ابن عثیمین رحمہم اللہ جیسے پر رونق شخصیات کا وجود ہوتا ہے؛ جن سے پورے عالم اسلام فضیاب ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔
آپ سوچ و فکر کی اتھاہ سمندر میں غوطہ زن ہوں گے،  حیرت و استعجاب کی نگری میں قدم پڑ رہے ہونگے آپ کے اور آپ کی نگاہیں  متحیر اور ذہن متعجب ہوگا کہ آخر یہ بندہ اتنے پر تکلف، تصنع والے الفاظ اور جملے کیوں استعمال کر رہا ہے؟ وہ اپنے اس  بے ترتیب جملوں سے کیا پیغام دینا چاہ رہا ہے؟ 
شاید میرے پہلے فقرہ سے آپ نے یہ سمجھ لیا ہوگا کہ اگر اشیاء متحد ہو جائیں تو ان میں مضبوطی اور قوت پیدا ہوتی ہے۔ وہ مستحکم اور پختہ ہوجا تے ہیں۔ ان میں حسن و جمال کی پر سرور کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ وہ ایک بہترین پیرائے میں ڈھل جاتے ہیں۔
   میرے اتنے بے ڈھنگے الفاظ کا لب لباب اور مغز یہ کہ آپ قلم اور صفحہ قرطاس کو ایک دوسرے کے قریب لائیں۔ ان کو متحد کریں ۔اپنے قلم کو بے ہنگم خیالات، منتشر احساسات کی خوراک دیکر صفحہ قرطاس کی بھوک ہڑتال ختم کردیں۔  
   قلم کی اہمیت و افادیت سے کسی عقل و خرد کو انکار نہیں۔ قلم آپ کو فلک تک پہنچا سکتا ہے۔  جب بھی حرف و صوت کو قلم کی ضرورت پڑی تو انہوں نے بےاختیار معانقہ کیا۔ اسی قلم نے بکھرے نقطوں کویک جا،بے ترتیب حروف کو مرتّب اور بےربط لفظوں کو مربوط کیا۔ جب اس قلم کی روشنائی نے سطروں کاروپ دھارا، تو افکار و جذبات اور نظریات و تصورات اوراق سے ہم آغوش ہوئے۔ اور قلم سے وجود پائے جانے والے اچھوتے نقوش، چیدہ مضامین اور ادبی شہ پارے اپنی تابانی، ضوفشانی اور درخشانی سے جہان تحریر کو منور کر نے لگے۔ جی ہاں! قلم ہی کے ذریعہ دنیا کے سارے علوم و فنون، ناول و افسانے، اور سائنسی کتب ورسائل ہم تک پہنچے۔
     شاعر مشرق علامہ اقبال نے قلم کی طاقت سے اپنی تخلیقات کے ذریعے مسلمانوں کے اندر آزادی کی روح پھونکی۔ برصغیر پاک وہند میں مولانا ظفر علی خان، مولانا الطاف حسین حالی، اسمٰعیل میرٹھی، میر انیس، اکبر الہ آبادی اور مرزا غالب کو قلم ہی نے جاودانی و سرمدی بخشا۔
  عظمت قلم و قرطاس کی شناسائی کے لئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ رب ذوالجلال نے بے مثال کتاب میں اس کی قسم کھائی:( ن و القلم و ما يسطرون)  تو دوسری جانب اس کی مدح سرائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ( علم بالقلم).
 ۔۔۔۔چنانچہ آپ لکھتے رہیں اسوقت تک جب تک انگلیوں کی پوریں جنبش دینا چھوڑ دیں اور قلم ہاتھ سے گر پڑے۔۔۔۔۔۔
   آپ کے دل میں یہ بات گردش کررہی ہوگی کہ اس نکمے کو ایک سطر لکھنے نہیں آتا پھر بھی اس نے پندرہ بیس سطروں کو  الفاظ کے ذریعے کیسے مزین و آراستہ کردیا؟؟۔۔۔۔۔ہاں میرے بھائیو یہ صرف اور صرف گھر میں بیٹھے رہنے کا نتیجہ ہے جس نے ہمیں لکھنے پر آمادہ کیا۔۔۔۔۔آپ بھی لکھیں۔۔۔۔لکھیں۔۔۔۔۔اور لکھتے رہیں۔۔۔۔۔۔ حسین و جمیل مواقع سے بھرپور استفادہ کر یں۔۔۔۔۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کہنہ مشق صحافی کے فہرست میں شامل ہوجائیں۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *